جاپان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


日本国
(نیپون۔ کوکو)
جاپان
جاپان کا پرچم جاپان کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: 君が代
جاپان کا محل وقوع
دارالحکومت ٹوکیو
عظیم ترین شہر ٹوکیو
دفتری زبان(یں) جاپانی (نیھونگو)
نظامِ حکومت
بادشاہ/شہنشاہ
وزیرِ اعظم
آئینی ملوکیت
ہائسی یاموتو
شنزو آبے
تشکیل
- قیام
میجی قانون
موجودہ قانون

660 قبل از مسیح
29 نومبر 1890ء
3 مئی 1947ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
377873  مربع کلومیٹر (62)
145898 مربع میل
0.8
آبادی
 - تخمینہ:اپریل 2014ء
 - 2011 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
12 کروڑ 71 لاکھ 40 ہزار تقریبا،

0-14 سال = 1 کروڑ 63 لاکھ 79 ہزار/15-64 سال = 7 کروڑ 89 لاکھ 28 ہزار/65 سال سے اوپر= 3 کروڑ 19 لاکھ 88 ہزار (10)
128057352
339 فی مربع کلومیٹر(32)
878 فی مربع میل

خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

4346 ارب بین الاقوامی ڈالر (تیسرا)
33800 بین الاقوامی ڈالر (25 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.953
(8) – بلند
سکہ رائج الوقت ین (JPY)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
جاپان کا معیاری وقت
(یو۔ٹی۔سی۔ 9)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 9)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.jp
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+81

جاپان (جاپانی:日本، نیپون،نیہون، یعنی سورج کا سرچشمہ) چڑھتے سورج کى سرزمین مشرقى ایشیامیں واقع ہے!برآعظم ایشیا کے انتہاى مشرق میں جزیروں کے ایک لمبے سلسلے پر مشتمل ہے جو کہ شمال سے جنوب کی طرف پہیلا ہوا ہے۔

لوگ[ترمیم]

انتظامى تقسیم[ترمیم]

جاپان تقریبا 3000 سے زائد جزیروں پر مشتمل ہے۔انتہاى شمالى جزیرہ ہوکائیدو کہلواتا ہے اس کے بعد ہونشو، شیکوکو کیوشو اور اکیناوا ہے جاپان کے 47 پریفیکچر ہیں جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

ہوکائیدو توہوکو کانتو چوبو کانسائی چوگوکو شیکوکو کیوشو اوکیناوا

1. ہوکائیدو

2. اوموری
3. ایواتے
4. میاگی
5. اکیتا
6. یاگاماٹا
7. فوکوشیما

8. ایباراکی
9.  توچیگی
10. گونما
11. سائیتاما
12. چیبا
13. ٹوکیو
14. کاناگاوا

15. نیگاتا
16. تویاما
17. اشیکاوا
18. فوکوئی
19. یاماناشی
20. ناگانو
21. گیفو
22. شیزوکا
23. ایچی

24. می
25. شیگا
26. کیوٹو
27. اوساکا
28. ہیوگو
29. نارا
30. واکایاما

31. توتوری
32. شیمانے
33. اوکایاما
34. ہیروشیما
35. یاماگوچی

36. توکوشیما
37. کاگاوا
38. اہیمے
39. کوچی

40. فوکوکا
41. ساگا
42. ناگاساکی
43. کومامتو
44. اوئیتا
45. میازکی
46. کاگوشیما

47. اوکیناوا

ان انتظامی کینوں کے علاوه جاپان کے دو بڑے شہرهیںاوساکااور ٹوکیو اوساکا کو اوساکا فو اور ٹوکیو کو ٹوکیو دو کی انتظامی تقسیم کے طور پر لیا جاتا ہے ـ
جاپان اس کےعلاوہ دس علاقوں میں بہى تقسیم ہے ہر علاقے کا ایک نام ہے جو کہ ایک یا زیادہ کین کا مجموعہ ہوتا ہے ان علاقوں کے نام شمال سے جنوب کى طرف کچہ اس طرح ہیں ہوکائدوتوہوکوہوکوریکوکانتوچوبوکین کىچوگوکوشیکوکو - کیوشو - ریوکیو۔ ملک کا تقریبا 3 فیصد رقبہ پہاڑوں پر مشتعمل ہے یہ ہر بڑے جزیرے پرسلسلہ وار پھیلے ہوۓ ہیں !جبکہ ہموار سطح محدود ہے! ملک کى سب سے اونچا پہاڑ کوہ فیوجی (Fuji) سان (سان ، اشخاص کو تعظیم سے بلانے کے لیے،مخصوص حالات میں پہاڑ کے لفظ کو سان کے طور پربھی بولا جاتا ہے) ہے جو کہ سطح سمندر سے 3776میٹر بلند ہے جاپان ایک اتش فشانى علاقے میں واقع ہے اس لیے یہاں زلزلے بہت آتے ہیں جو کہ سمندر میں اٹہنے والى بڑى لہروں تسنامی (ت تقریبا ناپید کرکے سونامی بولا جاسکتا ہے) کا باعث بہى بنتے ہیں آتش فشاں کى وجہ سے یہاں گرم پانى کے چشمے اونسین بہت پاۓ جاتے ہیں جو کہ جاپان کے سب سے پسندیدہ تفریحى مقامات کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

حکومت[ترمیم]

جاپان میں پارلمانی جمہوریت ہے مگر یہ ملک شہنشاہ جاپان کی ملکیت ہے شہنشاہ معظم کی رہائیش جاپانی شاہی محل میں ہے

مذاہب[ترمیم]

جاپان کا اہم ترین مذہب شنتومت کہلاتا ہے، جسکو انگریزی میں Shintoism کہا جاتا ہے۔ اسلام یہاں کم تعداد میں موجود ہے، لیکن یہاں پر مساجد ضرور واقع ہیں، جن میں مسجد کوبے سب سے پرانی اور مشہور مسجد ہے۔

تاریخ جاپان[ترمیم]

ظاہر شاہ افریدی جاپان کے قومی نشریاتی ادارے میں ملازم ہیں ان کا یہ مضمون جاپان کی[ http://gmkhawar.net\ اخبار سائیٹ ] پر شائع ہو چکا ہے افریدی صاحب کی اجازت سے شائع کیا جارہا ہے

تحقیق و تدوین ۔ ظاہرشاہ آفریدی.

جاپانیوں کے ہاں اپنے آغاز کے بارے میں دیگر قومیتوں کی طرح کئى داستانیں موجود ہیں ۔ کہتے ہیں کہ جنت کے آقا نے اُن کی سرزمین پر دو جوان دیوتاؤں ایزاناگے اور اُن کی بیگم ایزانامے کو بھیجا جنہوں نے سمندر میں سے اُن کیلئے ایک خوبصورت ملک بنا ڈالا۔ ایک ماہرِ اثارِ قدیمہ اور اُس کے معاونین نے پتھر دور کی کچھ نشانیوں کی برآمدگی کا دعویٰ کیا تھا تاہم بعد میں تحقیق سے بات ثابت نہ ہوسکی ۔

ابتدائى دور[ترمیم]

تاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ ہزارسال قبل از مسیح سے 300 بی سی تک یہاں جومون دور گزرا ہے اور اُس دور کی تہذیب کے دریافت کیے گئے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ پتھر، سمندری شِلز، لکڑی اور چمڑے کی بنی اشیاء استعمال کرتے تھے اور اُن کی زیادہ تر گزر بسر جنگلی یا سمندری حیات کی شکار پر ہوتی تھی ۔ اس دور کے بارے میں زیادہ تر شواہد 1992 کی اُس کھدائى کے دوران ملے جو ہانشو کے شمال میں واقع آموری علاقے میں بیس بال سٹیڈیم کی تعمیر کیلئے کی جارہی تھی ۔ کچھ ماہرین بشریات کا دعویٰ ہے کہ ہوکائیدو اور ہونشو جزائر کے باسی آئنو قبائل یہاں کے اصل قدیم لوگ ہیں ۔ اِن لوگوں کی آنکھیں بڑی ہیں اور جِسم پر بال زیادہ ہیں جبکہ موجودہ جاپان میں اکثریت آبادی والے جاپانیوں کے جِسم پر بال کم ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ آئنو ، موجودہ روس کے مشرقی سائبریا کا ایک نسلی گروپ ہے ۔ اب آئنو قبائل صرف ہوکائدو ہی تک محدود ہوچکے ہیں اور موجودہ تعداد تقریباً بیس ہزار بتائى جاتی ہے ۔ اُن کی زیادہ تر آبادی، اردگرد کے جاپانیوں کے ساتھ مدغم ہوچکی ہے ۔ چونکہ جاپان کے اردگرد چین اور کوریا کی سرزمین بھی ہے اِسلئے کہا جاتاہے کہ اِن دو اقوام کا جاپانیوں پر گہرا اثر رہا ہے ۔ مثال کے طور پر300 بی سی سے 250 عیسوی تک کے یایوئے دور کے بارے میں اثار قدیمہ کی کھدائیوں سے ملنے والی نشانیوں ، جیسے کپڑا بُننے، دھان کی کاشت ، شامان عقائدِ عبادات ، لوہے اور کانسی کے اوزار سے معلوم ہوا ہے کہ یہ فن چینیوں اور کوریائى لوگوں سے ہی یہاں پہنچا ہے بلکہ اِس بات کے شواہد ہیں کہ چین کے مشہور دریا یانگسی کے اردگرد علاقوں میں چاول کی کاشت آٹھ ہزار قبل از مسیح میں شروع ہوئى تھی اور ایک ہزار بی سی میں یہ جاپانی سرزمین پر پہنچی ۔ یایوئے نسل نے بڑی تعداد میں کوریا کی جانب سے چڑھائى کی ۔ اُنہوں نے آئنو قبائل کے خلاف کئى جنگیں لڑیں ۔ اُن کا دورِ معیشت ، جاگیردارانہ نظام کا ابتدائى دور سمجھا جاتا ہے ۔ اُمراء زمینوں پر قابض تھے اور کسان اور غلام کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ علاقوں پر قبضہ جمانے کیلئے قبائل کی آپس میں جھڑپیں روز کا معمول تھا ۔ جاپان کے اِس دور کے اُمراء کو معاشرے میں تعظیم اور سیاسی اثر و رسوخ اِسلئے حاصل تھا کہ اُنہوں نے مسلح جنگجو پال رکھے تھے لیکن اُس دور میں چین میں صورت حال مختلف تھی اور وہاں دانشوروں کو بالادستی حاصل تھی ۔ سنہ 238 عیسوی کے لگ بھگ ، چینی تاجروں نے یایوئے لوگوں سے تجارت شروع کی ۔ چینی تاجر کیوشو کے علاقے میں آتے تھے ۔ اُس وقت چین میں ہان شاہی سلطنت قائم تھی ۔ اُس دور کے سفرناموں اور دیگر ریکارڈ کے مطابق اُس وقت کی جاپانی سرزمین 30 ریاستوں میں بٹی ہوئى تھی اور اِس میں سب سے مضبوط ریاست پر ہیمیکو کی حکمرانی تھی ۔ اُس وقت کے چینیوں نے اِسے سرزمینِ وا یعنی بونے یا پست قامت لوگوں کی سرزمین کے نام سے پکارا ہے جہاں پسماندگی ہے اور لوگ ان پڑھ ہیں اور بانس کی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں ۔ تاہم اُس دور کے جاپانیوں کو اپنی ثقافت پر بڑا فخر تھا اور اِس میں سب سے زیادہ اہمیت مالک سے وفاداری کو دی جاتی تھی ۔ چاول سے تیار کی ہوئى شراب ساکے بھی اُسی دور کی روایت ہے ۔ تاریخ کے طالب علموں کیلئے اُن چینی تاریخی کُتب کی بہت اہمیت ہےجنہیں ٹونٹی فور ہسٹریزکہا جاتا ہے جس میں 3000 بی سی سے 17 ویں صدی کی مِنگ دورِ حکومت تک کا تذکرہ ہے ۔ اتنے پرانے دور کے انسان کے پاس ایسی مہارت نہیں تھی کہ وہ آنے والی نسلوں کیلئے تاریخ کا قیمتی اثاثہ سائنسی بینادوں پر مرتب کرتا اِسلئے اُس تاریخ میں داستانیں رقم کی گئى ہیں اور اُس میں جاپان کا ذکر بھی ہے ۔ ہمیں جاپان کی تحریری تاریخ کا ریکارڈ 57 عیسوی سے ملتا ہے جس کا ذکر چینی تاریخ کے سرکاری دستاویزات میں ہے ۔ یہ ریکارڈ فان یان نے پانچویں صدی عیسوی میں مرتب کیا تھا جس میں چین کے مشرقی ہان شاہی دور کے واقعات کو ریکارڈ کیا گیا ہے ۔

کوفن دور[ترمیم]

تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ 250 عیسوی کے آس پاس کوفن دور کا آغاز ہوا ۔ یہ مضبوط فوجی ریاستوں کا دور تھا ۔ اِس دوران ایک گروپ جِسے غالباً ہنس کہاجاتا تھا اور تاریخ میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ کوریائى تھے جنہوں نے تسوشیما کے ساحل پر آکر یلغار کی ۔ اُن کے پاس گھوڑے تھے اور وہ لوہے سے بنے اعلی معیار کے اسلحے سے لیس تھے ۔ کوفن دور کی فوجی صلاحیت میں اضافے سے اُن کا شمال مشرقی ایشیاء کی جانب اثر و رسوخ پھیلنے لگا ۔ اب جاپان منظم اور مضبوط ریاست کی شکل اختیار کرتا جارہا تھا اور کوریا کے ذریعے اُس کا براعظم ایشیاء کے دیگر علاقوں کے ساتھ رابطے ہونے لگے ۔ اُس دور میں ایک طاقتور قبیلہ یاماتو بھی تھا اِسلئے کئى مغربی تاریخ دان اِسے یا ماتو دور کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں ۔ اُس دور میں بدھ مت اور کنفیوشنیزم دونوں عقائد کے لوگ تھے ۔ چینی طرز پر مرکزی انتظامی حکومت ، شاہی عدالتی نظام ، مالیاتی پالیسی اور خزانے کا محکمہ تشکیل دیا گیا ۔ کوریا کے تین بادشاہتوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے گئے ۔ سنہ 391 میں جنوب ۔ مغربی کوریا کے بادشاہ پیکچی نے تحفے تحائف بھیجے اور ہمسایہ علاقوں سے بچانے میں مدد کی درخواست کی ۔ اِس مدد کے عوض جاپان کو سونے اور جواہرات کے تحفے دئیے گئے اور ساتھ ساتھ چینی زبان کی ڈکشنری دی اور جاپانیوں کو لکھائى سیکھانے کیلئے اپنے دانشوروں کو بھیجا ۔ چونکہ چینی زبان کے لکھنے کا طریقہ مشکل تھا اِسلئے جاپانیوں نے لکھائى کا اپنا طریقہ بھی وضح کیا ۔

آسوکا دور[ترمیم]

سنہ 538 میں آسوکا کا دور شروع ہوچکا تھا ۔ سیاسی اصلاحات شروع ہوچکی تھیں اورفن و ثقافت ترقی کرنے لگی ۔ کوریا کے ذریعے جاپان میں بدھ ازم متعارف ہوچکا تھا جس سے جاپانی معاشرہ بڑی حد تک متاثر ہوا ۔ اب ُملک وا کے بجائے نیہون کے نام سے پہچانا جانے لگا ۔ اُس وقت چین میں تانگ دور حکومت تھی جس کے جاپان کے ساتھ گہرے قریبی روابط استوار ہوئے ۔ اُس دور میں بادشاہ کوئى زیادہ طاقتور نہیں ہوتا تھا بلکہ اصل طاقت دربار کے اُمراء کے پاس تھی ۔ شہزادہ شوتوکُو نے اپنے آپ کو بُدھ مت کی پرچار کیلئے وقف کردیا تھا جس سے جاپانی معاشرے میں تبدیلی آنے لگی اور امن وسکون ظاہر ہونے لگا ۔

نارا دور[ترمیم]

جاپان میں 8 ویں صدی عیسوی میں نارا دور کا آغاز ہوتا ہے ۔ اِس سے قبل تک یہ روایت عام تھی کہ جب بادشاہ یا ملکہ کا شاہی محل میں انتقال ہوتا تھا تو روح کے اثر سے بچنے کیلئے وہ محل چھوڑ کرنیا تعمیر کیا جاتا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک مہنگا اور مشکل کام ہوتا گیا ۔ بالاخر جاپانیوں نے سوچا کہ بادشاہ تو چینیوں کے بھی مرتے ہیں لیکن اُنہوں اپنے محل یا دارالحکومت کو نہیں چھوڑا ، لہذا اِس عمل کو روکتے ہوئے نارا میں 710 عیسوی میں ایک مستقل دارالحکومت قائم کیا گیا ۔ یہ چین کے تانگ دور حکومت میں قائم دارالحکومت چانگ آن ، جو آج کل شیان کے نام سے پہچانا جاتا ہے، کے طرز پر بنایا گیا ۔ اِس شہر میں ہزاروں لوگ آباد ہوئے ۔ پکودا بنائے گئے، پارک تعمیر ہوئے اور ساکورا کے درخت لگائے گئے ۔ فن و ادب ترقی کرنے لگا ۔ زبان کی تحریری شکل پر جاپانی شاعری واکا بھی تحریر میں آنے لگی ۔ اقتصادی اور انتظامی معاملات میں اضافہ ہوا ۔ مرکزی دارالحکومت نارا اور صوبائى دارالحکومتوں کے مابین رابطہ سڑکیں تعمیر کی گئیں ۔ ٹیکس کی وصولی شروع ہوئى اور حکومتی سکہ رائج کیا گیا ۔ بدھ ازم اور شنتو ازم کے حوالے سے پائے جانے والے اختلاف کو یوں حل کیا گیا کہ اُس وقت کے بااثر بھکشو گیوگی کو اِس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کا فریضہ سونپا گیا جنہوں نے اماتےراسو نامی عبادت گاہ کے دروازے پر سات شب و روز تک عبادت کی اور رائے طلب کی ۔ بالاخر سورج کی دیوی نے جواب دیا کہ یہ دونوں مذاہب ، ایک ہی عقیدے کے اظہار کے دو مختلف طریقے ہیں ۔ اُس کے بعد جاپان میں بدھ مت کی عبادت گاہیں تعمیر کی گئیں ۔ نارا ایک شاندار دارالحکومت کی شکل اختیار کر گیا لیکن انتظامی امور کمزور تھے ۔ آئنو قبائل اب بھی خطرہ تھے ۔ دوسری جانب بدھ مت کے دو کیو نام کے بھکشو نے ملکہ کوکین کے ساتھ معاشقہ شروع کیا اور ملکہ کو اپنے زیرِاثرکرلیا ۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا روس میں رسپوتین نے اُس وقت کے بادشاہ کی ملکہ کے ساتھ جنسی تعلق بناکر انتظامی امور پر اثرڈالنا شروع کردیا تھا ۔ بعد میں دوکیو نے ولی عہد یعنی کراؤن پرنس کو قتل کرکے خود کو وزیر اعظم اور اعلی ترین بھکشو قرار دینے کا اعلان کیا ۔ اُس کی لالچ یہیں پر ختم نہیں ہوئى اور اُس نے شنتو مذہب کے ہاچی مِن کی عبادت گاہ سے جنگ کے دیوتا کا یہ حکم حاصل کیا کہ اگر اُسے آئندہ کا شہنشاہ منتخِب کیا گیا تو وہ جاپان میں دائمی امن کا وعدہ کرتا ہے ۔ ملکہ کو شک گزرا اور اُنہوں نے ہاچی مِن کے دیوتا سے معلوم کیا کہ کیا یہ درست ہے، تو جواب ملا کہ بھکشو کبھی شہنشاہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اُس کا شجرۀ نسب شہنشایت کا نہیں ہوتا ۔ حقائق معلوم ہونے پر نارا کے اُمراء نے بھکشو سے تمام خطابات واپس لیکر اُسے سزا کے طور پر دوراُفتادہ ایک چھوٹے سے جزیرے پر قید کردیا ۔ اب جاپانیوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ کبھی خاتون کو منصبِ اقتدار نہیں سونپنا چاہیے ۔

ہیان دور[ترمیم]

سنہ 784 عیسوی میں دارالحکومت کو نارا سے ناگااوکا منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ تاہم گیارہ سال بعد اِس علاقے کو بد شگون قرار دے کر دارالحکومت کو ہیانکیو منتقل کیا گیا جو آج کل کیوتو کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ یہ نارا کے مندر سے صرف 28 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ سنہ 795 عیسوی میں ہیانکیو دور شروع ہوتا ہے ۔ اِس دور میں فیشن اور شعر و ادب میں خاصی ترقی ہوئى ۔ عورت کو ریاست کے معاملات ، اقتدار کی رسہ کشی اور سماجی سرگرمیوں میں موقعہ ملنے لگا ۔ اور مشہور داستانِ گینجی بھی موراساکی شیکیبو نامی خاتون ہی نے تحریر کی ۔ جس میں محبت کے کئى قصے رقم کیے گئے ہیں ۔ اِسی دور میں سمورائے جنگجووں کا اثر بڑہنے لگا ۔ اگرچے بادشاہِ وقت مطلق العنان ہوتا تھا لیکن دربار کے اُمراء ہی اصل اختیارات کے مالک تھے اور اُنہیں اپنے مفادات اور اپنے تحفظ کیلئے پولیس گارڈ اور سپاہیوں کی ضرورت ہوتی تھی اور یوں جنگجو طاقتور ہوتے گئے جن میں میناتو ، طائرہ ، فوجی وارا، اور تاچی بانا قبیلوں کو بہت طاقتور سمجھا جاتا تھا۔ 12 ویں صدی کے اواخر میں اِن قبیلوں کے مابین لڑائى نے اُس وقت خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلی جب میناتو اور طائرہ قبائل کے مابین کیوتو اور مرکزی حکومت پر قبضہ حاصل کرنے کیلئے لڑائى شروع ہوئى ۔ ہیان دور کے زوال پذیری کے ماہ وسال میں لاقانونیت اور تشدد کا دور دورۀ تھا ۔ جاگیر داروں نے اپنے بیٹوں اور ملازمین کو مسلح کردیا اور تجربہ کار جنگجؤوں کی خدمات کرائے پر حاصل کی گئیں ۔ چونکہ لڑائی میں چھوٹے گروپوں کی شکست یقینی تھی لہذا ، اُنہوں نے اپنے قریب کے بڑے نوابوں کے ساتھ اتحاد کیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِسی طرح کے جاگیردارانہ نظام کا عکس اُس وقت یورپ میں بھی نظر آرہا تھا کہ جب مرکزی حکومت کمزور پڑتی تھی تو چھوٹی علاقائى طاقتیں امن و عامہ برقرار رکھتی تھیں ۔ اُسی دور میں سمورائے جنگجؤوں کیلئے ایک ضابطہ تحریر کیا گیا جسے بوشیدو کہتے تھے ۔ اِس کا مقصد اپنے مالک سے وفاداری کا عہد تھا ۔ اپنی وفاداری کو نبھاتے وقت اُس کی بیوی ، بچے یا والدین کی محبت تک حائل نہیں ہوگی اور اپنے آقا کیلئے ایک باعزت موت مرنا ہی اُس کی زندگی کا مقصد ہوگا ۔ عورتوں کیلئے بھی یہی اصول تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو اُنہیں بھی اپنے شوہروں کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ایسی ہی موت قبول کرنی ہوگی ۔ فوجیوارا قبیلے کی زوال پذیری سے پیدا ہونے والا خلاء ، طائرہ اور میناموتو قبائل نے پُر کیا ۔ اِن دونوں کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ 1156 سے 1160 تک چلتی رہی اور طائرہ کو فتح نصیب ہوئى ۔ اُس کے سربراہ ، کیوموری نے کیوتو کی جانب پیش قدمی کی اور بعد میں اپنی بیٹی کی شادی شاہی خاندان کے ایک شہزادے سے کرائى ۔ کیوموری کے مخالفین کو بے دردی سے قتل کیا گیا اور اُن کی جائدادیں ضبط کرلی گئیں تاہم میناموتو ، موجودہ ٹوکیو کے مغرب میں واقع زرخیز علاقے کانتو کی جانب بچ نکلا ۔ جو اُس وقت کیوتو کی مرکزی حکومت سے خاصا دور علاقہ تھا اور وہ اُس پر مضبوط کنٹرول نہیں ہوسکا ۔ تاریخ دان ، طائرہ کی دارالحکومت کی جانب پیش رفت کو اُس کے زوال کا سبب گردانتے ہیں اور اِسے انتہائى مہلک غلطی تصور کرتے ہیں کیونکہ وہ کیوتو کے علامتی جاہ و جلال میں کھوگئے تھے ۔ دوسری جانب میناموتو نے ایک بار پھر اپنی طاقت حاصل کرنا شروع کردی ۔ سنہ 1180 میں اُن کی فوجوں نے جنوب ۔ مغرب کی جانب پیش قدمی کی اور یکے بعد دیگرے فتوحات حاصل کیں اور یوں کرتے کرتے سنہ 1185کی ایک بحری جنگ میں طائرہ قبیلے کو مکمل شکست ہوئى ۔

کاما کورا کا دور[ترمیم]

