ظہیر الدین محمد بابر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ظہیرالدین بابر
مغل شہنشاہ
Babur.jpg
ظہیرالدین بابر
عہد حکومت 30 اپریل 1526 (قدیم تقویم) — 26 دسمبر 1530 (قدیم تقویم)
تاج پوشی رسمی تاجپوشی نہیں ہوئی
چغتائی / فارسی بابر
القابات السلطان الاعظم والخاقان المکرم پادشاہ غازی شاہِ فرغانہ (1495-1497) ، شاہِ سمرقند (1497) ، شاہِ کابل (1501-1530)
پیدائش فروری 23 [ق‌ت فروری 14] 1483
جائے پیدائش اندیجان, فرغانہ
وفات جنوری 5 [ق‌ت دسمبر 26, 1530] 1531 (عمر 47)
جائے وفات آگرہ
مدفن باغ بابر, افغانستان, 1531
جانشین ہمایوں
بیویاں عائشہ سلطان بیگم
بی‌بی مبارکہ یوسف زئی
دلدار بیگم
گلنار آغاچہ
گل رخ بیگم
ماہم بیگم
آسیہ رضوی
نارگُل آغاچہ
سیدہ آفاق
اولاد ہمایوں ، کامران مرزا ، عسکری مرزا ، ہندال مرزا ، گلبدن بیگم ، فخر النساء ، التون بِشِک
شاہی گھرانہ خاندانِ تیمور
خاندان مغل
والد عمر شیخ مرزا ، امیر فرغانہ
والدہ قُتلَق نِگار خانم
مذہب سنی اسلام

پیدائش: 1483ء

وفات: 1530ء

نام ظہیر الدین محمد ۔ ماں پیار سے بابر(شیر) کہتی تھی۔ اس کاباپ عمر شیخ مرزا فرغانہ (ترکستان) کا حاکم تھا۔ باپ کی طرف سے تیمور اور ماں کی طرف سے چنگیز خان کی نسل سے تھا۔ اس طرح اس کی رگوں میں دو بڑے فاتحین کا خون تھا۔ بارہ برس کا تھا کہ باپ کا انتقال ہوگیا۔ چچا اور ماموں‌ نے شورش برپا کردی جس کی وجہ سے گیارہ برس تک پریشان رہا۔ کبھی تخت پر قابض ہوتا اور کبھی بھاگ کر جنگلوں میں روپوش ہوجاتا۔ بالآخر 1504ء میں بلخ اور کابل کا حاکم بن گیا۔ یہاں سے اس نے ہندوستان کی طرف اپنے مقبوضات کو پھیلانا شروع کیا۔

شہنشاہ بابر کی ایک پینٹنگ

1525ء تک پنجاب پر پورا اقتدار جمانے کے بعد 21 اپریل 1526ء کو پانی پت کے میدان میں‌ ابراہیم لودھی کو شکست دے کر دہلی کے تخت پر قبضہ کر لیا۔ سب سے پہلے اندرونی بغاوت کو فرو کیا پھر گوالیار ، حصار ، میوات ، بنگال اور بہار وغیرہ کو فتح کیا۔ اس کی حکومت کابل سے بنگال تک اور ہمالیہ سے گوالیار تک پھیل گئی۔ 26 دسمبر 1530ء کو آگرہ میں انتقال کیا اور حسب وصیت کابل میں دفن ہوا۔ اس کے پڑپوتے جہانگیر نے اس کی قبر پر ایک شاندار عمارت بنوائی جو بابر باغ کے نام سے مشہور ہے۔ بارہ سال کی عمر سے مرتے دم تک اس بہادر بادشاہ کے ہاتھ سے تلوار نہ چھٹی اور بالآخر اپنی آئندہ نسل کے لیے ہندوستان میں ایک مستقل حکومت کی بنیاد ڈالنے میں کامیاب ہوا۔ توزک بابری اس کی مشہور تصنیف ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ نہ صرف تلوار کا دھنی تھا، بلکہ قلم کا بھی بادشاہ تھا۔ فارسی اور ترکی زبانوں کا شاعر بھی تھا اور موسیقی سے بھی خاصا شغف تھا۔