بیونس آئرس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش



بیونس آئرس خود مختار شہر
Autonomous City of Buenos Aires
300px
عمومی معلومات
ملک Flag of Argentina.svg ارجنٹائن


رقبہ شہر 203 مربع کلومیٹر
ام البلد 4758 مربع کلومیٹر
آبادی شہر 3،050،728
ام البلد 13،356،715
http://www.buenosaires.gov.ar/ (ہسپانوی میں)



بیونس آئرس (انگریزی: Buenos Aires) ارجنٹائن کا دارالحکومت، سب سے بڑا شہر اور بندرگاہ ہے۔ یہ ریو ڈی لا پلاتا (دریا) کے مشرق میں بر اعظم جنوبی امریکہ کے شمال مشرقی ساحلوں پر واقع ہے۔

یورپی ثقافت کے بھرپور اثرات کے باعث اسے "جنوب کا پیرس" یا "جنوبی امریکہ کا پیرس" بھی کہا جاتا ہے۔ شہر اپنے شاندار طرز تعمیر، شبینہ زندگی اور ثقافتی سرگرمیوں کے باعث مشہور ہے۔ یہ لاطینی امریکہ کے امیر ترین شہروں میں سے ایک ہے، جہاں درمیانے طبقے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے۔

19 ویں صدی میں متعدد اندرونی تنازعات کے بعد، بیونس آئرس کو وفاق کے زیر انتظام لے لیا گیا اور اسے بیونس آئرس صوبے سے الگ کر دیا گیا۔ شہر کی حدود کو توسیع دیتے ہوئے بلگرانو اور فلوریس کے سابق قصبہ جات کو شہر میں شامل کر دیا گیا جو اب شہر کے نواحی علاقے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

ہسپانوی جہاز راں ہوان دیاز سولس پہلے یورپی تھے جو 1516ء میں ریو دے لا پلاتا میں پہنچے، لیکن مقامی قبائل کے حملے میں ہلاکت کے باعث ان کا یہ سفر ناکام ہو گیا۔

اس شہر کو 2 فروری 1536ء کو سونے کی لالچ میں یہاں آنے والے ہسپانوی مہم جو پیدرو دی میندوزا نے بسایا۔ شہر کا نام بیون آئر (ہوائے خوشگوار) رکھا گیا۔

مقامی افراد کی جانب سے پے در پے حملوں نے یہاں کے نو آباد افراد کو علاقہ چھوڑ دینے پر مجبور کر دیا اور 1541ء تک یہ علاقہ غیر آباد ہو گیا۔ پھر 1580ء میں ہوان دی گارے نے دوسری (اور مستقل) نو آبادی بسائی۔

اپنے ابتدائی ایام ہی سے اس شہر کی ترقی تجارت پر منحصر تھی۔ 17 ویں اور 18 ویں صدی میں ہسپانویوں نے زور دیا کہ یورپ کے لیے تمام تر تجارت لیما، پیرو سے ہو کر گزرے تاکہ اس پر مالیہ وصول کیا جائے۔ اس منصوبے نے بیونس آئرس کے تاجروں کی محنتوں پر پانی پھیرنا شروع کیا اور مقامی افراد میں نفرت کو جنم دیا اس لیے انہوں نے ناجائز طریقوں سے تجارت کرنا شروع کر دی۔

اس عدم استحکام کو مد نظر رکھتے ہوئے چارلس ثالث از ہسپانیہ نے تجارتی پابندیوں کو نرم کیا اور 1700ء کی دہائی کے اواخر میں بیونس آئرس کو ایک آزاد بندرگاہ کا درجہ دے دیا۔ لیکن اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور مقامی افراد ہسپانیہ سے آزادی کے خواہاں زیادہ نظر آئے۔