اپنے آخری حریف کے خاتمے کے بعد ، میناموتو قبیلے کے اُس وقت کے سربراہ یوری تومو نے کاماکورا میں اپنا فوجی اڈہ قائم کرتے ہوئے ایک جاگیردارانہ عسکری آمریت کی بنیاد ڈالی ۔ کاماکورا، سابق دارالحکومت کیوتو کے مشرق میں 300 میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ اِس حکومت کو باکوفو کہتے تھے ۔ سنہ 1192 میں شہنشاہِ جاپان نے یوری موتو کو شوگن یعنی فوج کے سربراہ کا خطاب دیا جس نے اپنے اقتدار کے دوران صوبوں کو نیم خودمختاری دی ۔ اُس وقت کے شہنشاہ کا عمل دخل صرف دربار کی حد تک تھا جبکہ فوجداری، عسکری اورعدالتی امور پرگرفت شوگن کی ہوا کرتی تھی ۔ گو کہ اُس کی حکومت قومی سطح کی نہیں تھی لیکن وہ ایک بڑے علاقے پر قابض رہا اور حقیقی اختیارات اُسی کے پاس تھے ۔ اُس نے مرکزی اور مغربی جاپان میں واقع طائرہ قبیلے کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیا ۔ تاہم وہ شمال میں فوجیوارہ اور مغربی حصے کو فوجی کنٹرول میں لانے میں ناکام رہا ۔ اگرچہ یوری موتو نے کسی حد تک ایک مضبوط حکومت قائم کرلی تھی لیکن پھر بھی اُس پر اپنے قریبی رشتہ داروں اور بھائى کی جانب سے اقتدار سے بیدخلی کا خوف ہر وقت چھایا رہتا تھا ۔ وہ جاسوسوں سے بچنے اور کسی بھی بے یقینی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتا تھا ۔ اُس نے جو نظام اپنایا تھا اُس سے وہ اور اُس کا اقتدار تومحفوظ رہا لیکن وہ اپنا ایک اچھا سا جانشین تیار نہ کرسکا اور سنہ 1199 میں اچانک انتقال کے بعد اُس کے بیٹے یوری نے شوگن کا خطاب اور اپنے میناموتو قبیلے کی سربراہی حاصل کی ۔ لیکن اُس میں صلاحیتوں کی کمی تھی اور وہ مشرق میں آباد بوشی خاندانوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہا ۔ 13 ویں صدی کے اوائل میں اُسکے ننھیال کا اثر بڑہنے لگا اور اُس کی والدہ ماساکو نے اپنے خاندانی قبیلے ہوجو کیلئے شوگن کے خطاب کا دعویٰ کردیا ۔ سنہ 1221 میں کیوتو اور کاماکورا کے مابین جنگ لڑی گئى جس میں ہوجو کی فوجوں نے باآسانی فتح پائى اور شاہی دربار کو براہ راست باکوفو کے کنٹرول میں لے لیا ۔ اب اُنہیں پہلے کی نسبت زیادہ اختیارات ملے اور شاہی دربار کو ہر کام کی کامورا کی حکومت کی جانب سے منظوری ضروری قراردى گئی ۔ کاماکورا کے دور کو خوشحالی اور ترقی کا دور کہاجاتا ہے ۔ چین کے ساتھ ساڑھے تین سو سال کے وقفے کے بعد تجارت شروع ہوئى ۔ کیوتو اور کاماکورا کے بیچ میں تجارت و کاروبار کو فروغ دیا گیا ۔ عسکری بہادری کے بارے میں مصوری اور داستان گوئى کی ثقافت ملک بھر میں مشہور ہوئى ۔ لیکن مذہبی لحاظ سے کئى پیچیدگیاں پیدا ہوئیں ۔ بھارت اور چین کی طرح جاپان میں بھی نظریات کے حوالے سے بُدھ ازم کے مختلف مسلک یا فرقے معرضِ وجود میں آئے ۔ جاپان میں بُدھ ازم کے اُس فرقے کو قبول کیا گیا جس کا آغاز چین سے ہوا تھا ، جس میں سب سے مشہور زین ہے ۔ بعد میں جاپانیوں نے اپنے مسلک بھی بنائے جِس میں مشہور جودو تھا ۔ دوسری جانب، باکوفو کے چین اور کوریا کے ساتھ باہمی تعلقات کافی کمزور تھے اور روابط کچھ زیادہ نہ تھے ۔ اگرچہ جنوبی چین کے ساتھ کسی حد تجارتی روابط تھے لیکن جاپانی بحری قزاقوں کی وجہ سے کھلے سمندر پُرخطرتھے ۔ اُسی دور میں یوریشیا کے زیادہ تر علاقے پر منگولوں کی حکمرانی تھی ۔ سنہ1286 میں یہ خبریں منظر عام ہونے لگیں کہ چین پر بھی منگول قابض ہوچکے ہیں ۔ چنگیز خان کے پوتے قُبلائى خان نے خراج وصول کرنے کیلئے شاہِ جاپان کو ایک مراسلہ بھیجا اور کہا کہ اگر سلطنتِ یوآن کو خراج پیش نہیں کیا گیا تو پھر انتقامی کاروائى کیلئے تیار ہوجاؤ ۔ کاماکورا کی حکومت نے جواب نہیں دیا لیکن کیوشو علاقے کے قریبی ساحلی علاقوں پر دفاعی اقدامات شروع کردئیے گئے۔ مقامی جنگجؤوں کو چوکس کردیا گیا ۔ کوریا میں موجود جاسوسوں نے منگولوں کی فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھنی شروع کردی ۔ بالاخر جس حملے کا خطرہ تھا وہ سنہ 1274 میں ہوگیا ۔ کوریا کے بنائے ہوئے تین سو بڑے بحری جہازوں اور چار سو سے پانچ سو تک چھوٹی کشتیوں پر سوار پندرہ ہزار منگول اور چینی سپاہی اور آٹھ ہزار کوریائى جنگجو حملہ آور ہوئے ۔ سمورائے چونکہ مقامی علاقے کی کیفیت سے آگاہ تھے اِسلئے اُنہوں نے ابتداء میں سخت مزاحمت کی لیکن بازی پھر بھی منگولوں کے حق میں پلٹی ۔ جس رات اُنہیں مکمل فتح نصیب ہونے والی تھی اُسی رات سمندر بپھر گیا اورتند و تیز موجوں نے منگولوں کی کشتیوں کو تہس نہس کردیا اور یوں اُن کی کمر ٹوٹ گئى ۔ حملہ آور منگول تو بے مراد ہوکر واپس لوٹے ، لیکن کاماکورا شوگن کو پھر بھی فکر لاحق تھی کہ منگول دوبار حملہ کرسکتے ہیں ، لہذا، اِس خطرے کے پیش نظر دفاعی امور پر زیادہ توجہ دی جانے لگی ۔ کیوشو علاقے کے سمورائے کو بہتر انداز میں منظم کیا جانے لگا ۔ قَلعے اور پتھروں کی دیواریں تعمیر کی جانے لگیں ۔ اُن تمام علاقوں پر خصوصی توجہ دی گئى جہاں سے حملہ آوروں کے داخل ہونے کا امکان ہوسکتا تھا ۔ مذھبی عبادات بڑھا دی گئیں ۔ جن سمورائے نے منگول جارحیت کا دلیری سے مقابلہ کیا تھا اُنہیں انعامات سے نوازا گیا ۔ اگرچے قُبلائى خان پہلی یلغار کی ناکامی پر تھک گیا تھا لیکن منگولوں نے اپنے مشن سے پیچھے ہٹنے کا ابھی پوری طرح فیصلہ نہیں کیا تھا اور سنہ 1281 کے موسم بہار میں چینی بحری بیڑے کے ذریعے حملہ کیا گیا جس میں کوریائى بیڑا بھی شامل تھا ۔ کئى علاقوں پر خونریز جھڑپیں ہوئیں جِسے جنگ کوئن کہتے ہیں ۔ منگول افواج کو واپس اپنے بحری جہازوں کی جانب دھکیل دیا گیا ۔ اِسی دوران کیوشو کے ساحل پر ایک خوفناک سمندری طوفان اُمڈ آیا جس نے حملہ آور فوجوں کے چھکے چھڑا دئیے اور بحری بیڑا اور کشتیاں تِتربِتر ہوگئیں ۔ منگول سات سال کی مدت کے دوران اپنی منصوبہ بندیوں اور حملوں میں ناکامی کے بعد واپس ہوئے ۔ یہ اُن کی تاریخ کی بدترین شکست تھی ۔ جاپانیوں کے عقیدے کے مطابق کامی کازے یعنی مقدس طوفان نے اُن کی سرزمین کو بچا لیا ۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ کیوشو کے علاقے میں مضبوط دفاعی حکمت عملی نے بھی منگولوں کو فتح حاصل کرنے سے دور رکھا ۔ منگولوں کے ساتھ اِس جنگ نے جاپان کی معیشت پر منفی اثر ڈالا کیونکہ یہ دفاعی جنگ تھی اور اِس کے بدلے میں کچھ نہ ملا ۔ جاگیر داروں نے ٹیکس دینے سے انکار کردیا جس سےحکومت کی آمدنیوں میں بڑی کمی آئى اور غربت بڑھ گئى تھی یوں کاماکورا کی حکومت لڑکھڑانے لگی اور روز بروز کمزور ہوتی چلی گئى ۔ انہی بدتر حالات میں سنہ 1318 میں ایک اور لیڈر، گو دائگوتِننو نے جاپان کے 96 ویں شہنشاہ کی حثیت سے تاج و تخت سنبھالا ۔ سنہ1333 میں ھوجو نے کاماکورا سے اپنے ایک جرنیل آشی کاگاتاکوجی، کو کیوتو پر حملہ کرنے کیلئے بھیجا لیکن اِسی دوران اُس کے ذہن میں فتور آیا اوراُس نے بے وفائى کرتے ہوئے شہنشاہ کی حمایت کا اعلان کردیا اور واپس کاماکورا کی جانب لوٹا آیا ۔ کئى جاگیرداروں اور سمورائے جنگجؤوں نے اِس جرنیل کی تائید کی اور اُنہوں نے حملہ کرکے اپنے آقا کی حکومت اور فوجی دارالحکومت کو تباہ و برباد کردیا ۔ شہنشاہ گو دائگو ایک مضبوط آمریت کی بنیاد رکھتے ہوئے مشرق کا ایک بڑا حکمران بننا چاہتے تھے ۔ اُن کی خواہش تھی کہ چین کی طرح کی بادشاہت قائم کریں ۔ سنہ1335 میں شہنشاہ گودائگو اور جرنیل آشی کے مابین اُس وقت اختلافات پیدا ہوئے جب وہ ناکاسیندائى باغیوں کو کچلنے کیلئے بغیر شاہی فرمان کے مشرقی جاپان روانہ ہوا ۔ شاہی دربار نے اُسے نافرمانی کی سزا دینے کیلئے لشکر بھیجا لیکن آشی کاگا تاکوجی نے اُسے شکست دی ۔ شہنشاہ نے مزید دو کمانڈروں کی قیادت میں فوج بھیجی اور بالاخر آشی کو شکست ہوئى اور وہ کیوشو بھاگ نکلا ۔ لیکن اُس سے زیادہ دیر شکست برداشت نہیں ہوئى اور دوبار اپنی فوج کی صف بندی کرکے دارالحکومت کیوتو پر حملہ آور ہوا ۔ شاہی فوج کو شکست ہوئى اور شہنشاہ گو دائگو بھاگ نکلا ۔ آشی نے قابل بھروسہ ایک کٹھ پُتلی شہنشہاہ مقرر کیا اور خود شوگن یعنی سمورائے کے انچارج کا خطاب حاصل کیا ۔ اب آشی کاگا تاکوجی ، اپنے ہمنواؤں اور وفاداروں سمیت دارالحکومت کیوتو میں براجمان تھا ۔ یہاں کی عیاش زندگی نے اُسے کمزور کردیا اور اُس کی گرفت دیگر علاقوں پر کمزور پڑ گئى تھی ۔ بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اِس بغاوت کے تقریباً 270 سال تک ،جاپان میں نہ تو کوئى ایسا شہنشاہ اور نہ ہی ایسا شوگن پیدا ہوا جس کا پورے ملک پر کنٹرول ہو ۔ صرف دارالحکومت کیوتو کے حدود تک اُن کے اقتداراعلی کا اثر و رسوخ رہا ۔ ملک کے دیگر علاقوں میں مقامی جاگیر داروں جنہیں دائیمو کہا جاتا تھا، کا قبضہ رہا ۔ وہ اپنے علاقے کے قوانین خود مرتب کرتا تھا اور ہمسایوں کے خلاف جنگ و امن کے فیصلوں میں خود مختار تھا ۔ وہ مرکزی حکومت کو ٹیکس کی ادائیگی بھی نہیں کرتا تھا ۔ چودویں صدی میں تو یہ حالت اِس نہج پر جا پہنچی کہ دو حریف شہنشاہوں میں رسہ کشی ہوتی رہی ۔ مقامی جاگیرداروں کی مرضی پر منحصر تھا کہ وہ کس وقت کونسے شہنشاہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں ۔ اِسی میں موروماچی کا دور بھی رہا جس دوران چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی جنگیں جاری رہیں ۔ پندرھویں اور سولہویں صدی کو انتہائى خون خرابے والا خانہ جنگی کا دور کہا جاتا ہے ۔ اب وفاداری نام کی کوئى چیز نہیں رہی تھی اور جاسوسی ، دھوکہ ، بغاوت اور بے دردی سے قتل و غارت کرنا زیادہ عام تھا ۔ ایسے وقت میں جب جاپان اندرونی خانہ جنگی کا شکار تھا یورپی ممالک نے دور اُفتادہ خطوں میں اپنی مہم جوئى شروع کرلی ہوئى تھی ۔ مارکوپولو 200 سال قبل کئى علاقوں کو دیکھ چکا تھا یا کئى کا ذکر سن چکا تھا ۔ جب کرسٹوفر کو لمبس نے کیوبا دریافت کیا تھا تو اُس وقت اُس نے یہ سوچا کہ شاید یہ جاپان ہے ۔ سنہ1543 میں پُرتگال کے تین سوداگر ایک چینی بحری جہاز پر سوار کیوشو کے جنوب میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے تانیگاشیما پہنچے ۔ وہ اپنے ساتھ باردوی بندوقیں لیکر آئے تھے جو جاپانیوں نے پہلی بار دیکھیں اور ہاتھوں ہاتھ خرید لیں ۔ یہ جنگ کی یقینی کامیابی کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوسکنے والا جدید ہتھیار تھا ۔ پرتگالیوں کو بھارت اور جنوب مشرقی ایشیاء میں تیزگرمی کی نسبت جاپان زیادہ خوشگوار ملک محسوس ہوا ۔ اُنہیں چین کی سرزمین بھی پسند تھی لیکن چینی لوگوں نے یورپ کے لوگوں کے ساتھ بیماری جیسا سلوک کرتے ہوئے اُنہیں صرف جنوبی بندرگاہ تک ہی محدود رکھا ۔ اُن کے خیال میں جاپان میں جاگیردارانہ نظام اور لوگوں کی دوست مزاج طبعیت کی وجہ سے اُنہیں سمجھنا آسان تھا ۔ سنہ1549 میں سپین سے پہلا عیسائى مبلغ جاپان کی سرزمین پر پہنچا اور ابتداء ہی میں کئى لوگوں نے عیسائیت قبول کرلی ۔ یورپی سوداگروں اور عیسائى مبلغین کو اُس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب مقامی عمائدین ایک دوسرے کے خلاف لڑتے تھے ۔ غیر مُلکی مبلغوں کے جانے کی صورت میں مقامی عیسائى دعوتِ تبلیغ کا کام کرتے تھے ۔ سنہ1569 میں شمال مغربی کیوشو کے ایک جاگیردار نے اپنے پندرہ سو نوکروں سمیت عیسائیت قبول کی اور غصہ میں آ کر بدھ مت کے ایک مقامی مندر کو آگ لگادی اور اِسی مقام پر چرچ تعمیر کیا ۔ جاگیردار کا یہ شہر ناگاساکی بعد میں یورپی تاجروں اور عیسائیوں کیلئے ایک نمایاں مقام بنا ۔ جاپانی لوگ سوائے آئنو قبیلے کے تمام ایک نسل، ایک زبان اور ایک ثقافت والے ہیں لہذا اگر کوئى رہنماء اِن کو متحد کرنے کی سنجیدہ کوشش کرتا تو یہ اتنا کٹھن ہدف نہ ہوتا ۔ سولہویں صدی میں تین نامور رہنماء گزرے ہیں جنہوں نے ملکی اتحاد میں اہم کردار ادا کیا ۔ اِن میں اُدانوبوناگا، تویوتومی اور توکُوگاوا ائیاسو شامل ہیں ۔ یہاں سے ایک سیاسی قیادت تلے جاپان کے عسکری وحدت اور استحکام کا عمل شروع ہوا ۔ پہلے اُدا نوبوناگا نے کئى مہم چلائیں جس دوران جاپان تقریباً متحد ہوگیا تھا اور جسے اُن کے جرنیلوں میں سے ایک جنرل تویوتومی ہیدے یوشی نے پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔ سنہ1568سے 1600 تک کے دور کو آزوچی مومویاما کا دور کہتے ہیں ۔ نوبوناگا ، نے سنہ1568 میں کیوتو پر قبضہ کیا اوراُس نے عسکری قیادت کے عہدے شُوگن پر ایک کٹھ پُتلی سپہ سالار مقرر کیا ۔ نوبوناگا، نے اپنے مخالفین کو بُری طرح کُچل ڈالا ۔ چونکہ کسی مذہبی عقیدے کے ساتھ اُن کی وابستگی نہیں تھی اِسلیے بدھ مت کے بھکشو اُن کیلئے رکاوٹ ِ راہ بن رہے تھے ۔ لہذا، اُنہوں نے ایسے عناصر کی بیخ کنی کیلئے تمام حربے استعمال کیے ۔ فطری طور پر اُنہوں نے دشمن کو زیر کرنے کیلئے عیسائى پیروکاروں اور مبلغین کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوششیں شروع کیں ۔ مغربی لباس، فن مصوری اور طرزِ معاشرت کی حوصلہ افزائى کی ۔ عیسائیوں کو قصبوں میں چرچ تعمیر کرنے کی اجازت دی ۔ عیسائی مبلغین نے عیسائیت قبول کرنے والوں کی تعداد میں بڑا اضافہ کرنے کیلئے نوبوناگا کو بھی عیسائیت کے دائرے میں لانے کی کوشش کی مگر اُس نے عیسائیت قبول نہیں کی، تاہم عیسائى مبلغین کو وہ تمام سہولیات اور مراعات دیں جو وہ چاہتے تھے ۔ کہا جاتا ہےکہ جب نوبوناگا کا انتقال ہوا تو اُس وقت تک جاپان میں عیسائیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ چکى تھی جبکہ ملک کی کل آبادی دو کروڑ تھی ۔ سنہ1580 تک وہ وسطی ہانشو کا زیادہ تر علاقہ متحد کرچکا تھا ۔ دو سال بعد 1582میں نوبوناگا کے ایک منصب دار نے اُسے کیوتو کے مندر میں ہلاک کردیا لیکن یہ منصب دار اپنے آقا کی حکومت پر قبضہ نہ کرسکا کیونکہ جب یہ خبر جنرل ہیدے یوشی تک پہنچی، جو اُس وقت ایک مخالف سے مزاکرات میں مصروف تھا واپس کیوتوآیا اور قاتل کا کام تمام کردیا ۔ ہیدے یوشی مخالفین کیساتھ مذاکرات پر یقین رکھتا تھا ۔ اُس نے سنہ1590 میں آخری معرکہ فوجی پہاڑ کے نزدیک اوداوارا کے علاقہ میں لڑا جہاں اُس نے اپنے دور کے طاقتور خاندان ھوجو کے قلعے پر قبضہ کیا ۔ اب، ہیدے یوشی کو عیسائیوں کی بڑھتی طاقت کی فکر لگ گئى تھی ۔ اُس نے عیسائی مبلغین کے نام ایک سوال نامہ ارسال کیا کہ ایک مرد کیلئے ایک ہی عورت سے شادی کی پابندی کیوں ہے ؟ جبراً مذہب تبدیل کروانے کا کیا جواز ہے ؟ بدھ مت کے پیروکاروں کو کیوں قتل کیا گیا اور اُن کی عبادت گاہوں کو تباہ کیا گیا ؟ عیسائی ، بھیڑ بکریوں جیسے مفید جانوروں کو کیوں کھاتے ہیں ؟ سوداگر،جاپانی لوگوں کو غلام بناکر فروخت کرنے کیلئے کیوں باہر بھیجتے ہیں ؟ اِس سے پہلے کہ عیسائى پادری اِن سوالات کا جواب دیتا، ہیدیوشی نے تمام عیسائى مِشنوں کو جاپان چھوڑنے کا حکم دیا ۔ اُس وقت جاپان میں جنگجووں کی تعداد ضرورت سے زیادہ تھی اِس لیے ہیدی یوشی نے اِنہیں کام میں لاتے ہوئے کوریا، چین اور یہاں تک کہ ہندوستان اور فلپائن کو فتح کرنے کی نیت سے کوریا پر چڑھائى کی ۔ سنہ1592 میں ایک لاکھ 60 ہزار سمورائے جنگجووں نے کوریا پر حملہ کیا اور محض چھ ہفتوں میں کوریا پر قبضہ کرلیا ۔ تاہم کوریا کی بحریہ نے اپنے نئے بحری جہاز سے سمندر کے بہت سے علاقے کا موثر دفاع کیا ۔ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چین نے اپنی فوجیں کوریا بھیج دیں ۔ چین کو بھی دو بار شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن مذاکرات نہ ہوسکے اور حالات جمود کا شکار ہوگئے۔ اِسی دوران سنہ1597 میں ہیدے یوشی نے مزید ڈیڑھ لاکھ فوجیں روانہ کیں ۔ اب جبکہ جنگ کا آغاز ہوگیا تھا کہ اِسی دوران ہیدے یوشی کی صحت خراب ہوگئى تو اُس نے پانچ رہنماؤں پر مشتمل کونسل کا اجلاس بُلایا اور اپنے پانچ سالہ بیٹے کو جانشین مقرر کرکے اِن رہنماؤں کو اقتدار سنبھالنے میں معاونت کی درخواست کی ۔ شدید علالت کے باعث، ہیدے یوشی کا تین ماہ بعد 18 ستمبر 1598 کوانتقال ہوگیا ۔ اِس کے بعد سمورائے جنگجووں نے جاپان واپسی کی، لیکن اِس مہم جوئى سے جاپان، کوریا اور چین کو پہنچنے والا نقصان پہلے سے کہیں زیادہ تھا ۔ پانچ سال کی عمر کا بچہ ہیدے یوری، بے اختیار تھا اور اصل طاقت دوسرے رہنماؤں کے پاس تھی۔ ہیدے یوشی کے انتقال کے بعد، توکوگاوا ا ئیاسو، سب سے طاقتور جاگیردار رہ گیا تھا ۔ اُس کی جاگیر، ہیدیوشی کے خاندان سے بھی زیادہ تھی ۔ اردگرد کے جاگیرداروں نے اُسے شکست دینے کی کوشش کی مگر سنہ1600 کی جنگ سیکیگاہارا میں اُن سب کو شکست ہوئى ۔ اور توکوگاوا ائیاسو نے ہیدے یوری کو اقتدار سے بے اختیار کردیا اور جاگیردارانہ بنیادوں پر سخت حکومت قائم کی ۔ وہ انتہائى ہوشیار، شاطر اور ظالم حکمران تصور کیا جاتا رہا ہے ۔ اُس نے دارالحکومت کیوتو کی طرح کی پرسکون زندگی کو بالکل پسند نہ کیا اور دارالحکومت ایدو میں قائم کیا ۔

ایدو دور[ترمیم]

ایدو دور سنہ1603 سے سنہ1868 تک رہا ۔ ائیاسو، جاپان کی تاریخ کا کامیاب ترین حکمران مانا جاتا ہے ۔ اُس نے غداری سے کئى جنگیں جیتی تھیں ۔ اگرچہ جاپان میں ہمیشہ سے شہنشاہ ، ملک کا علامتی سربراہ ہوتا تھا لیکن اصل طاقت اور اختیار شوگن یعنی فوج کے سربراہ کے پاس ہوتا تھا لیکن ائیاسو نے جاگیر داری اور شہنشاہیت دونوں کی روایات پر مبنی نظام حکومت تشکیل دیا ۔ وہ ہیدے یوشی کی طرح پہلے تو عیسائیوں کیلئے دِل میں نرم گوشہ رکھتا تھا لیکن پرتگالی اور ہسپانوی سوداگر وہاں جاتے تھے جہاں کیتھولیک مشنری اُنہیں جانے کا کہتے تھے ۔ ائیاسو نے ہسپانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں کیلئے مذاکرات کرنے چاہے لیکن ہسپانیہ نے جاپانی جہازوں کو فلپائن یا میکسیکو کی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں دی ۔ بعد میں ائیاسو کو معلوم ہوا کہ عیسائیوں میں ایک سے زیادہ فرقے ہیں۔ اِسی دوران سنہ1600 میں ایک ولیندیزی لیفدے نامی بحری جہاز جاپان کے کیوشو علاقے میں لنگر انداز ہوا ۔ اب جاپانیوں کو کیتھولک عیسائیوں کے بارے میں بھی علم ہوا ۔ مقامی جاگیرداروں نے ولندیزوں کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا ۔ بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں بدھ ازم سے خطرہ نظر آنے لگا وہاں عیسائیوں کے بھی تیور بدلنا شروع ہوئے ۔ ائیاسو نے آخر کار سنہ1612 میں ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے عیسائیت پر پابندی لگا دی ۔ تمام عیسائی تبلیغیوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے اور تمام جاپانی عیسائیوں کو بدھ مت قبول کرنے کا حکم دیا ۔ کئى نے ملک چھوڑ دیا اور کئى روپوش ہوگئے ۔ بہت سے جاپانی عیسائیوں کو تہ و تیغ کیا گیا ۔ مغربی ممالک کے ساتھ روابط میں کمی لائى گئى اور جاپانیوں کے غیر ممالک جانے پر پابندی لگادی ۔ نجی طور پرایسے بحری جہازوں کی تیاری پر پابندی لگائى گئى جو دور سمندر تک کا سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ سنہ1637 میں ناگاساکی کے قریب ہزاروں عیسائی مزارعوں نے خونریز بغاوت کی کیونکہ پرتگال نے اِس بغاوت کی کھلم کھلا حمایت کی ۔ اِس کے آئندہ چار سالوں میں تمام یورپیوں کو ملک سے بے دخل کردیا گیا، ماسوائے کچھ ولندیزی سوداگروں کے جنہیں ناگاساکی کی بندر گاہ تک محدود رکھا گیا ۔ ایک ولندیزی بحری جہاز کو سال میں ایک بارجاپان آنے کی اجازت دی گئى ۔ اور جاپانی دانشور، ولندیزوں کے علم و دانش یعنی حساب، سائنس اور طب میں ہونے والی جدید ترقی کے بارے میں علم حاصل کرتے تھے ۔ جاپان کی دُنیا سے تنہائى کا یہ عمل آئندہ دو صدیوں تک چلتا رہا ۔ توکو گاوا ائیاسو ، نے سخت گیر نظام قائم کیا ۔ عوامی حرکت کو محدود رکھا اور ہر کسی کو ایک خاص کام و مقام تفویض کیا اور مزارعوں سے سر اٹھانے کے ہمت چھین لی گئى ۔ چھوٹے جاگیرداروں کو شادی کرنے، جانشین منتخب کرنے، یا اپنا نجی قلعہ مرمت یا تعمیر کرنے کیلئے حکومتی اجازت نامہ ضروری تھا۔ مخالف جاگیر داروں کو سڑکوں ، مندروں اور قلعوں کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری دی گئى ۔ اُنہیں ہر دو سال میں ایک بار دارالحکومت ایدو آنے کا پابند کیا ۔ اُن کے خاندانوں کو ایک طرح سے یرغمال بنایا کیونکہ اُنہیں سوائے اپنے علاقے کے کہیں دوسری جگہ رہنے کی اجازت نہیں تھی ۔ دارالحکومت ایدو کا علاقہ تیزی سے پھیلتا گیا اور اِس کی آبادی پانچ لاکھ تک جا پہنچی ۔ دارالحکومت کی جانب آنے والے تمام راستوں پر نگران چوکیاں تعمیر کی گئیں اور دارالحکومت کی جانب کسی بھی قِسم کے ہتھیاروں کی سمگلنگ پر کڑی نظر رکھی جانے لگی تاکہ کسی بھی قِسم کے بغاوت کا امکان نہ رہے ۔ سمورائے کی عزت کی جاتی تھی لیکن اب وہ معاشرے میں زیادہ ضروری نہیں سمجھے جاتے تھے، جس کی وجہ سے بہت سے سمورائے، زرداروں اور سوداگروں سے قرض لیکر زندگی گزارنے لگے ۔ نئى سڑکوں اور مواصلات کے بہتر انتظام سے تجارت پیشہ افراد کو فوائد پہنچنے لگے ۔ کاروبار اور تجارت بڑھنے سے سوداگر طبقہ ترقی کرنے لگا ۔ فنِ تعمیر میں جِدت آنے لگی اور شوخ رنگوں کا استعمال بڑھ گیا ۔ قَعلوں کے اندر لکڑی کے نقش و نگار کیے گئے اور سلائڈنگ دروازے اور فولڈ ہونے والے سکرین لگائے گئے اور دیواروں کو شوخ رنگوں سے پینٹ کیا گیا ۔ ائیاسو نے اپنے دربار میں کنفیوشن ازم کو دوبارہ زندہ کیا ۔ اگرچے ہنر مندوں اور کاروباری طبقے کے پاس پیسہ بہت آگیا تھا تاہم ، معاشرے میں اُن کا مقام کسانوں سے نیچے رکھا گیا کیونکہ زراعت کو اب بھی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا ۔ اگرچہ کسی وقت میں کسانوں کو طاقت کے بل بوتے پر کچل دیا گیا تھا لیکن دولت، تعلیم، اقتصادی ترقی اور بڑھتی ہوئى شہری آبادی سے نئى سماجی اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہونے لگی تھیں اور کاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ دانشوروں کا بھی ایک مضبوط کردار سامنے آنے لگا ۔ کبھی معاشرے کا کمزور طبقہ اب سمورائے سے زیادہ امیر ہو گیا تھا ۔ اُنیس ویں صدی تک شوگن کا اختیار اور طاقت خاصی کمزور ہوگئی تھی ۔ رُخ بدلتی شہری زندگی اور مغربی ممالک سے ملنے والی نت نئى معلومات نے روایتی معاشرے کو چلتا کردیا ۔

میجی دور[ترمیم]

میجی دور اور مغرب سے رابطے جاپان کی تنہائى کی پالیسی تقریباً 200 سال تک جاری رہی ۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، سنہ 1844 میں ہالینڈ کے حکمرانِ وقت ویلیم دوئم نے جاپان کو پیغام ارسال کیا کہ وہ اپنے بند دروازے بیرونی دُنیا کیلئے کھول دے ، تاہم اُس وقت کے عسکری سربراہ شوگن توکوگاوا نے اِس مطالبے کو مسترد کیا ۔ تقریباً دس سال بعد سنہ 1853 میں بھاپ سے چلنے والے چار امریکی بحری جہاز ، کموڈور میتھیوپیری کی قیادت میں ایدو کے قریب لنگرانداز ہوئے ۔ جاپان نے اِن جہازوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا، لیکن پیری نے انکار کیا ، کہ وہ اُس وقت واپس نہیں ہونگے، جب تک وہ شہنشاہِ جاپان کو امریکی صدر کی جانب سے بھیجا گیا مراسلہ نہ پہنچائیں ۔ اِس مراسلے میں دوستی ، تجارت، کوئلے کی فراہمی وغیرہ جیسے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا تھا ۔ امریکی کموڈور نے مراسلہ دینے کے بعد کہا کہ وہ اِس کا جواب وصول کرنے کیلئے ایک سال بعد دوبارہ دورۀ کریں گے ۔ جاپانیوں نے اُس سال کافی غور و خوص کیا کہ وہ باقی دُنیا سے کتنا پیچھے ہیں ۔ اگلے سال 31 مارچ سنہ 1854 کو کاناگاوا کنونشن کے موقع پر جب میتھیو پیری دوبارہ آیا، تو اُس وقت وہ سات بحری جہازوں کی قیادت کررہا تھا ۔ طرفین کے مابین چھ ھفتوں تک مذاکرات ہوتے رھے، اور بالاخر ایک معاہدہِ امن و دوستی دستخط کیا گیا ، اور یوں سفارتی تعلقات قائم کیے گئے ۔ یہ معاہدہ منظر عام ہونے پر برطانوی، روسی اور ولندیزی بھی مطالبہ کرنے لگے کہ اُن کے ساتھ بھی ایسا ہی معاہدہ کیا جائے ۔ 29 جولائى 1858 کو امریکہ کے ساتھ ہیریس ٹریٹی نامی معاہدہ دستخط ہوا، جس میں تجارت کے حوالے سے کئى امور پر اتفاق کیا گیا ۔ تجارت کے پہلے معاہدوں سے جاپان کواپنے غیر مُلکی تجارت اور محصولات کی پالیسوں سے دستبردار ہونا پڑا ، جس کی وجہ سے جاپان کی تجارت عدم توازن کا شکار ہوئى اور حالات مغرب کے حق میں ہوئے ، اور مزید یہ کہ اب غیرمُلکیوں کو علاقائى فوائد کے ساتھ جاپان میں رہنے کا حق حاصل ہوا، اور اُنہیں جاپانی قوانین سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ۔ چونکہ سامراجی قوتیں ایشیاء کے زیادہ تر حصے پر اپنے پنجے گاڑ چکے تھے، اِیسے میں جاپان کا اُن کے نرغے میں آنا فطری بات تھی ۔ توکوگاوا شوگن کا عائد کردہ نظام اب وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں رہا تھا، اور ایک فرسودہ نظام کی شکل اختیار کرکے روبہ زوال ہوا، کیونکہ اِسے عوامی پذیرائى بھی نہیں مل رھی تھی ۔ کچھ جاپانی دانشور مشرقی اخلاقیات اور مغربی سائنس کے امتزاج سے جِدت لانے کی وکالت کرنے لگے ۔ سمورائے اِس قِسم کے کسی بھی نظریے کی مخالفت کرنے لگے اور اُنہوں نے ، مغربی لوگوں اور مغرب نواز جاپانیوں پر حملے شروع کردئیے ۔ شوگن کی قوت بھی لڑکھڑانے لگی اور اردگرد کے جاگیرداروں سے بغاوت کی بُو آنے لگی ۔ اِس دوران کچھ علاقائى جاگیرداروں نے مغربی جہازوں پر حملے کیے ۔ جواباً مغربی قوتوں نے توپ خانے سے گولہ باری کی، اور یوں جاپانی بحری جہازوں اور جنگی صلاحیت کو ختم کرتے ہوئے برطانیہ کی پہلی فوج 1863 میں ساتسوما کے علاقائى دارالحکومت کاگوشیما پر اُتری ۔ ایک سال بعد یہی سلوک برطانوی ، فرانسیسی ، ولندیزی اور امریکی ٹاسک فورس نے چوشو بندرگاہ پر کیا ۔ شکست کے بعد سیتسوما اور چوشو کے علاقائى سرداروں نے مغربی قوتوں کے ساتھ دوستانہ روابط بڑھائے ۔ سیتسوما نے اپنی جدید بحریہ تشکیل دی ، جبکہ چوشو نے اپنے کسانوں کو مغربی فوج کی طرز پر تربیت دی اور امریکی خانہ جنگی میں بچ جانے والا اسلحہ خرید لیا ۔ اِن دونوں قوتوں نے سنہ 1866 میں ایک اچھی فوج کی شکل اختیار کرلی ۔ اِس فوج نے شوگن کی روایتی فوج کا بڑے بھرپور انداز میں مقابلہ کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ سنہ 1867 میں ایک پندرہ سالہ شہنشاہ موتسوہیتو نے اقتدار سنبھالا اور اُنہوں نے سیتسوما اور چوشو سمیت جدید معاشرے کے خواہاں سرداروں کی حمایت کی اور نئے شوگن کے خلاف ایک اتحاد تشکیل دیا۔ اِس اتحاد کے تحت ، شوگن سے مستعفی ہونے اور ایدو کے شمال میں واقع اُن کی جائداد کی ضبطی کا مطالبہ کیا گیا ۔ انکار پر دونوں اطراف سے حملے شروع ہوگئے ، اور جاگیرداروں کی فوجوں نے کیوتو پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا ۔ توکوگاوا کے کئى وفادار بھاگ نکلے اور شوگن کو بےدخل کردیا گیا ۔ برطانوی پیادہ فوج نے شہنشاہِ وقت کو اپنی حفاظت میں لیکرایدو میں واقع شوگن کے قَلعے میں لے گئی ۔

شہنشاہ موتسوہیتو کے دور کو دورِمیجی یعنی روشن خیال دور کہا جاتا ہے ۔ اُن کا دور 45 سالوں پر محیط ہے ، جو سنہ 1867 سے 1912 تک رہا ہے ۔ اِس دور میں جاپان نے ڈرامائى ترقی کی ۔ جاگیرداری پر قائم صدیوں پرانے نظام کو بدلتے ہوئے جاپان کو ایک عالمی طاقت بنا دیا، جو غیر مغربی ثقافت پر مبنی جدید ترقی کی ایک کامیاب مثال بنا ۔ غیر مُلکی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں ، اور طالب علموں کو اعلی تعلیم کیلئے بیرونِ مُلک بھیجا گیا۔ اصلاحات کے تحت ، سنہ 1871 میں جاگیریں ختم کرکے ، پرگنہ اور تعلقہ یعنی جاگیروں کو ریاستی ملکیت گردانا گیا ۔ سمورائے کی پنشن ختم کرکے اُن کے روایتی لباس پہننے اور تلوار لیکر چلنے کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ تعلیم کو بڑی اہمیت دی گئى اور نئے سکول تعمیر کیے گئے ۔ رہنمائى کیلئے کئى مغربی اداروں کا سہارا لیا گیا، اور فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا اور جن سمورائے نے بغاوت کی کوشش کی، اُنہیں فوج سے شکست دی گئى ۔ فوجی تربیت کیلئے فرانسیسی مشیر مقرر کیے گئے ۔ قانونی نظام ، پارلیمانی ادارے ، آئین اور حکومت سازی کیلئے جرمنی ، فرانس اور امریکہ سے استفادہ کیا گیا، اور یہاں تک کہ جاگیرداری اور شوگن کے خاتمے کیلئے مغربی طاقتوں سے براہِ راست مدد لی گئى ۔ اگرچہ جاپان وہ پہلا ایشیائى مُلک تھا، جس نے مغربی طرز پر جدید معاشرہ قائم کیا تھا، تاہم ، وہ 19 ویں صدی کے جرمنی کی طرح بیک وقت قدامت پسند بھی تھا ۔ مثال کے طور پر تعلیم پر حکومت کو مکمل کنٹرول تھا، اور اِسے ریاست کیلئے اطاعت شعار ملازمین تیار کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا ۔ پریس کو سختی سے کنٹرول کیا گیا ۔ فوج کو بغیر کسی پس وپیش کے شہنشاہ کی اطاعت کرنی ہوتی تھی ۔ سپاہیوں کو یہی تربیت دی جاتی تھی، کہ میدانِ جنگ میں موت ، سب سے مقدس ہے ۔ شِنتواِزم کو بدھ اِزم اور عیسائیت پر فوقیت دی گئى کیونکہ یہ نہ صرف اصل جاپانی عقائد پر مبنی تھا، بلکہ اِس میں شہنشاہ کی اطاعت پر زور دیا گیا تھا ۔

جاپان کی سمندر پار جنگیں[ترمیم]

