ولادیمیر لینن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ولادیمیر الیچ لینن
ولادیمیر الیچ لینن
مدت دفتر : 8 نومبر 191721 جنوری 1924
جانشین: الیکسژنڈر کیرینسکی
تاریخ پیدائش: 22 اپریل, 1870
جائےپیدائش: سمبرسک، سلطنت روس
تاریخ وفات: 21 جنوری 1924
جا‎ئےوفات: گورکی، سوویت یونین
زوجہ: نادیزہدہ کرپسکایا
سیاسی جماعت: بالشیوک پارٹی
اغزاز:

ولادیمیرالیچ لینن (روسی زبان: Влади́мир Ильи́ч Ле́нин)، پیدائشی نام ولادیمیر الیچ الیانوف (روسی زبان: Влади́мир Ильи́ч Улья́нов) اور فرضی نام وی آئی لینن اور ایں لینن (پیدائش: 22 اپریل 1870ء - وفات: 21 جنوری 1924ء) سمبرسک میں پیدا ہوئے جو دریائے وولگا کے کنارے آباد ہے۔ لینن روسی انقلابی، اشتراکی سیاستدان، اکتوبر کے انقلاب کے رہ نما اور 1922ء روسی سوویت سوشلسٹ جمہوریہ کے پہلے رہنما تھے۔ ٹائم میگزین نامی جریدے نے انہیں بیسویں صدی کے 100 بااثر افراد[1] میں سے ایک قرار دیا۔ نظریہ مارکس میں ان کے حصہ کو نظریہ لینن کہا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

لینن روسی سلطنت کے شہر سمبرسک (جس کا نام تبدیل کرکے الیانوسک کردیا گیا) میں الیا نکولائیوچ اور ماریا ایلکزینڈرونا الیانووا[2] کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد تعلیم کے شعبہ میں ایک کامیاب روسی اہلکار تھے

1886ء میں ان کے والد دماغی شریانوں کے پھٹنے سے انتقال کر گئے۔ مئی 1887ء میں جب لینن سترہ سال کے تھے تو ان کے بھائی الیگزینڈر کو تسار الیگزینڈر سوئم[3] پر ہونے والے قاتلانہ حملہ کے منصوبہ میں شامل ہونے کے شبہ میں گرفتار کر کے دہشتگردی کے الزام میں پھانسی دے دی گئی اور ان کی بہن اینا جو گرفتاری کے وقت اپنے بھائی کے ساتھ تھیں کو ملک بدر کر کے ان کو کوکشکینو بھیج دیا گیا جو کازان سے 25 میل دور ہے۔ اس واقعہ نے لینن کو انتہا پسند بنا دیا، سویت حکومت کی ان پر لکھی سوانح حیات میں ان واقعات کو ان کی انقلابی سوچ کا مرکز تحریر کیا ہے۔

لینن کا بچپن (1887ء)

اس سال جامعہ کازان میں ان کا داخلہ ان کے ذہن میں مچے جذباتی خلفشار کو نماہاں کرتا ہے۔ پیوٹر بیلوسو کی مشہور تصویر وی ول فالو اے ڈفرنٹ پاتھ (جو سوویت کتب میں لاکھوں کی تعداد میں چھپی)، میں لینن اور اس کی ماں کو ان کے بڑے بھائ کے غم میں نڈھال دکھایا گیا ہے۔ یہ فقرہ ‘ہم ایک مختلف راستہ اختیار کریں گے’ لینن کی انقلابی سوچ کو لاقانونیت اور انفرادیت کی جگہ مارکس کے فلسفہ کی پیروی کرنے کی نشاندہی کرتی ہے۔ مارکس فلسفہ کی حمایت میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے پر وہ گرفتار بھی ہوئے، اپنے سیاسی نظریات کیوجہ سے انہیں جامعہ کازان سے خارج کردیا گیا مگر انہوں نہ انفرادی طور پر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور اس دوران کارل مارکس کی کتاب داس کیپیٹل سے روشناس ہوئے۔ انہیں بعد میں جامع سینٹ پیٹرزبرگ میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی اور انہوں نے 1891ء میں محاماہ (انجمنِ وکلاء)[4] میں شمولیت اختیار کی۔

