ونسٹن چرچل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

Winston Churchill

سرونسٹن چرچل

پیدائش: 1874

انتقال: 1965ء

برطانوی سیاستدان ۔ لارڈ رنڈولف چرچل کا بڑا لڑکا۔ ہیرو اور سنڈھرسٹ میں تعلیم پائی۔ ہندوستان کی شمال مغربی سرحد اور پھر جنوبی افریقہ میں سپاہی اور اخباری نمائندہ رہا۔ بوئروں کی جنگ میں گرفتار ہوا۔ مگر بچ نکلا۔ 1901ء میں پہلی بار پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوا۔ اور مختلف عہدوں پرفائز رہا۔

  • نو آبادیوں کا نائب سیکرٹری۔1905ء تا 1908ء
  • صدر بورڈ آف ٹریڈ۔ 1908ء تا 1910ء
  • ہوم سیکرٹری۔1910ء تا 1911ء
  • ناظم اعلی امارت بحری۔ 1911ء تا 1915ء
  • دوبارہ ۔ 1939ء تا 1940ء
  • وزیر اسلحہ۔ 1917ء
  • وزیر جنگ ۔ 1918ء تا 1921ء
  • وزیر فضائیہ۔1919ء تا 1921ء
  • وزیر خزانہ۔ 1924ء تا 1929ء

درہ دانیال کی مہم کی ناکامی کے بعد سیاست سے کنارہ کش ہوگیا۔

1936ءتا 1938ء وزیراعظم چیمبرلین کی ہٹلر کو خوش کرنے کی پالیسی کی بڑی شدومد سے مخالفت کی جس کے سبب دوبارہ سیاست کے افق پر ابھرا۔ دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے پر ناطم امارات بحری کی حیثیت سے کابینہ میں شامل ہوا۔ اور مئی 1940ء میں وزیراعظم بنا۔ جنگ کے بعد 1945ء لیبر پارٹی برسر اقتدار آئی تو قائد حزب اختلاف منتخب ہوا۔ اور اس دوران میں سوویت یونین اور اس کے مغربی اتحادیوں کے مابین مناقشت کے بیج بوئے۔ سوویت یونین کے بارے میں "آہنی پردہ" کی اصطلاح اسی کی ایجاد ہے۔ اکتوبر 1951ء کے انتخابات میں قدامت پسند پارٹی کو دوبارہ منظم کیا۔اکتوبر 1951ء کے انتخابات میں قدامت پسند پارٹی کی جیت ہوئی۔ تو دوبارہ وزیراعظم بنا اور 1955ء میں پیرانہ سالی کے سبب ریٹائر ہوگیا۔

ونسٹن چرچل اعلی درجے کا مدبر لیکن انتہائی قدامت پرست سیاست دان تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے شکست میں اس کی مدبرانہ سوچ نے اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر چرچل نہ ہوتا تو شاید آج دنیا کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اس نے مغربی طاقتوں کو سوویت یونین کو ختم کرنے پر اکسایا لیکن امریکی صدر روزویلٹ نے ، عالمی رائے عامہ کے خوف سے اس کی سخی سے مخالفت کی۔ آخر دم تک برطانوی نوآبادیوں کی آزادی کی مخالفت کرتا رہا۔ مصوری سے خاص شغف تھا۔ کئ کتابوں کا مصنف ہے۔ جن میں تاریخ جنگ عظیم دوم دو جلدوں کی صورت میں شائع ہو چکی ہے۔ 1953ء میں اسے ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔

’’V‘‘یعنی وکڑی کا نشان بھی چرچل ہی کی دین ہے۔

چرچل سخت متعصب شخص تھا، فلسطینی قوم کو اپنے ملک فلسطین سے بے دخل کرنے اور امریکی مقامی باشندوں کا مغربی استحصال پر چرچل کا بیان:[1]

"I don't admit that the dog in the manger has the final right to the manger, even though he may have lain there for a very long time. I don't admit, for instance, that a great wrong has been done to the Red Indians of America, or the black people of Australia. I don't admit that a wrong has been done to those people by the fact that a stronger race, a higher grade race, or, at any rate, a more worldly-wise race, to put it that way, has come in and taken their place."


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ADC

صارفین کے لیے ہدایت نامہ

  • {{ونسٹن چرچل|state=collapsed}} استعمال: اس سانچے کو منہدم (مخفی) حالت میں دکھانے کے لئے۔
  • {{ونسٹن چرچل|state=expanded}} استعمال:اس سانچے کو کھلا (مکمل طور پر دکھائی) حالت میں دکھانے کے لئے۔
  • {{ونسٹن چرچل|state=autocollapse}} استعمال:منہدم (مخفی) حالت میں جب اسی قسم کا کوئی دوسرا سانچہ بھی اس صفحہ پر موجود ہو۔