لاہور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
لاہور
Lahore

لہور
—  میٹروپولٹن شہر  —
لاہور

نشان
عرفیت: پنجاب کا موتی, پاکستان کا دل, ثقافتی, پاکستان کا تعمیراتی اور تعلیمی دارالحکومت, زندہ دلوں کا شہر, داتا کی نگری, تہواروں کا شہر
لاہورLahore is located in پاکستان
لاہور
Lahore
پاکستان میں مقام
متناسقات: 31°32′59″N 74°20′37″E / 31.54972°N 74.34361°E / 31.54972; 74.34361متناسقات: 31°32′59″N 74°20′37″E / 31.54972°N 74.34361°E / 31.54972; 74.34361
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ 11 ستمبر 2008
سٹی کونسل لاہور
قصبات 10
حکومت
 - قسم شہر ضلع
 - ڈویژنل کمشنر امداد اللہ بوسال
رقبہ[1]
 - کُل 1,772 کلومیٹر2 (684 میل2)
بلندی 217 میٹر (712 فٹ)
آبادی (2012)[2][مردہ ربط]
 - کُل تقریباْ 12,500,000
  ضلع لاہور کی آبادی
نام آبادی لاہوری
منطقۂ وقت پاکستان معیاری وقت (یو ٹی سی+5)
رموز ڈاک 54000
ڈائلنگ رمز 042[3]
لاہور کنٹونمنٹ قانونی طور پر علیحدہ فوجی زیر انتظام آبادی ہے.

لاہور (Lahore) صوبہ پنجاب پاکستان کا دارالحکومت اور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ یہ پاکستان کا ثقافتی، تعلیمی اور تاریخی مرکز ہے۔ اسے پاکستان کا دل بھی کہتے ہیں۔ یہ شہر دریائے راوی کے کنارے واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے۔

شاہی قلعہ، شالامار باغ، بادشاہی مسجد، مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں مغل دور کی یادگار ہیں۔ سکھ اور برطانوی دور کی بھی تاریخی عمارتیں موجود ہیں۔

لاہور کے قریبی شہر امرتسر، صرف 31 میل دور واقع کیا جا رہا سکھوں کے مقدس ترین جگہ ہے (50 کلومیٹر) کے ساتھ درست کرنے کے لئے بھارت کے اگلے دائیں واقع ہے

تاریخ[ترمیم]

لاہور کے بارے میں سب سے پہلے چین کے باشندے سوزو زینگ نے لکھا جو ہندوستان جاتے ھوئے لاہور سے 630 عیسوی میں گزرا ۔ اس شہر کی ابتدا‏ئی تاریخ کے بارے میں عوام میں مشہور ہے لیکن اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ رام چندر جی کے بیٹے "لوہو" نے یہ بستی آباد کی تھی۔ قدیم ہندو "پرانوں" میں لاہور کا نام "لوہ پور" یعنی لوہ کا شہر ملتا ہے۔ راجپوت دستاویزات میں اسے "لوہ کوٹ" یعنی لوہ کا قلعہ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ نویں صدی عیسوی کے مشہور سیاح "الادریسی" نے اسے "لہاور" کے نام سے موسوم کیا ہے۔ یہ قدیم حوالہ جات اس بات کے غماز ہیں کہ اوا‏ئل تاریخ سے ہی یہ شہر اہمیت کا حامل تھا۔ درحقیقت اس کا دریا کے کنارے پر اور ایک ایسے راستے پر جو صدیوں سے بیرونی حملہ آوروں کی رہگزر رہا ہے، واقع ہونا اس کی اہمیت کا ضامن رہا ہے۔"فتح البلادن" میں درج سنہ 664 عیسوی کے واقعات میں لاہور کا ذکر ملتا ہے جس سے اس کا اہم ہونا ثابت ہوتا ہے۔

