بھارت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


भारत गणराज्य(بھارت گنراجیہ)
جمہوریہ بھارت
بھارت کا پرچم بھارت کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: सत्यमेव जयते
(سچ ہی کی جیت ہے)
ترانہ: जन गण मन/ جن گن من
بھارت کا محل وقوع
دارالحکومت نئی دہلی
عظیم ترین شہر ممبئی
دفتری زبان(یں) ہندی، اردو، انگریزی
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
پارلیمانی جمہوریہ
پرنب مکھرجی
نریندر مودی
آزادی
- اعلانِ آزادی
جمہوریہ
برطانیہ سے
15 اگست 1947ء
26 جنوری 1950ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
3166414  مربع کلومیٹر (7)
1222559 مربع میل
9.56
آبادی
 - تخمینہ:2008ء
 - 2001 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
1,129,600,316 (2)
1027015248
336 فی مربع کلومیٹر(33)
870 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

2965 ارب بین الاقوامی ڈالر (چوتھا)
2700 بین الاقوامی ڈالر (132 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.619
(128) – متوسط
سکہ رائج الوقت بھارتی روپیہ (INR)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
بھارت کا معیاری وقت
(یو۔ٹی۔سی۔ 5.5)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 5.5)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.in
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+91
بھارت

ہندوستان یا بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے جو بر صغیر کے زیادہ تر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ بھارت کے ایک ارب سے زائد باشندے ایک سو سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں۔۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار ہیں، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان ہے اس کے علاوہ بھارت کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے شہر ممبئی، کولکاتہ، دہلی، چنائی، حیدر آباد اور بنگلور ہیں۔

نام کی بنیاد[ترمیم]

دریائے سندھ کے مشرق میں واقع جگہ کا نام عرب تاریخ نگاروں کے ہاں ہند تھا۔ اس ہی طرح انڈس دریا سے نام انڈیا پڑا۔ ماضی میں اس خطے کو عموما ہندوستان یا بھارت کہا جاتا تھا۔ ایک مشہور قومی نغمے کے الفاظ بھی ایسے شروع ہوتے ہیں کہ "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا". آزادی کے بعد ملک کا سرکاری نام بھارت رکھا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد محمد علی جناح، بانئِ پاکستان نے بھارت کو ہندوستان کہنے کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ ہندوستان وہ ملک ہے جو 1947ء سے پہلے تھا۔ اس وجہ سے بھارتی راہنما اپنے ملک کیلیے ہندوستان کو باقاعدہ نام کی حیثیت نہ دے سکے۔ ہندوستان کی طرح جناح نے لفظ انڈیا (India) کے استعمال کی بھی مخالفت کی لیکن بعد میں رضامند ہو گئے۔[حوالہ درکار] تمام عالمی زبانوں میں اس کا انگریزی نام انڈیا ہی مستعمل ہے۔

تاریخ[ترمیم]

برصغیر پاک و ہند صرف تین ادوار میں ایک ملک رہا۔ ایک تو چندرگپت موریا کے عہد میں اور دوسرے مغلیہ دور میں اور تیسرے انگریزوں کے زمانے میں۔اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت میں مغلیہ سلطنت نسبتاً سب سے بڑی تھی۔انگریزوں کے زمانے میں سلطنت مغلیہ دور سے قدرے کم تھی۔ ان تین ادوار کے علاوہ ہندوستان (موجودہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان) ہمیشہ چھوٹی چھوٹی بےشمار ریاستوں میں بٹا رہا۔ اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کے بیشتر دور میں ہندوستان چھوٹی ریاستوں ہی میں بٹا رہا ہے۔ بھارت میں پتھروں پر مصوری کی شروعات 40،000 سال پہلے ہوئی۔ سب سے پہلی مستقل آبادیاں 9،000 سال پہلے وجود میں آئیں۔ ان مقامی آبادیوں نے ترقی کر کہ سندھ طاس تہذیب کو جنم دیا۔ یہ تہذیب چھبیسویں صدی قبل از مسیح سے لے کر انیسویں صدی فبل از مسیح تک اپنے عروج پر تھی اور اس زمانے کی سب سے بڑی تہزیبوں میں شامل ہوتی تھی۔ مگر اس زمانے میں بھی اسے کبھی ھند نہیں کہا گیا بلکہ سندھ کے نام سے جانا جاتا رہا۔ برصغیر بہت عرصہ تک سند اور ہند میں منقسم رہا۔

