دوسری جنگ عظیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دوسری جنگ عظیم
WW2.jpg
جنگ عظیم کے مختلف مناظر
تاریخ یکم ستمبر 1939ء تا 2 ستمبر 1945ء
مقام یورپ بحر الکاہل جنوب مشرقی ایشیا مشرق وسطی بحیرہ روم افریقہ
نتیجہ اتحادیوں کی فتح۔ اقوام متحدہ کا قیام۔ امریکہ اور سوویت یونین کا سپر پاور کی حیثیت سے ابھرنا۔ سرد جنگ۔ اتحادیوں کے زیر قبضہ ممالک کی آزادی
متحارب
Flag of the United Kingdom.svg برطانیہ
Flag of the Soviet Union.svg سوویت یونین
US flag 48 stars.svg ریاستہائے متحدہ امریکہ
Flag of the Republic of China.svg تائیوان
و دیگر
Flag of German Reich (1935–1945).svg جرمنی
Flag of Japan (bordered).svg جاپان
Flag of Italy (1861-1946) crowned.svg اٹلی و دیگر
قائدین
Flag of the United Kingdom.svg ونسٹن چرچل
Flag of the Soviet Union.svg جوزف اسٹالن
US flag 48 stars.svg فرینکلن روزویلٹ
Flag of the Republic of China.svg چیانگ کائی-شیک
Flag of German Reich (1935–1945).svg ایڈولف ہٹلر
Flag of Japan (bordered).svg ہڈیکی ٹوجو
Flag of Italy (1861-1946) crowned.svg بینیٹو مسولینی
نقصانات
فوجی ہلاکتیں:
17،000،000
شہری ہلاکتیں:
33،000،000
کل ہلاکتیں:
50،000،000
فوجی ہلاکتیں:
8،000،000
شہری ہلاکتیں:
4،000،000
کل ہلاکتیں:
12،000،000

دوسری جنگ عظیم (انگریزی: World War II یا Second World War) ایک عالمی جنگ تھی جو 1939ء سے شروع ہوئی اور 1945ء میں ختم ہوئی۔

آغاز[ترمیم]

دو جنگ عظیم
پہلی جنگ عظیمدوسری جنگ عظیم

جنگ عظیم کا بیج اسی وقت بو دیاگیا تھا جب معاہدہ ورسائی پر دستخط ہوئے تھے۔ لیکن اس کا باقاعدہ آغاز 3 ستمبر 1939ء کو ہوا جب پولینڈ پر جرمنی حملہ آور ہوا اور برطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ 1918ء سے 1939ء تک کی یورپین تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ اس کا خواہاں تھا کہ ہٹلر زیادہ سے زیادہ طاقت پکڑ جائے۔ اسی غرض سے اس نے چیکو سلواکیہ کے حصے بخرے کیے ، اور پھر پورے چیکوسلواکیہ پر جرمنوں کا قبضہ ہونے پر بھی برطانیہ خاموش رہا کہ ہٹلر کی حکومت مضبوط ہو جائے تاکہ وہ روس پر حملہ کرے۔ مگر جب ہٹلر نے روس پر حملہ کرنے کے بجائے پولینڈ پر حملہ کر دیا تو انگریز گھبرا اٹھے اور انھوں نے پولینڈ کی حمایت میں نازی جرمنی کے خلاف تلوار اٹھا لی۔

واقعات[ترمیم]

1939ء[ترمیم]

ہٹلر اور مسولینی

یکم ستمبر 1939 کو جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا۔ 3 ستمبر برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ 28 ستمبر جرمنی اور روس میں پولینڈ کی تقسیم کے بارے میں معاہدہ ہوا۔ 30 نومبر کو روس نے فن لینڈ پر حملہ کردیا۔ فنلینڈ پر حملے کے بعد جرمن نے روس کو بھی اپنا دشمن بنا لیا

1940ء[ترمیم]

9 اپریل 1940ء کو جرمنی نے ڈنمارک پر قبضہ کر لیا۔ اور ناروے پر حملہ کیا۔ 10 مئی کو جرمنی نے بلیجیم ، ہالینڈ ، اور لکسمبرگ پر حملہ کیا۔انہی دنوں چرچل وزیر اعظم بنا۔10 جون کو اطالیہ نے فرانس کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ 13 جون جرمنی نے پیرس پر قبضہ کر لیا۔ 22 جون فرانس نے ہتھیار ڈال دیے۔ 27 ستمبر کوجرمنی ، اطالیہ ، جاپان کا سہ طاقتی معاہدہ ہوا۔

1941ء[ترمیم]

