بال ٹھاکرے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بال ٹھاکرے

بال ٹھاکرے (1927ء-2012ء) بھارتی انتہا پسند لیڈر اور [[بھارت کے صوبہ مہاراشٹر کی انتہا پسند جماعت شیو سینا کا سربراہ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

بھارت کے ایک برہمن انتہا پرست خاندان میں پیدائش ہوئی۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل وہ ایک کارٹونسٹ تھا؛ بعد میں اس کی جگہ چبھتے ہوئے فکروں نے لے لی۔ کارٹونسٹ کی حیثیت سے اسے ابتداء میں کامیابی ملی لیکن جلد ہی تنخواہ پر جھگڑا ہو جانے کی وجہ سے اس نے نوکری چھوڑ دی اور بمبئی سے غیر مراٹھی لوگوں کو باہر رکھنے کے لئے ایک تحریک شروع کی۔

شیو سینا[ترمیم]

بال ٹھاکرے نے لسانی اور مذہبی بنیادوں پر بے روزگار نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنا شروع کیا اور 1966ء میں شیو سینا قائم کی جسے مراٹھی ہندو راجہ شیوا جی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ شیوا جی کو بعض مورخ مغل بادشاہوں کے خلاف جدوجہد کے علم بردار کے طور پر پیش کر تے ہیں۔ بال ٹھاکرے کے مطابق یہ تنظیم صرف مراٹھی نوجوانوں کو انصاف دلوانے کے لئے قائم کی گئی تھی۔ غیر مراٹھیوں کے خلاف اس تحریک نے متعدد دفعہ تشدد کا رنگ اختیار کیا۔ شیو سینا میں بال ٹھاکرے کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر نہیں تھا۔ حتی کہ جماعت میں تنظیمی انتخابات کی بات کرنے کی بھی حماقت کسی نے نہیں کی۔ جن لوگو ں نے آواز اٹھانے کی کوشش کی انہیں جماعت سے نکال دیا گیا۔ ان میں چھگن بھجبل بھی شامل تھے جو مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ بھی رہے۔۔جب 1995ء میں مہاراشٹر میں شیو سینا اور بی جے پی کی مخلوط حکومت بنی، تو حکومت سے باہر رہنے کے باوجود تمام فیصلے بال ٹھاکرے ہی کرتا تھا۔ اس نے کبھی اس بات سے انکار نہیں کیا کہ وہ ریموٹ کنٹرول سے حکومت چلاتا ہے۔ اس کی جماعت مرکزی حکومت میں بھی شامل رہی اور اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پر ہمیشہ دباؤ قائم رکھا۔ شیو سینا کے ایک رکن پارلیمان کی جانب سے وزیر اعظم کے قریبی معاونین پر بدعنوانی کے الزامات پر واجپئی اتنا ناراض ہوئے کہ انہوں نے استعفے کی پیش کش کر دی تھی۔ بعد میں2005ء اور 2006ء میں شیو سینا میں شدید اختلافات سامنے آئے۔ اور اس کے کئی کارکنان بال ٹھاکرے کی آمرانہ حکمت عملی کی وجہ سے جماعت سے علیحدہ ہوگئے۔ حتی کہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے نے علیحدہ ہو کر ایک نئی جماعت بنائی۔

ہندوستانی تہذیب[ترمیم]

شو سینا کی موقع حبالہ کے مطابق ہندوستان کی تہذیب ہندو ہے اور ہندوستان میں رہنے والے ہر شخص کو اسے ماننا ہوگا۔ 1992 میں جب بابری مسجد مسمار کی گئی تو بال ٹھاکرے نے کہا کہ یہ ’عظیم‘ کام شو سینکوں نے انجام دیا تھا جس پر مجھے فخر ہے۔

ہٹلر کا مداح[ترمیم]

بال ٹھاکرے کھلم کھلا ہٹلر کو اپنا سیاسی پیشوا تسلیم کیا، اس کا کہنا تھا کہ جرمنی کے فسطائی رہنما کے بارے میں لوگ جو بھی کہیں، ہٹلر نے جو بھی کیا جرمنی کے حق میں ہی کیا۔

بال ٹھاکرے کی پوری سیاست اسی نظریہ کے ارد گرد گھومتی رہی اور اپنے مسلمان مخالف نظریہ کو وہ اسی تناظر میں پیش کرتا رہا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کی مقبولیت میں اس کے اقلیت مخالف متنازعہ بیانات کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ قوم پرست طبقہ اس طرح کی باتیں سننا چاہتا ہے۔

زندگی قبل از وفات[ترمیم]

امراض قلب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت گھر پر ہی گزرتا تھا۔ اس کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ بال ٹھاکرے میں پہلے جیسی شدت باقی نہیں رہی تھی۔ ممکن ہے کہ یہ سچ ہو لیکن بیانات میں تندی وتیزی اس وقت بھی قائم رہی۔

موت[ترمیم]

بروز سنیچر 17 نومبر 2012ء کو ممبئی کے ایک مقامی ہسپتال میں وفات ہوئی۔ موت کے وقت بال ٹھاکرے کی عمر 86 برس تھی۔