طاقت ور فوج کے قیام کے بعد ، مغربی سامراجیت سے جاپان میں بھی توسیع پسندی کا رجحان پھر سے پروان چڑھنے لگا ۔ جاپانی رہنماوں کو جزیرہ نماء کوریا کھٹکتا رہتا تھا ۔ وہ چاہتے تھے، کہ یا تو کوریا مکمل طور ایک آزاد ملک بن جائے تاکہ کوئى غیر ملکی طاقت کوریا کے ذریعے جاپان پر حملہ نہ کرسکے اور یا پھر کوریا ، جاپان کے زیر تسلط آجائے ۔ اِس کیلئے ضروری تھا کہ جاپانی سرحدوں کو اصل حدود سے کہیں دور تک پھیلا دیا جائے تاکہ کسی بھی قِسم کے بیرونی حملوں کا باہر مقابلہ کیا جاسکے اوریوں مُلکی معیشت کی ترقی میں کوئى روکاوٹ نہ آئے ۔ اِس مقصد کے حصول کیلئے پہلا ہدف کوریا بنا ۔ یہ بھی کہاجاتا ہےکہ چونکہ کوریا میں کوئلے اور لوہے کے ذخائر تھے اِس لیے جاپان چاہتا تھا کہ وہ اپنی صنعتی ترقی کیلئے اِن وسائل سے کسی طرح سے استفادہ کرسکے ۔ کوریا اور منچوریا میں فوجی کاروائى کے سبب ہی جاپان ۔ چین پہلی جنگ یکم اگست سنہ 1894 سے17 اپریل 1895 تک ، چین کے چِن عہدِ حکومت اور میجی جاپان کے مابین لڑی گئى ۔ اُس دور میں کوریا ، چین کے زیر اثر تھا ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سوچ اُبھرنے لگی ۔ کچھ کے خیال میں روایتی انداز سے چین کے ساتھ منسلک رہا جائے، جبکہ کچھ کا موقِف تھا ، کہ جاپان اور مغربی ممالک سے تعلق قائم کیا جائے ۔ چِن دور حکومت میں ، چین کی سلطنتِ برطانیہ کے خلاف لڑی جانے والی جنگِ افیون 1839-1842 اور 1856-1860 اور فرانس کے خلاف جنگ اگست 1884 سے اپریل 1885تک سے ، چین کمزور ہوگیا تھا اور مغربی ممالک کی جانب سے سیاسی مداخلت کو نہ روکا جا سکا ۔ شاید جاپان کیلئے یہ بہتر موقع تھا کہ وہ جزیرنماء کوریا پر چینی اثرورسوخ کو چیلنج کردے ۔ سنہ 1882 میں کوریا میں قحط آیا ۔ غذائى اجناس کی قلت پیدا ہوئى، حکومت دیوالیہ ہوگئى، قرضوں کی ادائیگی مشکل ہوئى اور وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے فوج ڈانواڈول ہونے لگی ۔ اِسی اثناء میں سئیول میں فوجی بغاوت بڑھک اُٹھی ، فسادات پُھوٹ پڑے، گوداموں پر حملے کیے گئے اور اگلی صبح مظاہرین نے شاہی محل کو نشانہ بنایا ۔ اُس کے بعد ہجوم نے جاپانی سفارت کاروں پر حملہ کیا ، تاہم کچھ سفارت کار ،سروے کرنے والے فلائنگ فش نامی ایک برطانوی بحری جہاز کے ذریعے نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔ جوابی اقدام کے طور پر ، جاپان نے چار جنگی جہاز اور ایک بٹالین فوج روانہ کی تاکہ جاپانی مفادات کا تحفظ کیا جا سکےاور تاوان طلب کی جائے ۔ جاپانی حملے کو روکنے کیلئے چین نے بھی 4500 فوجی روانہ کیے ۔ تاہم کشیدگی کا خاتمہ اُس وقت ہوا، جب ایک معاہدے کے تحت سازشیوں کو سزا اور مرنے والے جاپانیوں کے خاندانوں کو 500,000 ین دینے پر اتفاق ہوا ۔ جاپان سے باقاعدہ معافی مانگی گئى اور اُسے یہ اختیارحاصل ہواکہ وہ سئیول میں اپنے سفارتی عملے کے تحفظ کیلئے حفاظتی چوکیاں قائم کرے اور اپنے سیکورٹی گارڈز متعین کرے ۔ دو سال بعد ، جاپان کے حمایتی اصلاح پسندوں نے ایک خونی بغاوت میں اقتدار پر قبضے کی کوشش کی ، لیکن چینی فوج کے جنرل یوآن شیکائی کی مدد سے مخالف گروپ نے خون خرابہ کرتے ہوئے اصلاح پسندوں کو ناکام بنا دیا ۔ اِس خونی بغاوت میں کئى لوگ زندگی گنوا بیٹھے ۔ جاپان کو یہ چینی مداخلت ناگوار گزری، کیونکہ یہ چین کی جانب سے اُن کے اثر کو پنپنے سے روکنے کی ایک اور کوشش تصورکی گئى ۔ اِسی جنرل پر یہ الزام بھی تھا ، کہ اُس کے ایجنٹوں نے 28 مارچ 1894 کو شنگھائى میں جاپان نواز کوریائى انقلابی رہنماء کیم اوکیون کو قتل کیا تھا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بعد میں مقتول کی لاش ایک چینی بحری جہاز کے ذریعے کوریا لاکر دوسرے مخالفین کو عبرت دینے کیلئے سرعام رکھی گئى ۔ جاپان کو یہ اقدام پسند نہیں آیا اور حالات میں مزید تناؤ اُس وقت پیدا ہوا جب چینی حکومت نے کوریا کے شہنشاہ کی درخواست پر تونگھاک باغیوں کی سرکوبی کیلئے فوج بھیجنے کے فیصلے سے جاپان کو آگاہ کرتے ہوئے ،جنرل یوآن کی قیادت میں 2800 فوجی روانہ کیے ۔ جاپان نے اِس بات کی مخالفت کی ، کہ یہ کنونش کی خلاف ورزی ہے اور فوج کشی کردی ۔ جاپان کے 8000 فوجیوں نے شہنشاہِ کوریا کو ہٹا کر 8 جون سنہ 1894 میں شاہی محل پر قبضہ کیا اور جاپان حمایتی گروپ کو اقتدار سونپا ۔ نئى حکومت نے چینی فوجیوں کو مُلک سے نکل جانے پر مجبور کیا اور اِسی دوران جاپان نے مزید افواج بھیج دیں ۔ جاپان کی بروقت اور کامیاب کاروائى سے اِسے بالادستی حاصل ہوئى اور معاہدۀ شیمونو سیکی کے تحت کوریا کو چین سے آزادی ملی ۔ جاپان کو تائیوان اور پیسکادوریس کے جزیروں پر قبضہ کرنے اور منچوریا کے جنوبی سر ے پر بحری اڈہ بنانے کا اختیار مل گیا ۔ کئى مغربی ممالک کو جاپان کی بڑھتی ہوئى طاقت پر حیرانی ہورہی تھی ۔ دوسری جانب روس کے شہنشاہ )زارِ روس( نکولس دوئم بھی منچوریا اور کوریا پر اقتصادی بالادستی حاصل کرنے پر کام کررہا تھا اِس لیے موجودہ صورت حال ، سلطنتِ روس اور سلطنتِ جاپان میں رسہ کشی کا سبب بنا ۔ دونوں قوتوں نے جزیرہ نماء لیاؤ دونگ ، موکدین اور کوریا اور جاپان کے سمندری علاقوں کے آس پاس اور دریائے زرد میں ایک دوسرے کے خلاف کاروائیاں شروع کیں ۔ روس کی پالیسی تھی کہ وہ اپنی بحریہ اور بحری تجارت کی غرض سے بحرالکاہل تک رسائى کیلئے گرم پانیوں کی بندرگاہ حاصل کرلے، کیونکہ روس کی ولاڈیواسٹوک کی بندرگاہ ، صرف موسم گرما میں قابل استعمال تھی جبکہ جزیرہ نماء لیودونگ کی بندرگاہ، پورٹ آرتھر سارا سال کُھلی رہتی تھی ۔ 30 جنوری 1902 کو جاپان نے برطانیہ کے ساتھ اِینگلو۔ جاپانی اتحاد کا معاہدہ دستخط کیا ۔ یہ ایک فوجی معاہدہ تھا جس سے روس اور جرمنی خطرہ محسوس کرنے لگے ۔ آٹھ فروری 1904 کو جاپانی بحریہ نے کوریا کے ساحل کے نزدیک روسی جہازوں پر حملہ کردیا ۔ پھر اُنہوں نے آرتھر بندرگاہ کا محاصرہ کیا اور بحرالکاہل میں واقع روسی بندرگاہ ولاڈیواسٹوک کی ناکہ بندی کردی ۔ یہی نہیں جاپانی فوجوں نے کوریا اور منچوریا پر بھی یلغار کردی، تاکہ سائبیریا سے آنے والی روسی فوجوں کا راستہ روکا جاسکے ۔ اِس ساری صورت حال میں چین بے بس تماشائى بنا رہا ۔ روس نے اپنے بالٹک بحری بیڑے کو حرکت دی جو یورپ اور افریقہ سے گزرتا ہوا ایشیاء پہنچا، لیکن جاپانی بحری بیڑے نے پہلے سے اپنی حکمتِ عملی تیار کرلی ہوئى تھی اور روسی بیڑے کے آتے ہی حملہ کردیا جس میں جاپان کو مکمل فتح نصیب ہوئى اور روس کے 40 بحری جہازوں میں سے صرف دو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ ایک اندازے کے مطابق ، اِس جنگ میں جاپان کے 47 ہزار سے زیادہ ، روس کے لگ بھگ 70 ہزار اور چین کے تقریباً 20 افراد لقمہ اجل بنے ۔ کہا جاتا ہے کہ اِس جنگ میں مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔ امریکی صدر روزویلٹ نے دونوں ممالک مابین پورٹسماوت کے امریکی بحری اڈے پر مزاکرات کا اہتمام کیا اور ثالث کا کردار ادا کیا ، جس کی بدولت 5 ستمبر 1905 کو ایک امن معاہدہ دستخط ہوا ۔ معاہدے میں طے ہوا کہ پورٹ آرتھر اور سخالین جزیرے کا آدھا جنوبی حصہ جاپان کے زیرِ قبضہ ہو اور کوریا کو جاپان کی کٹھ پُتلی ریاست بنا دیا گیا۔ امریکی صدر کو اِن خدمات کے صِلے میں نوبل امن انعام سے بھی نوازا گیا ۔ روسی عوام بھی زارِ روس کی بدعنوانیوں سے بددِل ہوتے گئے اور سیاسی انتشار پھیلتا گیا ۔ دہشت گردانہ حملے اور مزارعوں کے مظاہرے روز کا معمول بن گئے تھے، اور یوں انقلابِ روس کی راہ ہموار ہوتى گئى ۔ جاپان میں بھی عوامی سطح پر اِس امن معاہدے پر اعتراض کیا گیا کیونکہ وہ اِسے مہنگی فتح تصور کرتے تھے اور مطالبہ یہ تھا کہ سخالین کا پورا علاقہ جاپان کے قبضے میں آنا چاہیے تھا ۔ جاپان اب ایشیاء میں ایک نئے مشرقی طاقت کے طور پر اُبھر رہا تھا اور تجزیہ نگاروں نے اندازہ لگالیا تھا کہ اگر ایشیاء میں مغربی طاقتوں کو کوئى مُلک شکست سے دوچار کرسکتا ہے تو وہ جاپان ہی ہے ۔ جاپان کے قومی وقار میں زبردست اضافہ ہوا۔ چین اور روس کے خلاف فتوحات کے بعد ، جاپانی سامراجیت نے مزید علاقوں کی شمولیت کا رجحان اختیار کیا ۔

جنگِ عظیم اول[ترمیم]

جنگ عظیم اول سنہ 1914 سے 1918 تک لڑی گئى جو تاریخ میں انسانیت سوز واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار کیمیائى ہتھیار اور زہریلی گیس استعمال کی گئى ۔ شہری آبادی پر بڑے پیمانے پر بمباری کی گئى اور تاریخ میں پہلی بار بڑی تعداد میں فوج کو حرکت میں لایا گیا ۔ اِس جنگ نے قدیم یورپ کو مٹا کر نئے یورپ کو جنم دیااور آمریت کا خاتمہ ہوگیا ۔ یہ انسانی تاریخ کی ایک تباہ کُن جنگ تھی جس میں 90,000,00 سے زیادہ مرد ، میدانِ جنگ میں ھلاک ہوئے اور اتنے ہی عام افراد غربت ، بھوک، قحط ، بیماری اور نسل کشی جیسے واقعات کی نذر ہوئے ۔ تاریخ کچھ یوں بتاتی ہے کہ 19 ویں صدی کے اواخر میں یورپ میں اتحاد بننے لگے تھے ۔ سنہ 1879 میں آسٹریا ۔ ہنگری جواُس وقت ایک ملک تھا اور جرمنی نے روس سے بچنے کیلئے آپس میں اتحاد کیا جِسے دی ڈول ایلائنس کہتے ہیں ۔ سنہ 1881 میں آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کے ساتھ بھی اتحاد کیا اور اِس کا مقصد بھی روس کی سربیا کی جانب پیش قدمی کو روکنا تھا ۔ ایک سال بعد سنہ 1882 میں دی ٹرپل ایلائىنس نامی اتحاد معرض وجود میں آیا جس میں جرمنی اور آسٹریا۔ہنگری نے اٹلی کے ساتھ معاہدہ کیا ۔ اِس اتحاد کا مقصد اٹلی کو روس کے ساتھ شامل ہونے سے روکنا تھا ۔ اِن بدلتے حالات میں روس نے بھی اپنی حکمت عملی بدلتے ہوئے سنہ 1894 میں فرانس کے ساتھ فرنکو۔رشین ایلائنس کے نام سے ایک اتحاد بنایا جس کا مقصد جرمنی اور آسٹریا ۔ ہنگری سے اپنا دفاع کرنا تھا ۔ سنہ 1904 میں فرانس اور برطانیہ نے اینتات کورڈئیل کے نام سے ایک معاہدہ کیا جو باقاعدہ اتحاد تو نہیں تھا تاہم قریبی تعلقات کیلئے بہت اہمیت کے حامل تھا ۔ اِسی طرح کا ایک معاہدہ ، برطانیہ اور روس کے مابین سنہ 1907 میں اینگلو۔رشین اینتات کے نام سے دستخط ہوا ۔ جرمنی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے اِسی سال یعنی سنہ 1907 میں ٹرپل اینتات کے نام سے ایک معاہدہ ہوا جس میں روس ، فرانس اور برطانیہ شامل تھے ۔ اب یورپ تقسیم ہوگیا تھا یعنی ایک جانب جرمنی ، آسٹریا ۔ ہنگری ، سربیا اور اٹلی ، جبکہ دوسری جانب روس ، فرانس اور برطانیہ تھے ۔ چونکہ جاپان سنہ 1902 میں برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کرچکا تھا اِس لیے اُس نے برطانیہ کی طرفداری کرتے ہوئے اعلان جنگ کیا اور جرمنی کو دھمکی دی کہ وہ فوری طور پر مشرقی بعید سے اپنے جنگی بحری جہاز باہر کردے اور چین کے علاقے کیاوچو، جو موجودہ چِینداؤ کے نام سے پہچانا جاتا ہےمیں واقع اڈے سے دستبردار ہوجائے ۔ جب جرمنی نے کوئى جواب نہیں دیا تو جاپان نے اعلان جنگ کردیا ۔ جاپان کو بہت کم جانی نقصان کے بدلے فتح نصیب ہوئى ۔ اب جاپان کا ایشیاء میں اثر مزید بڑھنے لگا اور اُس نے بحرالکاہل اور اردگرد زیر قبضہ علاقوں پر اپنی گرفت کو مزید تقویت دی ۔ سنہ 1915 میں جاپان نے چین سے 21 مطالبے کیے ۔ چونکہ اُس وقت چین خاصا کمزور ہوگیا تھا اِسلئے بغیر کسی مزاحمت کے زیادہ تر مطالبات مان لیے اور شمال مشرقی چین میں جاپانی اختیار کو تسلیم کرلیا ۔ جاپان نے اپنی زیر قبضہ علاقے اور ریل کی پٹڑی کو منچوریا تک وسعت دی ۔ سنہ 1917 میں جاپان کے اتحادیوں نے اُس کی جانب سے جنگی حمایت کرنے پر جاپانی قبضوں اور دعوؤں کی خُفیہ طور حمایت کرنے پر اتفاق کیا ۔ جنگ عظیم اول ابھی جاری تھی کہ اِس دوران سنہ 1917 میں روس میں انقلاب آیا اور خانہ جنگی شروع ہوگئى ۔ اِس بدنظمی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے امریکہ، برطانیہ اور جاپان نے اپنی افواج ولاڈیواسٹوک میں اُتار دیں اور ٹرانس سائبیریا ریلوئے تک کے کئى سو کلومیٹر علاقے پر قبضہ کرلیا ۔ سرکاری طور پر تو یہ کہا گیا کہ اِس آپریشن کا مقصد اتحادیوں کے وہ ہتھیار برآمد کرنا ہیں جو روس لیجائے گئے ہیں ۔ لیکن اِس کا اصل مقصد انقلاب روس یا بالشویک ریولوشن کے مخالفین کی مدد کرنا تھا۔ ابتداء میں ہر مُلک نے 7000 ہزار فوجی سائبیریا بھیجنے کا فیصلہ کیا لیکن جاپان نے فوری طور پر زیادہ ملوث ہونے کیلئے 72,000 اہلکار روانہ کیے ۔ برطانیہ اور امریکہ کو اب خدشہ ہونے لگا کہ یوں جاپان وہاں پر مستقل اڈے بنا سکتا ہے اور پھر وہاں سے جاپان کو نکالنے میں وقت لگے گا ۔ اُدھر یورپ میں جنگ عظیم اول ایک بڑی تباہی کے بعد ختم ہونے لگی ۔ جنگ لڑنے والے تمام ممالک اب تصفیہ کرنے لگے تھے اور اِس مقصد کیلئے فرانس کے شہر ورسائلز میں ایک کانفرنس بُلائى گئى ۔ جاپان بھی اِس کانفرنس میں مدعو تھا ۔ سنہ 1919 میں ٹریٹی آف ورسائلز نامی معاہدہ دستخط ہوا ۔ اِسی کانفرنس میں جاپان کو نئے بین الاقوامی نظام میں سرکاری طور پر دُنیا کے پانچ بڑے ممالک میں سے ایک تسلیم کیا گیا ۔ جاپان نے نئى بین الاقوامی تنظیم لیگ آف نیشن میں شمولیت اختیارکی ۔ جاپان کی منچوریا اور سخالین میں عملداری کو تسلیم کیا گیا اور بعد میں یہ آخری اتحادی تھا ، جس نے روس سے سنہ 1925 میں انخلاء کیا ۔ جب جولائى سنہ 1914 میں جنگ عظیم اول چِھڑگئى تو یورپ کے ممالک ایک دوسرے پر حملے کرنے لگے جس کی وجہ سے اُن کی بین الاقوامی تجارت معطل ہوگئى تھی ۔ اب وہ باقی دُنیا کو کپڑا، مشینری اور کیمیکل برآمد کرنے سے قاصر تھے ۔ اِن حالات میں جاپانی مصنوعات کی مانگ بڑھ گئى جس سے جاپانی تاجر اور سرمایہ کار اچانک امیر ہوگئے اور اُنہوں نے سرمایہ کاری میں تیزی سے اضافہ کیا ۔ ہزاروں فیکٹریاں تعمیر کی گئیں اور جاپانی ٹیکسٹائل کی برآمد میں بہت اضافہ ہوا ۔ چونکہ جاپانی مصنوعات اِس سے قبل سستی اور غیر معیاری ہوتی تھیں ، لہذا سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں نے پیداواری معیار کو بہتر کرنے کیلئے بیرونی ممالک سے جدید مشینری اور جدید تکنیک حاصل کی ۔ یوں کئى بڑی کمپنیاں معرضِ وجود میں آئیں اور مُلکی دولت کا بڑا حصہ اُن کے ہاتھ آیا ۔ جاپان میں قدرتی وسائل کی کمی اور تیزی سے بڑھتی ہوئى آبادی ایک لمحہء فکر بنتا جارہا تھا ۔ سنہ 1920 میں جاپان کی آبادی ساڑھے پانچ کروڑ سے زیادہ تھی جو گیارہ سال بعد ساڑھے چھ کروڑ تک جا پہنچی ۔ اُس دور میں آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح دس لاکھ تھی ۔ جاپانی معیشت کو روزگار کے سالانہ ڈھائى لاکھ مواقع پیدا کرنے کی ضرورت تھی ۔ جاپان نے اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے اپنی برآمدات میں اضافہ کیا ۔ لیکن سنہ 1929 سے سنہ 1931 تک عالمی کسادبازاری یا مندی یعنی گریٹ ڈیپریشن کا دور دورۀ تھا ۔ عالمی تجارت کی حالت دگرگوں تھی ۔ مُلکوں نے درآمدات میں کمی کردی تھی ۔ بے روزگاری میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ، اُجرتوں میں کمی کی گئى ۔ نتیجتاً مظاہروں نے زور پکڑ لیا اور یورپ مایوسیوں کے بادلوں میں گِھرگیا ۔ اِنہی حالات نے جاپان پر بھی اثر کرنا شروع کردیا تھا ۔ سنہ 1920 کی دھائى میں جاپان کی جمہوری تحریک نے بھی زور پکڑا جسے تائىشو جمہوریت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ 30 جولائى کو شہنشاہ میجی کے انتقال کے بعد تائىشو نے جاپان کے 123 ویں شہنشاہ کی حثیت سے منصب سنبھالا جن کا دور30 جولائى 1912 سے 25 دسمبر1926 تک رہا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جاپان میں شہنشاہ اپنے اصلی نام سے نہیں بلکہ اعزازی نام سے پہچانا جاتا ہے اور تاریخ میں اُن کے دور کواِنہی ناموں لکھا جاتا ہے تو یوں تائىشو بھی اعزازی نام ہے ۔ میجی دور میں بڑے پیمانے پر اندرون و بیرون مُلک سرمایہ کاری اور دفاعی پروگراموں پر کثیر اخراجات کی وجہ سے سرمایے کی قلت ہونے لگى اور نوبت یہاں تک آ گئى کہ بیرونی قرضے لوٹانے کیلئے مناسب رقوم کی دستیابی مشکل بنتی جارہی تھی ۔ جاپان کے اندر سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھتا جا رہا تھا ۔ اندرون ملک پیچیدگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جاپان نے سائبیریا کی مہم جوئى سے کچھ خاص حاصل نہیں کیا تھا اِسلئے فوج کا ملکی سطح پر اثر کم ہونے لگا ۔ واشنگٹن میں سنہ 1921-22 میں ہونے والی کانفرنس میں اتحادی ممالک نے جاپان پر زور ڈالا کہ وہ بحریہ کے حوالے سے 3-5-5 کی شرح کا معاہدہ دستخط کرے یعنی ہر پانچ امریکی اور پانچ برطانوی بحری جنگی جہازوں کے مقابلے میں جاپان کوتین جہاز رکھنے کی اجازت ہوگی ۔ یہ جاپان کی سفارت کاری میں شکست کا ایک بڑا واقعہ سمجھا جاتا ہے ۔ سنہ 1920 کے بعد کا جاپانی دور اندرونی بدامنی کا شکار رہا ۔ خراب اقتصادی حالات کی وجہ سے ملکی سیاسی عدم استحکام بڑھتا گیا اور کئى سیاست دانوں بشمول ایک وزیراعظم کے قتل کردئے گئے ۔ فوج پر نہ تو پارلیمنٹ اور نہ ہی حکومت کو کنٹرول تھا اور یہاں تک کہ شہنشاہ بھی بے بس تھا ۔ بلکہ حکومت کی باگ دوڑ عوامی حکومت کی بجائے فوج کے ہاتھوں میں تھی ۔ جاپانی سیاسی پارٹیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ یہ اپنے مفاد کی خاطر قوم کو متحد کرنے کے بجائے منقسِم کرنے کی وجہ بن گئى ہیں ۔ بالاخر تمام پارٹیوں نے اپنے آپ کو تحلیل کرنے پر رضامندی ظاہرکرکے یک جماعتی تنظیم امپریل رول اسیسٹینس ایسوسیشن قائم کی جس میں سیاسی جماعتوں ، پریفیکچروں، جو ایک ضلع جتنا علاقہ ہوتا ہے، میں قائم خواتین اور ہمسایوں کی تنظیموں نے شمولیت کی ۔ لیکن اِس تنظیم میں مربوط سیاسی ایجنڈے کی کمی تھی لہذہ ، گروپوں کی باہمی چپقلش اور جھڑپیں بدستور جاری رہیں ۔ دراصل اِس تنظیم کے قیام کی وجہ جہاں مُلکی بدحالی تھی وہاں ساکورائے بلاسم سوسائٹی بھی تھی ۔ یہ قوم پرستوں کی ایک خُفیہ تنظیم تھی جو د سمبر 1930 میں جاپان کی شاہی فوج میں شامل لیفٹینٹ کرنل کینگورو ہاشی موتو، نے دیگر کئى نوجوان افسروں کے ساتھ ملکر بنائى تھی ۔ اِس کا مقصد ریاست کو عسکری خطوط پر منظم کرنا تھا اور اِس مقصد کیلئے اگر بغاوت کرنے کی ضرورت پڑ جائے تو اُس پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔ ہاشی موتو، اُن دِنوں میں جاپانی شاہی فوج میں روسی شعبہء کے سربراہ تھے ۔ ابتداء میں اِس خفیہ تنظیم کے تقریباً دس ارکان تھے جو فروری 1931 میں پچاس سے زیادہ ہوگئے تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق اکتوبر میں اِن کی تعداد سینکڑوں ہوگئى ۔ اُنہوں نے ملک کے سیاسی اور معاشی نظام کو بدعنوان قراردیا اور وہ ریاستی سوشلزم لاکر نئى تبدیلی لانا چاھتے تھے ۔ لیکن دو واقعات میں ناکامی کے بعد اِس تنظیم کی قیادت کوگرفتار کرلیا گیا اور تنظیم توڑی دی گئى ۔ اُدھر یورپ میں حالت کچھ یوں رُخ اختیار کررہے تھے کہ سنہ 1930 کی دھائى میں ابتدائى چند سالوں تک کساد بازاری رہنے کے بعد حالات سنھبلنے پر کئى مُلکوں میں مطلق العنان حکومتیں قائم ہوچکی تھیں جن میں ایڈولف ہٹلر سرفہرست تھے ۔ وہ سنہ 1933 میں جرمنی کے چانسلر یعنی ریاستی سربراہ بن چکے تھے ۔ اُن کی توسیع پسندانہ پالیسیوں سے بے چینی بڑھتی جارہی تھی ۔ ایک طرف جرمنی پولینڈ کو قبضے میں لینے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا تو دوسری جانب اٹلی نے ایتھوپیا پر قبضہ کرلیا تھا ۔ جاپان اور چین کے تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوگئى تھی کیونکہ جاپان کے زیرِقبضہ علاقے منچوریا میں واقع جاپانی ریلوئے لائن پر ایک دھماکہ ہوا ۔ جاپانیوں نے اِس تخریب کاری کا الزام چینیوں پر لگایا لیکن کچھ کا خیال ہے کہ جاپانیوں نے خود دھماکہ کرکے منچوریا پر فوجی کشی کا جواز بنایا تاکہ معیشت کیلئے مزید وسائل، جاپانیوں کی آباد کاری اور مصنوعات کی فروخت کیلئے منڈیاں حاصل کی جائیں اور ایشیاء پر اپنی ثقافتی بالادستی قائم کی جائے ۔ بحرحال اِس دھماکے کی وجوہات ابتک متنازعہ ہیں۔ یہ واقعہ تاریخ میں مکدین انسیڈنٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ھے ۔ جاپانی فوج نے سنہ 1931 میں لیفٹیننٹ کرنل کانجی ایشی وارا کی قیادت میں منچوریا پر چڑھائى کی اور چین اور اندرون منگولیا کے علاقوں پر مشتمل منچوریا میں مانچو کو نامی ایک آزاد ریاست قائم کردی جو دراصل ایک کٹھ پُتلی حکومت تھی ۔ اُس وقت چین میں قوم پرست رہنماء چیانگ کائی شیک کی ایک کمزور حکومت قائم تھی جو مختلف دھڑوں کے مابین لڑی جانے والی اندرونی خانہ جنگی سے مشکلات کا شکار تھی اور قحط سالی اور بدعنوانی نے حکومتی بُنیادوں کو کُھوکھلا کردیا تھا لیکن اِن میں کمیونسٹوں کے حوصلے بلند تھے ۔ منچوریا میں جاپانی حمایت یافتہ نئى حکومت کو چین کی کومنتانگ حکومت نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ عالمی سطح پر کسی بھی بڑی طاقت نے جاپانی جارحیت کو روکنے کی کوشش نہیں کی ۔ چین نے لیگ آف نیشن سے مدد مانگی جس نے سنہ 1933 میں ایک تفتیشی کمیٹی مقرر کی ۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں جارحیت کی مذمت کی لیکن جاپان کو اشتعال دینے سے گریز کیا ۔ یہ تنظیم ، جاپانی جارحیت کو روکنے میں ناکام رہی اور اُسے ایک رُکن کی حثیت سے بھی برقرار نہ رکھ سکی ۔ برطانیہ اور فرانس نے کوئى کردار ادا نہیں کیا کیونکہ وہ دونوں ممالک اپنے معاشی اور سیاسی گرداب میں پھنس چکے تھے جب کہ امریکہ کُلی طور پربین الاقوامی کساد بازاری سے نبردآزما تھا ۔ عالمی برادری نے جاپان کی جانب سے کیے جانے والے بے دریغ قتل عام اور اپنی مرضی کی حکومت بنانے پر مزمت کی ۔ کہاجاتا ہے کہ یہیں سے جاپان اور امریکہ کے مابین اختلافات کی خلیج بڑھتی چلی گئى بلکہ اِسے کسی بڑے ٹکراؤ کا پہلا قدم سمجھا جاتا ہے ۔ جرمنی اور جاپان نے روس کے بنائی ہوئی بین الاقوامی کمیونسٹ تنظیم کومنٹرن کے خلاف 25 نومبر 1936 کو اینٹی کومنٹرن معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت اگر روس جرمنی یا جاپان پر حملہ کرے گا تو دونوں ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ایک دوسرے سے مشاورت کریں گے ۔ دونوں مُلکوں نے روس کے ساتھ کسی بھی قِسم کا سیاسی معاہدہ نہ کرنے پر اتفاق کیا اور اِس کے علاوہ جرمنی نے جاپان کے زیر اثر مانچو کو، کو تسلیم کیا ۔ منچوریا کی لڑائى اور اِسی نوعیت کے دیگر واقعات نے جاپان اور چین کے مابین دوسری جنگ کی راہ ہموار کردی ۔ شنگھائى کے مارکو پولو پُل کے رونماء ہونے والے واقعہ کو بھی اس جنگ کی وجہ سمجھا جاتا ہے ۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ جون 1937 سے جاپانی افواج نے مارکوپولوپُل کے مغربی علاقے میں رات کی تاریکی میں فوجی تربیت جیسی سرگرمیاں بڑھادی تھیں ۔ چینی حکومت نے کہا کہ چونکہ اِس شو و غل سے مقامی آبادی متاثر ہورہی ہے لہذا ایسی سرگرمیوں کے بارے میں پہلے سے آگاہی دی جائے ۔ گو کہ جاپانی حکومت نے اس چینی درخواست سے اتفاق کیا تاہم 7 جولائى 1937 کی رات جاپانی افواج نے بغیر اطلاع دئیے ایک بار پھر اپنی سرگرمیاں شروع کیں جس پر علاقے میں متعین مقامی چینی فورسز چوکس ہوئیں کہ شاید جاپانی فوج کسی حملے کی تیاری کر رہی ہے ۔ لہذا ، اُنھوں نے متنبہ کرنے کیلئے ہوائى فائرنگ کی ۔ اِسی اثناء میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اِس کی آواز دور تک سُنی گئى ۔ جب اُس علاقے میں متعین جاپانی فوجی اپنے رجمنٹل کمانڈر کو رپورٹ دینے میں ناکام ہوا تو میجر کیوناؤ ایچیکی کو شک ہوگیا تھا کہ اُس کا سپاہی، چینیوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے ۔ جاپانی فوج نے چینی رجمنٹل کمانڈر کو فون کیا کہ وہ اپنا جوان ڈھونڈنے کی غرض سے علاقے کی تلاشی لینا چاہتے ہیں ۔ گو کہ مذکورہ فوجی مل گیا تھا لیکن پھر بھی جاپانی ملٹری انٹیلیجنس نے چینی جنرل چن دیچون سے یہی مطالبہ دوہرایا جس کے جواب میں کہا گیا کہ چونکہ فوجی سرگرمی بغیر اطلاع دیئے ہورہی تھی اس لیے وہ خود تلاشی لیں گے ۔ مگر جاپانی فوج بضد رہی کہ وہ خود ہی تلاشی لیں گے اور اُنہوں نے دو گھنٹے بعد الٹیمیٹم جاری کردیا ۔ 8 جولائى کی صبح ساڑھے 3 بجے جاپانی فوج کا قافلہ علاقے میں پہنچ گیا ۔ صبح 4 بجکر 50 منٹ پر دو جاپانیوں کو وانپنگ علاقے میں جانے کی اجازت دی گئى ۔ تلاشی کے دوران جاپانی فوج نے بکتر بند گاڑیوں سے مارکوپولو پُل پر حملہ کردیا ۔ چینی فوج کے کرنل جے شینگ وین نے اپنے سپاہیوں کو ہر صورت میں اس پُل کے دفاع کو حکم دیا ۔ دونوں اطراف سے کئى فوج مارے گئے ۔ اِس بڑھتی ہوئى کشیدگی نے بعد میں بڑی جنگ کی شکل اختیار کرلی ۔ اُس وقت کے جاپانی وزیراعظم کونوئىے کی حکومت نے چینیوں کو سزا دینے کیلئے چین کے دارالحکومت نانجنگ سمیت شمالی اور مشرقی ساحلی علاقوں پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ فوجی کاروائى کرتے ہوئے چینیوں سے ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا لیکن اُنہوں نے انکار کردیا ۔ جاپانی وزیراعظم کو فتح حاصل کرنے کی اُمید تھی مگر یہ سب مشکل بنتا جارہا تھا کیونکہ چین میں قوم پرستی اور خود انحصاری کا جذبہ زور پکڑ چکا تھا ۔ چینیوں نے اس جنگ کو جنگ مزاحمت جاپان کے طور پر لے لیا تھا۔ جاپان پر الزام ہے کہ اُس نے نانجنگ پر قبضے کے دوران بے دریغ قتل عام کیا ۔ نانجنگ اس وقت چین کا دارالحکومت تھا ۔ ہزاروں عورتوں کی آب رویزی کی اور سینکڑوں ہزاروں لوگوں کا قتل کیا ۔ ایک اندازے کے مطابق یہ قتل عام اس وقت سے شروع ہوئى جب جاپانی فوج نومبر کے وسط میں جیانگ سو میں داخل ہوئى اور یہ سلسلہ مارچ 1937 کے اؤاخر تک چلتا رہا ۔ مرنے والوں کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ مشرق بعید کیلۓ قائىم بین الاقوامی فوجی ٹربیونل کا اندازہ ہے کہ 2 لاکھ 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے ۔ چین کے سرکاری اعداد و شمار میں یہ تعداد 3 لاکھ بتائى ہے جبکہ جاپان کے تاریخ دانوں نے ایک لاکھ اور دو لاکھ کے درمیان بتائى ہے ۔ جولائى 1937 میں جب بیجنگ کے قریب جنگ لڑی جارہی تھی تو اِس کے ساتھ ہی ایک ماہ بعد شنگھائى میں بھی لڑائى نے زور پکڑلیا ۔ جاپان مکمل طور پر اعلان جنگ نہیں کر رہا تھا کیونکہ اُسے برطانیہ اور امریکہ کی جانب سے مداخلت کا خطرہ تھا ۔ جاپانی پراپیگنڈے میں چین کے خلاف جنگ کو جنگ مقدس کہا جارہا تھا ۔ اب وزیراعظم کونوئىے نے جنوب مشرقی ایشیا کیلئے ایک نئے آرڈر کا اجراء کیا ۔ یہ ایشیائى عوام پر سپریم جاپانی حکمرانی قائم کرنے کا منشور تھا ۔ دوسال کی مدت میں رونماء ہونے والے پے درپے واقعات کی وجہ سے امریکہ نے چین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ چین سے نکل جائے اور اسے تنہاء چھوڑ دے ۔ جب جاپان نے پوری طرح عمل درآمد نہیں کیا تو امریکہ نے جاپان کے ساتھ تیل اور لوہے کی تجارت روک دی ۔ جنگِ شنگھائى میں چین نے سخت مزاحمت کا مظاہرہ کیا ۔ چین اور جاپان دونوں کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا اور چینی افواج نے نان جینگ سے پسپائى اختیار کی لیکن تاثر یہ ملا کہ اب انہیں شکست دینا مشکل ہوتا جارہا ہے ۔ اب چینی حکمت عملی یہ تھی کہ جنگ کو اس وقت تک طول دیا جائے جب تک امریکہ جنگ میں شامل نہ ہو ۔ جاپانی فوج کی پیش قدمی سست کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کیے جانے لگے مثلاً جاپانی فوج کو مشکلات میں ڈالنے کیلئے پانی کے ڈیم توڑدیئے گئے جس سے سیلاب آگیا تھا ۔ وہ جاپانی فوج کو اُس حد تک بڑھنے دے رہے تھے جہاں اُنہیں گھیرے میں لیکر حملہ کیا جائے اور اِس کی مثال انہوں نے سنہ 1939 کے چانگشا کی دفاع کے دوران پیش کی ۔ سنہ 1940 میں چین کی سرخ فوج نے ملک کے شمال میں ایک بڑا حملہ کیا اور ریلوئے لائنیں اُڑا دیں اور کوئلے کی بڑی کان تباہ کردی ۔ اب جاپانی فوج سخت مایوسی اور گومگو کی کیفیت میں تھی اور اُنہوں نے سب کو قتل کرو، لوٹو اور جلاؤ کی پالیسی اختیار کرلی اور وسیع پیمانے پر جنگی جرائم کیے ۔ دوسری جانب جاپان کے سوویت یونین کے ساتھ بھی تعلقات خراب تھے اور دونوں ملکوں نے سنہ 1938 میں جھیل خسان کی لڑائى لڑی جس کی وجہ یہ تھی کہ جاپان نے مانچو کوو میں اس علاقے کو شامل کیا جس پر روس کا دعویٰ تھا ۔ لڑائى اس وقت شروع ہوئى جب جاپان نے سوویت یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ خاسان نامی جھیل کے مغرب اور پری موریئى کے جنوب میں واقع پہاڑوں سے اپنی سرحدی فوج ہٹا لے ۔ یہ علاقہ ولاڈیواسٹوک سے زیادہ دور نہیں ۔ روس نے یہ مطالبہ مسترد کردیا ۔ جاپانی فوج نے ھلکے اور درمیانی ٹینکوں کی مدد سے حملہ کیا اور روس نے بھی ٹینکوں اور آرٹرلی کی مدد سے فوری جوابی حملہ کردیا ۔ جاپان نے اپنی فوجی قوت بڑھانے کیلئے مزید کمک بھیجی لیکن کامیابی حاصل نہ ہوئى اور جاپانی فوجوں کو سوویت علاقائى حدود سے پیچھے دھکیل دیا گیا ۔ جاپان کو کامیابی نصیب نہیں ہوئى اور اُس نے نئى حکمت عملی کے ساتھ سوویت یونین پر ایک اور بھرپور حملہ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ۔ جب جاپان نے مانچو کوو کی ریاست قائم کی تو اِس نئى ریاست اور منگولیا کے مابین خلخیان نامی دریا کو سرحد کی حد بندی قرار دیا ۔ اُس وقت کی قابض جاپانی فوج کے آئى جے اے ۲۳ ویں ڈویژن کو مُلک کی بہترین یونٹس میں سے شمار کیاجاتا تھا ۔ لڑائى اُس وقت شروع ہوئى جب 11 مئى 1939 کو منگول فوج کے گھوڑ سوار یونٹ کے تقریباً 90 سپاہی مانچو کوو کے متنازعہ علاقے میں داخل ہوئے ۔ مقامی فوج نے حملہ کرکے اُنہیں پسپا کردیا لیکن دو دِن بعد منگولوں نے بڑی تعداد کے ساتھ حملہ کیا جس کو روکنا مانچو کوو کی فوج کے بس کا کام نہیں تھا لہذا جاپانی فوج کی مدد طلب کی گئى ۔ جاپانی فوج کی آمد پر منگول تواُس علاقے سے نکل گئے تاہم 28 مئى کو سوویت اور منگول فوجوں نے مشترکہ طور پر حملہ کیا ۔ جاپانی فوج نے لیفٹینٹ کرنل یا اوزو آزوما کی قیادت میں مقابلہ کیا لیکن 8 افسروں اور 97 جوانوں کی ھلاکت کے بعد اُسے شکست ہوئى ۔ جاپانی فضائیہ نے منگولیا میں واقع سوویت یونین کے ہوائى اڈوں پر حملے کیے اور کئى جہاز مار گرائے لیکن یہ حملے ٹوکیو میں واقع شاہی جاپانی فوج کے ہیڈ کوارٹرکی اجازت کے بغیر کیے گئے تھے ۔ لہذا ، اطلاع ملنے پر مزید فضائى حملے نہ کرنے کا حکم جاری کیا گیا ۔ جون کے مہینے میں سوویت یونین کے نئے لیفٹینٹ جنرل گیورگی زوخوف پہنچے ۔ ماہ بھر سوویت اور منگول فوجوں کی دریائے نومونھان کے اِرد گرد کاروائیاں جاری رہیں ۔ دخل اندازوں کی سرکوبی کیلئے جاپانی لیفٹینٹ جنرل میچی تارو کو ماتسو بارا کو کاروائى کرنے کی اجازت دے دی گئى ۔ جاپان کی مختلف رجمنٹوں نے کئى محاذوں سے حملے کیے لیکن سوویت افواج نے سخت مزاحمت کی ۔ اِن جھڑپوں میں جاپانی فوج کے پانچ ہزار فوجی ھلاک ہوئے اور اسلحہ و گولہ بارود کی کمی محسوس ہونے لگی ۔ گو کہ اب جاپان کو 75000 فوجی اور سینکڑوں جہازوں کی قوت حاصل تھی تاہم جاپانی فوج نے کچھ وقت کیلئے پسپائى اختیار کی اور 24 اگست کو ایک بار پھر نئى صف بندی کرتے ہوئے تیسرے بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ۔ دوسری جانب سوویت اور منگول افواج نے ٹینک بریگیڈز، انفنٹری ڈویژن، کیولری، ائر ونگ اور 50,000 فوج کو حرکت دی ۔ دریائے خلخیان کے آس پاس مختلف محاذوں پر گھمسان کا رن پڑا ۔ مخالف فوجوں نے جاپانیوں کے مواصلاتی رابطے منقطع کرتے ہوئے گھیرے میں لیکر پے درپے حملے کیے ۔ بالاخر 31 اگست 1939 کو شکست جاپانی فوج کا مقدر بنی اور بچ جانے والے یونٹس نے نوموھان کے مشرق کی جانب پسپائى اختیار کی ۔ ایک اندازے کے مطابق اِس جنگ میں جاپان کے 45,000 جبکہ سوویت یونین کے 17,000 فوجی ہلاک ہوئے ۔ اگلے دِن یعنی یکم ستمبر 1939 کو ہٹلر کی فوجوں نے پولینڈ پر فوج کشی کرکے جنگ عظیم دوئم کا آغاز کردیا ۔

