رضیہ سلطانہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
رضیہ سلطانہ کے دور کے سکے

رضیہ سلطان یا رضیہ سلطانہ (شاہی نام: جلالۃ الدین رضیہ) جنوبی ایشیا پر حکومت کرنے والی واحد خاتون تھیں۔ وہ 1205ء میں پیدا ہوئیں اور 1240ء میں انتقال کرگئیں۔ وہ ترک سلجوق نسل سے تعلق رکھتی تھیں اور کئی دیگر مسلم شہزادیوں کی طرح جنگی تربیت اور انتظام سلطنت کی تربیت بھی حاصل کی۔

سلطنت دہلی کے خاندان غلاماں کے بادشاہ شمس الدین التمش ان کے والد تھے جنہوں نے اپنے کئی بیٹوں پر ترجیح دیتے ہوئے رضیہ کو اپنا جانشیں قرار دیا تاہم التتمش کے انتقال کے بعد رضیہ کے ایک بھائی رکن الدین فیروز نے تخت پر قبضہ کرلیا اور 7 ماہ تک حکومت کی۔ لیکن رضیہ سلطانہ نے دہلی کے لوگوں کی مدد سے 1236ء میں بھائی کو شکست دے کر تخت حاصل کرلیا۔ کہا جاتا ہے کہ تخت سنبھالنے کے بعد انہوں نے زنانہ لباس پہننا چھوڑدیا تھا اور مردانہ لباس زیب تن کرکے دربار اور میدان جنگ میں شرکت کرتی تھیں۔

بھنٹڈہ میں بغاوت کچلنے کے دوران سلطنت کی اہم شخصیات نے رضیہ کا تختہ الٹ دیا اور ان کے بھائی بہرام کو بادشاہ بنا ڈالا۔ رضیہ نے بھٹنڈہ کے گورنر ملک التونیہ سے شادی کرکے تخت دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن جنگ میں شوہر سمیت ماری گئیں۔ انہیں پرانی دلی میں سپرد خاک کیا گیا۔

واضح رہے کہ رضیہ اپنے لئے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھیں کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اس کی جگہ خود کو رضیہ سلطان کہتی تھیں۔