بابری مسجد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بابری مسجد

بابری مسجد ، انہدام سے پہلے

متناسقات: 26°47′44″N 82°11′40″E / 26.7956°N 82.1945°E / 26.7956; 82.1945متناسقات: 26°47′44″N 82°11′40″E / 26.7956°N 82.1945°E / 26.7956; 82.1945
مقام بھارت کے ایودھیا میں
سال تاسیس 1527ء
معلومات طرزِ تعمیر
ماہر تعمیرات میر باقی
طرز تعمیر مغلیہ فنِ تعمیر
تعداد گنبد تین
Babri Mosque 8.jpg

بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے نام سے منسوب ہے۔بابری مسجد بھارتی ریاست اتر پردیش کی بڑی مساجد میں سے ایک تھی۔

تعمیری پس منظر[ترمیم]

بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر ( 1483-1531) کے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص میر باقی کے ذریعہ سن 1527 عیسوی میں اتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی۔ بابری مسجد کے اوپر تین گنبد تعمیر کیے گئے جن میں درمیانی گنبد بڑا اور اس کے ساتھ دو چھوٹےگنبد تھے۔ گنبد کے علاوہ مسجد کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا جس میں صحن بھی شامل تھا۔صحن میں ایک کنواں بھی کھودا گیا۔ گنبد چھوٹی اینٹوں سے بنا کر اس پر چونا کا پلستر کیا گیا تھا۔ مسجد کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اس کی چھت کو بلند بنایا گیا روشنی اور ہوا کے لئے جالی دار کھڑکیاں نصب تھیں۔ اندرونی تعمیر میں ایک انتہائی خاص بات یہ تھی کہ محراب میں کھڑے شخص کی سرگوشی کو مسجد کے کسی بھی اندرونی حصے میں آسانی سے سنا جا سکتا تھا۔ الغرض یہ اسلامی فن تعمیر کا شاھکار تھا۔ بابری مسجد کو1992میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں شہید/مسمار کر دیا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایل کے اڈوانی کی قیادت میں سخت گیر تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی تھی۔تحریک کے دوران 6 دسمبر 1992 کو ہزاروں ہندو کارسیوکوں نے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کےا علیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔جس کے بعد دہلی اور ممبئی سمیت ہندستان میں تقریباً دو ہزار مسلمانوں کو ہندو مسلم فسادات میں مار دیا گیا۔ بابری مسجد کے انہدام سے پہلے ہندو مظاہرے کے منتظمین نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ مسجد کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اس مظاہرے میں ہندستان بھر سے تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔ بابری مسجد ہندووں کے نظریہ کے مطابق رام کی جنم بھومی پر یا رام مندر پر تعمیر کی گئی۔ جب کہ مسلمان اس نظریہ کو مسترد کرتے ہیں۔ بابری مسجد کا تنازعہ اس وقت بھی مسلمانوں اور ھندووں کے درمیان شدید نزع کا باعث ہے اور اسکا مقدمہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے انگریزی ویکیپیڈیا۔ ذیل میں بابری مسجد کے بارے میں اہم نقاط بیان کیے گئے ہیں۔

شہادت[ترمیم]

انتہا پسند ہندوؤں نے اس مسجد کے بارے میں یہ شوشہ چھوڑا کہ مسجد رام کی جنم بھومی یعنی جائے پیدائش کو گرا کر تعمیر کی گئی ہے۔ 1949 میں مسجد کو بند کرا دیا گیا۔ اس طرح 40 سال سے زائد عرصے تک یہ مسجد متنازع رہی۔ 6 دسمبر 1992ء کو انتہا پسند ہندوؤں نے مسجد کو شہید کردیا۔[1]جس کے بعد بھارت میں اپنی تاریخ کے بدترین ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ جن میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے۔



بابری مسجد تاریخ کے آئینے میں[ترمیم]

Babri graphic.gif

1528: ایک ایسے مقام پر مسجد کی تعمیر جو ہندوؤں کے دعویٰ کے مطابق ’رام‘ کی جائے پیدائش تھی۔