جنگِ عظیم دوئم[ترمیم]

جاپان پر یہ بات عیاں ہوچکی تھی کہ سائبیریا اور منگولیا کی مہم جوئى ایک لاحاصل عمل ہے ۔ چونکہ ایشیاء میں برطانیہ، فرانس ، ہالینڈ وغیرہ کا اثر و رسوخ کئى عشروں سے چھایا ہوا تھا اور یہ جاپانی مفادات کے برعکس تھا کیونکہ وہ بھی اپنے زیرقبضہ علاقوں پر گرفت مضبوط کرنے اور مزید علاقوں پر اثر بڑھانے کا خواہش مند تھا اِسلئے اُس نے جرمنی اور اٹلی کے ساتھ معاہدہ کرنے کو ترجیح دی اور یوں جاپان نے ‏27 ستمبر 1940 کو جرمنی اور اٹلی کے ساتھ اےکسےزپکٹ کے نام سے ایک معاہدہ دستخط کیا ۔ یہ وہ فوجی اتحاد تھا جسے یورپ ، افریقہ ، مشرقی اور جنوب مشرقی اور بحرالکاہل کے بڑے حصے پر بالادستی حاصل تھی ۔ اُدھر یورپ میں جرمنی نے پولینڈ کو شکست دینے کے بعد، برطانیہ اور فرانس کے خلاف جنگ شروع کردی تھی اِسلئے روس نے ضروری سمجھا کہ اپنی دفاع کیلئے زیادہ توجہ یورپ پر دے ۔ اُس نے مشرقی بعید سے بہتر تعلقات کیلئے 13 اپریل 1941 کو جاپان کے ساتھ عدم جارحیت کا سویت ۔ جاپانیز نان اگریشن پکٹ نامی معاہدہ دستخط کیا ۔ اُس وقت جنوب مشرقی ایشیاء میں فرانس اور ہالینڈ کے نوآبادیاتی حکمرانی تھی ۔ سائبیریا اور منگولیا جیسے خطوں کی نسبت یہاں پر قدرتی وسائل زیادہ تھے اِسلئے جاپان نے اِس جانب بڑھ کر علاقوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنالیا ۔ جرمنی نے فرانس اور ہالینڈ کو شکست دینے کے بعد بحری اور فضائى طاقت سے برطانیہ کا محاصرہ کرلیا تھا ۔ اب جاپان کیلئے راہ ہموار تھی کہ وہ جنوب مشرقی ایشیاء کی جانب پیش قدمی کرے ۔ انڈو چائنہ )ویت نام ، لاؤس،کمبوڈیا( فرانس کی کالونی تھی اور اُس وقت فرانس میں ویچی فرنچ کی حکومت تھی جو ہٹلر کی مرضی کی ایک کٹھ پُتلی حکومت تھی کیونکہ فرانس کو جرمنی کے ہاتھوں شکست کے بعد دونوں کے مابین جنگ بندی ہوگئى تھی ۔ جاپان نے انڈو چائنہ میں داخلے کی اجازت مانگی اور22 ستمبر 1940 میں ویچی فرنچ کی انتظامیہ اور جاپان کے مابین ایک معاہدہ دستخط ہوا جس کے تحت جاپان کو اڈے قائم کرنے اور مال کی ترسیل کی اجازت مل گئى ۔ جاپان کا مقصد جنوب مشرقی ایشیاء میں اتحادیوں کو شکست دینے کیلئے فوجی اڈے قائم کرنا تھا ۔ معاہدے کے چند گھنٹوں بعد جاپان کی پانچویں ڈویژن فوج لیفٹینٹ جنرل آکی ہیتو ناکامورا کی قیادت میں ہلکے اور درمیانے ٹینکوں اور 30,000 فوج سمیت چین سے نکل کرانڈو چائنہ میں تین اطراف سے داخل ہوگئى ۔ فرانسیسی اور انڈوچائنیز نوآبادیاتی فوج نے مزاحمت کی کوشش کی مگر جاپان جیسی بڑی اور طاقت ور فوج کا مقابلہ کرنا ناممکن تھا ۔ انڈو چائنیزحکومت نے جاپان سے احتجاج کیا کہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے مگر سب بے سود ۔ 26 ستمبر کی شام ، جنگ منطقی انجام کو پہنچی کیونکہ جاپان ھنوئى کے باہر واقع گیلام ہوائى اڈے پر قبضہ کرچکا تھا ۔ اِس قبضے کی بدولت ، جاپان نے سوائے برما کے چین کی ہر طرف سے ناکہ بندی مکمل کرلی تھی ۔ جاپان کو امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئى کشیدگی کی وجہ سے جنگ چِھڑنے کا خطرہ محسوس ہورہا تھا اِسلئے جاپان نے ‏27 ستمبر 1940 کو جرمنی کے شہر برلن میں جرمنی اور اٹلی کے ساتھ مل کر ایک عسکری معاہدہ ٹرائپارٹائٹ پکٹ پر دستخط کیا ۔ اِس معاہدے پر جرمنی کے چانسلر ایڈولف ہٹلر، اٹلی کے وزیر خارجہ گلیزو سیانو اور جاپانی سفیر سابورو کوروسو نے دستخط کیے ۔ یہ تینوں مُلک اب ایکسیز پاور کے نام سے پہچانے جانے لگے ۔ اُنہوں نے دس سال تک ایک دوسرے کی سیاسی ، اقتصادی اور فوجی حمایت اور باہمی مفادات کا تحفظ کرنے پر اتفاق کیا ۔ بعد میں ہنگری ، رومانیہ ، سلواکیہ ، بلغاریہ ، یوگوسلاویہ اور کروشیا نے بھی شمولیت اختیار کی ۔

پرل ہاربر پر حملہ[ترمیم]

امریکہ کو جاپان کا انڈو چائنہ پر قبضہ اور پھر جرمنی اور اٹلی سے معاہدہ ایک آنکھ نہیں بھایا ۔ 25 جولائى 1941 کو امریکہ نے جاپان کے تمام اثاثے منجمد کرنے کا حُکم دیا ۔ چونکہ جاپان کو نئے قدرتی وسائل ڈھونڈنے کیلئے اپنی مہم جوئى جاری رکھنی تھی اور اِس عمل کیلئے فوجی کاروائى ناگزیر تھی تو امریکہ نے جاپان کیلئے تیل کی سپلائى بھی روک دی جس سے جاپانی فوج اور خصوصاً بحریہ بہت متاثر ہوئى ۔ کہاجاتا ہے کہ جاپانی وزیراعظم کونوے فومی مارو سمیت کئى جاپانی رہنماؤں کا خیال تھا کہ امریکہ سے جنگ کا انجام اُن کی شکست ہوگی لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ امریکہ نے جو مطالبات کیے ہیں اُس کو پورا کرنے سے جاپان عالمی طاقت نہیں رہے گا اور وہ مغربی طاقتوں کا شکار ہوجائے گا ۔ اب جاپان کے پاس تین راہیں تھیں اول یہ کہ چین اور انڈو چائنہ سے انخلاء کرنے کے امریکی مطالبے کو پورا کیا جائے ۔ دوئم ، شرائط میں نرمی کرنے کیلئے امریکہ سے مزاکرات کیے جائیں اور سوئم ، مغربی طاقتوں سے پنجہ آزمائى کی جائے ۔ جاپان ایک عجیب مخمصے کا شکار ہوچکا تھا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار بڑے فوجی جرنیلوں اوسامی ناگانو، کوتوہیتو کانین، ہاجیمے سوگی یاما اور ہیدیکی توجو نے اظہار خیال کیا کہ اب امریکہ کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے اور اُنہوں نے اُس وقت کے شہنشاہ شوا کو جنگی منصوبے پر دستخط کرنے کیلئے رضامند کیا ۔ نومبر1941 میں امریکہ ، برطانیہ اور ہالینڈ کے خلاف جنگی منصوبے کی منظوری دے دی گئى ۔ جنگ سے قبل کچھ جرنیلوں نے متنبہ کیا کہ جنگ شروع کرنے کے بعد جاپان کیلئے چھ ماہ تک موافق حالات ہونگے اور اگر جنگ نے طول پکڑا تو پھرجاپان کی شکست یقینی ہے ۔ امریکہ نے بھی جاپان کے بدلتے تیور کا اندازہ لگا لیا تھا اور خُفیہ رپورٹوں سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ممکن ہے جاپان، فلپائن پر حملہ کردے لہذا امریکہ نے وہاں فوجی صف بندی شروع کردی ۔ امریکہ کو یقین نہیں تھا کہ جاپان اتنی بہادری دیکھائے گا کہ وہ اُس کی سرزمین پر حملہ کردے لیکن 7 دسمبر 1941 کو جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کرکے امریکہ کے سارے اندازوں کو غلط ثابت کردیا ۔ جاپان کی شاہی بحریہ نے وائس ایڈمرل چوایچی ناگومو کی قیادت میں علی الصُبح میڈگیٹ سب میرینز سے بحری جبکہ طیاروں سے فضائى حملہ کیا جو کہ نہ صرف امریکہ بلکہ دُنیا بھر کیلئے ایک چونکادینے والا واقعہ تھا ۔ اِس حملے میں جاپانی افواج نے اُس علاقے میں امریکہ کے تمام ہوائى اڈوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔ زمین پر موجود تقریباً ہر امریکی طیارے کو تباہ کیا گیا جن کی تعداد 155 بتائى جاتی ہے ۔ اِس حملے میں 2,403 امریکی بھی ھلاک ہوئے ۔ امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس اریزونا دھماکے سے پھٹ گیا اور اُس پر سوار عملے کے 1,100 افراد ھلاک ہوگئے ۔ بمباری شروع ہونے کے بعد جن پانچ سب میرینز نے امریکی بحری جنگی جہاز کو نشانہ بنایا وہ بھی واپس نہیں لوٹیں اور اُس پر سوار دس افراد میں سے صرف ایک جاپانی کازو او ساکاماکی زندہ بچا جِسے امریکہ نے گرفتار کرلیا تھا اور وہ جنگ عظیم دوئم میں پہلا جاپانی جنگی قیدی بنا ۔ جاپان کی حکمت عملی یہ تھی کہ اگر امریکی بحریہ کو بحرالکاہل میں بِے دست و پا کیا گیا تو اُنہیں ایشیائى خطے میں فوجی کاروائیاں کرنے میں آسانی رہے گی ۔ 8 دسمبر1941 کو امریکی کانگرس نے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کردیا ۔ جاپانی حملے کے فوری بعد11 دسمبر1941 کو جرمنی نے بھی امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کردیا اور امریکیوں کیلئے حیران کُن بات یہ تھی کہ ایکسیز پکٹ کے تحت جرمنی پابند بھی نہیں تھا ۔ اب امریکی انتظامیہ اور عوام کو پختہ یقین ہوگیا تھا جنگ عظیم دوئم اُن کے گلے پڑچکی ہے ۔ جاپان کا اندازہ درست ثابت ہوتے ہوئے قلیل مدتی فائدہ یہ ہوا کہ اُسے ایشیاء میں کاروائیاں کرنے میں آسانی ہوئى ۔ جاپان پہلے ہی منچوریا، شنگھائى ، فرنچ انڈو چائنہ اور تائیوان کو کالونی بنا چکا تھا اور بڑھتے بڑھتے برٹش ملایا یعنی برونائى ، ملائشیا ، سنگاپور اور ہالینڈ کے ڈچ ایسٹ انڈیز یعنی انڈونیشیا پر قبضہ کرلیا جبکہ تھائى لینڈ نے جاپان کے ساتھ ایک معاہدہ دستخط کیا ۔ یہی نہیں جاپان نے برما کو بھی فتح کرلیا تھا اور اب وہ برصغیر کی سرحد تک پہنچ گیا تھا ۔ جاپان چاھتا تھا کہ وہ اپنی فتوحات کے ثمرات سمیٹنا شروع کردے لیکن یہ سب کچھ ادھورا رہا کیونکہ امریکہ نے اپنی معیشت کو جنگی معیشت میں بدل دیا تھا ۔ بڑے پیمانے پر جنگی طیارے، بحری جہاز اور جدید اسلحہ تیار ہونے لگا تھا اور پوری فوج کو حرکت دے دی گئى تھی ۔

جنگِ Coral Sea[ترمیم]

جنگ عظیم دوئم پوری طرح چِھڑنے کے بعد جاپانی بحریہ نے حکومت کو شمالی آسٹریلیا پر چڑھائى کرنے تجویز دی تاکہ اُس خطے کو بحرالکاہل میں جاپان کے جنوبی دفاعی لائن کے خلاف کسی بھی حملے میں استعمال ہونے سے بچایا جاسکے ۔ جنوبی بحرالکاہل میں تعینات جاپانی بحریہ کے چوتھے بیڑے کے وائس ایڈمرل شیگے یوشی انویے نے خیال ظاہر کیا کہ اگر جنوب مشرقی سولومن جزائر، چھوٹے جزیرے تولاگی اور نیو گِنی میں بندر گاہ موریس بے پر قبضہ کرلیا جائے تو یہ مقامات جاپان کے دفاع میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ مزید یہ کہ اگر نیو کالیڈونیا، فیجی اور ساموا پر قبضہ کرلیا گیا تو امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان رسد کی فراہمی اور مواصِلاتی رابطے ختم کیے جاسکتے ہیں ۔ جاپانی فوج اور بحریہ نے اپریل 1942 کو آپریشن ایم او کے نام سے جنگی حکمت عملی ترتیب دے دی جس کا مقصد آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ کا اتحادیوں سے رابطہ منقطع کرنا اور اپنے حالیہ بحری علاقائى قبضے کا مضبوط طور پر دفاع کرنا تھا ۔ مارچ 1942 تک ، امریکی بحریہ کا کمیونیکیشن سیکورٹی سیکشن ، جاپان کی خُفیہ پیغام رسانی کو تقریباً 15 فیصد تک سمجھ لیتا تھا اور یہ صلاحیت اپریل میں 85 فیصد تک پہنچ گئى تھی ۔ 5 اپریل کو امریکہ نے ایک پیغام پکڑا جِسے ڈی کوڈ کرنے پر معلوم ہوا کہ جاپان نے اپنے بحری بیڑے اور دیگر بڑے بحری جہازوں کو وائس ایڈمرل اینوۓ کے آپریشن ایریا تک پہنچنے کا حُکم دیا ہے ۔ اِس دوران 13 اپریل کو برطانیہ نے بھی آپریشن ایم او کے بارے میں ایک جاپانی پیغام ڈی کوڈ کرکے فوری طور پر امریکہ کو دیا جس کے بعد اتحادیوں کو پورا یقین ہوا کہ جاپان مئى کے اؤائل میں جنوب مغربی بحرالکاہل میں بندرگاہ مورس بے پر کوئى بڑی کاروائى کرنے والا ہے ۔ یہ بندرگاہ ، اتحادیوں کی جانب سے جوابی کاروائى کیلئے خاصی اھمیت کے حامل تھی اِسلئے امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے مابین مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اُس وقت دستیاب چار بحری بیڑوں کو کورل سی کے محاذ پر روانہ کردیا جائے ۔ 27 اپریل کو پکڑے جانے والے خفیہ جاپانی پیغامات سے مزید معلومات حاصل ہوئیں ۔ جاپان نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ وسطی بحرالکاہل میں صرف ایک امریکی بحری بیڑہ ہے جبکہ باقی کے بارے اُسے کوئى معلومات حاصل نہیں تھیں ۔ اپریل کے اؤاخر میں دو جاپانی جاسوس سب میرینزآراو 33 اورآراو 34 نے اُس علاقے کا جائزہ لیا جہاں فوجوں نے اُترنا تھا ۔ اُنہیں اردگرد علاقے میں کوئى اتحادی بحری جہاز نظر نہیں آیا ۔ دو مئى کو اتحادیوں نے جاپانی فوج کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔ اگرچہ جاپان اپنی منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھ رھا تھا تاہم خراب موسم کی وجہ سے ائرفورس کے زیرو نامی جنگی طیاروں کو بحری بیڑے پر اُتارنے میں مشکل پیش آرہى تھی جس کی وجہ سے اُنہیں دو دِن انتظار کرنا پڑا ۔ جاپانی بحریہ تولاگی کی جانب بڑھ رھی تھی اور اتحادیوں نے اپنا نقصان کم رکھنے کیلئے کوئى مزاحمت نہیں کی ۔ امریکی ٹاسک فورس 17 کے کمانڈر ایڈمرل فلیچر اپنی فوج کو دشمن کی نظروں سے اوجھل رکھنا چاھتے تھے تاکہ جب وہ اپنی کاروائى کا آغاز کرے تو تب جوابی حملہ کیا جائے ۔ جاپانی فوج 3 اور 4 مئى کو کامیابی سے تولاگی میں اُتر گئیں ۔ حالانکہ اِس دوران ایڈمرل فلیچر نے 4 مئى کو ٹاسک فورس 11 کے ایڈمرل فیچ کے ساتھ اہم ملاقات کے بعدتولاگی کے جنوب میں پہنچنے والی جاپانی فوج پراپنے بحری بیڑے یورک ٹاون سے 40 بمبار طیاروں کے ذریعے حملہ بھی کیا جو جاپانی ایڈمرل شیما کیلئے حیران کن حملہ تھا ۔ اُس وقت جاپان کے دس بحری جہاز پانی میں موجود تھے لیکن اُن کے پاس فضائى طاقت ابھی نہیں پہنچی تھی ۔ اُن پر صبح اور دوپہر میں تین بار حملہ کیا گیا جس میں اتحادیوں کے صرف 3 طیارے تباہ ہوئے ۔ اِن حملوں میں جاپان کا ایک تباہ کُن جہاز اور تین چھوٹے جہاز تباہ ہوئے ۔ 5 مئى کو امریکہ کی دونوں ٹاسک فورسز نے مشترکہ حملے کیلئے بہتر فارمیشن ترتیب دی ۔ اب چونکہ جاپانی بحریہ کو اِس علاقے میں امریکی جنگی بیڑوں کی موجودگی کا علم ہوگیا تھا لہذا اپنے جہازوں کو کورل سی میں جانے کا حُکم دیا تاکہ اتحادی افواج کو ڈھونڈ کر ٹھکانے لگایا جائے ۔ 7 مئى کو دونوں افواج نے ایک دوسرے پر مسلسل دو دِن حملے کیے جس میں جاپان کا ہلکا بحری بیڑا شوھو غرقاب ہوگیا جبکہ دوسری جانب امریکہ کے تیل بردار بڑے بحری جہاز کو بُری طرح نقصان پہنچا۔ اگلے دِن جاپانی جہاز شوکاکو کو کافی حد تک ناکارہ کردیا گیا ۔ جاپان نے حملوں میں تیزی لاکر امریکہ کے طیارہ بردار بحری بیڑے لیکس ینگٹن کو غرق کرنے اور یورک ٹاون کو بڑی حد تک نقصان پہنچانے میں کامیابی حاصل کى یوں دونوں اطراف کو بھاری نقصان اُٹھانا پڑا۔ جنگ کورل سی چار سے آٹھ مئى 1942 تک لڑی گئى ۔ یہ اُن چار جنگوں میں سے پہلی جنگ تھی جس میں بحری بیڑوں کا نہ تو آمنا سامنا ہوا اور نہ ہی ایک دوسرے پر براہِ راست فائرنگ کی بلکہ بیڑے پر موجود طیاروں نے ایک دوسرے پر حملے کیے ۔ ایک اور تبدیلی یہ تھی کہ اب اتحادیوں نے دفاع کی بجائے جارحیت کی پالیسی اختیار کرلی تھی ۔

جنگ Midway[ترمیم]

