آسٹریلیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Commonwealth of Australia
دولت مشترکہ آسٹریلیا
آسٹریلیا کا پرچم آسٹریلیا کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: Advance Australia Fair
[[Image:|250px|center| آسٹریلیا کا محل وقوع]]
دارالحکومت کینبرا
عظیم ترین شہر سڈنی
دفتری زبان(یں) انگریزی
نظامِ حکومت
ملکہ
وزیرِ اعظم
آئینی ملوکیت
ایلیزابیتھ دوم
کیوین رڈ
آزادی
- آئینی آزادی
۔قانون ویسٹ منسٹر
۔آسٹریلیا ایکٹ
برطانیہ سے
یکم جنوری 1901ء
11 دسمبر 1931ء
3 مارچ 1986ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
7741220  مربع کلومیٹر (6)
2988902 مربع میل
1
آبادی
 - تخمینہ:2008ء
 - 2006 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
21,222,000 (53)
19855288
2.6 فی مربع کلومیٹر(235)
7 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

766.8 ارب بین الاقوامی ڈالر (17 واں)
37500 بین الاقوامی ڈالر (16 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.962
(3) – بلند
سکہ رائج الوقت آسٹریلوی ڈالر (AUD)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ +8 تا +10.5)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ +9 تا +11.5)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.au
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+61

دولت مشترکہ آسٹریلیا (Commonwealth of Australia) جنوبی نصف کرے کا ایک ملک ہے جو کہ دنیا کے سب سے چھوٹے براعظم پر مشتمل ہے۔ اس میں تسمانیہ کا بڑا جزیرہ اور بحر جنوبی، بحر ہند اور بحر الکاہل کے کئی چھوٹے بڑے جزائر شامل ہیں۔ اس کے ہمسایہ ممالک میں انڈونیشیا، مشرقی تیمور اور پاپوا نیو گنی شمال کی طرف، سولومن جزائر، وانواتو اور نیو سیلیڈونیا شمال مشرق کی طرف اور نیوزی لینڈ جنوب مشرق کی طرف موجود ہے۔

آسٹریلیا کا مرکزی حصہ 42000 سال سے قدیمی آسٹریلین لوگوں سے آباد رہا ہے۔ شمال سے آنے والے اکا دکا ماہی گیروں اور یورپی مہم جوؤں اور تاجروں نے 17ویں صدی میں ادھر آنا شروع کر دیا تھا۔ 1770 میں آسٹریلیا کے مشرقی نصف حصہ پر برطانیہ نے دعویٰ کیا۔ اسے پھر 26 جنوری 1788 میں نیو ساؤتھ ویلز کی کالونی کا حصہ بنا دیا گیا۔ جونہی آبادی بڑھتی گئی اور نئے علاقے دریافت ہوتے گئے، 19ویں صدی تک ادھر مزید پانچ کالونیاں بھی بنا دی گئیں۔

یکم جنوری 1901 کو ان 6 کالونیوں نے مل کر ایک فیڈریشن بنائی اور اس طرح دولت مشترکہ آسٹریلیا وجود میں آئی۔ فیڈریشن سے لے کر اب تک، آسٹریلیا میں معتدل جمہوری سیاسی نظام موجود ہے اور یہ ابھی تک دولت مشترکہ ہے۔ اس کا دارلحکومت کینبرا ہے۔ اس کی آبادی 2 کروڑ 10 لاکھ ہے اور یہ مین لینڈ کے دارلحکومتوں سڈنی، میلبورن، برسبن، پرتھ اور ایڈیلیڈ میں پھیلا ہوا ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

لاطینی میں آسٹریلیس کا مطلب "جو جنوب میں ہو" ہے۔ جنوب کی نامعلوم زمین کے بارے کہانیاں قدیم رومن دور میں ملتی ہیں لیکن ان میں اصل براعظم کے بارے کوئی حقیقی معلومات نہیں تھیں۔ آسٹریلیا کا لفظ انگریزی میں پہلی بار 1625 میں استعمال کیا گیا۔ 1793 میں جارج شا اور سر جیمز سمتھ نے زوالوجی اور باٹنی برائے نیو ہالینڈ کے نام سے تحریر شائع کی جس میں انہوں نے وسیع و عریض جزیرے کا ذکر کیا تھا نہ کہ بطور براعظم کے۔