ساتویں صدی عیسوی کے اواخر میں لاہور ایک راجپوت چوہان بادشاہ کا پایہٗ تخت تھا۔ فرشتہ کے مطابق سنہ 682 عیسوی میں کرمان اور پشاور کےمسلم پٹھان قبا ئل راجہ پر حملہ آور ہوئے۔ پانچ ماہ تک لڑائی جاری رہی اور بالآخر سالٹ رینج کے گکھڑ راجپوتوں کے تعاون سے وہ راجہ سے اس کے کچھ علاقے چھیننے میں کامیاب ہو گئے۔ نویں صدی عیسوی میں لاہور کے ہندو راجپوت چتوڑ کے دفاع کے لئے مقامی فوجوں کی مدد کو پہنچے۔دسویں صدی عیسوی میں خراسان کا صوبہ دارسبکتگین اس پر حملہ آور ہوا۔ لاہور کا راجہ جے پال جس کی سلطنت سرہند سے لمگھان تک اور کشمیر سے ملتان تک وسیع تھی مقابلہ کے لئے آیا۔ایک بھٹی راجہ کے مشورے پر راجہ جے پال نے پٹھانوں کے ساتھ اتحاد کر لیا اور اس طرح وہ حملہ آور فوج کو شکست دینے میں کامیاب رہا۔ غزنی کے تخت پر قابض ہونے کے بعد سبکتگین ایک دفعہ پھر حملہ آور ہوا۔ لمگھان کے قریب گھمسان کا رن پڑا اور راجہ جے پال ملغوب ہو کر امن کا طالب ہوا۔ طے یہ پایا کہ راجہ جے پال تاوان جنگ کی ادائیگی کرے گا اور سلطان نے اس مقصد کے لئےہرکارے راجہ کے ہمرکاب کئے۔ لاہور پہنچ کر راجہ نے معاہدے سے انحراف کیا اور سبکتگین کے ہرکاروں کو مقید کر دیا۔ اس اطلاع پر سلطان غیض وغضب میں دوبارہ لاہور پر حملہ آور ہوا۔ ایک دفعہ پھر میدانِ کارزار گرم ہوا اور ایک دفعہ پھر جے پال کو شکست ہوئی اور دریائے سندھ سے پرے کا علاقہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ دوسری دفعہ مسلسل شکست پر دلبرداشتہ ہو کر راجہ جے پال نے لاہور کے باہر خود سوزی کر لی۔ معلوم ہوتا ہے کہ سلطان کا مقصد صرف راجہ کو سبق سکھانا تھا کیونکہ اس نے مفتوحہ علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل نہیں کیا اور 1008عیسوی میں جب سبکتگین کا بیٹا محمود ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو جے پال کا بیٹا آنند پال ایک لشکر جرار لے کر پشاور کے قریب مقابلہ کے لئے آیا۔ محمود کی فوج نے آتش گیر مادے کی گولہ باری کی جس سے آنند پال کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور ان کی ہمت ٹوٹ گئی۔ نتیجتاًکچھ فوج بھاگ نکلی اور باقی کام آئی۔ اس شکست کے باوجود لاہور بدستور محفوظ رہا۔ آنند پال کے بعد اس کا بیٹا جے پال تخت نشین ہوا اور لاہور پر اس خاندان کی عملداری 1022 تک برقرار رہی حتٖی کہ محمود اچانک کشمیر سے ہوتا ہوا لاہور پر حملہ آور ہوا۔ جے پال اور اس کا خاندان اجمیر پناہ گزین ہوا۔ اس شکست کے بعد لاہور غزنوی سلطنت کا حصہ بنا اور پھر کبھی بھی کسی ہندو سلطنت کا حصہ نہیں رہا۔محمود کے پوتے مودود کے عہدِ حکومت میں راجپوتوں نے شہر کو واپس لینے کے لئے چڑھائی کی مگر چھ ماہ کے محاصرے کے بعد ناکام واپس ہوئے۔ لاہور پر قبضہ کرنے کے بعد محمود غزنوی نے اپنے پسندیدہ غلام ملک ایاز کو لاہور کا گورنر مقرر کیا جِس نےشہرکے گرد دیوار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ قلعہ لاہور کی بھی بنیاد رکھی۔ ملک ایاز کا مزار آج بھی بیرون ٹکسالی دروازہ لاہور کے پہلے مسلمان حکمران کے مزار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ غزنوی حکمرانوں کے ابتدئی آٹھ حکمرانوں کے دور میں لاہور کا انتظام صوبہ داروں کے ذریعہ چلایا جاتا تھا تاہم مسعود ثانی کے دور میں(۱۱۱۴۔ ۱۰۹۸) دارالحکومت عارضی طور پر لاہور منتقل کر دیا گیا۔اس کے بعد غزنوی خاندان کے بارہویں تاجدار خسرو کے دور میں لاہور ایک دفعہ پھر پایہِ تخت بنا دیا گیا اور اس کی یہ حیثیت 1186میں غزنوی خاندان کے زوال تک برقرار رہی۔ غزنوی خاندان کے زوال کے بعد غوری خاندان اور خاندانِ غلاماں کے دور میں لاہور سلطنت کے خلاف سازشوں کا مرکز رہا۔ درحقیقت لاہور ہمیشہ پٹھانوں کے مقابلہ میں مغل حکمرانوں کی حمایت کرتا رہا۔1241 عیسوی میں چنگیز خان کی فوجوں نے سلطان غیاث الدین بلبن کے بیٹے شہزادہ محمد کی فوج کو راوی کے کنارے شکست دی اور حضرت امیر خسرو کو گرفتار کیا۔ اس فتح کے بعد چنگیز خان کی فوج نے لاہور کو تاراج کر دیا۔

