استنبول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

یہ جدید شہر استنبول کے بارے میں مضمون ہے، شہر کی قدیم تاریخ کے لیے دیکھیے مضمون قسطنطنیہ

Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔

قدیم شہر کے بارے میں مضمون کے لئے دیکھئے قسطنطنیہ

استنبول (İstanbul)
آگے سے پےچھ  کی جانب: سلطان احمد مسجد، ہپو ڈروم،  ایا صوفیہ، قسطنطنیہ کی دیواریں، ایا ارین، توپ کاپی محل
آگے سے پےچھ کی جانب: سلطان احمد مسجد، ہپو ڈروم،
ایا صوفیہ، قسطنطنیہ کی دیواریں، ایا ارین، توپ کاپی محل
آگے سے پےچھ  کی جانب: سلطان احمد مسجد، ہپو ڈروم،  ایا صوفیہ، قسطنطنیہ کی دیواریں، ایا ارین، توپ کاپی محل
آگے سے پےچھ کی جانب: سلطان احمد مسجد، ہپو ڈروم،
ایا صوفیہ، قسطنطنیہ کی دیواریں، ایا ارین، توپ کاپی محل
ملک ترکی
علاقہ مرمرہ
صوبہ استنبول
میئر قادر توپباش
گورنر معمر گولر
رقبہ  
 - شہر 1,538,77 مربع کلومیٹر
بلندی 100 میٹر
آبادی  
 - شہر (2006ء) 10,034,830
 - کثافت 6521/مربع کلومیٹر
علاقائی کوڈ 212 (یورپی حصہ)

216 (ایشیائی حصہ)

ویب سائیٹ: http://www.ibb.gov.tr/en-US/AnaSayfa/


تاریخ میں قسطنطنیہ کے نام سے مشہور ترکی کا شہر استنبول (ترک: İstanbul، یونانی: Κωνσταντινούπολις Konstantinoúpolis، انگریزی: تاریخی طور پر Constantinople کے نام سے جانا جاتا ہے ) ملک کا سب سے بڑا شہر اور اس کا ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے ۔ شہر صوبہ استنبول کا صدر مقام بھی ہے ۔

آبنائے باسفورس اور اس کی قدرتی بندرگاہ شاخ زریں (انگریزی: Golden Horn، ترک: Haliç) کے کنارے واقع ترکی کا یہ شمال مغربی شہر باسفورس کے ایک جانب یورپ کے علاقے تھریس اور دوسری جانب ایشیا کے علاقے اناطولیہ تک پھیلا ہوا ہے اس طرح وہ دنیا کا واحد شہر ہے جو دو براعظموں میں واقع ہے ۔ استنبول تاریخ عالم کا واحد شہر جو تین عظیم سلطنتوں کا دارالحکومت رہا ہے جن میں 330ء سے 395ء تک رومی سلطنت، 395ء سے 1453ء تک بازنطینی سلطنت اور 1453ء سے 1923ء تک سلطنت عثمانیہ شامل ہیں۔ 1923ء میں ترک جمہوریہ کے قیام کے بعد دارالحکومت انقرہ منتقل کردیا گیا۔

2000ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی 88 لاکھ 3 ہزار 468ء اور کل شہری حدود کی آبادی ایک کروڑ 18ہزار 735ہے اس طرح استنبول یورپ کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے ۔ شہر کو 2010ء کے لئے پیکس، ہنگری اور آسن، جرمنی کے ساتھ یورپ کا ثقافتی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے ۔

تاریخ میں شہر نے مکینوں کی ثقافت، زبان اور مذہب کے اعتبار سے کئی نام بدلے جن میں سے بازنطیم، قسطنطنیہ اور استنبول اب بھی جانے جاتے ہیں۔ شہر کو ”سات پہاڑیوں کا شہر “ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ شہر کا سب سے قدیم علاقہ سات پہاڑیوں پر بنا ہوا ہے جہاں ہر پہاڑی کی چوٹی پر ایک مسجد قائم ہے ۔

تاریخ[ترمیم]

بازنطیم[ترمیم]