جنوری 1892ء میں اول درجہ میں قانون کی سند حاصل کی۔ انہوں نے لاطینی اور یونانی زبان پر عبور حاصل کیا اور اس کے علاوہ انگریزی، جرمن اور فرانسیسی زبانیں بھی سیکھیں، مگر انگریزی اور فرانسیسی میں ان کی صلاحینیں محدود تھیں اور اس کیلیے انیسا آرمند سے فرانسیسی اور (1917ء میں) انگریزی مکالمہ ترجمہ کرانے میں مدد لیتے تھے۔ اسی سال انہوں نے جینیوا میں ”ایس ایں راوچ“ کو خط میں لکھا “میں فرانسیسی میں تقریر کرنے سے قاصر ہوں”[5]۔

انقلابی سرگرمیاں، سفر اور جلاوطنی[ترمیم]

لینن نے کچھ سالوں تک سمارا (دریائے وولگا کی ایک بندرگاہ[6]) میں وکالت کی، پھر 1893ء میں سینٹ پیٹرزبرگ اگئے۔ یہاں وکالت کی جگہ انہوں نے ایک مقامی مارکسی جماعت کےساتھ انقلابی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ سات دسمبر 1895ء میں لینن کو گرفتار کرلیا گیا اور چودہ مہینے بعد رہائ کے بعد سُشینسکوئے، سائئبیریا بھیج دیا۔ وہاں ان کی ملاقات معروف مارکسی ہستیوں سے ہوئی جن میں گیورگی پلیخانوو بھی تھے جنہوں نے روس میں اشراکیت کو متعارف کرایا[7]۔

لینن دسمبر 1895 کی تصویر

جولائی 1898ء میں لینن نے اشتراکی کارکن نادیزدہ کرپسکایا سے شادی کی اور اپریل 1899ء میں ان کی کتاب “روس میں اشتراکیت کا ارتقاء” The development of Socialism in Russia شائع ہوئی[8]۔ 1900ء میں اپنی جلاوطنی کے خاتمہ پر انہوں نے روس اور یورپ کے دیگر ممالک میں دوبارہ سفر کنا شروع کیا۔ لینن زیورخ، جینیوا، میونخ، پراگ، ویانا، مانچسٹر اور لندن میں قیام پزیر رہے اور اسی دوران جولیس مارٹوو کیساتھ ”اسکرا“ ''Iskra'' (جس کے معانی چنگاری کے ہیں) نامی اخبار نکالا، مارٹوو بعد میں ان کے حریف بنے۔ انہوں نے مستقبل کے جمہوریت پسند حامیوں کی تلاش میں انقلاب پر کئ اور کتب اور مکالمے لکھے۔ لینن نے کئ عرفیت استعمال کیں مگر آخر میں لینن پر اکتفا لیا - مکمل شکل مین ”این لینن“۔ (مغربی اخبارات نے این لینن سے ان کا نام نکولائ لینن فرض کرلیا جو غلط ہے اور روس میں انہیں کبھی اس نام سے نہیں جانا گیا، خود لینن نے کبھی یہ عرفیت استعمال نہیں کی)۔

لینن روسی اشتراکی جمہوری مزدور جماعت (RSDLP, روسی زبان میں РСДРП) کے سرگرم کارکن تھے اور 1903ء میں بولشیوک فرقہ کو لے کر مینشیوک سے الگ ہو گئے۔ جماعت میں شمولیت کیلیے ہمدردوں کی جگہ محض انقلاب پسندوں کا انتخاب لازمی قرار دینے کی رائے شماری میں مینشیوک کی ہار پر ان کے نام بولشیوک یعنی اکثریت اور مینشیوک یعنی اقلیت پڑے۔ اس تقسیم کو لینن کے کتابچہ کیا کرنا چاہئے(1901-1902) What is to be done نے متحرک کیا، جس میں انقلاب کی حکمت عملی پر غور کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ قبل از انقلاب یہ اہم ترین کتابچہ تھا، لینن نے اس سلسلہ میں کہا کے ہر پانچ میں سے تین کارکنوں نے یا تو یہ خود پڑہا ہے یا کسی سے سنا ہے[9]۔