1853: ایودھیا کے پہلے مذہبی فسادات۔

1859: برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی جانب سے عبادت کی جگہ کی تقسیم کر دی گئی۔

1949: مسجد کے اندر سے ’رام‘ کی مورتی کی دریافت۔ حکومت نے متنازعہ مقام قرار دے کر مسجد بند کروا دی۔

1984: وشوا ہندو پریشد کی جانب سے’رام‘ کی جائے پیدائش کو آزاد کروانےکے لیے تحریک کا اعلان۔ بی جے پی کے رہنما لعل کرشن ایڈوانی نے اس تحریک کی قیادت سنبھال لی۔

1986: ضلعی عدالت کی جانب سے ہندوؤں کو متنازعہ مقام پر پوجا کی اجازت۔ مسلمانوں کا جانب سے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام۔

1989: وشوا ہندو پریشد نے مسجد سے ملحقہ زمین پر رام مندر کی بنیاد رکھ دی۔

1990: وشوا ہندو پریشد کے حامیوں نے مسجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچایا۔ بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے مسئلے کے حل کی کوشش۔

1991: ریاست اتر پردیش میں بی جے پی حکومت کا قیام۔

1992: وشوا ہندو پریشد کے حامیوں کی جانب سے بابری مسجد کی شہادت۔ ہندو مسلم فسادات، تین ہزار افراد ہلاک۔

2001: انہدام کے 9 برس مکمل ہونے پر وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کا عزمِ نو۔

جنوری 2002: وزیرِاعظم واجپائی کے دفتر میں ’ایودھیا سیل‘ کا قیام۔

فروری 2002: بی جے پی کی جانب سے انتخابی منشور میں سے رام مندر کی تعمیر کی شق خارج۔ ایودھیا سے واپس آنیوالے ہندوؤں کی ٹرین پر حملہ 58 ہلاک۔ وشوا ہندو پریشد کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کےآغاز کے لیے پندرہ مارچ کی تاریخ کا اعلان۔

مارچ2002: گجرات مسلم کش فسادات میں دو ہزار افراد ہلاک۔

اپریل 2002: ایودھیا کے متنازعہ مقام کی ملکیت کے بارے میں مقدمے کی سماعت کا آغاز۔

جنوری 2003: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے عدالت کے حکم پر متنازعہ مقام کےجائزہ کا آغاز۔

اگست2003: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جانب سے مسجد کے نیچے مندر کی موجودگی کے شواہد کا اعلان۔ مسلمانوں کی جانب سے اعتراضات۔

ستمبر 2003:عدالت کی طرف سے بابری مسجد کے انہدام پر ا کسانے کے الزام میں سات ہندو رہنماؤں پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ۔

اکتوبر 2003: مسلم تنظیموں کی جانب سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ۔

دسمبر 2003: انہدام کی گیارہویں برسی پر حیدرآباد دکن میں فسادات۔ پانچ افراد ہلاک۔

جولائی 2004: شیوسینا کے رہنما بال ٹھاکرے کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے متنازعہ مقام پر قومی یادگار کی تعمیر کی تجویز۔

اکتوبر2004: لال کرشن ایڈوانی کی جانب سے مندر کی تعمیر کی عزم کا اعادہ۔

نومبر 2004: الہٰ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے بابری مسجد معاملہ میں لعل کرشن ایڈوانی کو نوٹس۔

اکتوبر 2010: الہ آباد عدالت نے فیصلے میں بابری مسجد کی زیادہ تر زمین ہندوں کو دے دی۔[2]

تصاویر[ترمیم]


  1. ^ bbc یوٹیوب پر
  2. ^ wsws 2 اکتوبر 2010ء، "Indian High Court abets Hindu supremacists with Babri Masjid ruling "