قسطنطنیہ، ایک مصور کی نظر میں۔

بازنطیم دراصل میگارا کے یونانیوں نے 667 قبل مسیح میں آباد کیا تھا اور اسے اپنے بادشاہ بائزاس کے نام پر بازنطیم کا نام دیا۔ 196ء میں سیپٹیمیس سیویرس اور پیسکینیس نائیجر کے درمیان جنگ میں شہر کا محاصرہ کیا گیا اور اسے زبردست نقصان پہنچا۔ فتح حاصل کرنے کے بعد رومی حکمران سیپٹیمیس نے بازنطیم کو دوبارہ تعمیر کیا اور شہر نے ایک مرتبہ پھر کھوئی ہوئی عظمت حاصل کرلی۔

بازنطینی سلطنت کی حکمرانی[ترمیم]

جامعہ ایاصوفیہ، جسے اب عجائب گھر کی شکل دے دی گئی ہے

بازنطیم کے پرکشش محل وقوع کے باعث 330ء میں قسطنطین اعظم نے مبینہ طور پر ایک خواب کے ذریعے مقام کی درست نشاندہی کے بعد اس شہر کو نووا روما (روم جدید) یا قسطنطنیہ (اپنے نام کی نسبت سے ) کے نام سے دوبارہ آباد کیا۔ نووا روما تو کبھی بھی عام استعمال میں نہیں آسکا لیکن قسطنطنیہ نے عالمی شہرت حاصل کی۔ یہ شہر 1453ء میں سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں فتح ہونے تک مشرقی رومی سلطنت کا دارالحکومت رہا۔ بازنطینی دور حکومت کے دوران چوتھی صلیبی جنگ میں صلیبیوں نے شہر کو برباد کردیااور 1261ء میں مائیکل ہشتم پیلیولوگس کی زیر کمان نیسیائی افواج نے شہر کو دوبارہ حاصل کرلیا۔

روم اور مغربی رومی سلطنت کے خاتمے کے بعد شہر کا نام قسطنطنیہ رکھ دیا گیا اور یہ بازنطینی سلطنت کا واحد دارالحکومت قرار پایا۔ یہ سلطنت یونانی ثقافت کی علمبردار اور روم سے علیحدگی کے بعد یونانی آرتھوڈوکس عیسائیت کا مرکز بن گئی ۔ بعد ازاں یہاں کئی عظیم گرجے اور کلیسے تعمیر ہوئے جن میں دنیا کا سب سے بڑا گرجا ایاصوفیہ بھی شامل تھا جسے سلطان محمد فاتح نے فتح قسطنطنیہ کے بعد مسجد میں تبدیل کردیا۔

اس شہر کے زبردست محل وقوع کی وجہ ہی سے یہ کئی زبردست محاصروں کے باوجود فتح نہ ہو سکا جن میں خلافت امویہ کے دور کے دو محاصرے اور پھر سلطنت عثمانیہ کے ابتدائی دور کے متعدد ناکام محاصرے شامل ہیں۔

سلطنت عثمانیہ کا دور[ترمیم]

قسطنطنیہ 1805ء

29 مئی 1453ء کو سلطان محمد فاتح نے 53 روزہ محاصرے کے بعد قسطنطنیہ کو فتح کرلیا۔ محاصرے کے دوران عثمانی افواج کی توپوں سے تھیوڈوسس ثانی کی قائم کردہ دیواروں کو زبردست نقصان پہنچا۔ اس طرح استنبول بروصہ اور ادرنہ کے بعد سلطنت عثمانیہ کا تیسرا دارالحکومت بن گیا۔

ترک فتح کے بعد اگلے سالوں میں توپ قاپی محل اور بازار کی شاندار تعمیرات عمل میں آئیں۔ مذہبی تعمیرات میں فاتح مسجد اور اس سے ملحقہ مدارس اور حمام شامل تھے ۔ عثمانی دور میں شہر مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا مرکز رہا اور مسلمان، عیسائی اور یہودی سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد یہاں رہائش پذیر رہی۔

سلیمان اعظم قانونی کا دور تعمیرات اور فن کا عمیق دور تھا جس کے دوران اس کے ماہر تعمیران سنان پاشا نے شہر میں کئی عظیم الشان مساجد اور عمارات تعمیر کیں۔

جمہوریہ ترکی[ترمیم]