14 اپریل 1941ء روس اور جاپان نے معاہدہ غیر جانبداری سامنے آیا۔ 22 جون کو روس پر جرمنی نے حملہ کر دیا۔ 25 تا 29 اگست برطانیہ اور روس کا ایران پر حملہ اور قبضہ ہوا۔ 7دسمبر کو جنگ مں اعلان کے بغیر جاپان نے شمولیت اختیار کی۔ 8 دسمبر کو جاپان نے امریکا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ 11 دسمبر کو جرمنی اور اطالیہ کی طرف سے امریکا کے خلاف اعلان جنگ کا ہوا۔


1943ء[ترمیم]

26 جولائی 1943ء میں مسولینی کی حکومت کا تختہ الٹ دیاگیا۔ اور وہ گرفتار ہوا۔ 9 ستمبر 1943ء اطالیہ نے اتحادیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔مسولینی کو خود عوام نے چوک پر پھانسی دینے کے بعد لاش کو آگ لگادی۔

1944ء[ترمیم]

جون 1944ء اتحادی فوجیں سرزمین فرانس پر اتریں. فرانسیسی فوج نےجرمن فوج سے بری طرح شکست کھای اور ھتھیار ڈال دیے. بعد می سب موت کے گھاٹ اتار دیے گۓ.جرمن کا زوال سٹالن گراڈ کی بھیانک جنگ سے شروع ھوا جرمن فوج بلاشبہ کامیاب تھے لیکن سردی اور برف باری نے ان کی شکست یقینی بنادی. ھزارون فوجی سردی کی وجہ سے ھلاک ھوۓ.سٹالن گرڈ کا قومی ھیرو Vasili Zaistovکو مانا جاتا ھے جوکے بھترین نشانہ باز تھے..

1945ء[ترمیم]

28 اپریل کو مسولینی کو اطالوی عوام نے پھانسی دے دی۔ 30 اپریل کو ہٹلر نے خود کشی کر لی۔ 7 مئی کو جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے۔ 6 اگست جو جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکا نے ایٹم بم گرایا۔ 9 اگست کو جاپان کا دوسرا شہر ناگا ساکی ایٹم بم کا نشانہ بنا۔ 14 اگست کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے۔


نتائج[ترمیم]

اس جنگ میں 61 ملکوں نے حصہ لیا۔ ان کی مجموعی آبادی دنیا کی آبادی کا 80 فیصد تھی۔ اور فوجوں کی تعداد ایک ارب سے زائد۔ تقریباً 40 ملکوں کی سرزمین جنگ سے متاثر ہوئی۔ اور 5 کروڑ کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ نقصان روس کا ہوا۔ تقریباً 2 کروڑ روسی مارے گئے۔ اور اس سے اور کہیں زیادہ زخمی ہوئے۔ روس کے 1710 شہر اور قصبے ۔ 70000 گاؤں اور 32000 کارخانے تباہ ہوئے۔ پولینڈ کے 600،000 ، یوگوسلاویہ کے 1700000 فرانس کے 600000 برطانیہ کے 375000 ، اور امریکا کے 405000 افراد کام آئے۔ تقریباً 6500000 جرمن موت کے گھات اترے اور 1600000 کے قریب اٹلی اور جرمنی کے دوسرے حلیف ملکوں کے افراد مرے۔ جاپان کے 1900000 آدمی مارے گئے۔ جنگ کا سب سے ظالمانہ پہلو ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکا ایٹمی حملہ تھا۔ جاپان تقریباً جنگ ہار چکا تھا لیکن دنیا میں انسانی حقوق کے ٹھیکے دار امریکہ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دوسری جنگ عظیم اور برصغیر[ترمیم]

اس جنگ کی وجہ سے جہاں کروڑوں انسانوں کو نقصان ہوا وہی ہندوستان کے لوگوں کو فائدہ ہوا آزادی بھی ملی کیونکہ برطانیہکی معشیت اس جنگ کی وجہ سے کافی کمزور ہو گئی تھی اور وہ جنوبی ایشیاء کے کروڑوں لوگوں جو پہلے ہی بپھری ہوئی تھی کو سنبھال نہیں سکتا تھااور اس جنگ کی وجہ سے بھارت اور اور پاکستان کی آزادی کی راہ ہموار ہئی ۔جنگ کے عالمی منظر نامے پر دوررس اثرات مرتب ہوئے۔ تاج برطانیہ کا سورج غروب ہوا اور جنگ کے بعد اسے اپنے کئی نوآبادیات میں سے نکلنا پڑا جس میں ہندوستان بھی شامل تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی منظر نامے پر دو بڑی طاقتیں نمودار ہوئیں۔ روس اور امریکا ۔ ان دو بڑی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ جس کی وجہ سے کئی چھوٹی جنگیں لڑی گئیں۔ جدید جمہوری ریاستیں اور کمیونسٹ ریاستیں اس جنگ کے بعد ایک دوسرے کےخلاف برسرپیکار ہوگئیں۔