خلجی اور تغلق شاہوں کے ادوار میں لاہور کو کوئی قابلِ ذکر اہمیت حاصل نہ تھی اور ایک دفعہ گکھڑ راجپوتوں نے اسے لوٹا۔ 1397 میں امیر تیمور برصغیر پر حملہ آور ہوا اور اس کے لشکر کی ایک ٹکڑی نے لاہور فتح کیا۔ تاہم اپنے پیشرو کے برعکس امیر تیمور نے لاہور کو تاراج کرنے سے اجتناب کیا اور ایک افغان سردار خضر خان کو لاہور کا صوبہ دار مقرر کیا۔اس کے بعد سے لاہور کی حکومت کبھی حکمران خاندان اور کبھی گکحڑ راجپوتوں کے ہاتھ رہی یہاں تک کہ 1436 میں بہلول خان لودھی نے اسے فتح کیا اور اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ بہلول خان لودھی کے پوتے ابراہیم لودھی کے دورِ حکومت میں لاہور کے افغان صوبہ دار دولت خان لودھی نے علمِ بغاوت بلند کیا اور اپنی مدد کے لئےمغل شہزادے بابر کو پکارا۔

لاہور مغلیہ دور میں[ترمیم]

شالامار باغ
قلعہ لاہور
دریائے راوی

بابر پہلے سے ہی ہندوستان پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا اور دولت خان لودھی کی دعوت نے اس پر مہمیز کا کام کیا۔ لاہور کے قریب بابر اور ابراہیم لودھی کی افواج میں پہلا ٹکراؤ ہوا جس میں بابر فتحیاب ہوا تاہم صرف چار روز کے وقفہ کے بعد اس نے دہلی کی طرف پیشقدمی شروع کر دی۔ ابھی بابر سرہند کے قریب ہی پہنچا تھا کہ اسے دولت خان لودھی کی سازش کی اطلاع ملی جس پر وہ اپنا ارادہ منسوخ کر کے لاہور کی جانب بڑھا اور مفتوحہ علاقوں کو اپنے وفادار سرداروں کے زیرِانتظام کرکے کابل واپس ہوا۔ اگلے برس لاہور میں سازشوں کا بازار گرم ہونے کی اطلاعات ملنے پر بابر دوبارہ عازمِ لاہور ہوا۔ مخالف افواج راوی کے قریب مقابلہ کے لئےسامنے آئیں مگر مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی بھاگ نکلیں۔ لاہور میں داخل ہوئے بغیر بابر دہلی کی طرف بڑھا اور پانی پت کی لڑائی میں فیصلہ کن فتح حاصل کرکے دہلی کے تخت پر قابض ہوا۔ اس طرح ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی ابتداء لاہور کے صوبہ دار کی بابر کو دعوت سے ہوئی۔