جاپان کی تاریخ میں جنگ مڈوے کو بھی کبھی نظر انداز نہیں جاسکتا جو پرل ہا ربر پر حملے کے چھ ماہ بعد 4 سے 7 جون 1942 تک بحرالکاہل میں واقع امریکہ کے ایک چھوٹے جزیرے کے آس پاس لڑی گئى تھی ۔ جاپان نے اپنی طرف سے منصوبہ تیار کیا کہ بحرالکاہل کی بڑی بحری طاقت امریکہ کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ ایک فیصلہ کُن حملہ کیا جائے ۔ جاپان اپنی دفاعی سرحدوں کو بڑھاتے ہوئے اُسے مزید امریکہ کے قریب کرنا چاہتا تھا ۔ جاپانی بحریہ کی حکمت عملی یہ تھی کہ اگر امریکہ پر ایک بھر پور وار کردیا جائے تو پھر جاپان کے مقابلے کی کوئى طاقت بحرالکاہل میں نہیں رہے گی اور اگر مڈوے علاقے پر قبضہ کرلیا گیا تو جاپانی افواج مشرقی بحرالکاہل میں اہم امریکی بندرگاہ ھوائى کے قریب تر ہو جائیں گی ۔ جاپانی بحریہ اتنی مضبوط ہوچکی تھی کہ وہ کسی بھی وقت کہیں بھی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی ۔ جاپانی بحریہ کے ایڈمرل یاماموتو کی بُنیادی حکمت عملی یہ تھی کہ امریکہ کے بچ جانے والے طیارہ بردار بحری بیڑوں کا خاتمہ کرکے جنگی مہم میں اصل رکاوٹ کا خاتمہ کردیا جائے ۔ کیونکہ 18 اپریل 1942 کو امریکہ کی جانب سے جاپان پر پہلے فضائى حملے سے خطرات بڑھ گئے تھے ۔ یہ حملہ ھونشو کے علاقے پر کیا گیا تھا اور تاریخ میں ڈولٹل ریئڈ کے نام سے یاد کیا جاتا ھے ۔ اِس فضائى حملے کی منصوبہ بندی لیفٹینٹ کرنل جیمز جیمی ڈولٹل ریئڈ نے کی تھی ۔ ایڈمرل ایسوروکو یاماموتو، امریکہ کے ساتھ جنگ لڑنے کے حق میں نہیں تھا لیکن چونکہ فیصلہ کرلیا گیا تھا لہذا حملے کی تیاریاں شروع کردی گئیں ۔ جاپانی جنگی حکمت عملی قدرے پیچیدہ تھی کیونکہ انٹیلیجنس ذرائع سے اندازہ لگا لیا گیا تھا کہ امریکی بحریہ کے پاس بحرالکاہل کیلئے فی الوقت بحری بیڑے یو ایس ایس انٹرپرئز اور یو ایس ایس ھومٹ ہی رھ گئے ہیں کیونکہ ایک ماہ قبل لڑی جانے والی جنگ کورل سی میں بحری بیڑہ یو ایس ایس لیکس ینگٹن غرق ہوچکا تھا اور یو ایس ایس یورک ٹاون کو بڑی حد تک نقصان پہنچا تھا لیکن جاپان کا خیال تھا کہ وہ بھی ڈوب چکا ہے ۔ جاپانیوں کو یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ساراتوگا کی مرمت کی جارہی ہے کیونکہ ایک آبدوز کے حملے میں اُسے نقصان پہنچا تھا ۔ ایڈمرل یاماموتو، کو یہ اندازہ بھی تھا کہ پے درپے شکست کے بعد امریکی فوج کے حوصلے پست ہوچکے ہیں ۔ اُنہوں نے مڈ وے کے محاذ کی امداد کیلئے پہنچنے والے کسی بھی کمک کو راستے ہی میں نیست و نابود کرنے کی منصوبہ بندی بھی کرلی تھی ۔ لیکن افسوس کہ وہ یہ معلوم نہ کرسکا کہ امریکہ نے جاپانی بحریہ کے خفیہ پیغام رسانی کے کوڈ ورڈز معلوم کرلیے تھے ۔ امریکی بحریہ کے بحرالکاہل کے کمانڈر اِن چیف ایڈمرل چیسٹر ڈبلیو نیمٹز نے بھی جنگ کی بھر پور تیاریاں شروع کیں ۔ بحری بیڑے انٹرپرایز اور ھومٹ کے علاوہ بحری بیڑے یورک ٹاون کی مرمت پر دن رات کام ہورہا تھا اور 72 گھنٹوں کی محنت کے بعد ، یہ بیڑہ جنگ کیلئے تیار ہوگیا تھا ۔ اِس کے علاوہ ، مڈوے جزیرے پر مختلف نوعیت کے جنگی طیارے تعینات کردیئے گئے ۔ جاپانی جنگی بیڑے شوکاکو کو جنگ کورل سی میں خاصا نقصان پہنچا تھا اور اُس کی مرمت کیلئے کئى ماہ درکار تھے جبکہ طیارہ بردار بیڑہ زویے کاکو، جاپان کے کورے بندرگاہ پر لنگر انداز تھا اور وہ ائیر گروپ کی تبدیلی کا منتظر تھا لیکن تربیت یافتہ افراد کی بروقت ٹرینگ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے مشکل پیش آرہی تھی ۔ البتہ بمبار طیارے آیچی ڈی تھری اے ون ، اور ناکاجیما بی فایو این ٹو تیار تھے ۔ جاپان کے وہ طیارے جو نومبر1941 سے زیر استعمال تھے اُنہیں بہترین حالت میں رکھا گیا تھا ۔ جاپان کی جنگی تیاری کے دوران امریکہ نے ایک خُفیہ کوڈ جے این 25 کو معلوم کرلیا تھا جو ایڈ مرل نیمٹز کیلئے ایک بڑی کامیابی تھی ۔ امریکی بحریہ کو معلوم ہوگیا تھا کہ جاپان کہاں ، کب اور کس طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوگا جبکہ جاپان کو امریکی حکمت عملی اور قوت کا درست اندازہ نہیں تھا ۔ مڈ وے، شمالی بحرالکاہل میں 6.2 کلومیٹر کا ایک جزیرہ ہے جو امریکہ کے مغربی ساحل کی دفاع کیلئے ھوایی جزیرے کے بعد دوسرے نمبر پر اہمیت رکھتا ہے ۔ 3 جون 1942 کو رات ساڑھے بارہ بجے امریکی بی 17 طیاروں نے مڈ وے سے اُڑان بھر کر پہلا فضائى حملہ کیا لیکن حملے عین ہدف کو نشانہ بنانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہوئے اِسلئے کوئى زیادہ نقصان بھی نہ ہوا ۔ 4 جون صُبح ساڑھے چار بجے ، جاپان کے وائس ایڈمرل ناگومو کے طیارہ بردار بحری بیڑے سے پہلا حملہ کیا گیا ۔ ایک اور بھر پور حملہ صبح چھ بجکر بیس منٹ پرکیا گیا جس سے امریکی اڈے کو بھاری نقصان پہنچا ۔ ابتدائى چند منٹوں میں امریکہ کے کئى طیاروں کو مار گِرایا گیا ۔ امریکی انٹی ائیر کرافٹ گنز نے بھی کئى جاپانی طیاروں کو گِرایا ۔ 7 جون تک امریکی طیارے مڈوے جزیرے کو ایندھن بھرنے اور حملہ کرنے کیلئے استعمال کرتے رہے ۔ جب جاپانی طیارے کامیاب حملے کے بعد واپس لوٹے تو ایڈمرل ناگومو نے مڈوے پر ایک اور حملہ کرنے کیلئے طیاروں پر اسلحہ لوڈ کرنے کا حکم دیا ہی تھا کہ اِس دوران مشرق کی جانب امریکی بحری جہازوں انٹرپرایز اور ھورنٹ کی موجودگی کی نشاندھی کی گئى ۔ جس وقت یہ پیغام جاپانی بحریہ کو دیا جارہا تھا اُس وقت انٹرپرائز کے کوڈ بریکر نے یہ پیغام انٹرسیپٹ کیا کہ دُشمن کو ہماری موجودگی کا علم ہوگیا ہے ۔ یہ پیغام ملنے کے بعد جہاں ایڈمرل ناگومو نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کیلئے طیاروں پر لوڈ کیا جانے والا اسلحہ تبدیل کرنے کا حکم دیا ۔ اُسی لمحے انٹرپرئز سے 14 اور یشرک ٹاون سے 12 طیارے ، جاپانی بحریہ پر حملہ کرنے کیلئے محوِ پرواز ہوچکے تھے ۔ چونکہ طیاروں پر اسلحہ لوڈ کرنے کیلئے 30 سے 40 منٹ درکار تھے اِسلئے سنبھلنے کا موقعہ ہی نہ ملا اور حملہ ہوگیا ۔ جاپانی بیڑے کی انٹی ائر کرافٹ گنوں سے بھی جوابی حملہ کیا گیا ۔ اُدھر جاپانی بحری بیڑے ھیریو سے اُڑے طیاروں نے امریکی جہاز یورک ٹاون پر حملہ کردیا جس سے یورک ٹاون کو شدید نقصان پہنچا اور وہ کام کا نہ رھا ۔ سات جون کو ایک جاپانی سب میرین آیی 168 نے سامنے آکر چار تارپیدو داغے جس میں ایک یو ایس ایس ہممان کو لگا جو دو ٹکرے ہوگیا اور دو تارپیدو بحری بیڑے یورک ٹاون کیلئے تباہ کُن ثابت ہوئے ۔ سب میرین نے اِن کا کام تمام کرتے ہوئے راہِ فراراختیار کرلی ۔ دوسری جانب یو ایس ایس انٹرپرائز سے طیاروں نے جاپانی بحری جہاز ھیروۓ پر ایک طاقتور حملہ کیا اور اُسے آگ کے شعلوں میں لپیٹ دیا اور تباہ کن جاپانی جہاز ایسوکازے کو خاصا نقصان پہنچایا ۔ اِسی طرح کے حملے جاپانی کروز موگامے اور میکوما پر بھی کیے گئے جس سے اُنہیں ناکارہ بنا دیا گیا ۔ اب مڈوے کا محاذ سرد پڑگیا تھا اور جاپان کے چھ میں سے چار طیارہ بردار جہاز تباہ ہوچکے تھے ۔ جاپان کی بحرالکاہل میں مہم جوئى اور توسیع پسندی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا تھا جس سے وہ دفاعی پوزیشن میں چلا گیا تھا کیونکہ صرف دو بحری بیڑے شوکاکو اور زوۓکاکو ہی رھ گئے تھے جبکہ دیگر بحری جہاز ریوجو، جونیو اور ھیو مؤثر ہونے کے لحاظ سے دوسرے درجے کے تھے ۔ اِس جنگ میں جاپان پر یہ ایک الزام بھی لگایا گیا کہ اُس نے تین امریکی ہوا بازوں کو گرفتار کرکے بعد میں قتل کردیا تھا اور یوں جاپانی بحریہ جنگی جرم کا مرتکب پائى گئى ۔ جاپانی مؤقف تھا کہ مذکورہ افراد انتقال کرگئے تھے اور اُنہیں سمندر برد کردیا گیا تھا ۔

بحرالکاہل میں جنگی مہمات[ترمیم]

سنہ 1942 میں جاپان کو بحرالکاہل میں اپنی طاقت منوانے میں کوئى خاص کامیابی نہ ہوئى لیکن اُس کے اتحادی، جرمنی نے یورپ اور دوسرے خطوں میں کئى کامیابیاں حاصل کرلی تھیں ۔ جرمن فوجوں نے جون میں لیبیا پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا لیکن نومبر میں برطانوی فوجوں نے ایک بار پھر اُنہیں شکست دی ۔ جرمن اور برطانوی فوجوں کے مابین شمالی افریقہ میں بھی جنگ ہورہی تھی کہ اِسی دوران اتحادی افواج نے چڑھائى کردی اور امریکی فوجیں الجیریا میں اُتار دی گئیں ۔ جرمنوں نے سینکڑوں ہزاروں یہودیوں کو وارسا سے تریبلنکا کے اذیتی کیمپوں میں منتقِل کرنا شروع کردیا ۔ برازیل نے بھی جرمنی اور اٹلی کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا تھا۔ جبکہ بحرالکاہل میں امریکی اور آسٹریلوی افواج نے میک آرتھرکی زیرِقیادت ، نیو گِنی میں گونا کے مقام پر لڑائى کا آغاز کردیا ۔

کوکودا ٹریک کی مہم جوئى اِس سے پہلے ذکر ہوچکا ھے کہ جاپان، مورسبے بندرگاہ پر قبضے کا خواہشمند تھا تاکہ وہاں سے شمال مشرقی آسٹریلیا پر حملہ کرکے بحرالکاہل اور بحر ہند کے مابین روٹ پر کنٹرول حاصل کرسکے ۔ اِس سے پہلے جنگ کورل سی میں جاپان قِسمت آزمائى کرچکا تھا لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکا اور جنگ مڈوے نے جاپانی بحریہ کی طاقت کو بڑی حد تک کمزور کردیا تھا لیکن پھر بھی جاپان اِس علاقے کی اہمیت کے پیش نظر اسے چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ اتحادیوں کو بھی اس بات کا عِلم تھا کہ جاپانی فوج ایک بار پھر جنوبی بحرالکاہل کی جانب پیش قدمی کرسکتی ہے لہذا جنوب ۔ مغربی بحرالکاہل خطے کے اعلی اتحادی کمانڈر جنرل ڈگلس میک آرتھر کی قیادت میں نیو گینیا میں عسکری تیاریاں شروع کردی گئیں ۔ اتحادیوں کو اندیشہ تھا کہ جاپان، رابول کے اڈے سے جارحیت کرسکتا ہے ۔ یہ بھی معلوم تھا کہ اگر جاپانی افواج بوندا میں اُتریں گیئں تو کوکودا اور مورسبے بندرگاہیں خطرے میں پڑ جائیں گیں ۔ ایسے میں بندا اور کوکودا کا دفاع ضروری ہوگیا تھا ۔ کوکودا ، مورسبے بندرگاہ کے قریب واقع ایک ایسا ٹریک ہے جہاں دِن کے وقت زیادہ تر گرمی اور حبس جبکہ راتیں ٹھنڈی ھوتی ہیں ۔ سالانہ اوسطاً 5 میٹر یعنی تقریباً 16 فٹ بارش ہوتی ہے اور روزانہ 25 سنٹی میٹر یعنی 10 اِنچ بارش ایک عام سی بات ہے ۔ گھنے جنگلوں کی وجہ سے دشوار گزار چڑھائیاں اور گہری کھائیاں ہیں ، جس کی وجہ سے صرف پیدل ہی سفر کیا جاسکتا ہے ۔ رسد پہنچانا اور وہاں پائے جانے والے بے تحاشہ مچھروں کا مقابلہ کرنادل گردے کا کام سمجھا جاتا ہے ۔ ملیریا ، دستوں کی بیماری، گیلے کپڑے اور چپچپا جسم زندگی اجیرن کردیتا ہے ۔ جاپان کا منصوبہ تھا کہ وہ نیو گینیا اور سولمن جزائر کے قبضہ کیے ہوئے علاقے میں ایک بحری اڈہ تعمیر کرے جس کے ذریعے امریکہ اور آسٹریلیا کے مابین کسی بھی امداد کو روکا جاسکے ۔ جاپان کی حکمت عملی تھی کہ اس کی جنگل کی سخت تربیت یافتہ فوج ، میجر جنرل تومیتارو ہوریئے کی سرپرستی میں پاپوا کے شمالی ساحل پر واقع گونا اور بونا کے قصبوں کے قریب اتر کر کوکودا پر قبضہ کرلے گی اور پھر وہاں سے اوون سٹینلے رینج تک پہنچ جائے گی جہاں سے مورسبے بندرگاہ نشانے پر آجائے گی ۔ دوسرا حملہ پاپوا کے مشرقی حصے میں خلیج مائلنے سے کیا جائے گا جہاں جاپانی میرین فوج اتاری جائے گی کیونکہ وہاں پر امریکی اور آسٹریلوی فوجیں 28 جون سنہ 1942 سے ایک ائربیس تعمیر کرنے میں مصروف تھیں ۔ یہی اڈہ جاپان کیلئے فضائى اور بحری اڈے کے طور پر استعمال کرکے میجر جنرل ہورئیے، جاپانی فضائیہ اور سی بارن فوج کی قیادت کرتے ہوئے بندرگاہ مورسبے پر حملہ کرکے قبضہ کرلے گا ۔ جاپانیوں کے مقابلے میں آسٹریلوی فوجی تعداد میں زیادہ تھی لیکن جنگل کی لڑائى کیلئے تربیت، جدید اسلحہ اور وسائل کی کمی تھی ۔اکیس جولائى سنہ 1942 کو 1500 سے 2000 تک جاپانی فوج، پاپوا کے شمال مشرقی ساحل پر اُتر گئی اور بونا، گونا اور سانانندا کے مقامات پر اپنی تنصیبات کی تعمیر شروع کردی ۔ اگلے روز آسٹریلوی فوج کو جاپانیوں کی آمد کا عِلم ہوگیا اور اِس کی اطلاع جنرل میک آرتھر اور جنرل بلامے کو دی گئى ، جس پر دشمن کو مصروف کرنے کی ہدایت جاری کی گئیں ۔ رات کو 40 فوجی ، جاپانی فوج پر حملہ کرکے جنگل میں واپس آگئے ۔ انہی سلسلہ وار جھڑپوں کے دوران دونوں جانب سے افواج کی مختلف بٹالینز جمع ہوتی گئیں ۔ انتیس جولائى 1942 کو علی الصبح ڈھائى بجے 500 جاپانیوں پر مشتمل ایلیٹ فورس نے بھاری مشین گنوں سے مسلح ہوکر آسٹریلن فوج پر بھرپور حملہ کرکے کوکودا کے رن وے پر قبضہ کرلیا ۔ اس شکست کے بعد آسٹریلیا نے اپنی نفری بڑھادی ۔ آسٹریلوی فوج کے39 ویں انفنٹری بٹالین کے کمانڈرلیفٹینٹ کرنل رالپ ہونر نے کوکودا کا علاقہ واپس لینے کا فیصلہ کیا لیکن دو دن کی لڑائى میں اُسے کامیابی نصیب نہ ہوئى ۔ چھبیس اگست تک جاپانی فوج کی تعداد ساڑھے تیرہ ہزار تک پہنچ گئى ۔ اب ان کا ہدف بندرگاہ مورسبے تھا ۔ اگرچہ جاپانی اور آسڑیلوی فوجوں کے مابین اسوراویا ، بریگیڈ ہِل،آوریبیوا اور ایمیتا میں بھی شدید چھڑپیں ہوئیں جس میں آسٹریلیا کو سخت جانی نقصان پہنچایا گیا لیکن طول پکڑتی ہوئى لڑائى جاپان کے حق میں نہیں تھی کیونکہ یوں جنرل ھورئیے کا بندرگاہ مورسبے پر قبضے کا شیڈول متاثر ہورہا تھا۔ سات اگست 1942 سے 9 فروری 1943 تک کی مدت میں جنگ گوادال کینال لڑی گئى ۔ یہ بحرالکاہل میں لڑی گئى شدید جنگوں میں سے ایک تھی جس میں بری، بحری اور فضائى افواج نے حصہ لیا جو جاپان کے خلاف اتحادی افواج کی پہلی جارحیت تھی ۔سات اگست سے اتحادی افواج جن میں اکثریت امریکیوں کی تھی، گوادال کینال، تولاگی، اور جنوبی سولومن جزائر کے فلوریڈا میں انگیلا سولے علاقے پر اُترنا شروع ہوئیں تاکہ امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مابین رابطے توڑنے کی جاپانی منصوبے کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے ۔ اتحادی چاھتے تھے کہ گوادال کینال اور تولاگی کو مرکزی اڈوں کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جاپان کے راباول اڈے کو ختم کردیا جائے ۔ اس وقت اتحادیوں کی تعداد، جاپانیوں سے کہیں زیادہ تھی ۔ اتحادیوں نے جاسوسی ذرائع سے معلوم کرلیا تھا کہ جاپانی فوج، ھینڈرسن کے ہوائى اڈے کو دوبارہ قبضے میں لینے کی تیاری کر رہی ہے ۔ جاپانی فوج نے اپنی قوت بڑھانے کیلئے مزید کُمک طلب کی تو یاماموتو نے 38 انفنٹری ڈویژن سے خوراک ، ایمونیشن اور دیگر ضروری سازوسامان سمیت ، گیارہ ٹرانسپورٹ جہازوں کے ذریعے 7,000 فوجی روانہ کیے ۔ اتحادیوں اور جاپانی افواج کے مابین 25 ستمبر کی شدید چھڑپوں میں تین ہزار جاپانی فوجی ھلاک ہوئے ۔ اُن کی رسد کی فراہمی بھی متاثر ہورہی تھی اور فوجی مسلسل لڑائى لڑکر تھک گئے تھے ۔ نومبر1942 کے دوسرے ہفتے سے جاپانی فوج نے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے کئى حملے کیے لیکن وہ ہنڈرسن فیلڈ کو ناقابل استعمال بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ اتحادیوں نے فیلڈ کی اہمیت کے پیش نظر اِس کا بھرپوردفاع کیا ۔ اِن جھڑپوں کے دوران دونوں افواج نے ایک دوسرے کے کئى بحری جہاز ڈبوئے، طیارے مار گرائے اورکئى فوجی ھلاک کردئیے ۔ جاپانی فوج کیلئے مناسب مقدار میں خوراک کی فراہمی کا مسئلہ مسلسل درپیش تھا اور وہ اتحادی افواج کی تباہ کن بمباری کی وجہ سے وسطی سولومن میں نئے اڈے تعمیر کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے تھے ۔ بالاخر جاپانی بحریہ نے کافی غور و خوض کے بعد 12 دسمبر 1942 کو گوداکینال کی مہم ترک کرکے واپسی کا فیصلہ کیا اور جنرل ھاجیمے سوگی یاما اور ایڈمرل اوسامی ناگانو نے ذاتی طور پر شہنشاہ ھیروھیتو کو اِس فیصلے سے آگاہ دی ۔ جاپانی فوج جس علاقے میں برسرپیکار تھی یہ ایک کٹھن اور دشوار گزار علاقہ تھا ۔ کئى سپاہی ملیریا اور دست کی بیماری میں مبتلا ہوچکے تھے اور خوراک کی شدید قِلت تھی ۔ بلکہ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ وہ جڑی بوٹیاں اور پتے کھانے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ جاپان اور امریکہ کے مابین سلسلہ وار بحری جنگوں نے دونوں ممالک کے اعصاب کو تھکا دیا تھا ۔ دونوں ملکوں نے بہترین بحری طاقت کا مظاہرہ کیا تھا بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اُس وقت جاپان کی بحری قوت کا مقابلہ کرنا صرف امریکہ ہی کے بس کا کام تھا ۔ امریکہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر جاپان کو شکست سے دوچار کرنا ہے تو اپنی بحری قوت کو مزید فروغ دینا ہوگا اور اِس مقصد کیلئے فروری سے نومبر 1943 تک کی درمیانی مدت میں بحری قوت بڑھانے پر بھرپور توجہ دی گئى ۔ وسیع پیمانے پر بحری بیڑے اور بحری جنگی جہازوں کی تیاری سے امریکہ کو جاپان پر سبقت حاصل ہوگئى جبکہ جاپانی بحریہ کی کمر خاصی حد تک کمزور ہوچکی تھی ۔ 18 اپریل 1943 کو جاپانی بحریہ کی تاریخ کا ایک المناک واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ جب امریکہ نے ایک جاپانی پیغام کو ڈى کوڈ کرتے ہوئے معلوم کرلیا کہ ایڈمرل یاماموتو فضائى پرواز کریں گے لہذا امریکی طیاروں پی ۔ 38 کے ایک چھوٹے گروپ نے اڑان بھر کر اس بمبار طیارے کو اپنے گھیرے میں لیا جس میں ایڈمرل یاماموتو سوار تھے ۔ طیارے کو مار گرایا گیا اور یوں بحرالکاہل کے ایک تاریخی جنگجو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے ۔ ایڈمرل یاماموتو، 4 اگست 1884 کو ناگااوکا میں پیدا ہوے تھے ۔ اُنہوں نے سنہ 1919 سے 1921 تک ہاورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور سنہ 1925 میں ایک سفارتی مشِن پر امریکہ میں رھ چکے تھے ۔ وہ امریکہ پر حملے کے مخالف تھے تاہم اسے حکومتی فیصلے کے مطابق پرل ہاربر پر حملے کی منصوبہ بندی کرنی پڑی ۔ جنوری 1943 سے موسم گرما 1944 کے دوران نارمنڈی میں اتحادیوں کے قدم جمانے تک کی مدت کو جنگ عظیم دوئم کا وسطی عرصہ سمجھا جاتا ہے ۔ اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جارحانہ پالیسی اختیار کرلی ہوئى تھی ۔ امریکی فوج اور فوجی سازوسامان کی ترسیل میں بہت اضافہ ہوچکا تھا ۔ سوویت یونین نے جرمن جارحیت سہنے کے بعد جوابی کاروائیاں شروع کردی تھیں ۔ قوت توازن امریکہ اور سویت یونین کے حق میں جارہا تھا ۔ سویت یونین اور مغربی یورپ کے سروں پرخطرے کی تلوار اب بھی لٹک رہی تھی ۔ چودہ جنوری 1943 میں دس روز کیلئے کاسابلانکا کانفرنس منعقد ہوئى جہاں برطانوی اور امریکی مندوبین کے مابین یورپ اور بحرالکاہل سے متعلق پالیسی امور پرکئى اختلافات سامنے آئے ۔ امریکہ، بحرالکاہل میں جاپان کے خلاف کاروائی کی اہمیت پر زور دے رہا تھا جبکہ برطانیہ بحیرہ قذوین میں حکمت عملی مرتب کرنے کا خواہاں تھا ۔ امریکہ چاہتا تھا کہ جاپان کے خلاف اپنے حالیہ فتوحات کے بعد اپنے دشمن پر گرفت مزید مضبوط کرلے ۔ امریکی جنرل مارشل سمجھتا تھا کہ جاپان کی کسی بھی سرگرمی کا بروقت جواب دینے کیلئے بڑے بحری بیڑے، مضبوط فضائیہ اور زیادہ قوت کی حامل زمینی فوج کی ہر وقت موجودگی ضروری ہے ۔ اگرچہ جاپان اب دفاعی پوزیشن میں چلا گیا تھا تاہم اس کے بحری بیڑے سے امریکہ کے مغربی ساحل پر فضائى حملوں کا خدشہ بدستور موجود تھا کیونکہ امریکہ کو علم تھا کہ جاپانی ہتھیار ڈالنے کا نظریہ نہیں رکھتے اور وہ آخری شکست تک اپنی جارحیت جاری رکھیں گے ۔ کاسابلانکا کانفرنس میں اتفاق کیا گیا کہ تمام دشمن قوتوں یعنی ایکسیز پاورز سے کہا جائے گا کہ وہ غیر مشروط طور پرہتھیار ڈال دیں ۔ اسی کانفرنس میں سوویت یونین کی سسلی اور اٹلی پر چڑھائى میں مدد دینے پر بھی رضا مندی ظاہر کی گئى ۔ یورپ میں حالات کچھ یوں بدلتے جارہے تھے کہ 31 جنوری 1943 کو جرمن فوج نے سٹالن گراڈ میں ہتھیار ڈال دیئے تھے کیونکہ نومبر سے جاری محاصرے کی بناء پر بھوک اور غذائى کمی سے ان کی حالت بگڑ چکی تھی ۔ ایک اندازے کے مطابق، بھوک اور خراب موسمی حالات سے 90 ہزار سے زیادہ جرمن فوجی ہلاک ہوچکے تھے ۔ جرمن فیلڈ مارشل وون پاولس کے پاس اس کے سوا کوئى چارہ نہ تھا کہ وہ بھوک کی شکار اپنی فوج کو ہتھیار پھینک دینے کا کہیں ۔ ادھر جرمنی پر اتحادیوں کی دِن رات فضائى بمباری جاری تھی ۔ 12 ستمبر 1943 کو اتحادی افواج ، اٹلی میں داخل ہوئیں ۔

جنگ خلیج لیٹی[ترمیم]

اگر اتحادیوں کی جانب سے ایک طرف یورپ میں جنگ تیز ہوچکی تھی تو دوسری طرف مشرق بعید میں بھی جاپانیوں اور امریکیوں کے مابین مختلف محاذوں پر جنگ شدت اختیار کرچکی تھی ۔ امریکی زیر قیادت اتحادی فوج اور جاپانیوں کے مابین فلپائن کے جزائر لیٹی، سامار اور لوزون کے آس پاس پانیوں میں 23 سے 26 اکتوبر 1944 تک جنگ لیٹی لڑی گئى ۔ امریکہ نے 20 اکتوبر کو اپنی فوج جزیرہ لیٹی پر اِس وجہ سے اُتاردی تاکہ جاپان کو اپنے جنوب مشرق ایشیاء کے زیر قبضہ علاقوں سے منقطع کیا جاسکے اور خصوصاً تیل کی ترسیل روک دی جائے ۔ شاہی جاپانی بحریہ نے تقریباً اپنے تمام بحری جہازوں کو اتحادی افواج کے خلاف برسر پیکار کردیا تاہم وہ فتح حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے کیونکہ امریکہ کے تیسرے اور ساتویں بحری بیڑے نے جاپانی حملوں کو پسپا کردیا تھا ۔ جاپان کو اتنا بھاری نقصان اُٹھانا پڑا کہ وہ دوبارہ متوازی طاقت کا حملہ کرنے کی طاقت نہ دکھا سکا۔ اُس کے بڑے بحری جہازوں کے پاس تیل کی کمی تھی جس کی وجہ سے وہ بحرالکاہل کی بقیہ جنگوں کے دوران اپنے اڈوں پر ہی رہے ۔ خلیج لیٹی میں چار بڑے معرکے ہوئے جن میں بحر سیبویان، آبنائے سوریگاؤ، کیپ اینگانو اور سامار کی لڑائى شامل ہے ۔ بحرالکاہل مہم کے دوران امریکا اور فلپائن کی فوجوں نے جاپانی فوج کے خلاف جنگ لیٹی لڑ کر فتح حاصل کی ۔ یہ جنگ سترہ اکتوبر سے اکتیس دسمبر تک لڑی گئى جس سے تقریباً 3 سالہ جاپانی قبضے کا خاتمہ ہوگیا ۔ فلپائن ، جاپان کیلئے ربڑ کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ تھا ۔ اِس کے علاوہ بورنیو اور سوماترا کے جانب سمندری گزرگاہوں پر بھی جاپان کا کمانڈ تھا جہاں سے اُسے پیٹرولیم کی ترسیل ہوتی تھی اِس لیے فلپائن پراپنی گرفت مضبوط رکھنا اُس کیلئے بہت اہمیت کا حامل تھا ۔ لیٹی پر فوجی چڑھائى کرنے کیلئے امریکی جنرل میک آرتھر کو بری، بحری اور فضائیہ کا سپریم کمانڈر بنایا گیا ۔ امریکی اور اتحادی افواج، مشہور زمانہ ساتویں بحری بیڑے پر مشتمل تھیں ۔سات سو ایک بحری جہازوں میں سے 157 بحری جنگی جہاز تھے اس کے علاوہ بری فوج میں مختلف کیولریز اور انفنٹری ڈویژنز شامل تھیں ۔ سترہ اکتوبر کو اتحادی افواج نے بارودی سرنگوں کی صفائى شروع کی اور لیٹی کے اردگرد مختلف چھوٹے جزائر کی جانب پیش قدمی کا آغاز کیا ۔ بیس اکتوبر کو مسلسل چار گھنٹوں کی بحری گولہ باری کے بعد ، اتحادی ساحلی علاقے میں اُترنا شروع ہوئے اور اِسی دوران جاپانی فوج سے جھڑپیں چھڑ گئیں ۔ کئى شب و روز سخت لڑائى کے بعد دونوں اطراف سے بھاری جانی نقصان ہوا ۔ جوبیس اکتوبر کو گھمسان کی فضائى جنگ ہوئى اور دِن رات کی دوطرفہ بمباری مزید چار روز تک جاری رہی ۔ جاپان نے اپنی قوت بڑھانے کیلئے مزید 34 ہزار فوجیوں اور 10,000 ٹن دیگر سازوسامان کی کُمک سپلائى کی ۔ آٹھ نومبر 1944 کو طوفان آیا اور موسلادار بارش ہوئى ۔ تیز جھکڑ چلنے سے درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور بارش سے مٹی کے تودے گرنے لگے ۔ لڑائى ، اب ساحل سے پہاڑوں تک پھیل گئى تھی ۔ اگرچہ جاپانی فوج نے اتحادی افواج کی سخت مزاحمت کی اور اِس دوران کئى حملوں کو پسپا کیا تاہم 10 دسمبر کو اتحادی افواج اورموک شہر میں داخل ہوگئیں ۔ جاپانی فوج کی قوت آہستہ آہستہ کمزور ہوتی جارہی تھی ۔ لہذا انہوں نے فیصلہ کن جنگ لڑنے اور اتحادی افواج کو بھرپور نقصان پہنچانے کیلئے کامیکازے پائلٹوں کے ذریعے خودکش حملے شروع کیے ۔ اُنہوں نے کئى بحری جہازوں کو تباہ کیا ، جن میں آسٹریلیا کا ایک بحری جہاز ایچ ایم اے ایس آسٹریلیا بھی شامل تھا جس میں 30 آسٹریلوی ہلاک اور 64 زخمی ہوئے ۔ اکتیس جنوری 1945 کو امریکی فوج نے جنوبی لوزون پر اُتر کر منیلا کی جانب پیش قدمی کی ۔

جاپان پر فضائى حملے[ترمیم]

اگر اتحادی ایک جانب فلپائن میں جاپانیوں سے لڑ رہے تھے تو دوسری جانب اُنہوں جاپان پر بھی فضائى بمباری شروع کردی ہوئى تھی اور اِن کاروائیوں میں امریکی فضائیہ کے بی ۔ 29 طیاروں کو نہایت کارآمد سمجھا جاتا تھا کیونکہ اِس میں 20,000 پونڈ بم لے جانے کی صلاحیت تھی اور یہ 2000 میل تک کا راونڈ ٹریپ طے کرسکتا تھا ۔ اِس طیارے نے جاپان میں اسلحہ فیکٹری پر حملہ کرنے کیلئے پہلی پرواز 15 جون 1944 کو چین سے کی ۔ یہ اپریل 1942 کے ڈولٹل فضائى حملے کے بعد جاپانی سرزمین پر دوسرا فضائى حملہ تھا ، جو جاپان پر سٹرٹیجیک بمبارمنٹ کی مہم کا باقاعدہ آغاز تھا ۔ آپریشن میٹرھارن کے نام سے حکمت عملی طے کی گئى تھی کہ بھارت اور چین میں موجود اڈوں سے جاپانی سرزمین اور جاپان کے چین اور جنوب ۔ مشرقی ایشیاء میں موجود اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا ۔ تاہم بعد میں 1944 کے اواخر میں امریکی طیاروں نے ماریانا جزائر سے فضائى حملے شروع کردئیے ۔امریکیوں کا خیال تھا کہ شمال مغربی بحرالکاہل میں واقع چھوٹے جزیروں سے فضائى بمباری زیادہ آسان اور سود مند رہے گی ۔ان میں سئپن، تینیان اور گوام کے جزیروں کو خاص اہمیت حاصل تھی ۔ دراصل یہ جزیرے جاپان کے زیرقبضہ تھے اور مئى 1943 میں امریکی بحریہ کے ایڈمرل ارنیسٹ کنگ نے اِسے فتح کرنے کی تجویز دی تھی ۔ وقت گذرنے کے ساتھ امریکی فوج کا یہ احساس مضبوط ہونے لگا کہ بی ۔ 29 طیاروں کیلئے اِن جزیروں پر رن وے کی تعمیر سے حملوں میں آسانی رہے گی ۔ چنانچہ گیارہ جون 1944 کو ان جزائر پر مسلسل چار روز تک بحری اور فضائى حملے کیے گئے ۔ ایک اندازے کے مطابق کئى ہفتوں تک جاری لڑائى میں 3,000 امریکی جبکہ 24,000 جاپانی ہلاک ہوئے ۔ تئیس جولائى تک امریکہ نے تینوں جزائر پر قبضہ کرلیا تھا جہاں سئپن جزیرے پر بی ۔ 29 طیاروں کیلئے فوری طور پر ائرفیلڈ کی تعمیر شروع کی گئى اور 27 اکتوبر 1944 کو اِس مقام سے جاپانی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کردیا ۔ اب جاپانی سرزمین کی تباہی کا آغاز ہو چکا تھا ۔ امریکی فضائیہ نے اپنے حربے بدلتے ہوئے وسیع پیمانے پر بربادی کرنے کی حکمت عملی اختیار کرلی ہوئی تھی ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 9 اور 10 مارچ 1945 کی شب 335 امریکی بی ۔ 29 طیارے فضا میں بلند ہوئے جن میں 279 طیاروں نے تقریباً 1700 ٹن بم برسائے ۔ اِن میں 14 طیارے لاپتہ ہوئے جبکہ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ بتائى جاتی ہے تاہم بعد میں کیے گئے امریکی سروے میں یہ تعداد 88,000 بتائى گئی ہے ۔ علاوہ ازیں 41 ہزار افراد زخمی جبکہ دس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے ۔ یورپ میں چار سے گیارہ فروری 1945 تک یالٹا کانفرنس منعقد کی گئى جس میں امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ ، برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل اور سوویت یونین کے سربراہ جوزف سٹالن نے شرکت کی ۔ گو کہ اِس سربراہ کانفرنس میں زیادہ تر یورپ کے معاملات پر غور کیا گیا ، البتہ سٹالن نے اتفاق کیا کہ وہ جرمنی کے شکست کے 90 دن بعد جاپان کے خلاف جنگ میں شریک ہوگا ۔

