ایل خانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تاریخ ایران


ایل خانی ایک منگول خانان تھی جسے 13 ویں صدی میں ایران میں قائم کیا گیا اور، منگول سلطنت کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا- ایل خانی کی بنیاد ، اصل میں خوارزم شاہی سلطنت میں چنگیز خان کی ء1219 تا ء1224 کی مہمات پر ہے- بعد میں چنگیز کے پوتے، ہلاکو خان نے اور خطوں کو فتح کرکے علاقے کا نام ایل خانی سلطنت رکھ دیا- ہلاکو خان نے اپنا خطاب "ایل خان" یعنی "ماتحت خان" رکھا تھا، جس سے وہ شروع میں اپنے آپ کو منگول سلطنت کی سرپرستی میں وفادار ثابت کرنا چاہتا تھا- اس نئی سلطنت کا بیشتر اکثر حصہ ایران پر مشتمل تھا، جبکہ اس میں موجودہ عراق، افغانستان، ترکمانستان، آرمینیا، آذربائیجان، جارجیا، ترکی اور پاکستان بھی شامل تھے- ابتدا میں ایل خانی سلطنت نے بہت سے مذاہب کو اپنایا ، لیکن خاص طور پر بدھ مت اور عیسائیت کے خیرخواہ تھے- بعد ازاں ایل خانی حکمرانوں نے اسلام قبول کیا-


ہلاکو خان، نے سقوط بغداد 1258ء کے سات سال بعد تک ایران پر حکومت کی- بعد ازاں اس کے خاندان کے آٹھ بادشاہوں کی حکومت کے بعد آخری بادشاہ 1335ء میں لاوارث مر گیا۔ اس کے بعد ایران میں‌ طوائف الملوکی کا دور شروع ہوگیا۔ ایل خانیوں کا خاتمہ امیر تیمور بیگ گورکانی کے ہاتھوں ہوا۔ متعدد نامور شعرا مثلاً عطار ، مولانا رومی ، جامی ، احدی، حافظ شیرازی، شیخ سعدی اور کئی افراد ایل خانی سلطنت کے دور حکومت میں وہاں پنپ رہے تھے-

متعلقہ مضامین[ترمیم]