لاہور سے امرتسر[ترمیم]

شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں بھی سکھ مت اتنا واضح اور الگ مذہب نہیں بنا تھا لیکن آثار نمایاں ہونے لگے تھے کہ اب سکھ مغلیہ سلطنت کے مرکز برائے پنجاب یعنی لاہور کے بجائے امرتسر کی جانب دیکھنے لگے تھے [4]۔ سکھ ذرائع کے مطابق شہنشاہ جہانگیر کے کہنے پر ادی گرنتھ میں ترامیم سے گرو ارجن کے انکار پر ، اس نے خسرو کو امداد فراہم کرنے کا بہانا بنا کر ان کو قتل کروا دیا تھا [5] اور اس بات نے ان کے بیٹے اور چھٹے گرو ہرگوبند (1595ء تا 1644ء) کو عسکری طاقت کی جانب مائل کردیا تھا جس کے ردعمل کے طور پر جہانگیر نے ایک بار امرتسر سے ہرگوبند کو گرفتار بھی کرا لیکن پھر آزاد کردیا۔ ہرگوبند نے مغلیہ سلطنت کو ناجائز قرار دیکر اپنے پیروکاروں کو اسے تسلیم کرنے سے منع کردیا تھا اور گرو کو خدا کی جانب سے دی جانے والی سلطنت کو جائز قرار دیا؛ شاہجہان کے دور (1628ء تا 1658ء) میں رام داس پور (امرتسر) پر حملہ کیا گیا اور ہرگوبند نے امرتسر سے بھاگ کر کرتار پور میں سکونت اختیار کی۔ اورنگزیب کے تبدیل ہوتے ہوئے کردار نے مختلف واقعات کو جنم دیا جن میں ایک سکھوں سے معاملات کا واقع بھی ہے جس میں محصول یا جزیہ پر ہونے والی معاشیاتی کشمکش کو مذہب اور خودمختاری سے جوڑ دیا گیا۔ تیغ بہادر کے قتل کو متعدد تاریخی دستاویزات میں سکھ مسلم ناچاقی یا نفرت کا آغاز کہا جاتا ہے [6]۔

لاہور کے مشہور دروازے[ترمیم]

  1. دہلی دروازہ
  2. اکبری دروازہ
  3. شاہ عالمی دروازہ
  4. لوہاری دروازہ
  5. بھاٹی دروازہ
  6. ٹکسالی دروازہ
  7. روشنائی دروازہ
  8. مستی دروازہ
  9. کشمیری دروازہ
  10. خضری دروازہ
  11. ذکی دروازہ المعروف یکی دروازہ
  12. شیراں والا دروازہ

لاہور کے اسلامی مراکز[ترمیم]

لاہور کی مسجدیں، مزارات، مدرسے و اسلامی علوم کی درسگاہیں مشہور ہیں۔ ابتداسے ہی لاہور علم اور عمل کا مرکز رہا ہے۔ مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی بڑے بڑے علماء اور مشایخ نے لاہور میں تبلیغ دین کے لیے سفر کیے۔ سید اسمعیل بخاری, مثلاً سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کا مزار داتا دربار بہت مشہور ہے۔

اسلامی علوم کی درسگاہیں و جامعات بھی موجود ہیں مثلاً:

٭ جامعہ اسلامیہ رضویہ

غیر مسلموں کے مقدس مقامات[ترمیم]

مندر[ترمیم]