اوکیناوا پر قبضہ[ترمیم]

امریکہ نے نہ صرف ٹوکیو پر بے دریغ بمباری کی بلکہ کئى دیگر شہروں کو بھی نشانہ بنایا جہاں فوجی تنصیبات کی تباہی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر عام شہری بھی ہلاک ہوئے ۔ اب امریکی فوج ، جاپانی سرزمین پر اترنے کی منصوبہ بندی کرنے لگی اور اس مقصد کیلئے پہلے اوکیناوا کا انتخاب کیا گیا ۔ اوکیناوا ایک جزیرہ ہے جو جاپان کے مین لینڈ سے 340 میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ اتحادی فوجوں نے اِس علاقے پر قبضہ کرکے اِسے جاپان پر بھرپور جارحیت کرنے کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ امریکی افواج نے اترنے سے پہلے اوکیناوا پر 7 روز تک ہزاروں آرٹلری شیلز اور راکٹ فائر کیے اور بے دریغ فضائى بمبارکی ۔ امریکی فوج نے پہلے ھاگوشی اور چنتان کے ساحلی علاقوں پرفوج اُتارنے کا فیصلہ کیا ۔ بحرالکاہل کی سب سے خوفناک جنگ چھڑنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ امریکہ نے اپنے اِس مشن کو آئس برگ کا نام دیا تھا ۔ حملہ آور امریکیوں کی تعداد ایک لاکھ 83 ہزار تھی جبکہ اپنی سرزمین کی دفاع کیلئے 77,000 جاپانی موجود تھے جن کی قیادت لیفٹینٹ جنرل میتسورو اوشی جیما کر رہے تھے ۔ یکم اپریل 1945 کو پو پھٹنے سے پہلے جب پہلی بار 60,000 امریکی فوجی اُترے تو اُنہیں کسی قِسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑا کیونکہ جاپانی فوج نے مکمل جنگ لڑنے کے بجائے دفاعی حکمت عملی اختیار کی ہوئى تھی ۔ اِس سے پہلے کئى جنگوں میں جاپانی فوج بے دھڑک لڑکر جان و مال اور وقت کا ضیاع کرچکی تھی اِسلئے روایتی حکمت عملی تبدیل کی گئى ۔ جاپانی فوج نے اپنے آپ کو خفیہ رکھنے کیلئے غاریں اور خندقیں کھودی تھیں ۔ اوکیناوا میں بارش اور بادلوں سے دھند چھائى ہوئى تھی اور دور علاقہ صاف نظر نہیں آرہا تھا ۔ جاپانی فوج کے خود کش حملہ آور طیاروں کامی کازے نے چھ اپریل کو 193 طیاروں سے ساحل پر موجود امریکی بحریہ پرجوابی حملہ کیا ، جس میں چھ بحری جہاز ڈوبے ، سات کو شدید اور چار دیگر کو کم نقصان پہنچا ۔ جاپانی فوج نے اتحادی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کیلئے کائتن تارپیڈو بھی تیار کیے تھے ۔ کائتن کا مطلب ہے ، جنت کا رُخ ۔ دوسری جانب اتحادی افواج کی قوت کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارھی تھی ۔ جاپانی افواج نے اپنے سب سے بڑے بحری جہاز یاماتو، ایک کروزر اور 8 تباہ کن بحری جہازوں کو خود کش مشن پر روانہ کیا ۔ اِس آپریشن کو تن گو ساکوسین کا نام دیا گیا تھا اور ایڈمرل سیچی ایتو کو اِس مشن کی کمانڈ دی گئى ۔ فورس کیلئے حُکم تھا کہ وہ پہلے ساحل پر موجود اتحادی بحریہ پر حملہ کرے اور پھر ساحل پر اتری ہوئى امریکی فوج سے پنجہ آزمائى کرے ۔ اتحادی افواج کسی بھی جاپانی حملے کے خطرے کے پیش نظر بہت چوکس تھیں اور جونہی جاپانی فوج اپنے حدود سے روانہ ہوئى ، اتحادی افواج کی آبدوزوں نے اُسے معلوم کرکے اپنے کمانڈ کو فوری اطلاع دی ۔ اتحادی جنگی طیاروں نے بغیر کسی وقت ضائع کیے فضائى حملہ کردیا ۔ اِس حملے میں 300 طیاروں نے حصہ لیا اور مسلسل دو دِن بمباری کرکے جاپان کے دُنیا کے بڑے بحری جنگی جہاز کو اوکیناوا پہنچنے سے قبل 7 اپریل 1945 کو ڈوبو دیا ۔ اِس حملے میں کروزر یاھاگی اور چار دیگر جنگی بحری جہاز بھی تباہ ہوئے ۔ ایک اندازے کے مطابق اِس حملے میں ایڈمرل ایتو سمیت جاپانی شاہی بحریہ کے عملے کے 3700 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ اتحادی افواج نے وسطی اور شمالی جانب سے پیش قدمی شروع کی ۔ جاپانی فوجوں نے مزاحمت شروع کی تو اتحادیوں نے جنوب کی طرف سے بھی اپنی فوجوں کو حرکت دی ۔ کئى روز کی خونریز جھڑپوں کے بعد اتحادی افواج نے شمالی اوکیناوا کے کئى حصوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب حاصل کیں ۔ شمال کے ساتھ ساتھ جنوب کی جانب بھی گمسان کی لڑائى ہورہی تھی اور جاپانی افواج ہرخطے پر سخت مزاحمت کا مظاہرہ کررہی تھیں ۔ ہر طرف مشین گنوں کی تھڑ تڑاہٹ ، طیاروں کی گھن گرج اور اور توپوں کے گولوں کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔ کہیں کسی کی لاش تو کہیں کوئى زخموں سے چور پڑا تھا ۔ جاپانی فوج اب بھی غاروں اور خندقوں سے اپنی سرزمین پر آئى ہوئى اتحادی فوج پر پے در پے حملے کر رہی تھی ۔ بارہ اپریل کو جاپانی فوجوں نے امریکی فوج کے پورے فرنٹ پر حملہ کردیا ۔ اب کی بار جاپانیوں نے منظم انداز میں بھاری حملہ کردیا تھا اور وہ استقامت کا بھرپور مظاہرہ کر رہے تھے بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اِس موقع پر انتہائى سخت دست بدست لڑائى چھڑ چکی تھی ۔ چودہ اپریل کو جاپانیوں نے ایک اور بھر پور حملہ کیا جس سے امریکیوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ رات کی تاریکی میں جاپانی حملے اُن کیلئے تباہ کُن ثابت ہورہے ہیں کیونکہ جاپانی فوج نے خوفناک شکل اختیار کرلی ہوئی تھی ۔ امریکہ کی 27 ویں انفنٹری ڈویژن نے اوکیناوا کے مغربی ساحل سے پیش قدمی شروع کی ۔ امریکی جنرل ھوج نے 9 اپریل کو بھاری ہتھیاروں سے ایک بڑا حملہ کردیا ۔ دوسری جانب بحری جنگی جہازوں، کروزر اور تباہ کُن جہازوں نے اپنی فضائیہ کے ساتھ مل کر جاپانی فوج پر بے تحاشہ گولہ باری کی اور بے دریغ بم برسائے ۔ نیپام بموں ، عام بموں، راکٹوں اور مشین گنوں کے مسلسل حملے سے جاپانی فوج کے حوصلے اب ھچکولے کھانے لگے ۔ اگرچہ اِس دوران جاپانیوں نے ٹینکوں کے ایک بڑے حملے کو ناکام بناتے ہوئے 22 ٹینکوں کو تباہ اور ساڑھے سات سو امریکیوں کو ہلاک کردیا تھا ۔ 4 مئى کو جاپانی فوج نے جنرل اوشی جیما کے زیرِقیادت ایک اور جوابی حملہ کیا۔ یہ بحری حملہ ساحل پر موجود امریکی فوج کی پشت پرکیا گیا جس میں 13 ہزار روانڈ فائر کیے گئے تاہم امریکہ کے بروقت اور موثر جواب سے یہ حملہ ناکام بنادیا گیا ۔ مئی کے اواخر میں مون سون کی بارشیں شروع ہوئیں جس کی وجہ سے کیچڑ اور پانی نے جنگی کاروائیوں سمیت زخمی فوجیوں کیلئے مہیا کی جانے والی طبی امداد میں روکاوٹیں پیدا کرنا شروع کردیں ۔ سیلاب سے بھرے راستوں سے زخمی فوجیوں کو نکالنا انتہائى مشکل ہوگیا تھا ۔ جاپانی فوج پر چونکہ یہ حقیقت آشکارا ہورہی تھی کہ اتحادی افواج کے مقابلے میں اُن کی قوت کمزور ہے لہذا مارچ ہی میں اوکیناوا میں جاپانی کمانڈ نے اندازہ لگالیا تھا کہ اب ایشیما ائرفیلڈ اور ملٹری کمپلیکس کا دفاع مشکل ہوتا جارہا ہے اِسلیے جزیرے پر موجود تمام ائرفیلڈز کو تباہ کرنے کا حُکم صادر کیا گیا تاکہ اُن کے فوجی تنصیبات دشمن کے ہاتھ نہ آئیں ۔ تاہم ماہِ مئى میں جاپانی فوج نے اپنے فضائى حملے جاری رکھے بلکہ 20 مئى کو 35 جاپانی طیاروں نے بروقت حملہ کیا ۔ ستائیس اور اٹھائیس مئى کی شب مطلع صاف تھا اور چاند پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رھا تھا کہ اِس دوران جاپانی فضائیہ نے 2 اور 4 طیاروں کی گروپوں کی شکل میں 56 بار حملے کیے اور ایک اندازے کے مطابق اِن حملوں میں 150 طیاروں نے حصہ لیا اور اِسی رات جاپانی خودکش ہوابازوں کامیکازے نے 9 امریکی بحری جہازوں کو تباہ کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اوکیناوا کی جنگ میں 896 بار فضائى حملے کیے گئے جس میں تقریباً 4000 جاپانی طیاروں نے حصہ لیا ۔ جاپانی فوج نے شورے کے محاذ سے پسپائى کی حکمت عملی اختیار کی کیونکہ کونیکل پہاڑ کے مشرقی اور جنوبی حصوں پرجاپانی دفاعی پوزیشن کمزور پڑنے سے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ یا تو آخری دم تک تمام وسائل کے ساتھ لڑاجائے اور یا پھر انخلاء کیا جائے ۔ جنرل اوشی جیما نے اِس صورت حال پر غور کرنے کیلئے شورے قلعے میں اجلاس بلایا جہاں مختلف پہلووں پر غور کیا گیا اور آخری فیصلہ یہ تھا کہ جنوب کی جانب انخلاء کیا جائے ۔ یہ انخلاء بہت منظم اور خفیہ انداز میں تھا اور کئى روز تک امریکی فوج اپنے جاسوس طیاروں سے مسلسل نگرانی کے باوجود معلوم نہ کرسکی کہ جاپانی فوج وہاں سے نکل چکی ہے ۔ اوکیناوا میں 5 جون کو بارشوں کا سلسلہ تھم گیا تھا ۔ نئے دفاعی علاقے میں اوشی جیما کو منتقل ہوئے کئى دِن گزر چکے تھے لیکن اسلحے کی قلت اور مواصلاتی رابطوں میں پیش آنے والی مشکلات سے فوج کی کارکردگی پر اثر پڑ رہا تھا اور جب وہ اپنی فوج کے ہمراہ شورے سے منتقل ہورہے تھا تو اُس وقت اُن کے پاس صرف 20 دِن کا راشن موجود تھا ۔ کہتے ہیں کہ انخلاء کے وقت جن زخمی فوجیوں کو ساتھ نہیں لے جایا جاسکا اُنہیں مارفین کا انجیکشن لگا کر خود ہی ہلاک کیا گیا یا اُنہیں وہیں چھوڑ دیا گیا تھا ۔ اٹھارہ جون کی شام جنرل اوشی جیما نے جاپانی فوج کے وائس چیف آف سٹاف کوانابے تورا سیرو اور دسویں ایریا آرمی آن تائیوان کے کمانڈر آندو ریکیچی کے نام الوداعی پیغام بھیجا اور پیغام کے آخر میں چند اشعار رقم کیے کہ : جزیر ے کی سرسبز و شاداب گھاس جو سو کھی ہے خزاں کے انتظار میں پھرسے لے جنم ہمارے معززوطن کی بہاروں میں اُنہوں نے19 جون کو آخری آرڈر جاری کیا اور اپنی زیرِقیادت تمام یونٹوں کی بہادری اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اسلحے اور مواصلاتی رابطوں کی انتہائى کمی ہے لہذا جو جہاں ہے وہیں پر اپنی حکمت عملی کے مطابق صورت حال کا مقابلہ کرے اور اپنے کسی سینئر افسر کا انتظار نہ کرے ۔ اُنہوں نے حُکم دیا، آخری دم تک لڑو ۔ اُن کے آخری حکم میں جاپانی فوج کو ہتھیار ڈالنے کا کوئى حکم نہیں تھا ۔ اب جاپانی فوج نے بکھر کر گوریلہ جنگ لڑنی شروع کرلی تھی چونکہ اُنہیں اپنے جنرل نے ہتھیار ڈالنے کا حکم نہیں دیا تھا لہذا جاپانی فوج کے سامنے دو راستے تھے کہ یا تو لڑکر مرا جائے یا خودکشی کرلی جائے ۔ امریکی فوج شورے پر قبضے کے بعد ناھا کے ائر فیلڈ پر بھی کنٹرول حاصل کرچکی تھی اور جنوب کی جانب پیش قدمی کی جارہی تھی لیکن جاپانی فوج کو پوری طرح سرنِگوں کرنا ابھی بہت دور کی بات تھی ۔ بائیس جون صبح 3 بجکر 40 منٹ پر لیفٹینٹ جنرل اوشی جیما اور جنرل ایسامو چو نے جنوب کی جانب پہاڑ 89 کے نزدیک خود کُشی کرلی ، جسے ھارا کیرے کہتے ہیں یعنی باعزت موت مرنا ۔ اسے سیپوکو بھی کہتے ہیں ۔ سمورائے جنگجووں کیلئے بھی ضروری تھا کہ وہ شکست کو خودکُشی پرترجیح دیں ۔ دوسری جانب امریکی فوج کے لیفٹینٹ جنرل سائمن بی بکنر بھی فوجی محاذ پر نگرانی کے دوران جاپانی فوج کے ایک شل کے پھٹنے سے ہلاک ہوگئے تھے ۔ یہ وہی جنرل بکنر تھے جنہوں نے اوشی جیما کو ہتھیار ڈالنے کا پیغام بھیجا تھا ۔ جنگ لڑنے والی فوجوں کے اعلی جنرل اب اِس دُنیا میں نہیں تھے ۔ جاپانی فوج کے کرنل ھیرو میچی یاھارا رھ گئے تھے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یاھارا نے بھی خودکشی کی اجازت مانگی تھی لیکن اوشی جیما نے یہ کہتے ہوئے اجازت نہیں دی کہ اگر تُم بھی نہ رہے تو پھر اوکیناوا کی جنگ کے حقائق بیان کرنے والا کوئى نہیں ہوگا ۔ یاھارا کو بعد میں امریکی فوج نے جنگی قیدی بنالیا تھا ۔ اوکیناوا کی جنگ کا آخری مرحلہ بہت درد ناک رہا اور انسانی ضیاع کے لحاظ سے یہ بحرالکاہل کی سب سے زیادہ تباہ کن جنگ تھی ۔ اِس جزیرے پرانسانی خون کی ایک دردناک تاریخ موجود ہے جہاں امریکی اور جاپانی افواج کے نقصان پر کئى متضاد اعداد و شمار موجود ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اِس جنگ میں 50 ہزار امریکی اور ایک لاکھ جاپانی فوج اور اوکیناوا کے عام شہری ہلاک ہوئے تھے جبکہ جزیرے پر موجود عمارتوں میں 90 فیصد تباہ ہوگئی تھیں ۔ یہ خوبصورت جزیرہ 82 روزہ جنگ سے دلدل اور مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا تھا ۔ خوبصورت جنگل و پہاڑ اور ندیاں اب انسانی بربریت کا عکاس بن چکی تھیں ۔ کچھ فوجی مورخین کا خیال ہے کہ اوکیناوا کی سخت جنگ ، ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملے کا سبب بنی ۔ جاپان میں اب بھی یہ بات متنازعہ ہے کہ اوکیناوا کی جنگ میں جاپانی فوج نے مقامی باشندوں کو حُکم دیا تھا کہ وہ خودکشیاں کریں تاکہ وہ امریکی قیدی بننے سے بچ جائیں ۔ اوکیناوا پریفیکچرل امن یاد گار عجائب گھر میں بہت سی ایسی نشانیاں موجود ہیں جو اُس وقت کے افسوسناک لمحات کی کہانی بیان کرتی ہیں ۔

ہیرو شیما پر ایٹمی حملہ[ترمیم]

یورپ میں جاپان کے ساتھی ممالک جرمنی اور اٹلی مسلسل شکست سے دوچار ہو رہے تھے ۔ 27 اپریل کو اتحادی افواج اٹلی کے شہر میلان میں داخل ہوئیں اور وہاں کے فاشسٹ حکمران بینتو میسولینی کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سویزرلینڈ کی جانب راہِ فرار اختیار کر رہا تھا ۔ اُسے اٹلی کی تحریک مزاحمت اٹالین پارٹیزنز کی فورس نے گرفتار کیا اور اگلے روز اٹھائیس اپریل کو پھانسی دیکر اُس کی اور دیگر افراد کی لاشوں کو میلان شہر کے ایک بڑے چوراہے پر نشانِ عبرت بنانے کیلئے لٹکایا ۔ دوسری جانب اتحادی افواج جرمنی میں داخل ہوکر جنگِ برلن لڑ رہی تھیں ۔ ہٹلر کو میسولینی کے انجام کا علم ہوگیا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اُس کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہو ۔ تاریخ کے اوراق کچھ یوں گواہی دیتے ہیں کہ 30 اپریل 1945 کو ہٹلر نے اپنی محبوبہ ایوا براون کے ساتھ شادی کرنے کے چند گھنٹوں بعد مشترکہ طور پر ایک بنکر میں خودکشی کرلی ۔ مرنے سے پہلے ہٹلر نے کارل ڈونٹز کو جرمنی کا صدر اور جوزف گویبلزکو جرمنی کا چانسلر مقرر کیا ۔ لیکن گویبلزنے یکم مئى کو خودکشی کرلی تھی ۔ دو مئى کو جنگِ برلن ختم ہوئى اور اگلے چند روز میں اٹلی ، ڈنمارک اور ہالینڈ میں موجود جرمن فوجوں نے ہتھیار ڈال دیئے ۔ اب مختلف محاذوں پر جرمن فوج کے ہتھیار ڈالنے کی خبریں تواتر کے ساتھ آنے لگیں تھیں اور بالاخرآٹھ مئى کو اتحادیوں نے فتح حاصل کرنے کا اعلان کیا ۔ جرمنی اور اٹلی کی شکست کے بعد اب سہ فریقی اتحاد میں صرف جاپان رھ گیا تھا۔ چھبیس جولائى 1945 کو امریکی صدر ٹرومین اور دوسرے اتحادی ممالک کے رہنماؤں نے پوسٹ ڈیم اعلامیہ جاری کیا ، جس میں جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے بعد پیش کیے جانے والے شرائط کا خاکہ دیا گیا تھا ۔ یہ دراصل جاپان کیلئے ایک الٹیمیٹم تھا ، بصورت دیگر جاپان پر ایک بڑا حملہ کردیا جائے گا ۔ دو دِن بعد جاپانی اخبارات میں یہ خبریں نمایاں تھیں کہ جاپان ایسے مطالبات کو مسترد کرتا ہے ۔ جاپانی وزیراعظم کانتارو سوزوکی نے سہ پہر کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ہم پوسٹ ڈیم کانفرنس کے اعلامیے کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ شہنشاہ ہیروہیتو ، نے بھی اپنے موقِف میں کوئى تبدیلی نہیں کی اور اکتیس جولائى کو اپنے مشیر کوایچی کیدو کے ذریعے واضح کیا کہ ہر قیمت پر جاپان کا دفاع کیا جائے گا ۔ امریکہ دو ماہ قبل ایٹمی حملے کیلئے کیوتو، ہیروشیما، یوکو ہاما اور کوکورا پر ممکنہ ہدف کے طور پر غور کرچکا تھا ۔ فیصلہ یہ تھا کہ ہدف تین میل سے زیادہ قطر کا ہو ، موثر طور پر تباہی مچا سکے اور فوجی مقاصد کا یہ حملہ، اگست سے پہلے نہ کیا جائے ۔ دراصل اِن شہروں پر امریکی فضائیہ کی جانب سے رات کی بمباری ابھی تک نہیں کی گئى تھی کیونکہ اتحادی کمانڈ ، اِن شہروں کا پورا اندازہ لگا کر اس کیلئے مطلوبہ مقدار کے اسلحے کی تیاری کر رہا تھا ، کیونکہ ہیروشیما کے بارے میں باورکیا گیا تھا کہ یہاں جاپانی فوج کا بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود موجود ہے اور یہ بندرگاہی شہر ایک بڑا صنعتی علاقہ بھی ہے ۔ ساحل سمندر پر ہونے کی وجہ سے ہیروشیما کا ریڈار میں آنا آسان تھا، لہذا یہاں بڑے پیمانے پر بربادی و تباہی مچانے کا امکان موجود تھا۔ یہاں اتنے وسیع پیمانے پر حملے کا منصوبہ تھا کہ اُس کے بعد جاپان پوسٹ ڈیم اعلامیے کے مطابق غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے ۔ اِس حملے کا مقصد یہ بھی تھا کہ جاپان پر نفسیاتی غلبہ پایا جائے اور یہاں پر حملے میں استعمال ہونے والے اسلحے کی اہمیت کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کروایا جائے ۔ گو کہ ٹوکیو کا شاہی محل بھی ہدف بنایا جاسکتا تھا لیکن درد بھرے مناظر یہاں نہیں بلکہ ہیروشیما میں زیادہ بہتر طور پیدا کیے جاسکتے تھے ۔ جنگ عظیم دوئم کے اؤائل میں ہیروشیما میں آبادی 3 لاکھ 81 ہزار تھی لیکن چونکہ یہ فوجی سازوسامان کی پیداوار کا ایک اہم شہر تھا اسلئے جاپانی فوجی نے بڑے پیمانے پر عام شہریوں کا انخلاء کیا اور حملے کے وقت یہاں پر کُل آبادی کا تخمینہ 2 لاکھ 55 ہزار لگایا گیا ہے ۔ امریکہ نے مین ہٹن منصوبے کے تحت جس ایٹم بم پر تحقیق کی تھی اُس میں برطانیہ اور کنیڈا کا اشتراک بھی تھا ۔ اِس منصوبے کے تحت امریکہ، ایٹمی اسلحہ کا تجربہ سولہ جولائى 1945 کو نیو میکسیکو میں ٹرینٹی پرچکا تھا اور اب اِس کے عملی استعمال کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا تھا ۔ یہ 6 اگست کی صبح تھی ، اور ہیروشیما کے عوام چند لمحوں بعد آنے والے دردناک قیامت سے بے خبر اُٹھنے کی تیاری کر رہے تھے ۔ اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ اینکولہ گیے نامی وہ بی ۔ 29 طیارہ جو اُن کیلئے موت کا پیغام لیکر آرہا ہے وہ تینیان جزیرے کے ہوائى اڈے سے اپنی اُڑان بھر چکا ہے ۔ اِس طیارے کی حفاظت کیلئے دو مزید طیارے ہمراہ تھے جنہوں نے جاپانی فضائیہ کے کسی حملے سے بچاؤ کیلئے اقدامات کرنے تھے ۔ طیارہ اپنی مطلوبہ بلندی حاصل کرچکا تھا کیونکہ پائلٹ کرنل پاول تیبتس کیلئے حُکم تھا کہ شکار کے قریب پہنچنے سے پہلے کی بلندی اکتیس ہزار فٹ ہونی چاہیے ۔ سفر کے دوران نیوی کیپٹن ولیم پارسنز اور اُن کے معاون سیکنڈ لیفٹینٹ مورس جیپسن نے ایٹم بم میں مطلوبہ تبدیلیاں کیں اور آخر میں سیفٹی پِن نکال کر اُسے حملے کیلئے مکمل طورپر تیار کرلیا تھا ۔ ہیروشیما تک پہنچتے پہنچتے صبح ہوگئى تھی ۔ یہ پیر کی صبح تھی اور سورج نکل چکا تھا ۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ہیروشیما کے ریڈار آپریٹر نے اطلاع دی کہ تین طیاروں پر مشتمل ایک چھوٹا قافلہ شہر کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ چونکہ امریکی فضائى بمباری میں طیاروں کے بڑے بڑے غول اُڑ کر حملہ آور ہوتے تھے اِسلئے چند جہازوں پر کوئى خاص توجہ نہیں دی گئى اور ایمرجنسی ختم کرنے کا سائرن بجایا گیا اور ویسے بھی بمباری رات کو ہوتی تھی اور اب رات کا اندھیرا چھٹ چکا تھا اِسلئے لوگوں نے بے خطر ہوکر معمول کے کام کاج شروع کردینے تھے ۔ لیکن طیارہ اینکولہ گیے اُن کیلئے موت کا فرشتہ بن کر چند لمحوں میں اُنہیں نیست و نابود کر دینے کیلئے تقریباً پہنچ چکا تھا ۔ طیارے پر لدا ہوا نو ہزار سات سو پونڈ وزنی یورینیم سے تیار کردہ لٹل بوائے نامی ایٹمی بم ہیروشیما کیا پوری دُنیا میں تہلکہ مچا دینے کیلئے تیار تھا اور پائلٹ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے پُر عزم تھا ۔ صبح کے 8 بجکر15 منٹ تھے کہ طیارے سے ایٹم بم ، زمین کے رُخ پر چھوڑ دیا گیا اور 43 سیکنڈ بعد انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا ۔ یہ اتنا بڑا دھماکہ تھا کہ فضا میں ساڑھے گیارہ میل بلندی پر اینکولہ گیے بھی ہچکولے کھانے لگا ۔ شہر پر دھواں چھا گیا، کسی کو نہ تو کچھ دکھائى دے رہا تھا اور نہ ہی کچھ سمجھ آرہا تھا ۔ سب کچھ سخت تپیش سے پگھل چکا تھا ۔ نہ تو فضا میں پرندے بچ گئے اور نہ ہی زمین پر انسان و حیوان ۔ جہاں بم گرا وہاں ارد گرد ایک میل کے دائرے میں کوئى عمارت موجود نہ رہی ۔ آگ کے شعلوں کا ایک ایسا جھکڑ چلنے لگا جس نے شاید کسی کو زندہ نہ چھوڑنے کا تہیہ کیا ہوا تھا ۔ آگ نے شہر کا ساڑھے 4 میل تک کا علاقہ اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔ چونکہ سب کچھ ملیامیٹ ہوچکا تھا لہذا ریڈیو اور ٹیلی گرافک رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے خود جاپان کے دوسرے علاقوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اُن کے ہم وطن کس حال میں ہیں ۔ نہ باپ رہا نہ بیٹا ، نہ ماں رہی نہ بیٹی ۔ اتنی تباہی مچی کہ کوئى آہ و بکا کرنے والا بھی نہیں تھا ۔ دھماکے اور آگ سے اُڑتی گرد و دھول کو ابھی بیٹھنے میں وقت لگے گا ، کیونکہ دھماکے سے اُٹھنے والے آگ اور دھوئیں کا مرغولہ 45000 فٹ بلندی تک پہنچا تھا اور اِس آگ کے گولے کا قطر 1200 میٹر تھا ۔ آرمی کنٹرول سٹیشن نے ہیروشیما کے بیس سے رابطے کی جدوجہد کی لیکن کوئى کامیابی حاصل نہ ہوئى ۔ فوجی قیادت کی سمجھ سے سب کچھ بالاتر تھا کہ نہ تو کوئى بڑا فضائى حملہ ہوا ہے اور نہ ہی ہیروشیما میں گولہ بارود کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا جس سے بڑی تباہی کا امکان ہو ۔ جاپانی فضائیہ کے ایک سٹاف آفیسر کو حُکم دیا گیا کہ وہ طیارہ لیکر سروے کرے اور حقائق معلوم کرکے اطلاع دے ۔ ہیروشیما پر کیا گزری ہے یہ جاننے کیلئے طیارہ تقریباً 100 میل دور فاصلے سے اڑا تھا اور 3 گھنٹوں تک مسلسل پرواز کرتا رہا ، لیکن مخمصے کا شکار یہ طیارہ بغیر کچھ دیکھے واپس لوٹ گیا اور اپنے آقاؤں کو صرف یہ خبر دے سکا کہ وہاں سوائے بادلوں اور دھوئیں کے کچھ نظر نہ آتا ۔ ٹوکیو میں جاپان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ ہیروشیما کا ریڈیو سٹیشن خاموش ہوچکا ہے ۔ اُنہوں نے ایک اور ٹیلیفون لائن استعمال کرتے ہوئے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کی مگر بے سود ۔ اگرچہ ہیروشیما سے 10 میل دور کے ریلوئے سٹیشنوں سے یہاں تک کی رپورٹیں موصول ہوئیں کہ وہاں ایک بڑے دھماکے کی آواز سُنی گئى ہے تاہم تفصیلات معلوم نہیں تھیں ۔ اِسی طرح ریلوئے کے محمکے نے ریل روڈ ٹیلی گراف کے بند ہونے کی اطلاع دی ۔ وہاں کیا ہوا تھا اِس کا علم اُس وقت ہوا جب امریکی صدر ٹرومین کا تیار شُدہ پیغام ، واشنگٹن ڈی سی کے مقامی وقت کے مطابق 6 اگست دِن گیارہ بجے ریڈیو پر سنائى دینے لگا ۔ دُنیا کو 16 گھنٹے بعد علم ہوا کہ امریکہ ہیروشیما پر حملہ کرچکا ہے ۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ نے جاپانی شہر ہیروشیما پر قطعی طور پر ایک نئے بم ”ایٹم بم“ سے حملہ کیا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق، پہلے دھماکے ، تپیش اور تابکاری سے 70,000 افراد موت کے منہ میں جاچکے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئى اور اگر کینسر اور لمبے عرصے تک بیماری کے بعد مرنے والوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد دو لاکھ تک پہنچی ۔ ایٹمی حملے کے آرکائیوز ریکارڈ کے مطابق، 60 فیصد افراد آگ کے شعلوں سے جھلس کر ہلاک ہوئے جبکہ 30 فیصد ملبہ گرنے اور 10 فیصد دیگر وجوہات سے موت کے منہ میں چلے گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ آگ کے شعلوں نے 16 مربع میل تک کا علاقہ اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔ بحرالکاہل کی جنگیں ، فلپائن کی جنگ ، اوکیناوا جنگ ، اتحادیوں کے بے رحمانہ فضائى بمباری اور ہیروشیما پر ایٹمی حملے سے جاپان کے جسم پر کئى گہرے زخم آچکے تھے ۔ جاپان لڑکھڑاتے دیکھ کر روس نے بھی اس پر حملہ کردیا ۔ یہ 9 اگست تھا ۔ وہی تاریخ جب جاپان پر دوسرا ایٹمی حملہ کیا گیا ۔