اس کے بعد آنے والے دور کے بارے میں دو نظریات ہیں۔ پہلا نظریہ ماکس مولر نے پیش کیا۔ اس کے مطابق تقریبا پندرہویں صدی قبل از مسیح میں شمال مغرب کی طرف سے آریاؤں نے ہندورستان میں گھسنا شروع کر دیا۔ پھلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ آریا حملہ آور بن کر آۓ تھے اور طاقت کے استعمال سے پھیلے۔ لیکن اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ آریا طاقت کا استعمال کۓ بغیر آہستہ آہستہ اس علاقے میں پھیلے اور آریاؤں اور مقامی دراوڑوں کے درمیان ہونے والے تعلق اور تبادلہ خیالات سے ویدک تہذیب نے جنم لیا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آریا / ویدک لوگ ہندوستان کے مقامی لوگ تھے جو کہ دراوڈ تہذیب ختم ہونے کے بعد عروج پزیر ہوۓ۔

ساتویں صدی میں عربوں نے مغربی برصغیر کے علاقے سندھ پر حملہ کر کہ قبضہ کر لیا۔ اس سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور حملےکے بعد مقامی لوگوں نے بڑی تیزی سے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد تیرہویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور شمالی ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ سولہویں صدی میں مغلوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور آہستہ آہستہ تمام ہندوستان کے حاکم بن گۓ۔ مغلوں کے حملے سے پہلے ہی ہندوستان میں مقامی لوگوں کی بڑی تعداد مسلمان تھی۔

انیسویں صدی میں انگریزوں نے مغلوں کو اپنے ماتحت کر لیا اور اس طرح ہندوستان کے حاکم بن گۓ۔ 1857 کے غدر کے بعر حکومت کمپنی سے برطانوی تاج کے پاس چلی گئی۔ 1876 کے بعد سے برطانوی شاہان کو شاہنشاہ ہندوستان کا عہدہ بھی مل گیا۔ ملک کو سمبھالنے کے لۓ‎ برطانوی حاکموں نے اپنی ’بانٹو اور راج کرو‘ پالیسی کو استعمال کیا۔ برطانوی پیداوار سستی اور مقامی پیداوار مہنگی کر کے مقامی صنعت کو نقصان پہنچایا گیا اور اس طرح ہندوستان سے پیسہ برطانیہ جاتا گیا۔ بھارت کی تحریک آزادی کا زیادہ تر زور نسلی امتیاز اور تابع تجارتی پالیسی کے خلاف تھا۔

بھارت کا نقشہ، اردو میں

برطانوی راج کے خلاف ایک زیادہ تر غیر تشدد پسند تحریک چلا کر موہنداس کرمچند گاندھی, جواہر لال نہرو, سردار پٹیل, ابوالکلام آزاد, بال گنگادھر تلک اور سبھاش چندرا بھوس کی قیادت میں بھارت نے 1947 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ ہندوستان کی تقسیم پاکستان اور بھارت میں ہو گئی۔

1962 میں بھارت کی متنازع علاقوں پر چین سے جنگ ہوئی۔ 1965 میں کشمیر پر بھارت کی پاکستان سے جنگ ہوئی۔ 1971 میں پاکستان میں خانہ جنگی ہوئی اور اس میں بھارتی مداخلت بھی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔

گزشتہ کچہ عرصہ میں بھارت نے سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ دیکھا ہے۔ اس کے باوجود بھارت کے سامنے بنیادی مسائل پاکستان کے ساتھ کشمیر کاتنازعہ، آبادی کا زیادہ ہونا، ماحولیاتی آلودگی، غربت، مذہبی اور نسلی اختلاف ہیں۔

سیاست[ترمیم]

بھارت ایک جمہوریت ہے۔ بھارت اپنے اسٹیٹز (صوبہجات) کا یونین (اتحاد) ہے جس کا بنیادی ڈھانچہ وفاقی ہے۔ بھارت کی ریاست کا سربراہ بھارت کا صدر ہے۔ صدر اور نائب صدر پانچ سالہ عرصے کے لۓ منتخب ہوتے ہیں۔

بھارت میں انتظامی طاقت کابینہ کے پاس ہے۔ کابینہ کے سربراہ وزیر اعظم ہوتے ہیں۔ صدر ان کو وزیر اعظم مقرر کرتے ہیں جن کو پارلیمان کی اکثریتی جماعت/ جماعتوں نے نامزد کیا ہوتا ہے۔ پھر وزیر اعظم کی صلاح پر دوسرے وزراء مقرر ہوتے ہیں


