بخارا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بخارا کی قدیم عمارات

بخارا ازبکستان کا پانچواں سب سے بڑا شہر اور صوبہ بخارا کا صدر مقام ہے۔ 1999ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی دو لاکھ 37 ہزار 900 ہے۔ بخارا اور سمرقند ازبکستان کی تاجک اقلیت کے دو اہم ترین شہر ہیں۔

بخارا تاریخ میں ایرانی تہذیب کا اہم ترین مرکز تھا۔ اسکا طرز تعمیر اور آثار قدیمہ ایرانی تاریخ اور فن کے ستونوں میں سے ایک ہے۔

بخارا کا قدیم مرکز اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کئی مساجد اور مدرسے قائم ہیں۔

چار مینار مدرسہ، بخارا

تاریخ اسلام میں بخارا پہلی مرتبہ 850ء میں دولت سامانیہ کا دارالحکومت قرار پایا۔ سامانیوں کے دور عروج میں یہ شہر اسلامی دنیا میں علم و ادب کے مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔

مسلم تاریخ کے معروف عالم امام بخاری اسی شہر میں پیدا ہوئے جنهیں پانچ لاکھ 500000 احادیث زبانی مع سند کے یاد تھیں۔ ان کی کتاب صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں۔

یہ شہر 1220ء میں چنگیز خان کی تباہ کاریوں کا نشانہ بنا جس کے بعد یہ چغتائی سلطنت، تیموری سلطنت اور خان بخارا کی حکومت میں شامل ہوا۔ یہاں کی دوسری مشہور شخصیت بو علی سینا ہیں۔

نگار خانہ[ترمیم]