ناگاساکی پر ایٹمی حملہ[ترمیم]

ناگاساکی ، جنوبی جاپان میں ایک بڑا بندرگاہی شہر تھا ۔ یہاں بہت صنعتیں موجود تھیں جہاں اسلحہ سازی، جہاز سازی ، آبدوزیں ، دیگر جنگی اور فوجی سازوسامان تیار ہوتا تھا ۔ یہاں کی زیادہ تر عمارتیں لکڑی سے بنی تھیں بلکہ کارخانوں کی عمارتیں بھی لکڑی سے بنائى گئیں تھیں ۔ ایٹمی حملے سے پہلے تک جنگ عظیم دوئم کے دوران اِس شہر پر کوئى بڑا فضائى حملہ نہیں ہوا تھا ۔ البتہ اگست کے مہینے میں کچھ روایتی بارود سے بھرے بموں سے حملے ہوئے تھے جن میں اپنے دور کے مشہور متسوبشی سٹیل اینڈ آرمز ورکس کے کارخانے کو بھی نشانہ بنایا گیا، لیکن بد قسمتی سے چھ بم ، ناگاساکی میڈیکل سکول اور ہسپتال پر بھی گِرے ۔ نواگست کی صبح 3 بجکر 47 منٹ پر امریکہ کا طیارہ بی ۔ 29 بوک کار سکوارڈن کمانڈر میجر چارلس ڈبلیو سوینی کی قیاد میں تینیان کے ہوائى اڈے سے ایٹم بم لیکر اُڑا ۔ اِس ایٹم بم کا کوڈ نام فیٹ مین رکھا گیا تھا ۔ اِس حملے کا پہلا ہدف کوکورا ، جبکہ دوسرا ہدف ناگاساکی تھا ۔ اِس طیارے کی پرواز سے دو گھنٹے قبل دو طیارے موسم اور حفاظتی اقدامات کے طور پر پہلے اُڑ چکے تھے تاکہ حملہ کرنے میں کوئى رکاؤٹ پیش نہ آئے ۔ کچھ دیر بعد حفاظتی طیاروں نے اطلاع دی کہ دونوں اہداف واضح ہیں اور کسی قِسم کی دھند یا بادل نہیں ہیں ۔ جب حملہ آور طیارہ اُس حد تک پہنچا جہاں پرایٹم بم سے سیفٹی پِن نکال کر اُسے حملہ کیلئے تیار کردینا تھا کہ اِسی اثناء میں معلوم ہوا کہ ایک محافظ طیارہ بگ سٹنک لاپتہ ہوگیا ہے ۔ چونکہ سوینی پہلے ہی اپنے مقررہ وقت سے 30 منٹ لیٹ تھا لہذا محافظ طیارے کے بغیر سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اور جب یہ حملہ آورطیارہ بی ۔ 29 اپنے پہلے ہدف کوکورا پہنچا تو اُس وقت شہر کے اردگرد 70 فیصد علاقے پر دھواں اور دھند چھائی ہوئی تھی اور مطلع ابرآلود ہونے کی وجہ سے شہر صاف دیکھائى نہیں دے رہا تھا ۔ شہر پر تین چکر لگائے گئے اور اِس دوران معلوم ہوا کہ طیارے میں تیل کی مقدار کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ تیل کے ذخیرہ ٹینک سے پائپ میں تیل نہیں آرہا تھا ۔ اب حتمی فیصلہ یہ کیا گیا کہ ناگاساکی پر حلمہ کیا جائے ۔ اِس پر بھی سوچا گیا تھا کہ اگر کوئى مزید دِقت پیش آئی تو ایٹم بم کو واپس لے جاکر بحرالکاہل میں پھینک دیا جائے گا ۔ جاپان کے مقامی وقت کے مطابق ، صبح 7 بجکر 50 منٹ پر ناگاساکی شہر سائرن کی آوازوں سے گونجنے لگا ۔ تاہم 40 منٹ بعد سب اچھا کا سائرن بجا ۔ جاپانیوں نے یہ طیارہ 10 بجکر 53 منٹ پر دیکھا تو ریڈار سروس نے اندازہ لگالیا کہ شاید سراغرسانی کرنے والا کوئى جاسوس طیارہ ہے ۔ اِن بے خبر جاپانیوں کو علم نہیں تھا کہ ہیروشیما کے تین روز بعد ، ایک اور قیامت ٹوٹنے والی ہے ۔ تاریخی اوراق میں ذکر ہے کہ دِن کے گیارہ بجکر ایک منٹ پر حملہ آور طیارے نے شہر پر چھائے ہوئے بکھرے بادلوں میں سے ناگاساکی شہر کو دیکھ لیا تھا ۔ اب شکاری نے اپنے شکار پر جھپٹنا تھا ۔ اِسی لمحے جہاز کے سفاک کپتان نے بٹن دبایا اور فیٹ مین طیارے سے نکل کر شہر کے صنعتی علاقے کی جانب تیزی سے گرنے لگا ۔ یورنیم ۔ 239 پر مشتمل یہ ایٹم بم 14.1 پونڈ یعنی 6.4 کلوگرام کا بتایا جاتا ہے ۔ تینتالیس سیکنڈ بعد ناگاساکی شہر کے اوپر 1,650 فٹ کی بلندی پر فضا میں ایک انتہائى خوفناک اور زوردار دھماکے سے فیٹ مین پھٹ گیا ۔ یہ دھماکہ 21 کلو ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھا ۔ ایٹمی سائنس دانوں کے مطابق، یہ دھماکہ ہیروشیما کے دھماکے سے کہیں بڑا تھا ۔ اور آپ یقیناً سن کر حیران ہونگے اِس سے پیدا ہونے والی تپیش کی درجہ حرارت 3,900 ڈگری سیلسیس یا 7,000 ڈگری فارن ہائٹ تھی اور اس سے پیدا ہونے والے آگ کے شعلوں کی رفتار 1005 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی ۔ ناگاساکی کا بڑا علاقہ اب جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکا تھا اور جہاں دھماکہ ہوا تھا وہاں ایک مربع کلومیٹر کے علاقے پر انسان و حیوان موقع ہی ھلاک ہوئے ، اور آگے شعلے 10,000 فٹ تک کے علاقے پر پھیل چکے تھے ۔ تقریباً 20,000 عمارتیں مکمل یا بڑی حد تک تباہ ہوچکی تھیں ۔ صرف 12 فیصد مکانات بچ گئے تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق ، اِس ایٹمی حملے میں 40,000 افراد ہلاک اور 60,000 زخمی ہوئے تھے اور جنوری 1946 تک اندازہ لگایا گیا تھا کہ 70,000 افراد ہلاک ہوچکے تھے ۔

جاپان کی شکست[ترمیم]

پندرہ اگست 1945 کو جاپان کے شہنشاہ ہیرو ہیتو نے ریڈیو ٹوکیو پر قوم سے خطاب کرتے کہا کہ اُن کا مُلک پوسٹ ڈیم اعلامیے کو قبول کرتا ہے ۔ اِس اعلامیے میں جاپان سے کہا گیا تھا کہ وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے جو جاپانی فوج کیلئے یہ بہت بڑے صدمے کی بات تھی ۔ اِس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کچھ فوجیوں نے 14 اور 15 اگست کی رات بغاوت برپا کی ۔ وہ اتحادیوں کے سامنے کسی بھی صورت میں ہتھیار ڈالنے پر آمادہ نہیں تھے ، اور وہ یہ فیصلہ واپس لینے پر بضد تھے ۔ وہ چاھتے تھے کہ ٹوکیو شاہی محل پر قبضہ کرکے شہنشاہ کو محل میں نظر بند کردیں ۔ اِس کاروائى کے دوران شاہی گارڈ کے لیفٹینٹ جنرل تاکیشی موری ھلاک ہوئے ۔ لیکن یہ باغی عناصر پوری فوج میں حمایت حاصل نہیں کر پا سکے اور بغاوت ناکام ہوئى ۔ کئى فوجی اِس افسوس ناک لمحے کو برادشت نہ کرتے ہوئے خودکشی کرگئے اور کئى نے 15 اور 16 اگست کو 100 سے زیادہ امریکی جنگی قیدوں کو قتل کر ڈالا ۔ برطانوی اور آسٹریلوی کے فوجیوں کو بھی قید کے دوران ہلاک کیا گیا ۔ ایٹمی حملے جاپان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے تھے ۔ امریکن ملٹری ہسٹری کے مطابق ، اگرچے فضائى حملوں نے جاپان کی جنگی صلاحیت کو خاصا کمزور کردیا تھا لیکن پھر بھی ہتھیار ڈالتے وقت جاپان کے پاس 2,000,000 فوج تھی ۔ گو کہ جاپانی فوج نے دفاعی پوزیشن اختیار کرلی ہوئى تھی لیکن وہ ایک سخت زمینی جنگ لڑنے کیلئے تیار تھی اور اِس کے علاوہ جاپان کے پاس 3,000 لڑاکا طیارے بھی تھے ۔ جاپانی شاہی بحری بیڑے کے کمانڈرایڈمرل ایسوروکو یاماموتو نے جنگ شروع ہونے کے موقع پر جذباتی ہوتے ہوئے اُنگلی اُٹھا کر کہا تھا ، ” یہی کافی نہیں کہ ہم گوام ، فلپائن یا یہاں تک کہ ہوائی یا سان فرانسِسکو کو فتح کریں بلکہ ہمیں اِس سے بھی آگے واشنگٹن تک مارچ کرنا چاھیے اور معاہدے پر دستخط وائٹ ہاوس میں ہونے چاھیں“ ۔ لیکن جاپانی ایسا نہ کرسکے اور اب اُن کی نہیں بلکہ امریکہ کی مرضی سے جنگ ختم ہونے کا معاہدہ ہوگا ۔ جاپان کو دراصل مسلسل دو سال سے مختلف محاذوں پر شکست کا سامنا رہا ۔ جنوب مغربی بحرالکاہل ، ماریاناس مہم ، فلپائن مہم، اور سائپن میں ناکامی سے جاپان کو کافی نقصان ہوا ، اور پھر آؤجیما اور اوکیناوا جزائر پر امریکی قبضے سے اتحادی افواج جاپانی سرزمین پر داخل ہوچکی تھیں ۔ چونکہ جاپان کے پاس اپنے قدرتی وسائل انتہائى کم ہیں اِسلئے وہ زیادہ تر خام مال ایشیائى ممالک سے درآمد کرکے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے لہذا جنگ کی صورت میں خام مال کی درآمد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اور پھر اتحادیوں کی جانب سے جاپان کے بڑے کارخانوں پر فضائى بمباری سے بھی بہت نقصان ہوچکا تھا ۔ آخر میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ جاپان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ۔ اُس وقت کے جاپانی وزیر اعظم کنتارو سوزوکی ، کی کابینہ ہتھیار ڈالنے دینے کی مخالف تھی ۔ وہ چاھتے تھے کہ جنگ جاری رہے کیونکہ جاپانیوں کیلئے شکست تسلیم کرنا ایک ایسا فعل تھا جس کا اُنہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ 2000 سالوں میں نہ تو کوئى جاپان پر جارحیت کرسکا تھا اور نہ ہی اُسے کسی جنگ میں شکست ہوئی تھی ۔

روس کا منچوریا پر حملہ[ترمیم]

امریکی ایٹمی حملے سے قبل تک ، جاپان نے سوویت یونین کے توسط سے امریکہ اور اتحادیوں کے ساتھ امن کی راہ نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئى کیونکہ سوویت یونین خود اتحادیوں سے وعدہ کرچکا تھا کہ جرمنی کی شکست بعد وہ جاپان کے خلاف اعلان جنگ کردے گا حالانکہ سوویت یونین اور جاپان کے مابین عدم جارحیت کا معاہدہ بھی ہوا تھا ، لیکن بعد میں سوویت یونین نے اِس معاہدے کی تجدید نہیں کی ۔ جاپان کو یہ خدشہ تھا کہ ممکن ہے امریکہ اور مغربی طاقتوں نے جاپان کے خلاف جنگ شروع کرنے کیلئے سوویت یونین کو کچھ رعایتوں کی پیش کش بھی کی ہو۔ لہذا جاپان کے وزیر خارجہ شیگی نوری توگو، نے سوویت یونین پر زور دیا کہ وہ جاپان کے معاملے میں غیر جانبدار رہے ۔ جاپان کو خدشہ تھا کہ روس کسی بھی وقت منچوریا پر ایک بڑا حملہ کرسکتا ہے اِسلئے وزیرخارجہ توگو نے ماسکو میں جاپان کے سفیر نااُوتاکے، کو 30 جون 1945 کو اِس پیغام کے ساتھ بھیجا : ” عزت مآب شہنشاہِ جاپان کا فرمان ہے کہ دونوں مُلکوں کے مابین لڑائى دونوں مُلکوں کے عوام کیلئے نقصان دہ ہے لہذا دلی خواہش ہے کہ اِس کشیدگی کو فوری ختم کیا جائے اور جہاں تک انگلینڈ اور امریکہ کا یہ اصرار ہے کہ جاپان غیر مشروط طور پر ہتھیار پھینک دے تو جاپان کے پاس سوائے اِس کے کوئى متبادل نہیں کہ وہ اپنے مادرِ وطن کی عزت و ناموس کیلئے پوری طاقت کے ساتھ لڑے“ ۔ ہیرو شیما پر 6 اگست کو ایٹمی حملے کے تین دِن بعد 9 اگست کو صبح 4 بجے یہ اطلاع ٹوکیو پہنچی کہ سوویت یونین نے غیر جانبداری کے معاہدے کوتوڑتے ہوئے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے اور اُس کی فوجوں نے منچوریا میں جاپان کی کٹھ پتلی حکومت مانچو کواو پر حملہ کردیا ہے ۔ یہ جاپان کیلئے ہیروشیما کے بعد دوسرا بڑا دھچکہ تھا ۔ وزیراعظم سوزوکی نے شہنشہاہِ جاپان سے ملاقات کرنے کے بعد صبح ساڑھے دس بجے سپریم کونسل کا اجلاس بلایا ۔ ابھی اجلاس جاری تھا کہ دِن گیارہ بجے یہ خبریں آئیں کہ امریکہ نے ناگاساکی پر دوسرا ایٹمی حملہ کردیا ہے ۔ ڈھائى بجے ہونے والے جاپانی کابینہ کے مکمل اجلاس میں زیادہ تر بحث ہتھیار پھینکنے کے معاملے پر ہوتی رہی لیکن تین گھنٹوں کی بحث و مباحثے کے بعد بھی کوئى اتفاقِ رائے نہ ہوسکا ۔ سہ پہر چار بجے سے رات دس بجے تک ایک اور اجلاس ہوا لیکن پھر بھی کوئى نتیجہ برآمد نہ ہوا ۔ 8 اور 9 اگست 1945 کی رات، وزیراعظم سوزوکی اور وزیر جارجہ توگو، نے شہنشاہ سے ملاقات کی اور وزیرِ جنگ کوریچی کا آنامی ، کا سپریم کونسل کے اجلاس سے تیار کردہ چار نکاتی مجوزہ مسودۀ پیش کیا ۔ 10 اگست کی صبح دو بجے وزیراعظم سوزکی نے شہنشاہ پر فیصلہ چھوڑ دیا کہ وہ کیا آخری فیصلہ کرتے ہیں ۔ کچھ تاریخی اوراق سے معلوم ہوا ہے کہ شہنشاہ نے کہا کہ جنگ جاری رکھنا ہماری قوم کی تباہی ، خون خرابہ اور ظلم کے سواء کچھ نہیں ۔ میں اپنے معصوم عوام کو مزید مصیبت جھیلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ گو کہ یہ ناقابل برداشت ہے کہ جاپان کی بہادر اور وفادار فوج کسی کے سامنے غیر مسلح ہو ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ناقابل برداشت کو برداشت کریں ۔ میں اپنے غم کے آنسو پیتے ہوئى وزیرِ خارجہ کے تیار کردہ خاکے کی بنیاد پر اتحادیوں کے اعلان کی منظوری دیتا ہوں ۔ پندرہ اگست 1945 کو دوپہر 12 بجے شہنشاہِ جاپان کا پیغام ریڈیو پر نشر ہوا ۔ اُنہوں نے اپنی خطاب میں کہا کہ ہماری جراءت مند فوج کی بہادری اور عوام کے پُرخلوص خدمات کے باوجود حالات ایسا رُخ اختیار کر گئے ہیں جو جاپان کے حق میں نہیں ۔ مزید یہ کہہ دشمن نے ایسے ظالمانہ بموں کا استعمال شروع کیا ہوا ہے کہ اُن سے ہونے والی تباہی ان گِنت ہے ۔ اگر ہم جنگ جاری رکھتے ہیں تو اِس سے جاپانی قوم کیلئے مزید تباہی پیدا ہوگی ۔ ہم نے لاکھوں کروڑوں عوام کو بچانا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اتحادیوں کے مشترکہ اعلامیہ کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سترہ اگست کو شہنشاہِ جاپان نے وزیراعظم سوزوکی کو ہٹا کر اپنے چچا پرنس ہیگاشی کونی ناروہیکو، کو 43 ویں وزیراعظم کی حثیت سے ذمہ داریاں سونپ دیں تاکہ مزید بغاوت یا قاتلانہ حملوں کو روکا جاسکے ۔ اِسی طرح وزیر خارجہ توگو کو بھی ہٹایا گیا اور اُن کی جگہ یہ فرائض ماموروشیگے میتسو کو دے دی گئیں ۔ شیگے متسو کی ایک ٹانگ مصنوعی تھی اور وہ لنگڑا کر چلتا تھا اور اُن کے ایک ہاتھ میں چھڑی ہوتی تھی کیونکہ 29 اپریل 1932 کو کوریا کی آزادی کے ایک کارکُن یون بونگ ۔گل نے اُن پر بم حملہ کیا تھا جس سے اُن کی ایک ٹانگ کٹ گئى تھی ۔ اُس وقت وہ شنگھائى میں جاپان کے وزیر مقرر تھے ۔ جاپان کی فوجیں اب بھی سوویت اور چینی افواج کے خلاف لڑ رہی تھیں ۔ جنگ جاری تھی اور اُنہیں جنگ بندی اور ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تحال ممکن نہیں تھا ۔ یہ لڑائى ستمبر کے اوائل تک چلتی رہی جب سوویت یونین کے افواج نے کوریل جزائر پر قبضہ کرلیا ۔

ہتھیار ڈالنے کی تقریب اورجاپان پر قبضہ[ترمیم]

جاپان کی شکست کے دستاویزات پر جاپان ، امریکہ ، سوویت یونین ، چین ، آسٹریلیا ، کینڈا ، فرانس ، ہالینڈ اور نیوزی لینڈ نے دستخط کیے ۔ دستاویزات پر دستخط کی تقریب 2 ستمبر 1945 کو خلیجِ ٹوکیو میں لنگرانداز امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس میسوری پر منعقد کی گئى جو 23 منٹ تک جاری رہی اور اِسے دُنیا بھر میں نشر کیا گیا ۔ جاپان کے وزیر خارجہ مامورو شیگے میتسو ، نے شہنشاہِ جاپان اور جاپانی حکومت کی جانب سے دستخط کیے ۔ دستاویزات پر دستخط کرنے والا وہ پہلا فرد تھا اِس کے بعد جاپانی فوج کے چیف آف آرمی جنرل سٹاف، جنرل یوشی جیرواُمیزو اور تیسرے نمبر پر امریکی جنرل ڈگلس میک آرتھر نے دستخط کیے ۔ معاہدے میں درج تھاکہ : جاپانی افواج جہاں کہیں ہیں وہ اتحادی افواج کے سامنے غیر مشروط طور پر ہتھیار پھینک دیں ۔ جاپانی افواج جہاں کہیں ہیں اپنی مخالفانہ سرگرمیاں ترک کردیں تاکہ بحری جہازوں ، طیاروں ، فوجی اور شہری تنصیبات کو نقصان نہ پہنچے ۔ جاپانی حکومت اپنے جنرل ہیڈکوارٹرز کو حُکم دے کہ وہ اتحادی افواج کے تمام جنگی قیدیوں اور زیر حراست شہریوں کا آزاد کرے چونکہ جاپانی فوج بحرالکاہل، جنوب مشرقی ایشیاء اور چین سمیت کئی علاقوں میں بکھری ہوئى تھی اِسلئے اُن محاذوں پر یہ اطلاع نہ پہنچ سکی کہ اُن کے مُلک نے ہتھیار ڈال دئیے ہیں ۔ کئى جاپانی افواج کو یقین نہیں آرہا تھا اور وہ اِسے اتحادی افواج کا پروپیگنڈہ تصور کرکے مسترد کرچکے تھے اور کئى نے تو شکست کی وجہ سے اپنے مُلک واپسی کو بالکل ترجیح ہی نہیں دی ۔ ایک اندازے کے مطابق ، جاپان کے 5,400,000 فوجیوں اور 1,800,000 بحری فوجیوں کو جنگی قیدی بنالیا گیا تھا جن میں 60,000 جنگی قیدی چین کے پاس تھے ۔ یہ جاپان کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ غیر مُلکی افواج اُس کی سرزمین پر قبضہ کررہی ہیں ۔ جنگ کے دوران اتحادی افواج نے منصوبہ بنایا تھا کہ جس طرح مقبوضہ جرمنی کے حصے بخرے کرکے اتحادیوں کے مابین بانٹ دیا گیا وہی سلوک جاپان کے ساتھ بھی کیا جائے گا ۔ تاہم امریکہ نے آخری منصوبے میں جاپان کو اپنے زیرِ قبضہ رکھا ، اور ساتھ ساتھ جنوبی کوریا ، اوکیناوا ، اور آمامی جزائر پر بھی اپنا تسلط رکھا ۔ جبکہ سوویت یونین کو شمالی کوریا ، سخالین اور کوریل جزائر کا قبضہ دیا گیا ۔

جاپان کے جنگی جرائم[ترمیم]

جاپان اُنسویں صدی سے لیکر بیسویں صدی کی وسط تک کئى جنگی جرائم کا مرتکِب ہوا ۔ جن میں عام شہریوں کا استحصال اور ہلاکت، جنگی قیدیوں سے ناروا سلوک اور دُشمن فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے نیوریمبرگ چارٹر کے معین کردہ قوانین کی خلاف ورزی شامل تھی ۔ اگرچے جاپان نے جنیوا کنونشن پر دستخط نہیں کیے تھے تاہم جنگ عظیم دوئم کے دوران اُس کی فوج نے خود اپنے فوجی قوانین کی خلاف ورزی کی ۔ جاپانی فوج نے سن 1899 اور سن 1907 کے ہیگ کنونشن جیسے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری بھی نہیں کی جس میں کیمیائى ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی ہے اور جنگی قیدیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔ تاریخ دان چالمرز جونس لکھتے ہیں کہ جاپان نے چین، فلپائن ، ملایا، ویت نام، کمبوڈیا، انڈونیشیا اور برما میں تین کروڑ افراد کو ہلاک کیا، جن میں چینوں کی تعداد دو کروڑ تیس لاکھ تھی ۔ لاکھوں افراد سے جبری مشقت لی اور مقبوضہ علاقوں کے اثاثوں اور وسائل کو لوٹا ۔ جنگی محاذوں پر لڑنے والے جاپانی فوجیوں کی جنسی تسکین کیلئے عورتوں کا بے دردی سے استحصال کیا ۔ اِن سب واقعات میں سب سے دردناک واقعات چین کے اُس وقت کے دارالحکومت نان کینگ میں رونماء ہوئے جہاں جاپانی فوج نے عام شہریوں کا انتہائى سفاکانہ انداز میں قتل عام کیا ۔ مشرقی بعید کیلئے قائم فوجی ٹربیونل جِسے ٹوکیو ٹرائل بھی کہتے ہیں کی تحقیقات کے مطابق سنہ 1937-38 میں جاپانی فوج نے دو لاکھ عام شہریوں اور جنگی قیدیوں کا قتل عام کیا ۔ جاپان کے خصوصی فوجی یونٹوں نے چین میں عام شہریوں اور جنگی قیدیوں پر تجربات کیے ۔ انسانی جسِم کے اندر کے نظام کا جائزہ لینے کیلئے بغیر بے ہوشی کے اُنہیں چیرلیا جاتا تھا ، یا پیوند کاری کیلئے اعضاء کاٹ لیے جاتے تھے اور یا زندہ انسان کے اعضاء کو سخت سردی کے موسم میں منجمد کردیا جاتا تھا ۔ کیمیائى ہتھیاروں کے اثرات دیکھنے کیلئے کئى تجربات کیے گئے ۔ اِن میں زیادہ تر تجربات جاپانی فوج کے بدنام زمانہ یونٹ 731 نے کیے جس کے سربراہ شیروایشی تھے جو ایک مائیکروبائلوجسٹ اور اِس یونٹ کے لیفٹینٹ جنرل تھے ۔ اُنہیں قابض امریکی فوج نے تجربات سے حاصل کردہ کیمیائى ڈیٹا دینے کے بدلے میں معاف کیا اور کوئى جنگی مقدمہ نہیں چلایا، بلکہ کہا جاتا ہے کہ بعد میں اُسے کیمیائى ہتھیاروں پر مزید تحقیق کیلئے امریکہ بلوایا گیا ۔ لیکن اُس کی بیٹی کا کہنا تھا کہ وہ جاپان ہی میں رہے اور 67 کی عمر میں سنہ 1959 میں گلے کے کینسر کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔ جاپانی فوج پر یہ الزام بھی تھا کہ اُس کے فوجیوں نے جنگی قیدیوں کا گوشت بھی کھایا اور کئى کو اِس مقصد کیلئے گولی مار کر ہلاک کیا گیا ۔ جنگی جرائم کے ٹربیونل میں کئى سابق فوجیوں نے گواہی دے کہ وہ ایسے واقعات کے چشم دید گواہ ہیں کہ جاپانی فوج نے انسانی گوشت کھایا ۔ اُن میں ہندوستان کے ایک جنگی قیدی حوالدار چنگدی رام کا بیان بھی ہے جس میں اُنہوں کہا ہے کہ 12 نومبر 1944 کو جاپانی فوجیوں نے اتحادی فوج کے ایک گرفتار پائلٹ کا پہلے گلہ کاٹا اور بعد میں اُس کے اعضاء بھون کر کھائے ۔ اِسی طرح ایک حلفیہ بیان لانس نائیک حاتم علی کا بھی ہے جو سنہ 1947 میں برصغیر کی آزادی کے بعد پاکستان کا شہری بنا ۔ علی نے نیوگِنی میں ہونے والے واقعات کے بارے میں کہا کہ جاپانی فوج ہر روز ایک قیدی کو باہر نکال کر لے جاتی تھی اوراُسے قتل کرکے کھا جاتے تھے ۔ اُن کے مطابق ، اِس طرح سے سو قیدیوں کو قتل کیا گیا ۔ جاپانی فوج نے مقبوضہ علاقوں میں جبری مشقت لینے کیلئے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو غلام بنایا ۔ تاریخ دانوں کی ایک مشترکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف چین میں ایک کروڑ سے زیادہ افراد سے جبری مشقت لی گئى ۔ اِسی طرح برما ۔ سیام ریلوئے لائن کی تعمیر کے دوران دس لاکھ عام شہری اور جنگی قیدی ہلاک ہوئے ۔ انڈونیشیا کے جاوا جزیرے پر چالیس لاکھ سے زیادہ افراد سے جبری مشقت لی گئى ۔ یہی نہیں جاپانی فوج نے انڈونیشیا اور چین کے کئى علاقوں میں مقامی عورت کی آبرویزی کی اور خواتین کو جنگی محاذوں پر جبراً بھیج کر فوجیوں کے جنسی حوس کا نشانہ بنایا گیا ۔ ایسی خواتین جنگی تاریخ میں کمفرٹ وومن کے نام سے پہچانی جاتی ہیں اور اُن میں کئى نے بعد میں جاپانی حکومت پر ہرجانے کا دعویٰ بھی کیا ۔

مشرقی بعید کیلئے بین الاقوامی فوجی ٹربیونل[ترمیم]

یہ ٹربیونل ، ٹوکیو ٹرائل کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے ۔ اِس عدالت نے 3 مئى 1946 سے اپنے کام کا آغاز کیا ۔ عدالت میں جج کے فرائض سرانجام دینے والوں کا تعلق آسٹریلیا ، کنیڈا، چین ، فرانس، برٹش انڈیا ، ہالینڈ ، نیوزی لینڈ، فلپائن، برطانیہ ، امریکہ اور سوویت یونین سے تھا ۔ جاپان کے جنگی جرائم کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا جن میں کلاس اے میں امن کے خلاف جرائم، کلاس بی میں جنگی جرائم اور کلاس سی میں انسانیت کے خلاف جرائم ۔ جن افراد کو مقدمات کیلئے ملزم کے طور پر نامزد کیا گیا اُن پر ایک رہنماء کی حثیت سے جارحانہ جنگ شروع کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ ملزمان پر چین ، امریکہ، دولت مشترکہ برطانیہ، ہالینڈ ، فرانس (انڈوچائنہ) اور سوویت یونین کے خلاف جنگ شروع کرنے ، جنگی قیدیوں اور عام شہریوں سے غیر انسانی سلوک کرنے اور قتل و غارت کو نہ روک کر اپنے فرائض میں غفلت برتنے کا الزام لگا کر ٹوکیو جنگی جرائم مقدمے کے سامنے پیش کیا گیا ۔ تین مئى 1946 کو سرکاری استغاثہ کے بیان سے مقدے کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔ استغاثہ نے پندرہ مراحل میں شہادتیں پیش کیں ۔ شہادتیں جمع کرنے کا عمل بہت کٹھن تھا کیونکہ جاپانی فوج نے اپنی شکست سے پہلے اپنا بہت سا فوجی ریکارڈ ضائع کردیا تھا ۔ 24 جنوری 1947 کو اسغاثہ کی جانب سے عدالتی کاروائى مکمل کی گئى اور 27 جنوری سے مدعالیان کی جانب سے دفاعی کاروائى کا آغاز کیا گیا ۔ اِن کی دفاع کیلئے سو اٹارنی مقرر تھے ، جنہوں نے عدالتی کاروائى کے آزاد، شفاف اور غیر جانبداری پر شکوک و شبہات کا اظہارکیا ۔ اُنہوں نے بین الاقوامی قانون میں امن کے خلاف جرائم، سازش، جارحانہ جنگ کی تشریحات کو بھی چیلنج کیا ۔ دفاعی اٹارنیز نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی بمباری کو بھی جنگی جرائم میں شامل کرنے کے بارے میں دلائل دئیے تاہم اُسے نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے یہ عدالت سخت تنقید کا نشانہ بنی ۔ اُنہوں نے اپنی جانب سے مقدمے کی کاروائى 225 دِنوں میں مکمل کی ۔ مقدمات کا فیصلہ کرنے کیلئے چھ ماہ تک مزید کاروائى جاری رہی اور 1,781 صحفات تیار کیے گئے ۔ مسلسل چار روز تک فیصلے سنوائے گئے 12 نومبر 1948 کو عدالتی کاروائى اختتام پذیر ہوئی ۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار جاپانیوں پر مقدمات چلائے گئے جن میں زیادہ سے زیادہ 900 کو پھانسی دی گئى اور آدھے سے زیادہ کو عمر قید کی سزا سنائى گئى ۔ جاپان کے جن سرکاری عہدے داروں کو سزا سنوائى گئى اُن میں وزرائے اعظم ، وزرائے خارجہ ، وزرائے جنگ ، چیف کابینہ سکریٹری، گورنرِ کوریا ، وزرائے بحریہ ، جرمنی کیلئے سفیر، چیف آف ملٹری بیورو افیئرز ، اٹلی کیلئے سفیر ، کابینہ پلاننگ بورڈ کے صدر اور وزیرِ مالیات شامل تھے ۔ فوجی عہدے داروں میں شاہی جاپانی بحریہ جنرل سٹاف ، چیف آف انٹیلجنس ، کمانڈر برائے برما ، کمانڈر برائے شنگھائى ، کمانڈر برائے فلپائن اور دیگر شامل تھے ۔ اِن میں چھ جنرل کے عہدے دار تھے اور ایک کرنل تھا ۔ اِس کے علاوہ ایک سیاسی فلاسفرشومئے اوکاوا کو بھی سزا سنوائى گئى تھی ۔ چیف آف انٹیلیجنس جنرل کینجی دوئى ہارا ، وزیرخارجہ کوکی ہیروتا ، وزیرِجنگ جنرل سیشیرو ایتاگاکی، جنگی کمانڈر جنرل ہیتارو کیمورا، جنگی کمانڈر جنرل ایوانے ماتسوئے اور جنگی کمانڈر جنرل ہیدے کیتو(جو بعد میں وزیراعظم بنے تھے) کو سزائے موت دی گئى ۔ نیوریمبرگ ٹرائیلز کی طرح ٹوکیو ٹرائیلز پر بھی خاصی تنقید کی گئى کہ مقدمات میں سنوائے گئے فیصلے فاتح مُلکوں کا انصاف تھا ، جو حق بجانب نہیں ہوسکتا ۔ یہ تنقید بھی کی گئى شاہی خاندان کو کیونکر بری اُلذمہ قرار دیا گیا ۔ اُن پر کیوں مقدمات نہیں چلائے گئے ۔اتحادی افواج کے سپریم کمانڈر ڈگلس میک آرتھر اور اُن کے عملے نے شہنشاہ شوا، اور اُس کے شاہی خاندان کو مقدمات سے بچانے کیلئے بنیادی کردار ادا کیا ۔ شاہی خاندان کے شہزادہ چی چیبو، شہزادہ تسونی یوشی ، شہزادہ آساکا ، شہزادہ ہیگاشی کونی اور شہزادہ ہیرویاسو فوشیمی کو ٹوکیو ٹرائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ میک آرتھر نے بیکٹرئیلوجیکل ریسرچ یونٹوں کے سربراہ شیروایشی اور اُن کے عملے کو بھی مقدمات سے مبرا رکھا ۔