فوجی طاقت[ترمیم]

اے جے ایل ٹی: جو ایک ہلکا بھارتی سپرسونك لڑاکا طیارہ ہے।

1947ء میں اپنی آزادی کے بعد سے، بھارت نے زیادہ تر ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلق قائم رکھا ہے. 1950ء کی دہائی میں، بھارت نے بھرپور طریقے سے افریقہ اور ایشیا میں یورپی ممالک سےآزادی کی حمایت کی اور غیر وابستہ تحریک میں ایک اہم کردار ادا کیا. 1980ء کے دہائی میں بھارت نے پڑوسی ممالک کی دعوت پر دو ممالک میں مختصر فوجی مداخلت کی۔ مالدیپ، سری لنکا اور دیگر ممالک میں آپریشن کے دوران بھارتی امن فوج بھیجی. جبکہ، بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ ایک کشیدہ تعلق شروع سے برقرار رہا، اور دونوں ملک چار بار جنگوں (1947ء، 1965ء، 1971ء اور 1999ء میں) میں مدمقابل آئے. تنازعہ کشمیر ان جنگوں کی بڑی وجہ تھی۔ 1971ء کو چھوڑ کر، کہ وہ جنگ اس وقت کے مشرقی پاکستان میں شہری کشیدہ حالات کے لئے کی گئی تھی. 1962ء کی بھارت - چین جنگ اور پاکستان کے ساتھ 1965ء کی جنگ کے بعد بھارت نے اپنی فوجی اور اقتصادی حالت میں ترقی کرنے کی کوشش کی. سوویت یونین کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے سن 1960ء کی دہائی میں، سوویت یونین بھارت کا سب سے بڑا ہتھیار فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے.

آج روس کے ساتھ دور رس تعلقات کو جاری رکھنے کے علاوہ، بھارت اسرائیل اور فرانس کے ساتھ دفاعی تعلقات رکھ رہا ہے. حالیہ برسوں میں، بھارت نے علاقائی تعاون اور عالمی تجارتی تنظیم کے لئے ایک جنوبی ایشیائی ایسوسی ایشن میں موثر کردار ادا کیا ہے. بھارت نے اب تک 10،000 متحدہ فوجی اور پولیس اہلکاروں کے زریعے چار براعظموں میں پینتیس اقوام متحدہ امن کارروائیوں میں خدمات فراہم کی ہیں. بھارت بھی مختلف بین الاقوامی مقام، خاص طور پر مشرقی ایشیا کی سربراہ اجلاس اور جی -85 اجلاس میں ایک سرگرم رکن رہا ہے. اقتصادی شعبے میں بھارت نے جنوبی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں. اب بھارت نے "آگے کی طرف دیکھو پالیسی" میں بھی اتفاق کیا ہے. یہ "آسیان" ممالک کے ساتھ اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کے امور کا معاملہ ہے جس میں جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی مدد کی ہے. یہ خاص طور پر اقتصادی سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی کی کوشش ہے.

1974ء میں بھارت نے اپنے پہلے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ کیا اور پھر 1998ء میں زیر زمین تجربات کیے. بھارت کے پاس اب انواع و اقسام کے جوہری هتھيار ہیں. بھارت اب روس کے ساتھ مل کر جدید لڑاکا طیارے تیار کر رہا ہے، جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں.

حال ہی میں، بھارت کا امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ اقتصادی، وسیع تر باہمی مفاد اور دفاعی تعاون بڑھ گیا ہے. 2008ء میں، بھارت اور امریکہ کے درمیان غیر فوجی جوہری تعاون کے معائدے پر دستخط کئے گئے تھے. حالانکہ اس وقت بھارت کے پاس ایٹمی ہتھیار تیار تھا اور وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے حق میں نہیں تھا۔ گو اس کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارے اور نیوکلیئر سپلائر گروپ سے چھوٹ حاصل ہے۔ اسی معائدے کے تحت بھارت کی غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری تجارتی مقاصد پر پہلے ہی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ بھارت دنیا کا چھٹا ایٹمی ہتھیار سے لیس ملک بن گیا ہے. نیوکلئیر سپلائر گروپ کی جانب سے دی گئی چھوٹ کے بعد بھارت روس، فرانس، برطانیہ، اور کینیڈا سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ غیر فوجی جوہری توانائی معاہدے پر دستخط کرنے کے قابل ہے.