1806ء اور 1807ء میں برطانیہ کی جانب سے ریو دے لا پلاتا پر ہونے والے دو حملوں کو مقامی رضاکار فوج نے ناکام بنا دیا۔ تاہم 25 مئی 1810ء کو مقامی افراد نے بیونس آئرس سے ہسپانوی نائب السلطنت (وائسرائے) کو نکال باہر کیا اور ایک عبوری حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس تاریخ کو اب قومی تعطیل کی جاتی ہے جو یومِ انقلابِ مئی کہلاتا ہے۔ ہسپانیہ سے آزادی کا باضابطہ اعلان 1816ء میں کیا گیا تھا۔

19 ویں صدی میں دو مرتبہ شہر کا بحری محاصرہ کیا گیا، پہلا محاصرہ 1838ء سے 1840ء کے دوران فرانس نے جبکہ دوسرا 1845ء سے 1848ء تک انگریزی فرانسیسی مشترکہ بحری بیڑے نے کیا تاہم دونوں محاصرے ناکام ہو گئے۔

19 ویں صدی کے اواخر میں ریل کی پٹری کی تعمیر نے شہر کی اقتصادی قوت میں اضافہ کیا اور یوں یہ تیزی سے ایک کثیر آبادی اور کثیر الثقافتی شہر بن گیا۔

جدید تاریخ[ترمیم]

شمالی جانب سے شہر کا ایک طائرانہ منظر

1920ء کی دہائی میں بیونس آئرس یورپی مہاجرین کی پسندیدہ قیام گاہ بن گیا لیکن اسی دوران ملحقہ صوبوں اور پڑوسی ممالک سے غریبوں کی بڑی تعداد نے بھی بیونس آئرس کا رخ کیا، جنہوں نے شہر کے صنعتی علاقوں میں کچی آبادیاں قائم کر کے ڈیرے ڈال لیے جو آج بھی شہر کا ایک اہم سماجی مسئلہ ہیں۔

16 جون 1955ء کو صدر پیرون کو عہدے سے ہٹا دینے والی فوجی بغاوت میں پلازا دے مایو پر بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 365 شہری ہلاک ہوئے۔ یہ واحد موقع ہے جب شہر پر فضائی حملہ ہوا۔

1970ء کی دہائی میں بائیں بازوں کی انقلابی تحاریک اور دائیں بازو کے نیم عسکری گروہہوں کے درمیان متعدد لڑائیاں ہوئیں۔ ہوان پیرون کے انتقال کے بعد 1974ء میں دائیں بازو کے پسندیدہ آئزابیل پیرون ارجنٹائن کے صدر بنے۔

1976ء کی فوجی بغاوت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازع میں لاکھوں افراد غیر قانونی حراست میں رکھے گئے، جبکہ ہزاروں کو قتل کر دیا گیا۔

پاپ جان پول دوئم نے دو مرتبہ شہر کا دورہ کیا، ایک مرتبہ 1982ء میں جنگ فاک لینڈ کے آغاز کے موقع پر اور دوسری مرتبہ 1987ء میں جب شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا مجمع انہیں دیکھنے کے لیے امنڈ پڑا۔ 17 مارچ 1992ء کو شہر کے اسرائیلی سفارت خانے میں بم دھماکے کے نتیجے میں 29 افراد ہلاک اور 242 زخمی ہوئے۔ 18 جولائی 1994ء کو ایک اور دھماکے میں متعدد یہودی تنظیموں کے دفاتر کی حامل عمارت تباہ ہوئی اور 85 افراد ہلاک ہوئے۔

30 دسمبر 2004ء کو ری پبلکا کروماگنون کنسرٹ ہال میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 200 افراد ہلاک ہوئے، جو ارجنٹائن کی تاریخ کا سب سے مہلک غیر قدرتی سانحہ ہے۔ اس سانحے کے نتیجے میں دو سال بعد شہر کے ناظم کو عہدے سےہٹا دیا گیا۔

معیشت[ترمیم]