نومبر 1905ء میں جلاوطنی سے 1905 کے روسی انقلاب کیلیے روس واپس آئے۔ 1906 میں[10] RSDLP کی صرارت کیلیے میتخب ہوئے، اس دوران روس اور فن لینڈ کے بیچ کئ چکر لگائے مگر دسمبر 1907 میں انقلابی مہم کو تساری اختیاریوں نے دبا دیا اور لینن ایک بار پھر یورپ واپس آگئے[11]۔ 1917 کے انقلاب تک انہوں نے بیشتر وقت یورپ میں گزارا، اور غربت کے باوجود سیاسی تحریریں جاری رکھیں[12]۔

اشتراکی انقلاب پر ہونے والے فلسفانہ مباحثوں کے جواب میں 1909 میں مادہ پرستی اور اتائ تنقید لکھا جو مارکسی-لیننی فلسفہ کی بنیاد بنا۔ لینن نے اپنا یورپی سفر جاری رکھا اور کئ اشتراکی اجتماع اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہے، جس میں 1912 کی پراگ جماعتی اجلاس شامل ہیں۔ انیسا آرمند نے روس سے پیرس منتقل ہونے کے بعد لینن سمیت کئ اور بولشیوکوں سے ملاقات کی، کہا جاتا ہے کے لینن اور ان کے بیچ محبت[13] کے جذبات تھے مگر اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

2006 لینن کا زیورخ سوئٹزرلینڈ میں لیا کرائے کا کھر

1914ء میں پہلی جنگِ عظیم کے ابتداء میں یورپ کی تمام بڑی جمہوری اشتراکی جماعتوں (جو خود کو مارکسی نظریہ کا حامل کہتی تھیں اور ان میں کارل کاٹسکی جیسے ماہر اشتراکیات شامل تھے) کا جنگی مہم جوئ میں اپنے ملک کی حمایت سے لینن کو یہ جان کر شدید دھچکا لگا اور انہوں نے یہ ماننے سے انکار کردیا کے جرمن جمہوری اشتراکی جماعت نے جنگ کے حق میں رائے دی۔ اس واقعہ سے بین الاقوامی دوئم جو ایسی کئ جماعتوں سے مل کر بنی تھی پاش پاش ہوگئ۔ لینن (جنگ ان کے مطابق اونچے طبقہ کی لڑائ میں مزدوروں اور کسانوں کا استعمال ہے) یے جو نقطۂ نظر اختیار کیا اس کے حساب سے یہ ”سامراجی جنگیں“ طبقاتی خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلیں گی۔ جنگ چھڑنے کے بعد لینن کو آسٹریائ حکومت نے پورونن نامی شہر میں روکے رکھا۔ پانچ ستمبر 1914ء میں لینن غیرجانبدار سوئٹزرلینڈ آگئے، پہلے برن میں رہے پھر زیورخ آگئے۔ 1915ء میں سوئٹزرلینڈ میں جنگ کے خلاف ہونے والے زمروالڈ اجلاس میں شریک ہوئے۔ لینن اس اجلاس میں زمروالڈ کے بائیں اقلیتی حصّہ کی نمائندگی کی، مگر اجلاس میں شامل اکثریتی امن پسندوں کو اس سامراجی جنگ کو طبقاتی جنگ میں بدلنے کے نظریہ کو منوانے میں ناکام رہے۔ اگلے سال سوئٹزرلینڈ ہی کے شہر کینتھل میں (24-30 اپریل 1916ء) خلافِ جنگ اجلاس میں زمروالڈ کے بائیں بازو نے ایسی ہی قرارداد پیش کی مگر آخر میں مفاہمتی منشور پر سمجھوتا ہوا[14]۔

