تاج محل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ताज महल
تاج محل
تاج محل کا جنوبی نظارہ
تاج محل کا جنوبی نظارہ
مقام آگرہ ، بھارت
متناسقات 27°10′29″N 78°02′32″E / 27.174799°N 78.042111°E / 27.174799; 78.042111
ارتفاع 171 m (561 ft)
تعمیر 1632–1653[حوالہ درکار]
ماہرِ فنِ تعمیر استاد احمد لاہوری
طرزِ تعمیر مغلیہ طرزِ تعمیر
دورہ 3 ملین سے زیادہ (in 2003ء)
قِسم ثقافتی
معیار i
نامزدشدہ 1983 (7th session)
Reference # 252
ملک Flag of India.svg بھارت
خطّہ ایشیا بحر الکاہل
تاج محل is located in بھارت
مغربی اتر پردیش ، بھارت میں وقوع


تاج محل

تاج محل، بھارت کے آگرہ شہر میں واقع ایک مقبرہ ہے. اس کی تعمیر مغل بادشاہ شاہ جہاں نے، اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں کروائی تھی.
تاج محل مغل طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے. اس کی تعمیراتی طرز فارسی، ترک، بھارتی اور اسلامی طرز تعمیر کے اجزاء کا انوکھا ملاپ ہے. 1983ء میں، تاج محل کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر نے عالمی ثقافتی ورثے میں شمار کیا. اس کے ساتھ ہی اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی جامع تعریف حاصل کرنے والی، بہترین تعمیرات میں سے ایک بتایا گیا. تاج محل کو بھارت کی اسلامی فن کا عملی اور نایاب نمونہ بھی کہا گیا ہے. یہ 1648ء میں تقریبا مکمل تعمیر کیا گیا. استاد احمد لاهوری کو عام طور پر اس کا معمار خیال کیا جاتا ہے.

تعمیر[ترمیم]

مغل بادشاہ شاہجہان کی بیوی ممتاز محل کا مقبرہ جو بھارت کے شہر آگرہ میں واقع ہے۔کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ شیرازی نامی ایک ایرانی انجینئیر نے اسکا نقشہ تیار کیا تھا لیکن بادشاہ نامے میں لکھا ہے کہ خود شاہ جہاں نے اس کا خاکہ تیار کیا۔ یہ عمارت 1632ء سے 1650ء تک کل25 سال میں مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر میں ساڑھے چار کروڑ روپے صرف ہوئے اور بیس ہزار معماروں اور مزدوروں نے اس کی تکمیل میں حصہ لیا۔ تمام عمارت سنگ مرمر کی ہے۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی 130 فٹ اور بلندی 200 فٹ ہے۔ عمارت کی مرمری دیواروں پر رنگ برنگے پتھروں سے نہایت خوبصورت پچی کاری کی ہوئی ہے۔ مقبرے کے اندر اور باہر پچی کاری کی صورت میں قرآن شریف کی آیات نقش ہیں۔ عمارت کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینار ہے۔ عمارت کا چبوترہ، جو سطح زمین سے کئی فٹ اونچا ہے ، سنگ سرخ کا ہے۔ اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف ، کرسی کے نیچے ایک حوض ہے۔ جس میں فوارے لگے ہوئے ہیں اور مغلیہ طرز کا خوبصورت باغ بھی ہے اس مقبرے کے اندر ملکہ ممتاز محل اور شاہجہان کی قبریں ہیں۔

سیاحت[ترمیم]

ہر سال اس تاریخی یادگار کو 30 لاکھ افراد دیکھنے آتے ہیں یہ تعداد بھارت کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔تاج محل مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثال عمارت ہے جو تعمیر کے بعد ہی سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی۔ محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں، ادیبوں، مصوروں اور فنکاروں کے لیے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں ایک مقبرہ ہے۔سن 1874 میں برطانوی سیاح ایڈورڈ لئیر نے کہا تھا کہ

دنیا کے باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک وہ جنہوں نے تاج محل کا دیدار کیا اور دوسرے جو اس سے محروم رہے ۔

پیلا تاج محل[ترمیم]

آگرہ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث محبت کی اس عظیم یادگار کی رنگت سفید سے پیلی ہو گئی ہے ۔ یہ بات مئی 2007ء میں بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگرہ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے تاج محل کے جگمگاتے سفید سنگ مر مر کو نقصان پہنچا ہے۔ آلودگی کے باعث اس تاریخی یادگار کی حقیقی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں تاج محل کی خوبصورتی بچانے اور سنگ مر مر کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھنے کے لیے اسے صاف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ [1]

عجوبہ[ترمیم]

2007ء میں ایک بین الاقوامی مقابلے کے ذریعے طے پانے والے دورِ جدید کے سات عجائبات میں آگرہ کے تاج محل کو بھی شامل کیا گیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ روزنامہ جنگ کراچی 16 مئی 2007ء
  2. ^ بی بی سی اردو 7 جولائی 2007ء