1814 میں آسٹریلیا کا نام مشہور ہوا جو کہ ایک برطانوی نیویگیٹر نے اپنے سفر کے بعد کتاب کی شکل میں لکھا۔ اس کا نام میتھیو فلنڈرز تھا اور اس نے پہلی بار آسٹریلیا کے گرد چکر لگایا۔ اس کتاب کی نوعیت اگرچہ فوجی تھی، لیکن لفظ "آسٹریلیا" کو عام مقبولیت حاصل ہوئی کیونکہ یہ کتاب وسیع پیمانے پر پڑھی گئی۔ بعد ازاں نیو ساوتھ ویلز کے گورنر نے اپنے سرکاری مراسلات میں لفظ "آسٹریلیا" کو استعمال کیا اور 1817 میں اس نام کو سرکاری درجہ دینے کی سفارش کی گئی جو کہ منظور ہوئی۔

تاریخ[ترمیم]

ابتدائی انسانی آبادکاری کا اندازہ 42000 سے 48000 سال قبل کا لگایا گیا ہے۔ یہ لوگ موجودہ دور کے قدیمی آسٹریلیائی باشندوں کے اجداد تھے جو کہ جنوب مشرقی ایشیا سے زمینی راستے سے ادھر پہنچے تھے۔ ان کی اکثریت شکاری اور گلہ بانوں کی تھی۔

آسٹریلیا کا مشاہدہ کرنے والا پہلا غیر متنازعہ یورپی ہالینڈ کا جہاز راں ولیم جانسزون تھا جس نے کیپ یارک کے جزیرہ نما کے ساحل کا منظر 1606 میں دیکھا۔ 17ویں صدی کے دوران ہالینڈ کے باشندوں نے مکمل مغربی اورشمالی ساحلی علاقوں کے نقشے بنائے اور اسے نیو ہالینڈ کا نام دیا لیکن آبادکاری کی کوئی کوشش نہیں کی۔ 1770 میں جیمز کُک ادھر پہنچا اور مشرقی ساحل کا نقشہ بنایا اور اسے نیو ساؤتھ ویلز کا نام دیا اور اسے برطانیہ نے نام کیا۔

آسٹریلیا کی مقامی آبادی جس کا اندازہ یورپی لوگوں کی آمد کے وقت 350000 کے قریب لگایا جاتا ہے، 150 سال کے بعد ڈرامائی حد تک کم ہو گئی۔ اس کی وجوہات میں بیماریاں، یورپی لوگوں کی زبردستی آمد اور ثقافتی تفریق تھیں۔ اس کے علاوہ مقامی لوگوں سے ان کے بچے چھیننا بھی ان کی نسل کشی کے مترادف سمجھاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان قدیمی باشندوں کی تاریخ میں سیاسی اور نظریاتی مقاصد کے لیے تحاریف بھی کی گئی تھیں۔ آسٹریلوی اسے تاریخی جنگ کا نام دیتے ہیں۔ 1967 کے ریفرنڈم کے بعد حکومت نے مقامی لوگوں ان کے حقوق دینے شروع کیے جن میں زمین کا حق ملکیت، آبائی اعزازات وغیرہ کو 1992 میں جا کر تسلیم کیا گیا۔ اب بھی جو اراضی مقامی لوگوں کے پاس ہے اسے آسٹریلیا کی حکومت ہتھیانے کی کوشش میں رہتی ہے۔[1] آسٹریلیا ان سات ممالک میں شامل ہے جو بیس سال سے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی مخالفت کرتے رہے ہیں جس میں اصلی مقامی آبادیوں کے حقوق کا اعلان کیا گیا ہے۔[2]