1916ء میں زیورخ میں لینن نے اہم نظریاتی نسخہ سامراجیت، سرمایہ داری کی انتہا لکھا[15]۔ اس نسخہ میں دی گئی دلائل کے مطابق بینکوں کا انظمام اور صنعتوں میں اتحاد تِجّار، مالیاتی سرمایہ کاری کے بڑھنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق سرمایہ داری کی آخری مرحلہ میں زیادہ منافع کی تلاش میں سرمایہ برآمد ہو جاتا ہے[16]۔ اس کے نتیجہ میں دنیا بین الاقوامی اجارہ داروں اور یورپی ممالک (کی کاروباری مقاصد کے تحت دنیا کے بیشتر حصوں میں قائم شدہ بستیوں) کے درمیان بٹ کر رہ گئی ہے۔

روس واپسی[ترمیم]

اپریل 1917 مہں پیٹروگارڈ، فن لینڈ پہنچنے والا لینن کی ٹرین کا قاطرہ

1917ء میں روس کے انقلابِ فروری اور تسار نکولس دوئم حکومت سے دستبردار ہونے کے بعد لینن نے اندازہ لگا لیا کے اب ان کا جلاد از جلد روس پہنچنا ضروری ہے، مگر جنگ عظیم کے دوران غیرجانبدار سوئٹزرلینڈ میں رہنے کیوجہ سے وہ حالات حاضرہ سے کٹ کر رہ گئے تھے۔ اس کے باوجود سوئس اشتراکی فرٹز پلاٹن جرمن حکومت کو لینن کو جرمنی کے راستے بند ٹرین میں لینن اور اس کے ساتھیوں کو سفر کرنے کی اجازت دے دی۔ جرمن حکومت کا اصل مقصد روس میں سیاسی تناؤ پیدا کرنا تھا تاکہ مشرقی سرحدوں پر جنگ بندی ہو جائے اور وہ مغربی اتّحادیوں کو شکست دے سکے۔ گرمنی سے نکلنے کے بعد لینن کشتی کے ذریعہ سوئڈن پہنچے اور باقی اسکینڈینیویا میں ان کے سفر کا بندوبست سوئیڈش اشتراکی اوٹو گرملند اور تور نرمن نے کیا۔

16 اپریل 1917ء میں لینن کی ٹرین کو فن لینڈ میں پیٹروگارڈ[17] کے ریلوے اڈہ پر ہنگامہ انگیز استقبالیہ ملا۔ انہوں نے فورا ہی بولشیوک تحریک کی کمان سنبھال لی اوراپریل مقالہ شائع کرایا[18]، جو عارضی حکومت کے ساتھ غیر،صالحانہ مخلافت کا کھلا اعلان تھا۔ ابتدائی طور پر لینن نے اپنی جماعت کا جھکاؤ بائیں طرف رکھ کر اسے علٰحدہ رکھا۔ حالانکہ اس غیر مصالحتی رویہ سے بولشیوک ان لوگوں کا گھر بن جاتا جو عارضی حکومت کے فریبِ نظر سے باہر آتے اور اس کے علاوہ حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کیوجہ سے بولشیوک پر حکومتی حکمتِ عملی کی تعمیل کرانے کی بھی کوئی ذمہ داری نہیں رہتی[19]

۔

اس دوران الیکزنڈر کیریننکی، گریگوری الیکسنسکی، اور دوسرے مخالفین نے بولشیوک اور خاص طور پر لینن پر جرمن ایجنٹ[20] ہونے کا الزام لگایا جس کے جواب میں لیون ٹراٹسکی ایک نئے بولشیوک راہنماء نے 17 جولائی کو ایک دفائ تقریر میں جو کہا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں،

”ایک ناقابل برداشت فضاء قائم کردی گئی ہے، جس میں میرا اور آپ سب کا دم گھٹ رہا ہے۔ لینن اور زنوویو پرغلیظ الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ لینن نے تیس سال انقلابی جنگ میں گزارے ہیں، میں نے بیس سال انسانی ظلم و زیادتی کیخلاف لڑے ہیں۔ اور ہم کچھ نییں بس جرمن فوجی مہم جوئی کی مزمت کرتے ہیں۔۔۔۔ مجھے جرمن عدالت نے جرمن فوجی مہم جوئ کی مخالفت پر 8 مہیننہ جیل سنائی۔ یہ سب جانتے ہیں۔ اس کمرے میں کسی کو حق نہیں کے وہ ہمیں جرمن کرائے کا ٹٹو کہے“[21]۔