بیونس آئرس سہامی منڈی

بیونس آئرس ارجنٹائن کا مالیاتی، صنعتی، تجارتی و ثقافتی مرکز ہے۔ اس کی بندرگاہ دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے۔ ریو دے لا پلاتا کے جہاز رانی کے قابل ہونے کے باعث بیونس آئرس کی بندرگاہ سے شمال مشرقی ارجنٹائن، برازیل، یوروگوئے اور پیراگوئے کے لیے بھی بحری جہاز جاتے ہیں۔

موسم[ترمیم]

بیونس آئرس کا موسم مرطوب اور معتدل ہے۔ سال میں چار واضع موسم ہوتے ہیں اور سال کا اوسط درجہ حرارت 18 درجے سینٹی گریڈ ہے۔ گرم ترین مہینہ جنوری ہے جس میں اوسط درجہ حرارت 25.4 درجہ سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب سارا سال ہی قریباً 72٪ کی بلند سطح پر رہتا ہے جس کے باعث گرمی کا احساس اصل درجہ حرارت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ شہر میں تاریخ کا بلند ترین درجہ حرارت 29 جنوری 1957 کو 43.3 درجہ سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔[1]. موسمِ بہار (ستمبر سے نومبر) اور موسمِ خزاں (مارچ سے مئی) میں درجہ حرارت قریباً 17 درجے سینٹی گریڈ کی خوشگوار اور معتدل سطح پر رہتا ہے۔ ہوا میں نمی کے باعث موسمِ خزاں اور سرما میں گہری دُھند چھائی رہتی ہے۔[2].

جولائی سال کا سرد ترین مہینہ ہوتا ہے جس میں اوسط درجہ حرارت 11.1 سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور انٹارکٹکا سے تقریباً ہر سال ہی سردی کی لہریں آتی ہیں۔ تیز ہواؤں کے باعث سردی کا احساس اصل درجہ حرارت کی نسبت کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ شہر میں تاریخ کا کم ترین درجہ حرارت 9 جولائی 1918 کو -5.4 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔[3]

شہر میں سالانہ 1214.6 ملی میٹر بارش ہوتی ہے۔ [4] بارش کسی بھی وقت ہوسکتی ہے اور اس کے لیے کوئی موسم مخصوص نہیں جبکی ژالہ باری بھی عام ہے۔

کھیل[ترمیم]

ریور پلیٹ اسٹیڈیم

فٹ بال کی تاریخ کی معروف شخصیت ڈیاگو میراڈونا اسی شہر کے نواح میں پیدا ہوئے اور تقریباً تمام یہیں پلے بڑھے۔

بیونس آئرس تین مواقع پر گرمائی اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا امیدوار رہا۔ 1956ء میں یہ محض ایک ووٹ سے ملبورن، آسٹریلیا کے ہاتھوں ہار گیا۔ 1968ء کے گرمائی اولمپک کھیلوں کی میزبانی کے حصول میں بھی شہر ناکام رہا اور یہ کھیل میکسیکو شہر میں منعقد ہوئے، جو اب تک لاطینی امریکہ میں منعقد ہونے والے واحد اولمپک کھیل ہیں۔ 2004ء کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی یونانی شہر ایتھنز کو ملی۔ اس طرح ارجنٹائن بین الاقوامی اولمپک انجمن کا واحد بانی رکن ہے جو ابھی تک کسی اولمپک کھیل کی میزبانی نہیں کر پایا۔

البتہ بیونس آئرس متعدد اہم کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کر چکا ہے جن میں 1951ء کے پین امریکن کھیل، 1950ء اور 1990ء کی باسکٹ بال عالمی چیمپیئن شپ، 1982ء اور 2002ء کی عالمی والی بال چیمپیئن شپ شامل ہیں لیکن شہر کے سب سے یاد گار مقابلے 1978ء کا فیفا عالمی کپ تھے جو ارجنٹائن نے جیتے۔ 25 جون 1978ء کو حتمی مقابلے میں ارجنٹائن نے نیدرلینڈز کو 3-1 سے شکست دی۔

جڑواں شہر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]