تقریبا 1.3 ملین سرگرم فوجیوں کے ساتھ، بھارتی فوج دنیا میں تیسری سب سے بڑی فوجی طاقت ہے. بھارت کے صدر بھارتی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں. سال 2011ء میں بھارتی دفاعی بجٹ 36.03 ارب امریکی ڈالر رہا (یا خام ملکی پیداوار کا 1.83٪). 2008ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت خریدنے کی طاقت کے معاملے میں بھارتی فوج کے فوجی اخراجات 72.7 ارب امریکی ڈالر رہے. سال 2011ء میں بھارتی وزارت دفاع کے سالانہ دفاعی بجٹ میں 11.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ رقم حکومت کی دیگر شاخوں کے ذریعے فوجی اخراجات کے بجٹ میں شامل نہیں ہوتی. حالیہ سالوں میں، بھارت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کنندہ بن گیا ہے.

ثقافت[ترمیم]

آگرہ میں واقع تاج محل مغل شہنشاہ شاہجہاں نے اپنی ملکہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا۔ یہ دنیا کے جدید سات عجائبات میں اور یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ہے۔[1]

بھارت کی ثقافت میں بہت تنوع موجود ہے[2] اور عوامی اور سرکاری سطح پر ایک متنوع اور بعض اوقات متضاد ثقافت اوت ایک دھارے میں لانے کی کوششیں بھی دیکھی جاتی ہیں۔[3] ہندوستانی ثقافت کا آغاز لگ بھگ 8000 سال قبل مسیح سے ہوتا ہے[4] اور اس کی محفوظ شدہ تاریخ تقریباً 2500 سال پر محیط ہے۔[5]

جنس اولاد[ترمیم]

بھارتی ثقافت میں نرینہ اولاد کو سبقت دینے کی وجہ سے مادہ اسقاط حمل کے رواج سے نر اور مادہ بچوں کے تناسب میں انتشار پیدا ہو گیا ہے۔[6]

حقوق[ترمیم]

مراقبت[ترمیم]

بھارتی سرکار کی طرف سے غیر پسندیدہ طباعت پر پابندی لگانے کی رویت ہے۔ اکانمسٹ کے 2011ء شمارے میں کشمیر کا نقشہ متنازع علاقہ لکھنے پر بھارت نے نقشہ پر سفید دھبہ لگانے کے بعد فروخت کی اجازت دی۔[7]

متعلقہ مضامین بھارت[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Taj Mahal". World Heritage List. UNESCO World Heritage Centre. http://whc.unesco.org/en/list. Retrieved 28 September 2007. "The World Heritage List includes 851 properties forming part of the cultural and natural heritage which the World Heritage Committee considers as having outstanding universal value."
  2. ^ Baidyanath, Saraswati (2006). "Cultural Pluralism, National Identity and Development". Interface of Cultural Identity Development (1stEdition ed.). New Delhi: Indira Gandhi National Centre for the Arts. xxi+290 pp. ISBN 81-246-0054-6. http://ignca.nic.in/ls_03.htm. Retrieved 8 June 2007.
  3. ^ Das, N.K. (July 2006). "Cultural Diversity, Religious Syncretism and People of India: An Anthropological Interpretation". Bangladesh e-Journal of Sociology 3 (2nd). ISSN 1819-8465. http://www.bangladeshsociology.org/Content.htm. Retrieved 27 September 2007. "The pan-Indian, civilizational dimension of cultural pluralism and syncretism encompasses ethnic diversity and admixture, linguistic heterogeneity as well as fusion, and variations as well as synthesis in customs, behavioural patterns, beliefs and rituals".
  4. ^ Arnett, Robert. India Unveiled. Atman Press, 2006.
  5. ^ Sharma, Shaloo. History and Development of Higher Education in India. Sarup & Sons, 2002.
  6. ^ "The full extent of India's 'gendercide'". انڈپنڈنٹ. http://www.independent.co.uk/news/world/asia/the-full-extent-of-indias-gendercide-2288585.html. Retrieved 25 May 2011.
  7. ^ "کشمیر کا نقشہ، بھارت پر سینسرشپ کا الزام". بی بی سی. 25 مئی 2011ء. http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/05/110524_economist_allegation_fz.shtml. Retrieved 24 May 2011.


      {{{{{3}}}}}
{{{{{3}}}}} {{{{{4}}}}}


(مراجع)