کنہیالال لکھتا ہے کے پرانی عمارات کے مندر اور ہندوءوں کی عبادت گاہیں بہت ہیں جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔چھوٹے چھوٹے شوالے و ٹھاکر دوارے و دیوی دوارے بے شمار ہیس۔ان میں سے و جدید دونوں قسم کے ہیں۔ مگر سکھی عہد میں پرانی عمارات کے مندر بھی ازسر نو نباءے گءے تھےجن کی عمارات تازہ نظرآتی ہیں۔بعض مندر جو اُن سے نامی گرامی ہیں اورخاص و عام وہاں جا کر پوجا کرتے ہیں اس قسم میں لکھے جاتے ہیں۔(1)مگریاد رءے کہ یہ کنہیالال نے 1882ء میں اپنی کتاب تاریخ لاہور میں لکھا تھا ۔اور آج بہت سہ مقامات ختم ہو چوکے ہیں۔

  • شوالہ باواٹھاکرگر
  • شوالہ راجہ دینا ناتھ راجہ کلانور
  • شوالہ بخشی بھگت رام
  • مکان دھرم سالہ بابا خدا سنگھ
  • ٹھاکر دوارہ راجہ تیجا سنگھ
  • شوالے گلاب راءے جمعدار

وہ مندر جس میں اب بھی عبادت ہوتی ہے[ترمیم]

سکھوں کے مقدس مقامات[ترمیم]

مڑی رنحیت سنگھ

لاہور کے مشہور علاقے[ترمیم]

لاہور کے مشہور علاقے درج ذیل ہیں۔

گلبرگ

باٹاپور

اچھرہ

سمن آباد

فیصل ٹاؤن

ماڈل ٹاؤن

مسلم ٹاؤن

ٹاؤن شپ

حسن ٹاؤن

گوالمنڈی

اعوان ٹاؤن

منصور روڑ خیابان امین

کھاڑک نالہ

اقبال ٹاؤن

سبزہ زار سکیم

مصطفےٰ ٹاؤن

گلشنِ راوی

گرین ٹاؤن

شاد باغ

چاہ میراں

پنجاب کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی

واپڈا ٹاؤن

قلعہ گوجر سنگھ

رائل پارک

اسلام پورہ

باغبانپورہ

جوہر ٹاؤن

ہربنس پورہ

ویلینشیا ٹاؤن

نیاز بیگ

ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی

کینال ویو ہاؤسنگ سوسائٹی

نشاط کالونی

شادمان

یوحناآباد

سنت نگر

ساندہ

انارکلی

شاہدرہ

مغلپورہ

اندرونِ شہر (پرانا لاہور)

بادامی باغ

ٹاؤن شپ

مشہور تعلیمی ادارے[ترمیم]

لاہور تصویروں میں[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Punjab Portal". Government of Punjab. http://pportal.punjab.gov.pk/portal/portal/media-type/html/group/300/page/default.psml/js_panename/ContentViewAdmin/portal/411/nav/right/punjabcms/servlet/PunjabCMSServlet?CMDCMS=V_T_DOCS_BROWSER_VIEW&txtDocID=80&txtVersionID=1&CMDDOCTYPE=1&txtUserID=303۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-12-11. 
  2. ^ http://urbanunit.gov.pk/TORs%20LAHORE%20LDA_July2012.pdf
  3. ^ "National Dialing Codes". پی ٹی سی ایل. http://www.ptcl.com.pk/pd_content.php?pd_id=52۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 April 2012. 
  4. ^ Holy people of the world: Volume 3 by Phyllis G. jestice
  5. ^ History of sikh gurus retold: 1469-1606 C.E By Surjit singh gandhi
  6. ^ The new encyclopaedia britannica: Encyclopaedia britannica, inc


  • تاریخ لاہور ازکنہیالال ص 109نا شر مشتاق بک کانر الکریم مارکٹ اُردو بازار لاہور

بیورنی روابط[ترمیم]