برج غلطہ سے شاخ زریں کا ایک دلکش منظر

1923ء میں ترک جمہوریہ کے قیام کے بعد دارالحکومت استنبول سے انقرہ منتقل کردیا گیا۔ عثمانی دور میں شہر کا نام قسطنطنیہ موجود رہا جبکہ سلطنت سے باہر اسے استامبول کے نام سے جانا جاتا تھا تاہم 1930ء میں جمہوریہ ترکی نے اس کا نام تبدیل کرکے استنبول کردیا۔

جمہوریہ کے ابتدائی دور میں انقرہ کے مقابلے میں استنبول پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی لیکن 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں استنبول میں زبردست تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ شہر کی یونانی برادری 1955ء کے معاہدے کے تحت ترکی چھوڑ کر یونان چلی گئی۔

1950ء کی دہائی میں عدنان میندریس کی حکومت کے دوران ملکی ترقی کے لئے کئی کام کئے گئے اور ملک بھر میں نئی سڑکیں اور کارخانے تعمیر ہوئے ۔ استنبول میں بھی جدید کشادہ شاہراہیں قائم ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ سودا شہر کی قدیم عمارات کے بدلے میں کیا گیا اور استنبول کئی قدیم عمارات سے محروم ہوگیا۔

1970ء کی دہائی میں شہر کے مضافات میں قائم نئے کارخانوں میں ملازمت کی غرض سے ملک بھر سے عوام کی کثیر تعداد استنبول پہنچی جس نے شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ آبادی میں تیزی سے اضافے کے بعد تعمیراتی شعبے میں بھی انقلاب آیا اور کئی مضافاتی دیہات توسیع پاتے ہوئے شہر میں شامل ہوگئے ۔

محل وقوع[ترمیم]

باسفورس پل اور یورپی علاقے میں بلند عمارات

استنبول آبنائے باسفورس کے جنوبی علاقے میں دونوں جانب واقع ہے اس طرح وہ دو براعظموں میں واقع دنیا کا واحد شہر ہے ۔ شہر کا مغربی حصہ یورپ جبکہ مشرقی حصہ ایشیا میں ہے ۔ شہری حدود ایک ہزار 539 مربع کلومیٹر تک ہیں جبکہ صوبہ استنبول 5 ہزار 220مربع کلومیٹر پرمحیط ہے ۔

ارضیات[ترمیم]

استنبول شمالی اناطولیہ کی زلزلے کی پٹی کے قریب واقع ہے جو شمالی اناطولیہ سے بحیرہ مرمرہ تک جاتی ہے ۔ افریقی اور یوریشین پلیٹ یہی پر ملتی ہیں۔ اس زلزلے کی پٹی کے باعث خطہ زلزلوں کا مرکز ہے ۔ 1509ء میں ایک زلزلے کے نتیجے میں سونامی پیدا ہوا جس میں 10ہزار لوگ ہلاک اور 100 سے زائد مساجد تباہ ہوئیں۔ 1766ء میں ایوب مسجد مکمل طور پر شہید ہوگئی۔ 1894ء کے زلزلے میں استنبول کے ڈھکے ہوئے بازار کا بیشتر حصہ تباہ ہوگیا۔ اگست 1999ء کے تباہ کن زلزلے کے نتےجد میں 18 ہزار اور 2001ء کے موسم سرما میں 41 افراد ہلاک ہوئے ۔

شہر میں موسم گرما گرم اور پرنم جبکہ سردیوں میں بارش اور کبھی کبھار برف باری کے ساتھ شدید سردی پڑتی ہے ۔ شہر میں سالانہ اوسطاً 870 ملی میٹر بارش پڑتی ہے ۔ موسم سرما کے دوران اوسطاً درجہ حرارت 7 سے 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے جس کے دوران برف باری بھی عموماً ہوتی رہتی ہے ۔ جون سے ستمبر تک موسم گرما کے دوران دن میں اوسطاً درجہ حرارت 28ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے ۔

سال کاگرم ترین مہینہ جون ہے جس میں اوسط درجہ حرارت 23.2ڈگری سینٹی گریڈ ہے جبکہ سال کا سرد ترین مہینہ جنوری ہے جس کا اوسط درجہ حرارت 5.4 ڈگری سینٹی گریڈ ہے ۔ شہر میں سب سے زیادہ حرارت اگست 2000ء میں 40.5ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔


شہر کی تنظیم[ترمیم]