معاہدہ سان فرانسیسکو[ترمیم]

جب جاپان کو جنگ عظیم دوئم میں شکست ہوئى تو امریکہ نے جاپان کے تمام انتظامی امور اپنے ہاتھ میں لیکر امریکی افواج نے شاہی جاپانی فوج اور بحریہ کے اڈوں پر قبضہ کرلیا تھا ۔ جاپانی مسلح افواج کی ہر طرح کی سرگرمی مکمل طور پر ختم کی گئى ۔ امریکی فوج بشمول اتحادی افواج کا منصوبہ تھا کہ جاپان کو فوج سے قطعی طور پر صاف کیا جائے اور ایک ایسا آئین مرتب کیا جائے جس میں فوج رکھنے کی کوئى شِق نہ ہو ۔ سن 1950 میں کوریا کی جنگ شروع ہوئى تو جاپان میں اتحادی افواج کے کمانڈر ڈگلس میک آرتھر نے جاپانی حکومت کو پیرا ملٹری ریزرو پولیس رکھنے کی اجازت دی گئى جو بعد میں جاپان کی سیلف ڈیفینس فورس کے نام سے پہچانی جانے لگی ۔ جب معاہدہ سان فرانسیسکو ہوا تو جاپان کی خود مختاری بحال کردی گئى اور اُسے ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا ۔ معاہدہ سان فرانسیسکو ، امن معاہدے کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے ۔ جاپان نے اتحادی ممالک کے ساتھ اِس معاہدے پر 8 ستمبر1951 کو دستخط کیے جس سے جاپان اور اتحادی ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کا باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا ۔ اِس معاہدے کے تحت جاپان نے اتحادی ممالک کے عام شہریوں اور سابق جنگی قیدیوں کو معاوضہ دینے پر رضامندی ظاہر کی ۔ اِس کانفرنس میں امریکہ، جاپان، برطانیہ، فرانس، انڈونیشیا، آسٹریلیا اور پاکستان سمیت 52 ممالک نے شرکت کی ۔ برما ، بھارت یوگوسلاویہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم اُنہوں نے شرکت نہیں کی ۔ عوامی جمہوریہ چین اور تائیوان نے بھی خانہ جنگی کی وجہ سے حصہ نہیں لیا ۔ سوویت یونین نے اِس معاہدے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ امریکہ اور برطانیہ نے جو امن مسودۀ تیار کیا ہے اُس میں روس کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا اور نہ ہی مشورہ کیا ۔ سوویت یونین کے نائب وزیرِ خارجہ آندرے گرومیکو اور اُن کے وفد نے کئى بار کاروائى روکنے کی کوشش کی اور جس روز معاہدہ دستخط ہورہا تھا اُس روز گرومیکو نے اعتراضات بھرا ایک تفصیلی بیان جاری کیا ۔ سوویت یونین کو یہ اعتراض بھی تھا کہ اِس معاہدے کے بعد جاپان، امریکہ کا فوجی اڈہ بن جائے گا جس سے سوویت یونین کی سلامتی کو براہِ راست خطرہ ہے ۔ معاہدے کے مطابق، بونین اور ریوکیو کے جزائر جن میں اوکیناوا،عمامی، میاکو اور یائی یاما کے جزیرے بھی شامل تھے، امریکہ کے تسلط میں دئیے گئے ۔ جاپانی حکومت، کمپنیوں، تنظیموںاور عام شہریوں کے تمام اثاثوں کو ضبط کیا گیا ۔ ایک اندازے کے مطابق، جاپان کے کوریا میں اثاثوں کی مالیت 46 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ تھی ۔ تائیوان میں 2 ارب 84 کروڑ61 لاکھ ڈالر،شمال مشرقی چین میں 9 ارب 76 کروڑ88 لاکھ،شمالی چین 3 ارب 69 کروڑ 58 لاکھ،وسطی جنوبی چین میں 2 ارب 44 کروڑ 79 لاکھ ڈالر جبکہ دیگر علاقوں میں ایک ارب 86 کروڑ 76 لاکھ ڈالر تھی ۔ جاپان كواثاثوں کے ضبط کرنے کے علاوہ پابند کیا گیا کہ وہ برما کو 20 کروڑ ڈالر، فلپائن کو 55 کروڑ، انڈونیشیا کو 22 کروڑ 30 لاکھ 80 ہزار اور ویت نام کو 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا معاوضہ ادا کرے گا ۔ اِس معاہدے کے شِق نمبر5 کے تحت ، جاپان نے اپنے آپ کو پابند کرلیا کہ وہ اپنے بین الاقوامی تنازعات کوپرامن طریقوں سے حل کرے گا ۔ کسی ملک کی خودمختاری یا سیاسی آزادی کے خلاف دھمکی یا طاقت کے استعمال سے گریز کرے گا ۔ اقوام متحدہ کے اپنے چارٹر کے مطابق کی جانے والی کاروائیوں میں معاونت کرے گا ۔

جنگِ کوریا اور جاپان[ترمیم]

جب امریکہ نے جاپان پر قبضہ کرلیا تو جنگ عظیم دوئم کے اختتام پر اتحادیوں نے کوریا سے پوچھے بغیر،اُن کی سرزمین کو یک طرفہ طور پر امریکہ اور سوویت یونین کے مابین اڑتیئس متوازئ خط پرتقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ چونکہ مشرق و مغرب اور سوشلسٹوں اور سرمایہ داروں کے مابین سرد جنگ شروع ہوچکی تھی اِسلئے نہ صرف یورپ اور افریقہ بلکہ ایشیاء کے کئى حصوں پر ایک اور عالمی جنگ چھڑنے کے آثار خاصے گہرے ہوتے جارہے تھے، بلکہ خدشہ تھا کہ اب ایک ایٹمی جنگ ہونے والی ہے کیونکہ سنہ 1949 کے اواخر میں سوویت یونین ایٹمی صلاحیت کا تجربہ کرچکا تھا ۔ جزیرہ نماء کوریا پرجنگ کے بادل تیزی کے ساتھ چھاگئے تھے کیونکہ جنوبی کوریا ، امریکہ کے زیرِ عتاب تھا جبکہ شمالی کوریا، سوویت یونین اور چین کے زیرِ اثر تھا ۔ کوریا کے اِن دونوں حصوں نے اپنے قانونی ہونے کا دعویٰ کیا ۔ گو کہ جاپان نے کوریا پر سنہ 1910 میں قبضہ کرلیا تھا لیکن اِس سے کافی عرصہ پہلے وہ جاپان کے اثر و رسوخ کے تحت رہا ۔ کوریائى لوگوں نے جاپانی قبضے کے خلاف خاصی طویل جدوجہد کی ۔ جاپان کے خلاف لڑنے والے گوریلہ گروپ کے ایک رہنماء کم ال سنگ تھے جنہیں سوویت یونین سے تربیت اور مالی اور فوجی اعانت ملتی تھی ۔ جب جاپان ایٹمی حملے کے بعد شکست کھانے لگا تھا تو اُسی دوران سوویت افواج نے شمالی کوریا کی جانب سے حملہ کیا اور اُس کی فوجیں بڑھتے بڑھتے اڑتیس متوازی خط تک پہنچ گئیں تھیں جہاں پر جزیرہ نماء کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ۔ گوریلہ لیڈر کیم ال سنگ ، شمالی کوریا کے رہنماء بنے اور اُنہوں نے مُلک کو سوشلسٹ بُنیادوں پر استوار کرنا شروع کردیا ۔ اُنہیں سوویت یونین سے بدستور امداد ملتی رہی لیکن جنوبی کوریا کو امریکہ کی جانب سے کوئى خاص مدد نہیں مل رہی تھی ۔ سنہ 1949 کے اوائل میں جاپان سے آزادی حاصل کرتے وقت کیم ال سنگ نے سوویت یونین کے رہنماء جوزف سٹالن سے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی کوریا پر چڑھائى کرکے اُس پر قبضہ کرلیا جائے ۔ جون 1950 میں شمالی کوریا ئى حکومت نے دونوں کے ادغام کیلئے تجاویز دیں لیکن جنوبی کوریا نے مسترد کیں ۔ پانچ روز بعد ایک اور تجویز پیش کی گئى لیکن وہ بھی مناسب نہ ہونے کی بناء پر مسترد کردی گئى اور اِسی اثناء شمالی کوریا کی فوجوں نے خطِ تقسیم کے مختلف علاقوں سے حملہ کردیا اور مختصر وقت اُن کی پیش قدمی جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول تک پہنچی ۔ اُن کا ارادہ تھا کہ پُسان کی بندرگاہ پر قبضہ کرکے بیرونی کُمک کا راست روک دیا جائے ۔ ستائیس جون 1950 کو سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے شمالی کوریا کی جارحیت کی مذمت کی اور اُس کے خلاف فوجی کاروائى کا حکم دیا ۔ سوویت یونین اور چین نے مخالفت کی ۔ اقوام متحدہ کی زیرِ قیاد فوجوں نے بھرپور تیاری کے ساتھ جوابی کاروائى شروع کی ۔ امریکہ اور اقوام متحدہ کی افواج کی خوش قِسمتی تھی کہ جاپان اگلے محاذ کیلئے بہترین اڈے کے طور پر موجود تھا ۔ جاپان کی بندرگاہیں، ہوائى اڈے اور دیگر تنصیبات کے ساتھ ساتھ ایک تعلیم یافتہ اور جفاکش جاپانی قوم سے بھی استفادہ کیا جاسکا ۔ امریکی بحریہ کیلئے جاپان کے مغربی کیوشو میں بندرگاۀ ساسیبو کافی مدد گار ثابت ہوئى کیونکہ یہ علاقہ کوریا کے جنوب سے تقریباً 165 سمندری میل کے فاصلے پر تھا ۔ اِسی طرح ٹوکیو کے نزدیک یوکوسوکا کا علاقہ جنگی سازو سامان کی صفائى اور مرمت کیلئے بہترین اڈہ تھا ، حالانکہ یہ جنگی محاذ سے 700 سمندری میل کے فاصلے پر تھا ۔ 15 ستمبر 1950 کو امریکی جنرل میک آرتھر نے شمالی کوریائى فوجوں پر 40 ہزار امریکی اور برطانوی افواج کی بھرپور قوت کے ساتھ پیچھے سے حملہ کیا اور شمالی کوریائى فوجوں مارتے دھکیلتے ہوئے چین کے دریائے یالو تک پہنچا دیا ۔ جنرل میک آرتھر کا اندازہ تھا کہ چین مداخلت نہیں کرے گا مگر یہ سب غلط ثابت ہوا اور چین نے تقریباً 3 لاکھ فوج سے حملہ کیا اور سال کے اختتام تک اقوام متحدہ کی فوجوں کو مارتے ہوئے واپس خط تقسیم تک پہنچا دیا ۔ اِس کے بعد جنوری 1951 میں چینی اور کوریائى فوجوں نے موسمِ سرما کا بڑا حملہ کرکے سیئول تک چڑھائى کی ۔ امریکی زیرقیادت اقوام متحدہ کی فوجوں کے حوآلے بڑی حد تک پست ہوچکے تھے اور یہاں تک کہ مقالہ کرنے کیلئے ایٹمی حملہ پر سوچا جانے لگا ۔ کئى محاذوں پر لڑائى کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات بھی ہوتے رہے ۔ سرد جنگ کی پہلی پراکسی جنگ 1950 سے 1953 تک لڑی گئى اور بالاخر 27 جولائى 1953 کو جنگ بندی کا معاہدہ دستخط ہوا ۔ جنگِ کوریا سے جاپان کو اقتصادی طور پر بڑے فوائد حاصل ہوئے ۔ چونکہ اقوام متحدہ کی افواج نے زیادہ تر جنگی کاروائیوں کیلئے جاپان کی سرزمین استعمال کی لہذا یہاں کے کارخانوں اور فیکٹریوں کی پیداوار میں بھر پور اضافہ ہوا کیونکہ ضروریات یہیں سے خرید کر پوری کی جاتی تھیں ۔ روزگار میں تیزی سے اضافہ ہوا اور تعمیراتی کا بڑے پیمانے پر ہوا ۔ چونکہ جاپان، امریکہ کے فوجی دفاعی چھتری تلے رہ رہا ہے اِسلئے اُسے دفاع پر نہ ہونے کے برابر خرچ کرنا پڑا اور تمام فنڈز معاشی ترقی، سرمایہ کاری، صنعتوں کے قیام اور بہتر معاشرتی زندگی پر خرچ ہونے لگے ۔ چونکہ جاپان خطے کے ایک اہم قوت کے طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا اِسلئے معاہدہ سان فرانسیسکو کے ذریعے اُس کے بین الاقوامی وقار کو بحال کیا ۔ بعد میں اِسی معاہدے پر نظرثانی کرکے باہمی تعاون اور سلامتی کا ایک نیا معاہدہ دستخط کیا گیا ۔

جاپان ۔ امریکہ باہمی تعاون اور سلامتی کا معاہدہ[ترمیم]

جنگ کوریا اور سوویت یونین اور چین کی فوجی طاقت نے امریکہ کو مجبور کردیا تھا کہ وہ اپنے دشمن مُلک جاپان کے ساتھ باہمی تعاون اور سلامتی کی بنیاد اپنے روابط کو مزید مضبوط کردے ۔ چونکہ جاپان کی کوریا سمیت چین اور روس کے ساتھ ماضی کے ادوار کئى تلخیوں سے بھرے پڑے تھے لہذا یہ پیش رفت دونوں ممالک کے مفاد میں تھی ۔ جاپان اور امریکہ نے سنہ 1951 کے سلامتی کے معاہدے پر نظر ثانی کرنے اور ایک نیا معاہدہ دستخط کرنے کیلئے سنہ 1959 میں مذاکرات کا آغاز کیا اور بالاخر 19 جنوری 1960 کو دونوں مُلکوں نے واشنگٹن ڈی سی میں باہمی تعاون اور سلامتی کے معاہدے پر دستخط کیے ۔ لیکن توقعات کہیں زیادہ خراب صورت حال اُس وقت سامنے آئى جب یہ معاہدہ منظوری کیلئے 5 فروی کو جاپانی پارلیمان میں پیش کیا گیا ۔ حزب اختلاف نے اِس معاہدے کی بھرپور مخالفت کی اور ایوان نمائندگان میں تند و تیز بحث ہوئى ۔ جاپان سوشلسٹ پارٹی نے اُس وقت کی حکمراں جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے قانون سازوں کو ایوانِ زریں میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی ۔ بڑی تعداد میں پولیس فورس بُلوائى گئى ۔ طالب علموں اور مزدور انجمنوں نے مُلک بھر میں وسیع پیمانے پر مظاہرے شروع کیے ۔ صورت حال یہاں تک ابتر ہوئى کہ امریکی صدر آئیزن ہاور کا طے شُدہ وقت کے مطابق دورہ نہ ہوسکا ۔ یہ جنگ عظیم دوئم کے بعد جاپان کا سب سے بڑا اندرونی سیاسی انتشار سمجھا جاتا ہے ۔ اِسی معاہدے کی وجہ سے جاپان کے وزیرِاعظم کیشی نوبوسوکی کو بھی مستعفی ہونا پڑا ۔ سولہ جون کو معاہدہ منظور ہوا، جس کے مطابق اگر جاپانی انتظامیہ کے ماتحت کسی علاقے پر مسلح حملہ ہوا تو دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند ہونگے ۔ چونکہ جاپان کو صرف خود دفاعی فوج رکھنے کی اجازت ہے اِسلئے وہ امریکی سرزمین پر امریکہ کی مدد کا اختیار نہیں رکھتا ۔ جاپان میں موجود امریکی افواج اگر کسیقِسم کی فوجی نقل و حمل کرے گی تو وہ جاپانی حکومت کو پہلے سے اطلاع دے گی ۔ اِس کے علاوہ بین الاقوامی تعاون اور باہمی اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ یہ معاہدہ دس سال کیلئے دستخط کیا گیا ۔ ٹوکیو اولمپک 1964 جاپان میں گرمائى اولمپک کھیلوں کا انعقاد سن 1964 میں کیا گیا تھا ۔ گو کہ اِس سے پہلے سن 1940 کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی بھی جاپان کو دینے کی منظوری مل گئى تھی ، مگر جاپان کی جانب سے چین پر حملے کے باعث یہ اعزاز ہیلسنکی کو دیا گیا تاہم کھیلوں کا انعقاد نہ ہوسکا کیونکہ جنگ عظیم دوئم کی وجہ اِن کھیلوں کی منسوخی کا اعلان کیا گیا ۔ ٹوکیو اولمپک میں امریکہ نے 36 گولڈ کے ساتھ پہلے ، سوویت یونین نے 30 گولڈ میڈل کے ساتھ دوسرے اور جاپان نے 16 گولڈ میڈلز کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی تھی ۔ یہ ایشیاء میں منعقد ہونے والے پہلے اولمپک کھیل تھے ۔ ایک اندازے کے مطابق ، ٹوکیو میں کھیلوں کے انعقاد کیلئے تقریباً 3 بلین امریکی ڈالرز خرچ کیے گئے ۔

جاپانی صنعتی پیداوار میں تیز ترقی[ترمیم]

امریکی قبضے اور ٹوکیو اولمپک کھیلوں کے بعد جاپانی معاشرہ تیزی سے مغربی انداز اپنانے لگا۔ امریکی موسیقی، لباس اور اندازِ زندگی اپنایا جانے لگا ۔ جاپان کے کئى دانشوروں کی تخلیقات کو یورپ اور امریکہ میں پذیرائى ملنے لگی ۔ جاپانی انیمیشن کارٹون اور مانگا کامِک کتابیں دُنیا بھر میں مشہور ہونے لگیں ۔ کہا جاتا ہے کہ 1960 کی دہائى میں جاپان نے اتنی بہترین معاشی پالیسیاں مرتب کیں کہ اُس کا سالانہ اقتصادی شرح نمو 9 فیصد تک پہنچا ۔ خاص طور پر آٹوموبائل اور الیکٹرانکس کی صنعت نے زیادہ ترقی کی ۔ بندرگاہوں، سڑکوں اور ریلوئے لائنوں کی تعمیر کی گئى ، جس کی وجہ سے جاپانی برآمدات تیزی سے بڑھانے میں بہت زیادہ مدد ملی ۔ سرکاری اخراجات میں کمی کی گئى اور ٹیکس آمدنی کو عوامی فلاحی منصوبوں کیلئے بہتر طور پر استعمال کیا جانے لگا ۔ چونکہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل تھی جس نے 1963 کے انتخابات میں 55 فیصد ووٹ جیتے تھے اور ایوانِ زریں میں 60 فیصد نشیستیں جیت لیں تھی اِسلئے اُسے بہتر پالیسیاں تشکیل دینے میں خاصا اختیار حاصل تھا اور اُس نے مُلک کو بڑی اقتصادی ترقی سے ہمکنار کیا ۔ اُسی دور میں شنکانسن ٹرین کا آغاز کیا گیا ۔ سن 1964 میں آغاز کرنے والے توکائیدو شنکانسن کی ابتداء میں رفتار 210 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی جس کی رفتار سن 2003 میں مقناطیسی نظام کے تحت ورلڈ ریکارڈ 581 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچی ۔ سنہ 1960 کی دہائى میں جاپانی گاڑی ساز صنعت نے تیزی سے ترقی کرنی شروع کی اور کہا جاتا ہے کہ جاپانی وزارتِ بین الاقوامی تجارت و صنعت نے اِس حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا ۔ 1950 کی دہائى کی وسط میں “عوامی گاڑی” تیار کرنے کیلئے کئى اعانتیں دیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب بین الاقوامی سطع پر مسابقت سازی میں تیزی آئى تو وزارت نے 60 کی دہائى کی وسط میں جاپانی گاڑی سازوں کے ادغام پر زور دیا اور نسان نے پرنس موٹرز اور اِسی طرح ٹویوٹا نے ہینو اور ڈائیاہتسو کو ضم کیا ۔ اِس فیصلے کے بہت دور رس نتائج سامنے آئے اور جاپان چند سالوں میں دُنیا کا گاڑیاں بنانے کا چھٹا بڑا ملک بنا ۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد جاپانی الیکٹرانکس مصنوعات میں بھی تیزی سے ترقی ہوئى اور معیار و پیداوار دونوں میں اضافہ ہوا ۔ اِس میدان میں سونی نے بڑا کردار ادا کیا ۔ یہ کمپنی سنہ 1946 میں ماسارو ایبوکا اور آکیو موریتا نے قائم کی تھی ۔ سونی نے جدید الیکٹرانکس میں بڑی تیزی سے ترقی کی اور پہلا پاکٹ سائز ریڈیو ایجاد کرکے سونی نے جاپان اور دُنیا بھر میں بڑا نام کمایا ۔ بعد میں جاپانی کمپنیوں نے ٹرانزسٹرز کے بعد سیمی کنڈکٹرز کی پیداوار شروع کی جس کی دُنیا بھر میں بہت مانگ رہی ۔ جاپانی مصنوعات نے بہتر معیار کی وجہ سے دُنیا کر ہر مارکیٹ پر غالبہ پانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے اُسے امریکہ اور یورپ کے مصنوعات کے مقابلے میں ترجیح دی جانے لگی ۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ جاپان کی ترقی میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اِس پارٹی کا سنہ 1955 میں اُس وقت قیام عمل میں لایا گیا جب جناب یوشیدا شیگیرو کی زیرِقیادت لبرل پارٹی اور جناب ایچیرو ہاتویاما کی قیادت میں جاپان ڈیموکریٹک پارٹی کا ادغام کیا گیا ۔ یہ دونوں قدامت پسند جماعتیں تھیں اور اِن کا مقصد جاپان سوشلسٹ پارٹی کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کرنا تھا ۔ اِسی اتحاد کی بدولت اُنہوں نے بائیں بازوکی جماعتوں کے خلاف اکثریت حاصل کرکے اقتدار سنبھالا ۔ ایل ڈی پی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئى اے سے بھرپور مالی معاونت حاصل کرتی رہی ہے تاکہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات والی بائیں بازو کی جماعتیں اقتدار میں نہ آئیں ۔ امریکی پالیسی تھی کہ جاپان میں کسی بھی صورت میں سوشلسٹوں اور کمیونسٹوں کا زور نہ بڑھے کیونکہ جاپان کے ہمسایہ ممالک سوویٹ یونین ، شمالی کوریا اور چین پہلے ہی سوشلزم کا نظام رائج کرچکے تھے اور امریکہ ، یورپ میں بھی سوشلزم کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اقتصادی اور فوجی اقدامات کرچکا تھا ۔ امریکی جنرل میک آرتھر نے 6 جون 1950 کو اُس وقت کے وزیر اعظم یوشیدا کے نام ایک خط بھیجا تھا جس میں اعلٰی سرکاری عہدوں پر تعینات کمیونسٹ نظریات کی حامل شخصیات نکالنے کی تاکید کی گئى تھی ۔ جریدے ایشیاء پیسیفیک کے مطابق، 1948 سے 1950 تک کی مدت میں انتظامی عہدوں، سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور یونیورسٹی پروفیسروں اور نجی کمپنیوں سے سوشلسٹ نظریات کے 27 ہزار سے زائد افراد کو نکال دیا گیا تھا ۔

جاپان اور جنوب ۔ مشرقی ایشیا ء[ترمیم]

جاپان نے اُن ایشیائى ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی بھرپور کوشش کی جن پر جاپانی شاہی فوج کا قبضہ رھا یا جاپانی جارحیت کا شکار رہے ۔ گو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعلقات میں بہری آئى ہے تاہم یا یاسکونی زیارت کا ذکر کرنا تمہید کے طور پر ضروری ہے کیونکہ یہ معاملہ اب بھی کبھی کبھار اُس وقت تنازعہ کی صورت اختیار کرلیتا ہے جب جاپانی پارلیمنٹ کے اراکین یا مقتدر شخصیات اِس زیارت کا دورۀ کرتے ہیں ۔ یہ شنتو مذہب کی زیارت ہے جواُن افراد کی روحوں کی یاد کیلئے ہے جنہوں نے سنہ 1867 سے 1951 تک سلطنتِ جاپان کی خدمت کی یا لڑتے ہوئے مرگئے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق ، زیارت کے ریکارڈ بُک میں چوبیس لاکھ ، چھیاسٹ ہزار پانچ سو بتیس روحوں کا اندراج کیا جا چکا ہے ۔ اِس میں ایک ہزار اڑسٹھ وہ افراد بھی ہیں جنہیں جنگ عظیم دوئم میں جنگی جرائم کے پاداش میں اتحادیوں کے قائم کردہ ٹربیونلز نے سزائے موت سنا دی تھی ۔ جاپانیوں کو یہ افسوس زندگی بھر رہے گا کہ اُن کے افراد کو جنگی جرم کی بناء پر سزائے موت دی گئى لیکن ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے میں لاکھوں بے گناہ افراد کو ہلاک وہ زخمی کرنے کے جرم میں کسی امریکی کو سزاء نہیں دی گئى ۔ جاپان کے اراکین پارلیمنٹ یا وزیراعظم نے جب بھی اِس زیارت کا دورۀ کیا ہے تو چین، شمالی و جنوبی کوریا اور تائیوان سمیت کئى حلقوں سے تنقید بھری آوازیں اُٹھتی ہیں کہ جن لوگوں نے اِن ممالک کے عوام کے خلاف جنگی جرائم کیے ہیں اُنہیں کسی بھی صورت میں تعظیم پیش نہ کی جائے ۔ جاپان کے سابق وزیر اعظم جُن ایچیرو کوئى زومی اِس حوالے سے خاصے تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں جنہوں نے سنہ 2001 سے 2006 تک باقاعدگی سے یاسکونی زیارت کا نجی طور پردورۀ کیا ۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد ، جاپانی خارجہ پالیسی نے کروٹ لی اور جنوب مشرقی ایشیاء کے جن ممالک کو جاپانی عسکریت پسندی سے بہت نقصان پہنچا تھا اُن کے ساتھ سنہ 1950 کی دہائى میں روابط بحال اور مضبوط کرنے کیلئے مختلف اقدامات کیے گئے ۔ سنہ 1954 میں جاپان نے کولمبو منصوبے میں حصہ لیا اور کئى جاپانی تکنیکی اور زرعی ماہرین کو خطے کے مختلف ممالک میں تربیت اور رہنمائى فراہم کرنے کیلئے بھیجا ۔ اُسی سال کاروباری تنظیم ایشین ایسوسیشن قائم کی گئى جس کا مقصد، جاپانی آلات اور اور ٹیکنالوجی کو ایشیاء کے ترقی پذیر ممالک کو بہم پہنچانا تھا ۔ ایک سال بعد، جاپان نے اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن برائے ایشیاء اور مشرقِ بعید میں شمولیت اختیار کی، اور سنہ 1955 ہی میں جاپان نے ایشیاء۔افریقہ کانفرنس کیلئے وفد بھیجا ۔ جب لبرل ڈیموکریٹک پارٹی معرِض وجود میں آئى تو اُس وقت کے وزیر خارجہ نے خیال ظاہر کیا کہ اُن کا مُلک ، جنوب مشرقی ایشیاء میں استحکام پیدا کرنے کیلئے طویل مدتی اقتصادی منصوبوں کا ارادہ رکھتا ہے ۔ اُسی دہائى میں جاپان نے جنگ کے نقصانات کا ازلہ کرنے کیلئے سنہ 1960 سے پانچ سالہ مدت میں جنوبی ویت نام کو 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ۔ اِسی طرح چھ سالہ مدت میں لاؤس کو 20 لاکھ 80 ہزار ڈالر، کمبوڈیا کو پانچ سال میں 40 لاکھ 20 ہزار ڈالر اور تھائى لینڈ کو 2 کروڑ 68 لاکھ ڈالر کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی گئى ۔ چونکہ اِسی دہائى میں جنگِ ویت نام شروع ہوگئى تھی جو 30 اپریل 1975 تک جاری رہی ، تاہم جاپان نے اپنا غیر جانبدار موقف اپنایا ۔ اِس جنگ میں کوریا کی تاریخ دہرائى گئى جہاں شمالی ویت نام کی کمیونسٹ اتحادیوں نے مدد کی جبکہ جنوبی ویت نام کی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیائى معاہدہ تنظیم سیٹو نے مدد کی ۔ اِس جنگ میں ویت نامیوں نے امریکی استعمار کے خلاف گوریلہ جنگ لڑی جو امریکہ کیلئے بہت مہنگی پڑی اور بالاخر اُسے وہاں سے نکلنا پڑا ۔ ویت نام کی جنگ میں جاپان نے فوجی کردار ادا نہیں کیا بلکہ مزاکرات کے عمل کو آگے بڑہانے کی حوصلہ افزائى کی ۔ امن قائم ہونے کے بعد جاپان اور ویت نام کے سفارتی تعلقات اگست 1975 میں قائم ہوئے ۔

جاپان ۔ چین تعلقات[ترمیم]

جاپان اور چین کی تاریخ کئى باہمی رشتوں اور رنجشوں سے بھری پڑی ہے ۔ کیونکہ جغرافیائى لحاظ سے دونوں ممالک کے مابین پانی کی ایک تنگ سی پٹی حائل ہے اِسلئے ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا ایک فطری سی بات ہے ۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد ، دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں اُس وقت تیزی آئى جب 1960 کی دھائى میں روس اور چین کے تعلقات خراب ہوئے جس کی بناء پر روس نے اپنے تمام ماہرین واپس بلوا لیے اور ایسے میں چین کے پاس بہتر راستہ یہی تھا کہ وہ جاپان کی تکنیکی مہارت اور مستحکم مالی حثیت سے استفادہ کرے ۔ اِس سلسلے میں پہلا بڑا قدم لیؤ۔ تاکاساکی معاہدہ تھا جس کی بدولت جاپان ، چین کو صنعتی کارخانوں کی خرید کیلئے مالی معاونت دینے پر رضامند ہوا اور چین کو ٹوکیو میں اپنا تجارتی مِشن کھولنے کی اجازت دی گئى ۔ دونوں مُلکوں کے باہمی تعلقات میں اُس وقت تیزی پیدا ہوئى جب 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے عوامی جمہوریہ چین کا پہلی بار دورۀ کیا ۔ یہ دورۀ اُس وقت طے پایا جب اُس وقت کے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ھنری کسینجر نے پاکستان کے توسط سے خُفیہ طور پر بیجنگ کا جاکر باہمی تعلقات میں بہتری لانے کیلئے نکسن کے دورے کا اہتمام کیا ۔ جاپان کے اُس وقت کے وزیر اعظم تاناکا کاکوئے نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بیجنگ کا دورۀ کیا اور ستمبر 1972 میں دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات قائم ہوئے ۔ ماؤژے دونگ کی وفات کے بعد چین میں اقتصادی اصلاحات کو آغاز ہوا تو ٹوکیو اور بیجنگ کے تعلقات میں وسعت لانے کی مزید گنجائش پیدا ہوئى ہے، کیونکہ اب چین میں نجی ملکیت کے کاروبار کو ترقی ملنے لگی تھی اور یوں جاپانی سرمایہ کاروں کو سرمایہ لگانے کے کئى شعبے پیدا ہوئے ۔ جاپان اور چین کے مابین امن معاہدے کیلئے سنہ 1974 میں بھی کوشش کی گئى تھی لیکن کچھ شِقوں پر اختلاف کی وجہ سے یہ سلسلہ رُک گیا تھا ۔ شمالی تائیوان میں واقع سینکا کو جزائر پر اور ریوکیو جزائر کے جنوبی حصے پربھی اختلاف تھا ۔ چار سال بعد دونوں ممالک نے امن عمل کو ایک بار پھر بڑھایا اور 12 اگست 1978 کو امن اور دوستی کے معاہدے پر دستخط ہوئے ۔ چین کے رہنماء ڈینگ ژیاؤپنگ اور جاپان کے وزیراعظم فوکودا تاکئو نے اِس معاہدے پر دستخط کیے اور یوں ایشیاء کی دو بڑی طاقتوں کے مابین پرانی دشمنی دوستی میں بدلنے کی راہ ہموار ہوئی۔

فہرست متعلقہ مضامین جاپان[ترمیم]