سلطنت دہلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جنوبی ایشیا کی تاریخ
Flag of Bhutan.svg Flag of Maldives.svg Flag of Pakistan.svg Flag of India.svg Flag of Bangladesh.svg Flag of Sri Lanka.svg Flag of Nepal.svg
پتھر کا دور 70,000–7000 قبل مسیح
مہر گڑھ کی ثقافت 7000–3300 قبل مسیح
وادئ سندھ کی تہذیب 3300–1700 قبل مسیح
ہڑپہ کی ثقافت 1700–1300 قبل مسیح
ویدی تہذیب 1500–500 قبل مسیح
- دور آہن کی سلطنتیں - 1200–700 قبل مسیح
مہاجنپداس 700–300 قبل مسیح
سلطنت مگدھا 684–26 قبل مسیح
- سلطنت موریہ - 321–184 قبل مسیح
وسطی سلطنتیں 230 قبل مسیح –1279 بعد مسیح
- سلطنت ستاواہنا - 230 قبل مسیح –199 بعد مسیح
- سلطنت کوشنا - 60–240
- سلطنت گپتا - 240–550
- سلطنت چولا - 848–1279
اسلامی سلطنتیں 1210–1596
- سلطنت دہلی - 1206–1526
- دکن کی سلطنتیں - 1490–1596
سلطنت ہوئشالا 1040–1346
سلطنت وجے نگر 1336–1565
مغل دور 1526–1707
مراٹھا سلطنت 1674–1818
برطانوی راج 1757–1947
تقسیم ہند 1947 تاحال
قومی تواریخ
بھارت - پاکستان - بنگلہ دیش
سری لنکا - نیپال - بھوٹان - مالدیپ

1206ء سے 1526ء تک ہندوستان پر حکومت کرنے والی کئی حکومتوں کو مشترکہ طور پر دہلی سلطنت کہا جاتا ہے۔ ترک اور پشتون نسل کی ان حکومتوں میں خاندان غلاماں (1206ء تا 1290ء)، خلجی خاندان (1290ء تا 1320ء)، تغلق خاندان (1320ء تا 1413ء)، سید خاندان (1414ء تا 1451ء) اور لودھی خاندان (1451ء تا 1526ء) کی حکومتیں شامل ہیں۔ 1526ء میں دہلی کی آخری سلطنت مغلیہ سلطنت میں ضم ہوگئی۔

12 ویں صدی میں شہاب الدین غوری نے غزنی، ملتان، سندھ، لاہور اور دہلی کو فتح کیا اور 1206ء میں اس کی شہادت کے بعد اس کا ایک غلام جرنیل قطب الدین ایبک دہلی میں تخت نشین ہوا اور اس طرح دہلی سلطنت اور خاندان غلاماں کی حکومت کا آغاز ہوا۔ خاندان غلاماں کی حکومت انتہائی تیزی سے پھیلی اور صدی کے وسط تک درہ خیبر سے لے کر بنگال تک کا علاقہ سلطنت میں شامل ہوگیا۔ التمش (1210ء تا 1235ء) اور غیاث الدین بلبن (1266ء تا 1287ء) اس خاندان کے مشہور حکمران رہے۔ 1290ء میں اس خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور خلجی خاندان ابھرا جو غوری کے دوران میں بنگال کا حکمران تھا۔ خلجی حکمرانوں نے گجرات اور مالوہ فتح کیا اور دریائے نرمدا کے پار جنوب میں تامل ناڈو تک ان کے قدم جاپہنچے۔ پہلے سلطان دہلی اور بعد ازاں گلبرگہ کی بہمنی سلطنت اور 1518ء میں بہمنی سلطنت کی 5 دکن سلطنتوں میں تقسیم کے بعد بھی جنوبی ہند میں مسلمانوں کی پیش قدمی جاری رہی۔ ہندو سلطنت وجے نگر نے جنوبی ہند کو اپنے پرچم تلے جمع کرتے ہوئے دہلی سلطنت کی پیش قدمی کو کچھ عرصے کے لئے روکا لیکن 1565ء میں دکن سلطنت کے ہاتھوں ختم ہوگئی۔

دہلی سلطنت واحد سلطنت تھی جس کے دوران بھارت پر ایک خاتون نے حکومت کی۔ خاندان غلاماں کی حکومت کے دوران التمش نے اپنی بیٹی رضیہ سلطانہ کے حق میں وصیت کردی تھی جس نے 1236ء سے 1240ء تک تخت ہندوستان سنبھالا۔ حالانکہ اس کا دور حکومت انتہائی مختصر تھا لیکن مورخین اس کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ التمش کے کئی بیٹے تھے لیکن وہ کہتا تھا کہ "مرد تو صرف رضیہ ہے"۔ رضیہ کو اپنے ہی بھائیوں کی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر اپنے شوہر سمیت انہی کے ہاتھوں ماری گئی۔ وہ مسلم تاریخ کی پہلی خاتون حکمران تھی جس کی حکومت مشرق میں دہلی سے مغرب میں پشاور اور شمال میں کشمیر سے جنوب میں ملتان تک قائم تھی۔

1398ء میں تیمور لنگ کے حملے کے باعث سلطنت دہلی کو زبردست نقصان پہنچا اور اودھ، بنگال، جونپور، گجرات اور مالوہ کی آزاد حکومتیں قائم ہوگئیں۔ لودھیوں کے دور حکومت میں دہلی سلطنت کافی حد تک بحال ہوگئی اور بالآخر 1526ء میں ظہیر الدین بابر نے مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔

سلاطین دہلی

خاندان غلاماں (1206 - 1290)

Delhi sultanate.jpg

خلجی خاندان (1290 - 1321)

تغلق خاندان (1321 - 1398)

لودھی خاندان

سید خاندان (1414 - 1451)

لودھی خاندان (1451 - 1526)

1526-1540: مغل دور

سوری خاندان (1540 - 1555)

متعلقہ مضامین