جولائی کے دنوں کے ہنگاموں کے بعد دارالحکومت میں کارکنوں اور فوج کا حکومتی دستوں سے جھڑپوں کے بعد لینن جان بچانے فن لینڈ بھاگ گئے تاکہ کرینسکی ان کو گرفتار نا کرالے۔ ان ہنگاموں میں بولشیوک کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ ابھی انقلاب کا صحیح وقت نہیں آیا تھا، لینن کے مطابق : شہر میں کارکنان تیار بیٹھے تھے مگر ابھی کسانوں کی حمایت باقی تھی۔ فن لینڈ کے مختصر قیام کے دوران انہوں نے اپنی کتاب مملکت اور انقلاب ختم کی، جس میں ایک نئی حکومتی ڈھانچے کا خیال پیش کیا جو مزدور یونین پر مبنی ہو اور اس کا انتخاب اور منسوخی بھی وہ ہی کریں۔ اگست میں جنرل کورنیلوو کے حملہ کی کوشش منسوخی کے بعد اکثریت نے بولشیوک کے ’امن، روٹی اور زمین‘ کے نعرہ کا ساتھ دیا۔ بولشیوک رہنمائوں کو جیلوں سے رہا کر دیا گیا اور لینن اکتوبر میں پیٹروگارڈ واپس آئے اور اکتوبر کے انقلاب کو ”تمام طاقت سویت کے پاس!“ کا تعرہ دیا اور 6-8 نومبر کے دوران عارضی حکومت کا تختہ پلٹنے کیلیے سمولنی ادارہ سے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ سات اور آٹھ نومبر کی رات ونٹر پیلیس ہر دھاوا سوویت اقتدار کا سنگ بنیاد بنا۔

سوویت اسٹیٹ کے رہنما[ترمیم]

1919 میں لینن اپنی بیگم کیساتھ

8 نومبر 1917ء میں روسی سوویت کانگریس نے لینن کو چیئر آف دی کاؤنسل آف پیپلرز کامیسارز کے لیے منتخب کیا۔

”اشتراکیت سویت طاقت اور ملک میں بجلی کی ترسیل کا مجموعہ ہے۔“[22] اس بات سے لینن کا مقصد صنعت اور زراعت میں جدت پیدا کرنے کیلیئے روس کے کونے کونے میں بجلی کی فراہمی ہے۔

”ہمیں کسانوں کو دکھانا ہے کہ کسطرح صنعت کی تنظیم کے لیئے جدت اور فنیات کی پیش قدمی میں بجلی کی فراہمی کی افادیت، جو شہروں اور دیہاتوں کے درمیان رابطہ قائم کرے گی اور ان کا فرق مٹائے گی اور ممکن کرے گی نواحی علاقوں میں معیار زندگی کو بلند کرنا اور قابو کرنے میں دور دراز کے علاقوں سے دقیانوسیت، جہالیت، غربت، بیماریوں اور بربریت کو۔“[23]

انہوں نے GOELRO پلان کا سنگ بنیاد رکھا اور اپنی نگرانی میں اس کی تدبیر اور تکمیل رکھی، یہ پہلا سوویت منصوبہ برائے قومی اقتصادی استحصال اور ترقی تھا۔ ان کی اہم ترین فوقیات میں مفت صحت عامہ، عورتوں کے حقوق اور ان پڑھ روسی باشندوں کو تعلیم دلانا تھا۔ مگر یہ سب کرنے سے پہلے بولشیوک حکومت کو پہلی جنگ عظیم سے روس کو باہر نکالنا تھا[24]۔