استنبول کی بلند عمارات کا ایک دلکش نظارہ

استنبول کے اضلاع کو تین اہم علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے :

قدیم قسطنطنیہ کا تاریخی جزیرہ نما امینونو اور فاتح کے اضلاع پرمشتمل ہے ۔ عثمانی دور کے اواخر میں استنبول کہلایا جانے والا یہ علاقہ شاخ زریں کے جنوبی ساحلوں پرقائم ہے جو قدیم شہر کے مرکز کو یورپی علاقے کے شمالی علاقوں سے جدا کرتی ہے ۔ اس جزیرہ نما کے جنوب کی جانب سے بحیرہ مرمرہ اور مشرق میں باسفورس نے گھیرا ہوا ہے ۔

شاخ زریں کے شمال میں تاریخی بے اوغلو اور بشکطاش کے اضلاع واقع ہیں جہاں آخری سلطان کا محل واقع ہے ۔ ان کے بعد باسفورس کے ساحلوں کے ساتھ ساتھ اورتاکوئے اور بیبک کے سابق دیہات واقع ہیں۔ باسفورس کے یورپی اور ایشیائی دونوں جانب استنبول کے امراء نے پرتعیش رہائشی مکانات تعمیر کررکھے ہیں جنہیں یالی کہا جاتا ہے ۔ ان مکانات کو موسم گرما کی رہائش کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے ۔

اسکودار اور قاضی کوئے شہر کے ایشیائی حصے ہیں جو دراصل آزاد شہر تھے ۔ آج یہ جدید رہائشی اور کاروباری علاقوں پر مشتمل ہے اور استنبول کی تقریباً ایک تہائی آبادی یہاں رہائش پذیرہے ۔

دفاتر اور رہائش کی حامل بلند عمارات یورپی حصے کے شمال علاقوں میں واقع ہیں جن میں خصوصاً لیونت، مسلاک اور اتیلر کا علاقہ شامل ہیں جو باسفورس اور فاتح سلطان محمد پلوں کے درمیان واقع ہے ۔


آبادی میں اضافہ[ترمیم]

اورتاکوئے مسجد اور باسفورس پل، رات کے وقت

استنبول کی آبادی 1980ء سے 2005ء کے 25سالہ عرصے کے دوران تین گنا سے بھی زیادہ ہوگئی ہے ۔ اندازاً 70فیصد سے زائد شہری استنبول کے یورپی حصے میں جبکہ 30 فیصد ایشیائی حصے میں رہتے ہیں۔ جنوب مشرقی ترکی میں بے روزگاری میں اضافے کے باعث خطے کے لوگوں کی اکثریت استنبول ہجرت کرگئی جہاں وہ شہر کے نواحی علاقوں غازی عثمان پاشا، ضیا گوک الپ و دیگر میں قیام پذیر ہوگئی۔

سال آبادی
330ء 40،000
440ء 400،000
530ء 550,000
545ء 350,000
715ء 300,000
950ء 400,000
1200ء 150,000
1453ء 36,000
1477ء 75,000
1566ء 600,000
1817ء 500,000
1860ء 715,000
1885ء 873,570
1890ء 874,000
1897ء 1,059,000
1901ء 942,900
1914ء 909,978
اکتوبر 1927ء 680,857
اکتوبر 1935ء 741,148
اکتوبر 1940ء 793,949
اکتوبر 1945ء 860,558
اکتوبر 1950ء 983,041
اکتوبر 1955ء 1,268,771
اکتوبر 1960ء 1,466,535
اکتوبر 1965ء 1,742,978
اکتوبر 1970ء 2,132,407
اکتوبر 1975ء 2,547,364
اکتوبر 1980ء 2,772,708
اکتوبر 1985ء 5,475,982
اکتوبر 1990ء 6,620,241
نومبر 1997ء 8,260,438
اکتوبر 2000ء 8,803,468
جنوری 2005ء 9,797,536
جنوری 2006ء 10,034,830


تعلیم[ترمیم]

