شاہراہ ریشم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شاہراہ ریشم کی مختلف تجارتی گذر گاہیں

عہدِ قدیم (Ancient Ages) کے ان تجارتی راستوں کو مجموعی طور پر شاہراہ ریشم (انگریزی:Silk Road یا Silk route) کہا جاتا ہے جو چین کو ایشیائے کوچک اور بحیرہ روم کے ممالک سے ملاتے ہیں۔ یہ گذر گاہیں کل 8 ہزار کلو میٹر (5 ہزار میل) پر پھیلی ہوئی تھیں۔ شاہراہ ریشم کی تجارت چین، مصر، بین النہرین، فارس، بر صغیر اور روم کی تہذیبوں کی ترقی کا اہم ترین عنصر تھی اور جدید دنیا کی تعمیر میں اس کا بنیادی کردار رہا ہے۔

شاہراہ ریشم کی اصطلاح پہلی بار جرمن جغرافیہ دان فرڈیننڈ وون رچٹوفن نے 1877ء میں استعمال کی تھی۔ اب یہ اصطلاح پاکستان اور چین کے درمیان زمینی گذر گاہ شاہراہ قراقرم کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔

مغرب سے شمالی چین کے تجارتی مراکز تک پھیلی یہ تجارتی گذر گاہیں سطح مرتفع تبت کے دونوں جانب شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم ہیں۔ شمالی راستہ بلغار قپپچاق علاقے سے گذرتا ہے اور چین کے شمال مغربی صوبے گانسو سے گذرنے کے بعد مزید تین حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جن میں سے دو صحرائے ٹکلا مکان کے شمال اور جنوب سے گذرتے ہیں اور دوبارہ کاشغر پر آ کر ملتے ہیں جبکہ تیسرا راستہ تین شان کے پہاڑوں کے شمال سے طرفان اور الماتی سے گذرتا ہے۔

یہ تمام راستے وادی فرغانہ میں خوقند کے مقام پر ملتے ہیں اور مغرب میں صحرائے کراکم سے مرو کی جانب جاری رہتے ہیں اور جہاں جلد ہی جنوبی راستہ اس میں شامل ہو جاتا ہے۔

ایک راستہ آمو دریا کے ساتھ شمال مغرب کی جانب مڑ جاتا ہے جو شاہراہ ریشم پر تجارت کے مراکز بخارا اور سمرقند کو استراخان اور جزیرہ نما کریمیا سے ملاتا ہے۔ یہی راستہ بحیرہ اسود، بحیرہ مرمرہ سے بلقان اور وینس تک جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ بحیرہ قزوین اور قفقاز کو عبور کر کے جارجیا سے بحیرہ اسود اور پھر قسطنطنیہ تک پہنچتا ہے۔

شاہراہ ریشم کا جنوبی حصہ شمالی ہند سے ہوتا ہوا ترکستان اور خراسان سے ہوتا ہوا بین النہرین اور اناطولیہ پہنچتا ہے۔ یہ راستہ جنوبی چین سے ہندوستان میں داخل ہوتا ہے اور دریائے برہم پترا اور گنگا کے میدانوں سے ہوتا ہوا بنارس کے مقام پر جی ٹی روڈ میں شامل ہو جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ شمالی پاکستان اور کوہ ہندو کش کو عبور کر کے مرو کے قریب شمالی راستے میں شامل ہو جاتا ہے۔

بعد ازاں یہ راستہ عین مغرب کی سمت اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور شمالی ایران سے صحرائے شام عبور کرتا ہوا لیونت میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں سے بحیرہ روم میں بحری جہازوں کے ذریعے سامان تجارت اٹلی لے جایا جاتا تھا جبکہ شمال میں ترکی اور جنوب میں شمالی افریقہ کی جانب زمینی قافلے بھی نکلتے تھے۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]