جرمنی کی مغربی سرحدوں پر سرگرمیوں کے پیش نظر لینن نے فوراّ امن معاہدہ کرنے خیال ظاہر کیا، دوسرے بولشیوک سربراہ جیسے بخارن نے جنگ جاری رکھنے کی حمایت کی تاکہ جرمنی میں بھی انقلاب لایا جاسکے۔ ٹراٹسکی جو مزاکرات کی سربراہی کر رہے تھے، ”نہ جنگ، نہ امن“ کی تائید کی، اور اس صورت میں امن معاہدہ پر کرنے کو تیار ہوئے کے کوئی فریق قبضہ کی زمین پر حق نہیں جمائے گا۔ مزاکرات کی ناکامی کے بعد جرمن فوج نے ایک بار پھر فوجی کاروائی شروع کردی جس کے نتیجے میں روس نے اپنا مغرم میں کافی حصّہ گنوا دیا۔ ان واقعات نے لینن کی سربراہی کو بولشیوک حکومت اکثریتی حمایت دلائی۔ تین مارچ 1918ء میں لینن نے روس کو پہلی جنگ عظیم سے بریسٹ-لٹوسک معاہدہ پر راضی ہوکہ باہر نکال لیا، جس کے باعس روس نے یورپ میں اپنا کافی حصہ گنوا دیا۔

جوزف اسٹالن، ولادیمیر لینن اور میخائیل کالانن 1919 میں

انیس جنوری میں روسی مجلس دستور ساز اپنے پہلے اجلاس میں برخاست کر دی گئی اور بولشیوک نے اپنے بائیں اشتراکی انقلابیوں کے اتحاد میں سوویتوں کا ہاتھ پکڑے رکھا۔

بولشیوک نے اشتراکی انقلابیوں بائیں بازو کے ساتھ اتحادی حکومت بنائی، مگر یہ اتحاد زیادہ عرصہ نہ چل سکا جب اشتراکی انقلابیوب نے بریسٹ-لٹوسک معاہدہ کی مخالفت کر دی اور بولشیوک حکومت کا تختہ الٹنے کیلیئے دوسری جماعتوں کا رخ کیا۔ لینن نے ان سرگرمیوں کے جواب میں بڑے پیمانے پر کاروائی شروع کی جن میں مخالف جماعتوں کے کچھ کارکنوں کو جیل بھی بھیجا گیا۔

1918 کے ابتداء میں لینن نے مہم کا آغاز کیا جس میں فرد واحد (اسٹیٹ کا وہ ذمہ دار جس سے مزدور اصلاحات کا مطالبہ کر سکیں) کو ہر ادارے کا ذمہ دیا گیا (جس کے حکم کی تعمیل مزدوروں پر اس کے برخاست پونے تک لازمی تھی) یہ مزدوروں کے خود نظامی تصور سے برعکس تھا اس کے باوجود لینن نے اسے مہارت حاصل کرنے کیلیئے لاذمی قرار دیا (خود نظامی نظریہ کے حامیوں نے اس اقدام کا مقصد مزدوروں پر مکمل حکومتی تسلط قائم رکھنا بتایا اور خود نظامی تصور کی ناکامی کی ذمہ داری وسائل کی کمی کو ٹھرایا - ایک ایسا مسئلہ جسے ایک مہینہ تک حکومت کی مزدوروں کی اجاذہ داری نے ثابت کردیا) جیسے ایس۔اے۔ اسمتھ لکھتے ہیں ”خانہ جنگی کے اختتام پر صنعتی نظام کی جمہوری صورت میں سے کچھ ہی باقی بچا جس کی 1917ء میں صنعتی کمیٹیوں نے ترغیب دی تھی، مگر حکومت کے مطابق اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ صنعت کی ملکیت مزدور اسٹیٹ کو منتقل کی جا چکی ہے۔“

لینن آئیرش اشتراکی انقلاب پسند جیمس کونولی کو بہت سراہتے تھے اور سوویت یونین وہ پہلا ملک تھا جس نے آئیرش ریپبلک کو تسلیم کیا جس نے برطانیہ سے آزاردی کی جنگ لڑی۔ وہ ان کے بیٹے روڈی کونولی سے اکثر ملتے اور ان کے کافی گہرے دوست تھے۔

خفیہ پولیس[ترمیم]