سونے کی تلاش کے لیے آسٹریلیا میں 1850 کے اوائل میں دوڑ شروع ہوئی۔ اس کے نتیجے میں چھوٹے پیمانے پر بغاوتیں بھی ہوئیں۔ ویسٹ منسٹر کے 1931 کے قانون نے آسٹریلیا اور برطانیہ کے آئینی تعلقات کو زیادہ تر ختم کر دیا جب آسٹریلیا نے اس کو 1942 میں قبول کیا۔ 1942 میں ایشیا میں برطانیہ کی شکست اور پھر جاپان کے حملے کے اندیشے کے باعث آسٹریلیا نے امریکہ کو اپنا نیا حامی و مددگار بنایا۔ 1951 سے اب تک آسٹریلیا امریکہ کا باقاعدہ فوجی حلیف شمار ہوتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد آسٹریلیا نے یورپ سے تارکین وطن کی حوصلہ افزائی کی۔ 1970 میں سفید آسٹریلیا کی پالیسی کے اختتام پر ایشیا اور دیگر غیر یورپی علاقوں سے افراد نے آسٹریلیا کی طرف جانا شروع کر دیا۔ اس سے آسٹریلیا کی اپنی آبادی، ثقافت اور تشخص پر بہت گہرا اثر پڑا۔

سیاست[ترمیم]

دولت مشترکہ آسٹریلیا ایک آئینی بادشاہت ہے جس میں پارلیمانی نظام حکومت ہے۔ ملکہ الزبتھ دوم آسٹریلیا کی ملکہ ہیں اور ان کا یہ کردار دولت مشترکہ کے دیگر ممالک کی نسبت مختلف ہے۔ وفاقی سطح پر ملکہ کی نمائندگی کرنے کے لیے گورنر جنرل ہوتا ہے۔ اگرچہ آئینی طور پر گورنر جنرل کو وسیع اختیارات ملے ہوتے ہیں عموماً ان کا استعمال وزیر اعظم کے مشورے سے کیا جاتا ہے۔ حکومت تین مختلف شاخوں میں اس طرح تقسیم ہے: • پارلیمان • اشرافیہ • عدلیہ دو ایوانوں پر مشتمل دولت مشترکہ کی پارلیمان ملکہ، سینٹ جس میں 76 اراکین ہوتے ہیں اور ایک ایوان نمائندگان جس کے 150 اراکان ہوتے ہیں۔ یہاں تین بڑی سیاسی جماعتیں ہیں: آسٹریلین لیبر پارٹی، لبرل پارٹی اور نیشنل پارٹی۔ آزاد اراکین اور کئی چھوٹی پارٹیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔ آسٹریلیا میں افغان بستیاں: آسٹریلیا کے ایک محقق اسٹیوینس (Christin Stevens )نے 1989ءمیں ایک کتاب بڑی عرق ریزی سے مرتب کی ہے۔ کتاب کانام ”Tin Mosques and Ghantowns “یعنی ”ٹین کی مسجدیں اور افغان بستیاں“372 صفحات کی اس ضخیم کتاب میں اس نے ان اونٹ والوں کی تاریخ بڑی محنت سے جمع کی ہے۔ کتاب کے مقدمے میں انہوں نے لکھا ہے۔ ”یہ افغان اور ان کے جانور وں نے آسٹریلیا کے قلب تک رسائی اس زمانے میں ممکن بنائی جب دوسرے لوگ اس کام میں اکثر ناکام رہے۔ اس کے باوجود ان کے خلاف خوف اور نفرت کا مظاہرہ کیا گیا اور ان کے منفرد معاشرے کو الگ تھلگ کردیا گیا۔ان کے مزاج اور طبیعت اوران کی ثقافت کو بہت کم سمجھنے کی کوشش کی گئی، بلکہ ان کے خلاف غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

ریاستیں اور مملکتیں[ترمیم]