ترکی میں اعلیٰ تعلیم کے بہترین اداروں میں سے چند استنبول میں واقع ہیں جن میں سرکاری و نجی جامعات بھی شامل ہیں۔ اکثر معروف جامعات سرکاری ہیں لیکن حالیہ چند سالوں میں نجی جامعات کی تعداد میں بھی اضافہ ہواہے ۔ معروف سرکاری جامعات میں استنبول تکنیکی جامعہ، باسفورس جامعہ، غلطہ سرائے جامعہ، استنبول جامعہ، مارمرہ جامعہ، یلدیز تکنیکی جامعہ اور معمار سنان فنون لطیفہ جامعہ شامل ہیں۔

لائبریریاں

  • سلیمانیہ کتب خانہ
  • استنبول چلک گولرسوئے کتب خانہ
  • توپ قاپی محل کتب خانہ
  • آرکیولوجیکل میوزیم کتب خانہ
  • اتاترک کتب خانہ
  • گوئٹے انسٹیٹیوٹ کتب خانہ
  • امریکن کتب خانہ

اقتصادیات[ترمیم]

لیونت میں قائم بلند عمارات

استنبول اپنے بہترین محل وقوع اور زمینی و بحری راستوں کے بین الاقوامی پر موجودہ ہونے کے باعث ہمیشہ ہی سے ترکی کی اقتصادیات کا مرکز رہا ہے ۔ ترکی کے صنعتی مزدوروں کا 20 فیصد استنبول میں روزگار سے وابستہ ہے جبکہ شہر ترکی کے صنعتی شعبے کا 38 فیصد حصہ ادا کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں شہر ترکی کی تجارت کا 55 فیصد اور تھوک تجارت کا 45 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار کا 21.2 فیصد پیدا کرتا ہے ۔ ملک بھر میں محصولات کا 40 فیصد حصہ استنبول ادا کرتا ہے اور ترکی میں قومی مصنوعات کا 27.5 فیصد تیار کرتا ہے ۔

مسلک میں قائم بلند عمارات

1990ء کی دہائی میں ایشیائی مالی بحران اور روس میں بحران کے باعث ترکی خصوصاً استنبول کی معیشت کو شدید دھچکے پہنچے ۔ جولائی 1997ء سے 1998ء کے اوائل تک ایشیائی بحران اور اگست 1998ء سے 1999ء کے وسط تک روسی بحران کے باعث ترکی کی معیشت خصوصاً برآمدات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ شہر کی اقتصادیات کو دوسرا دھچکا 17اگست 1999ء کو زلزلے سے لگا جس کے نتےج میں اس کے جی ڈی پی میں دو فیصد کمی واقع ہوئی۔

اس کے باوجود استنبول کی معیشت حالیہ چند سالوں سے دوبارہ بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ استنبول ترکی کا صنعتی مرکز ہے ۔ ترکی کے کئی بڑے کارخانے یہیں واقع ہیں۔ استنبول اور اس کے نواحی صوبہ جات کپاس، پھل، زیتون کا تیل، ریشم اور تمباکو پیدا کرتے ہیں۔ شہر کی اہم مصنوعات میں غذائی مصنوعات، کپڑا، تیل، ربڑ، دھاتی اشیاء ، چمڑے کی اشیائ، کیمیکل، برقی مصنوعات، شیشہ، مشینری، کاغذ اور الکوحل کے مشروبات شامل ہیں۔ شہر میں گاڑیاں اور ٹرک بھی اسمبل کئے جاتے ہیں۔

استنبول کی معیشت کا ایک اہم شعبہ سیاحت بھی ہے ۔ شہر میں ہزاروں ہوٹل اور سیاحت متعلقہ صنعتیں موجود ہیں۔

ذرائع نقل و حمل[ترمیم]

شہر قومی و بین الاقوامی طویل الفاصلاتی ذرائع نقل و حمل کا مرکز ہے ۔

شہر میں دو بین الاقوامی ہوائی اڈے قائم ہیں۔ بڑا ہوائی اڈہ اتاترک بین الاقوامی ہوائی اڈہ مرکز شہر سے 24 کلومیٹر دور واقع ہے ۔ تعمیر کے وقت یہ شہر کے یورپی حصے کے ایک کونے میں تھا لیکن اب شہر کے اندر قائم ہے ۔ جدید ہوائی اڈہ صبیحہ گوکچن ہوائی اڈہ ایشیائی علاقے سے 20 کلومیٹر مشرق جبکہ یورپی علاقے سے 45 کلومیٹر دور مشرق میں واقع ہے ۔