لینن 1918 میں اپنے کریملن آفس میں

نو منتخب بولشیوک حکومت کا حکومتی حریفوں اور انقلاب دشمنوں سے دفاع کیلیئے چیکا نامی خفیہ پولیس کی دسمبر 1917ء میں بنیاد رکھی گئی[25]۔

بولشیوک حکومت نے تسار کا فیصلہ مقدمہ چلا کر کرنے کا فیصلہ کیا تھا، مگر جولائی 1918ء میں جب سفید فوج ییکاٹیرنبرگ کی طرف بڑھنے لگی جہاں شاہی خاندان کو قید کیا گیا تھا تو سویرڈلوو نے درخواست کی کے اس سے پہلے کے تسار کی بازیابی سے پہلے انہیں ہلاک کر دیا جائے۔ تسار اور ان کے خاندان کو فوراّ قتل کردیا گیا، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کاروائی کا حکم کس نے دیا[26]۔ لینن کو اس واقعہ کی اطلاع کافی دیر سے ملی مگر انہوں نے اس کی کوئی خاص تردید نہیں کی۔ چیکا کو کسی بھی قسم کی تحریروں کو عوام تک پہنچنے سے پہلے روکنے کی ذمہ داری دی گئی۔ ”17 نومبر کو مرکزی مجلس منتظمہ کے حکم پر نظام دشمن اخبارات کی اشاعت اور ان کو بند کرنے کا اختیار بولشیوک حکومت کو دے دیا گیا“۔ چیکا نے ان تمام آوازوں کو دبا دیا جو حکومت کے خلاف بلند ہوئیں۔

قاتلانہ حملے[ترمیم]

چودہ جنوری 1918ء میں لینن پر اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ اپنی گاڑی میں فرٹز پلاٹن کے ساتھ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرکے واپس جا رہے تھے۔ حملے کے وقت وہ دونوں گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھے تھے، ”پلاٹن نے لینن کے سر کو پکڑ نیچے کیطرف دھکیل دیا۔۔۔ پلاٹن کے ہاتھ خون میں بھر گئے جب لینن کو بچاتے ہوئے ایک گولی ان کو چھوتی ہوئی گزر گئی۔[27]

تیس اگست 1918ء میں اشتراکی انقلابی جماعت کی کارکن فانیہ کاپلان لینن کی طرف بڑھیں، لینن ایک اجلاس میں شرکت کے بعد اپنی گاڑی کیطرف بڑھ رہے تھے۔ ابھی انہوں نے گاڑی میں قدم رکھتے ہی فانیہ نے ان کو آواز دی اور ان کے پلٹتے ہی اس نے تین گولیاں چلائیں جس میں دو لینن کو لگیں۔ پہلی گولی ہاتھ میں لگی جو بیزرر رہی مگر دوسری ان کے جبڑے اور گردن پر لگی۔ تیسری گولی ایک خاتون کو لگی جو فائرنگ سے قبل لینن سے بات کر رہی تھیں[28]۔ لینن بیہوش کو کر زمیں پر گر گئے جہاں سے انہیں ان کے کریملن اپارٹمنٹ لایا گیا کیونکہ ہسپتال لے جانا خطرناک ثابت ہوسکتا تھا۔ ڈاکٹروں کو وہیں طلب کیا گیا مگر صلاح مشورہ کے بعد ان کی جان کو لاحق خطرے کے باعث گولی نہیں نکالی گئی۔

لینن کی صحتیابی کے دوران پراودا اخبار نے فانیہ کاپلان کو زمانہ حال کی شارولیٹ کورڈے بنا کر پیش کیا اور اپنے صارفین کو واقعہ کے فوراّ بعد یقین دلایا کہ ”لینن، دو گولیاں، چھدے ہوئے پھیپڑے اور بہتا ہوا خون، مگر کسی کی مدد لینے سے انکار کرکے خود کو سنبھالتے پیں۔ اگلے دن تمام خطروں کے باوجود، اخبار پڑھتے ہیں، سنتے ہیں سمجھتے ہیں اور مشاہدہ کررہے ہیں اس گاڑی کے انجن کا جو ہمیں کروی انقلاب کیطرف لے جائے گیا، ابھی چل رہا ہے۔۔۔۔۔“ گوکہ لینن کے پھیپڑوں میں چھید نہیں تھا مگر جبڑے اور گردن پر لگی گولی کے زخم سے خون بہہ کے ان کے سینے میں چلا گیا تھا، جو کافی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا[29] ۔