آسٹریلیا میں چھ ریاستیں اور دو بڑی اور کئی چھوٹی مملکتیں ہیں۔ ریاستوں میں نیو ساؤتھ ویلز، کوئینز لینڈ، ساوتھ آسٹریلیا، تسمانیہ، وکٹوریا اور ویسٹرن آسٹریلیا شامل ہیں۔ بڑی مملکتیں شمالی مملکت اور آسٹریلوی دارلحکومت کی مملکت ہیں۔ عموماً ریاستیں اور مملکتیں ایک ہی کام کرتی ہیں لیکن ان کے قوانین کچھ فرق ہوتے ہیں۔

خارجہ تعلقات اور فوج[ترمیم]

موجودہ دہائیوں میں آسٹریلیا کے خارجہ تعلقات امریکہ سے گہرے تعلقات کے مظہر ہیں۔ آسٹریلیا کی خواہش ہے کہ ایشیا اور بحر اوقیانوس کے ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کیے جائیں۔

آسٹریلیا کی مسلح افواج جنہیں آسٹریلین ڈیفنس فورسز کہا جاتا ہے، شاہی آسٹریلوی بحری فوج، آسٹریلین بری فوج اور شاہی آسٹریلوی ہوائی فوج پر مشتمل ہیں۔ ان کی تعداد 51000 ہے۔ یہ تمام افواج اقوام متحدہ اور علاقائی امن مشنوں، قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے، فوجی لڑائیوں میں بھی شامل ہوتی ہیں۔ حکومت کسی بھی فوج سے سربراہ کا تقرر کرتی ہے۔ سال 2006-2007 کے لیے آسٹریلیا کا دفاعی بجٹ 22 ارب امریکی ڈالر ہے۔

جغرافیہ[ترمیم]

آسٹریلیا کا کل رقبہ 7617930 مربع کلومیٹر ہے۔ یہ سارے کا سارا انڈو آسٹریلین پلیٹ پر واقع ہے۔ اس کے گرد انڈین، جنوبی اور اوقیانوس کے سمندر ہیں۔ آسٹریلیا اور ایشیا کے درمیان تیمور اور ارافورا کے سمندر واقع ہیں۔ آسٹریلیا کے پاس کل 34218 کلومیٹر کا ساحل موجود ہے۔

گریٹ بیرئر ریفک جسے دنیا کی سب سے بڑی مونگے کی چٹان ہونے کا درجہ ملا ہوا ہے، آسٹریلیا کے شمال مشرقی ساحل کے بالکل ساتھ ہے اور 2000 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔ ماؤنٹ اگسٹس کو دنیا کی سب سے بڑی چٹان مانا جاتا ہے۔ آسٹریلیا میں ماؤنٹ کوسکیوسزکو کو سب سے بلند پہاڑ ہونے کا درجہ ملا ہوا ہے جو کہ 2228 میٹر بلند ہے۔ اگرچہ مین لینڈ سے ہٹ کر سب سے بلند پہاڑ ماوسن پیک ہے جو کہ 2745 میٹر بلند ہے۔

اب تک آسٹریلیا کا بڑا حصہ بنجر اور صحرا پر مشتمل ہے۔ آسٹریلیا کو چپٹا ترین براعظم کہتے ہیں۔ اس کی مٹی سب سے پرانی اور سب سے کم ذرخیز ہے۔ اس کے علاوہ یہ خشک ترین براعظم ہے جہاں انسان رہتے ہیں۔ صرف جنوب مشرق اور جنوب مغرب کی طرف کے حصے معتدل درجہ حرارت رکھتے ہیں۔ آبادی کی اکثریت جنوب مشرقی ساحل پر رہتی ہے۔ ملک کے شمالی علاقے استوائی موسم رکھتے ہیں اور یہاں رین فارسٹ، عام جنگلات، گھاس کے میدان، مینگروو دلدلیں اور صحرا ہیں۔ موسم پر سمندری روؤں کا گہرا اثر ہے۔ اسی طرح شمالی آسٹریلیا میں موسمی استوائی ہوا کا کم دباؤ سائیکلون پیدا کرتا ہے۔