سرکیجی اسٹیشن یورپی جانب تمام ٹرینوں کا آخری اسٹاپ ہے ۔ شہر سے صرف ایک طویل الفاصلاتی ٹرین روزانہ چلتی ہے جو رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ تک جاتی ہے ۔ باسفورس کے پار حیدر پاشا اسٹیشن سے روزانہ انقرہ سمیت اناطولیہ کے دیگر شہروں کے لئے کئی ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں۔ اب ان دونوں اسٹیشنوں کو فیری سروس کے ذریعے آپس میں جوڑدیا گیا ہے ۔

کانیون شاپنگ مال

ای 5، ای 90 اور ٹرانس یورپین موٹر وے یورپی سرحد سے ترکی اور مشرقی علاقوں کو جانے والے اہم ترین راستے ہیں۔ استنبول کے گرد موٹر وے کا جال انتہائی جدید ہے اور اسے مزید توسیع دی جارہی ہے ۔ موٹر ویز دارالحکومت انقرہ کے علاوہ ادرنہ کی جانب بھی جاتی ہے ۔ شہر کے گرد دو ایکسپریس ویز ہیں۔ پرانے ایکسپریس وے کو ای 5 کہا جاتا ہے کو زیادہ تر شہر کا اندرونی ٹریفک استعمال کرتا ہے جبکہ جدید ٹرانس یورپین موٹر وے بین البراعظمی یا بین البلادی ٹریفک استعمال کرتا ہے ۔ باسفورس پل اور فاتح سلطان محمد پل آبنائے باسفورس پر انہی دو ہائی ویز پر بنے ہوئے ہیں۔

استنبول کی بندرگاہ ملک میں سب سے زیادہ اہم ہے ۔ شاخ زریں میں واقع قدیم بندرگاہ ذاتی جہاز رانی کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔ یہاں سے بحیرہ روم میں یونانی جزائر اور کروشیا، وینس اور ناپولی،اٹلی، مارسے، فرانس اور حیفہ، اسرائیل اور بحیرہ اسود میں یوکرین تک کے لئے بحری جہاز روانہ ہوتے ہیں۔

شہر کے معروف پل[ترمیم]

باسفورس پل، پس منظر میں فاتح سلطان محمد پل بھی واضح ہے


کھیل[ترمیم]

اتاترک اولمپک اسٹیڈیم

اتاترک اولمپک اسٹیڈیم ترکی کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے جس میں 82 ہزار 300 تماشائیوں کی گنجائش ہے ۔ اسٹیڈیم نے 2005ء کی یورپین چیمپیئنز لیگ فائنل کی میزبانی کی تھی۔

شکرو سرج اوغلو اسٹیڈیم 52 ہزار 500 تماشائیوں کی گنجائش رکھتا ہے اور 2009ء میں UEFA کپ کے فائنل کی میزبانی کرے گا۔

استنبول کئی فٹ بال ٹیموں کا شہر ہے جن میں ترکی کی سب سے قدیم کھیلوں کی تنظیم بیشکطاش بھی شامل ہے ۔ علاوہ ازیں غلطہ سرائے اور فنر باغچہ مشہور ترین ٹیمیں ہیں۔

شکرو سرج اوغلو اسٹیڈیم

استنبول فارمولا ون ترکش گراں پری، موٹر جی پی گراں پری، ایف آئی اے ورلڈ ٹورنگ کار چیمپیئن شپ،جی پی 2 اور لی مینز سیریز 1000 کلومیٹر ریس کی میزبانی کرتا رہتا ہے ۔ یہ تمام کھیلوں کے مقابلے استنبول پارک میں منعقد ہوتے ہیں۔

دیگر کھیلوں میں باسکٹ بال، والی بال، گالف، شوٹنگ، گھڑ سواری اور ٹینس بے حد معروف ہیں۔


جڑواں شہر[ترمیم]

استنبول کے 45 جڑواں شہر ہیں:

مزید دیکھئے[ترمیم]

قسطنطنیہ

ترکی

بیرونی روابط[ترمیم]

استنبول ٹریول گائیڈ از ویکی ٹریول

استنبول کے بارے میں مضمون،انگریزی زبان میں

استنبول کا نقشہ

استنبول کی تاریخی تصاویر

استنبول کی تاریخ