سانچہ:ایودھیا: رام مندر کے سنگ بنیاد کے 25 سال

بھارتی ریاست اترپردیش کے ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد تنازعے کے تعلق سے ایک سالگرہ نو نومبر بھی ہے۔نو نومبر سال2014 کو ایودھیا میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ کے تعلق سے رام مندر کے سنگ بنیاد کو 25 سال ہو جائیں گے۔ ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد کے رہنما اشوک سنگھل نے اس وقت کہا تھا: 146یہ محض ایک مندر کا نہیں، ہندو قوم کا سنگ ہے۔145 سنہ 1989 کئی اعتبار سے مختلف واقعات کے رونما ہونے کا سال تھا۔ یورپ میں برلن کی دیوار کا دروازہ نو نومبر کو ہی کھول دیا گیا جس سے مشرقی اور مغربی جرمنی کے لوگ آسانی سے آ جا سکیں۔ یہ برلن کی دیوارگرنے کا نقطۂ آغاز تھا۔ آر ایس ایس کے حامی جے دوبانشي نے لکھا: 146ادھر ایک مندر کھڑا ہو رہا تھا اور ادھر ایک مندر گرنے جا رہا تھا۔145 اشوک سنگھل اور دوبانشي کے بیانات میں رام جنم بھومی مندر کی مہم کے سیاسی پروجیکٹ کے متعلق کسی قسم کا شک نہیں ہے۔

یہ ایک دائیں بازو کے قوم پرستانہ سیاسی منصوبے تھے جو ہندوستان میں اکثریت ہندوؤں کو منظم کیے بغیر پھل پھول نہیں سکتے تھے۔ سنہ 1989 کے اکتوبر کے اواخر میں ہی بھاگلپور میں ہندوستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ خوفناک فرقہ وارانہ فسادات میں سے ایک ہوئے تھے۔ یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ وزیر اعظم راجیو گاندھی نے بھاگلپور پہنچ کر جب لاپرواہی برتنے اور فسادات کو جاری رکھنے کے الزام میں وہاں کی پولیس ڈی جی کو معطل کیا تو خود پولیس نے بغاوت کر دی اور ان کا گھیراؤ کر لیا۔ یہ واقعہ اس وقت کے ہندوستان میں فرقہ وارانہ نفسیات کے جارحانہ پہلو کا غماز ہے اور اس میں ہر سطح پر انتظامیہ کی شرکت کے ثبوت بھی ہیں۔ بھاگلپور کے فرقہ وارانہ فسادات میں آر ایس ایس کی شرکت کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ یہ بات ریاستی حکومت کی جانب سے فسادات کی جانچ کرنے والی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

سانچہ:نہرو کا انتباہ

سنہ 1989 ایودھیا کی بابری مسجد کو رام جنم بھومی مندر کی شکل دینے کے چالیس سال مکمل ہونے کا وقت بھی تھا۔ 1949 کے نومبر میں ہی بابری مسجد کے اندر رام اور ديگر دیوتاؤں کی مورتیاں چوری سے رکھ دی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے اس مسجد میں مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر پابندی لگ گئی۔ کرشناجھا اور دھيریندر جھا کی تحقیقی کتاب 146دی ڈارک نائٹ145 میں اس سازش کی پوری کہانی کہی گئی ہے۔ اور یہ بھی کہ کس طرح جواہر لال نہرو کے باربار خبردار کرنے اور تشویش ظاہر کرنے کے بعد بھی کانگریس پارٹی کے رہنماؤں نے، جن میں اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ گووندوللبھ پنت شامل تھے، اس معاملے کو 146ہندو نظریے145 سے ہی دیکھا۔ اس معاملے میں ہندو فریق کے ساتھ مل کر انتظامیہ نے شریک سازشی کا کردار ادا کیا۔ اس کردار کو نہیں بھولا جاسکتا اور مستقبل کے ہندوستان میں پولیس اور انتظامیہ کا یہ مسلم مخالف رویہ مزید گہرا ہی ہوا۔

بھارت کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی محض سٹائل ہی میں نہیں، بلکہ فکر کے معاملے میں بھی اپنے والد سے مختلف تھیں۔ نہرو ہندوؤں کا ساتھ دینے کے بجائے مسلسل چیلنج کرتے رہتے تھے۔ انھیں اس میں کوئی شک نہ تھا کہ ہندوستان کو اصل خطرہ اکثریت کے مذہب کی قوم پرستی سے ہے۔