نباتات و حیوانات[ترمیم]

اگرچہ زیادہ تر آسٹریلیا نیم بنجر یا صحرائی ہے، اس میں بہت سی اقسام کے ماحول پائے جاتے ہیں۔ ان میں الپائن سے لے کر استوائی رین فارسٹ شامل ہیں۔ اس لیے اسے میگا ڈائورسٹی ملک کہا جاتا ہے۔ اپنی طویل عمر اور زرخیزی میں کمی کی وجہ سے پورے براعظم کا موسم کافی مختلف ہے اور جغرافیائی اعتبار سے بقیہ دنیا سے بہت عرصہ کٹے ہونے کی وجہ سے یہاں کی حیاتیاتی زندگی بہت مختلف اور بہت متنوع نوعیت کی ہے۔ تمام پھولدار پودوں کا 85 فیصد، ممالیہ کا 84 فیصد، پرندوں کا 45 فیصد، ساحل سمندر کی مچھلیوں کا 89 فیصد حصہ عام نوعیت کا ہے اور ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ ان قدرتی ماحولوں کی اکثریت کو انسانی مداخلت اور باہر سے لائی گئی مختلف نسلوں کی وجہ سے مٹ جانے کا اندیشہ لاحق ہے۔ وفاقی ماحول کے بچاؤ اور بائیو ڈائورسٹی کے تحفظ کے ایکٹ کو 1999 میں منظور کیا گیا جو معدومیت کے خطرےسے دوچار انواع کے بچاؤ کا کام کرتا ہے۔

آسٹریلوی لکڑی دار درختوں کی اکثریت سدا بہار ہے اور یہ آگ اور خشک سالی کے عادی ہیں۔ ان میں سفیدہ اور آکاکیاس شامل ہیں۔


معیشت[ترمیم]

آسٹریلیا ایک خوشحال اور مغربی انداز کی معیشت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کی فی کس جی ڈی پی آمدنی برطانیہ، جرمنی اور فرانس سے ذرا سا زیادہ ہے۔ انسانی ترقی کے انڈیکس میں اسے تیسرا نمبر دیا گیا ہے۔ اکانومسٹ نے 2005 میں انسانی معیار زندگی کے ھوالےسے چھٹا نمبر دیا ہے۔ آسٹریلیا کی معیشت میں برآمدی نوعیت کی اشیا کی تیاری نہ ہونا ایک بہت بڑی کمزوری سمجھی جاتی ہے۔ حال ہی میں بڑھتی ہوئی سیاحت اور آسٹریلیا کی برآمدات کی قیمتوں میں اضافے نے اس پر کچھ صورتحال تبدیل کی ہے۔ تاہم کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے کے حوالے سے آسٹریلیا دنیا میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔

ہاک کی حکومت کے دوران معاشی اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا جس میں آسٹریلیا کے ڈالر کو 1983 میں آزاد کر دیا گیا اور جزوی طور پر فنانشل سسٹم کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا۔ ہاورڈ کی حکومت نے مائیکرواکنامک اصلاحات کے اس عمل کو جاری رکھا جس میں لیبر مارکیٹ کی جزوی ڈی ریگولیشن اور سرکاری اداروں کی نجکاری، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن بہت اہم ہے، شامل ہیں۔ جولائی 2000 میں ٹیکسوں کے بالواسطہ نظام کی اصلاح کی گئی اوراشیا اور خدمات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا۔ اس سے ذاتی اور کمپنیوں کے انکم ٹیکس پر انحصار میں کچھ کمی ہوئی۔

جنوری 2007 میں کل 10033480 افراد برسر روزگار ہیں اور اس وقت شرح بے روزگاری 4٫6 فیصدی ہے۔ گزشتہ دہائی سے افراط زر کی شرح 2 سے 3 فیصد تک رہی ہے۔ خدمات کا شعبہ بشمول سیاحت، تعلیم اور معاشی خدمات کل جی ڈی پی کا 69 فیصد حصہ ہیں۔ زراعت اور قدرتی ذرائع کل 3 سے 5 فیصد ہیں۔ آسٹریلیا کی برآمدی منڈیوں میں جاپان، چین، امریکہ، جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔

آبادی[ترمیم]

دو کروڑ دس لاکھ آسٹریلوی 19ویں اور 20ویں صدی کے آبادکاروں کی اولاد ہیں جن کی اکثریت برطانیہ اور آئرلینڈ سے آئی تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے خاتمے سے اب تک آسٹریلیا کی آبادی چار گنا بڑھ چکی ہے۔ اس کی ایک وجہ پرکشش پروگرام برائے تارکین وطن بھی شامل ہے۔ دوسری جنگ عظیم سے لے کر 2000 تک تقریباً 69 لاکھ افراد بطور نئے تارکین وطن کے طور پر آئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آسٹریلوی آبادی کے ہر سات میں سے دو افراد آسٹریلیا سے باہر پیدا ہوئے ہیں۔ زیادہ تر تارکین وطن ہنرمند ہیں لیکن کچھ تعداد پناہ گزین مہاجرین کی بھی ہے۔

آسٹریلیا کے قدیمی باشندوں کی تعداد اب 410003 ہے جو کہ 1976 میں 115953 کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ ان لوگوں کی جیل جانے کی اور بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ اور تعلیم کی کمی اور اوسط عمر دیگر آسٹریلیوں سے سترہ سال کم ہونا بھی شامل ہے۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح آسٹریلیا میں بھی آبادی میں بوڑھے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس سے مراد کم لوگوں کا کام پر جانا اور زیادہ لوگوں کا ریٹائر ہونا ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں آسٹریلوی ملک سے باہر ہیں۔

سرکاری زبان انگریزی ہے اور اس کا لہجہ مخصوص آسٹریلوی ہوتا ہے۔ 2001 کے سروے میں یہ سامنے آیا کہ 80 فیصد گھروں میں انگریزی بولی جاتی ہے۔ اس کے بعد چینی، اٹالین اور یونانی بولی جاتی ہیں۔ نئے تارکین وطن کی اکثریت عموماً دو زبانیں بولتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ آسٹریلیا میں 200 سے 300 تک قدیم زبانیں تھیں جب یورپی یہاں آئے۔ اب ان میں سے کل 70 باقی بچی ہیں اور ان میں سے 20 اب مٹ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

سرکاری طور پر آسٹریلیا کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ 2006 کے سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کل آبادی کا 60 فیصد حصہ عیسائی ہے۔ 19 فیصد لادین ہیں۔ ۱۲ فیصد کی طرف سے دیا جانا والا جواب غیر اخلاقی ہونے کی وجہ سے نہیں لکھا جا رہا۔

6 سے 15 سال تک کے بچوں کے لیے سکول جانا لازمی ہے، کچھ حصوں میں یہ عمر 16 اور کچھ میں 17 سال بھی ہے۔ اس وقت آسٹریلیا کی شرح خواندگی 99 فیصد ہے۔ حکومتی سرمائے سے تعمیر ہونے والی یونیورسٹیوں کی تعداد 38 ہے اور اس کے علاوہ بہت ساری پرائیوٹ یونیورسٹیاں بھی موجود ہیں۔ اکثر یونیورسٹیاں حکومتی امداد سے چلتی ہیں۔ یہاں حکومت کی طرف سے ووکیشنل ٹریننگ کے سکول بھی قائم ہیں جو کہ TAFE ادارے کہلاتے ہیں۔ یہاں نئے ہنرمند تیار کیے جاتے ہیں۔ اندازاً آسٹریلیا کی 25 سے 64 سال تک کی 58 فیصد آبادی کے پاس ووکیشنل یا اس طرح کی دوسری تعلیم موجود ہے۔

ثقافت[ترمیم]

1788 سے لے کر 20ویں صدی تک اینگلو سیلٹک انداز کی ثقافت آسڑیلیا میں موجود رہی۔ گزشتہ پچاس سالوں میں آسٹریلوی ثقافت پر امریکی ثقافت اور انگریزی زبان نہ بولنے والے ممالک کے تارکین وطن لوگوں اور آسٹریلیا کے ایشیائی ہمسائیوں کا گہرا اثر پڑا ہے۔ آسٹریلیا کے اپنے ادب، سینما، اوپرا، موسیقی، پینٹنگ، تھیٹر، ڈانس وغیرہ نے بین الاقوامی طور پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ آسٹریلیا میں بصری فنون کی پرانی تاریخ موجود ہے جو کہ غاروں میں اور درختوں کی چھال پر قدیم لوگوں کی طرف سے بنائی گئی تصاویر پر مشتمل ہے۔

آسٹریلوی ادب پر بھی مناظر کا گہرا اثر ہوا ہے۔ بینجو پیٹرسن اور ہنری لاسن جیسے لکھاریوں نے آسٹریلوی جھاڑیوں سے اثر قبول کیا ہے۔ 1973 میں پیٹرک وائٹ کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ آسٹریلوی انگریزی کی اصل برطانوی انگریزی سے ہوئی ہے۔

آسٹریلیا میں دو نشری ادارے، تین کاروباری ٹیلی ویژن نیٹ ورک، کئی پے ٹی وی اور بہت سارے عوامی، غیر منافعتی ٹیلی ویژن اور ریڈیو سٹیشن موجود ہیں۔ آسٹریلوی فلم انڈسٹری نے بہت زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ ہر بڑے شہر کا اپنا اخبار ہے اور دو قومی اخبارات بھی ہیں۔ پریس فریڈم کے حوالے سے آسٹریلیا کو 2006 میں 35واں نمبر دیا گیا تھا جو نیوزی لینڈ سے پیچھے اور امریکہ سے آگے تھا۔

کھیل کا آسٹریلوی ثقافت پر بہت گہرا اثر ہے۔ اس کے علاوہ موسم بھی ایسا ہے جو بیرونی کھیلوں وغیرہ کے لیے بہت مناسب ہے۔ بین الاقوامی سطح پر آسٹریلیا میں بہت سے کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔ آسٹریلیا کی کرکٹ، ہاکی، نیٹ بال، رگبی لیگ، رگبی یونین، سائیکلنگ، کشتی رانی اور تیراکی میں بہت عمدہ ٹیمیں ہیں۔ قومی سطح پر آسٹریلوی فٹ بال، گھڑ دوڑ، فٹ بال اور موٹر ریسنگ اہم ہیں۔ موجودہ دور میں ہونے والے ہر سمر اولمپک اور ہر دولت مشترکہ کی کھیلوں میں آسٹریلیا نے شرکت کی ہے۔ 1956 کے اولمپک میلبورن، آسٹریلیا میں منعقد ہوئے تھے۔ 2000 سے لے کر اب تک آسٹریلیا پہلے پانچ سب سے زیادہ تمغا لینے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ آسٹریلین اوپن جو کہ چار گرینڈ سلیم ٹینس مقابلوں میں سے ایک ہے، بھی ہوتا ہے۔ کھیلوں کے لیے اور مشہور کھلاڑیوں کے لیے حکومتی اور اداراتی مدد عام سی بات ہے۔ ٹی وی پر فٹ بال اور اولمپک کو دیکھنا بھی کافی مقبول ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین آسٹریلیا[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ WSWS، 21 اگست 2007ء، "Australian government wages two-year vilification campaign to justify takeover of Mutitjulu"
  2. ^ ٹورانٹو سٹار، 22 اگست 2007ء، کیرول گور کا کالم، "Backpedalling on native rights"

بیرونی روابط[ترمیم]

{{Navboxes |title = Gnome-globe.svg جغرافیائی مقام |list = جغرافیائی متناسق نظام 35°18′S 149°8′E / 35.3°S 149.133°E / -35.3; 149.133 (کینبرا)