باقی اخبارات میں بھی ایسی ہی خبریں تھیں اور عوام کو حقیقت کا کم ہی علم تھا—اقدام قتل کا، قاتل کا، اور لینن کی حالت کا۔ تاریخدان رچرڈ پائپ لکھتے ہیں ”ایسا لگتا تھا کہ۔۔۔۔۔ بولشیوکوں نے جانتے بوجھتے ہوئے معاملہ کو دبا دیا تاکہ عوام کو یقین دلایا جا سکے کے انہیں حالات پر پورا قابو ہے۔“

اس حملے کے بارے میں لیونائڈ کراسن سات ستمبر 1918 میں اپنی بیوی کو لکھتے ہیں:

”اس واقعہ کے بعد، لینن پر ہوئے قاتلانہ حملے نے ان کی مقبولیت کو مزید اضافہ کر دیا تھا۔ سننے میں آیا ہے کہ کئی لوگ جو دل میں بولشیوک کے لیئے ہمدردی کا کوئی جذبہ نہیں رکھتے تھے، یہ کہتے سنے گئے کہ لینن کا جانبر ہونا بہت بڑا حادثہ ہوگا، جیسا کے پہلے لگ رہا تھا۔ اور ہو سہی کہتے ہیں، کیونکہ اس غیر یقینی حالات میں وہ نئے سیاسی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، وہ سہارا جس پر سب ٹکا ہوا ہے۔[30]

اس واقعہ کے بعد لینن کا مسلک وجود میں آیا جس کی وہ خود حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ اس واقعہ کہ بعد لینن کی صحت گرتی رہی اور ان ہر بعد میں گرنے والے فالج کے حملہ کی وجہ اسی کو قرار دیا گیا[31]۔

لینن اور سرخ دہشت (Red Terror)[ترمیم]

لین پر قاتلانہ حملہ اور خفیہ پولیس کے افسر اعلٰی موئیسی اٹرسکی کے پیٹروگارڈ میں قتل کے بعد اسٹالن نے ٹیلی گرام کے ذریعہ ان واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف ”دہشت کا کھلا اور منظم منصوبہ“ شروع کرنے پر زور دیا۔ بولشیوکوں نے حامی بھر لی اور فیلکس زیرزنسکی جنہیں 1917 میں لینن نے چیکا کا سربراہ منتخب کیا تھا، کو سرخ دہشت کے آغاز کا اشارہ کیا، جسکے بارے ایک ستمبر 1918 میں سرکاری طور پر بولشیوک اخبار کراسنایا گزیٹا کے زریعہ عوام کر مطلع کیا گیا۔ کرسٹوفر ریڈ کے مطابق اس وقت لینن خود پر ہوئے قاتلانہ حملے کیوجہ سے جوابی کاروائی کی ہدایت دینے کی حالت میں نہیں تھے۔ دوران علاج لینن نے ھداہت کی ”یہ زروری پے - کہ خفیہ اور فوری طور پر دہشت کی تیاری کیجائے۔“ مشتبہ دشمنوں کو اذیت دینے، کوڑے مارنے، اپاہج کرنے اور قتل تک کر دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس سلسلے میں لوگوں کو گولی مار کر، پانی میں ڈبا کر، زندہ دفنا کر یا تلوار کے وار سے زخمی کرکے ہلاک کیا کیا۔ اکثر قتل کرنے سے پہلے مقتول سے اس کی قبر تک کھدوائی جاتی تھی۔ ایسے سنگدل اور بےرحم واقعات کے اکثر شواہد ملتے ہیں۔ چیکا کے مارٹن لاسٹس کے دیے گئے نیم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آر ایس ایف ایس آر میں 1918-1920 کے درمیان 12،733 ھلاکتیں کی گئیں، جن میں سے 3،082 کو بغاوت میں حصہ لینے، 2،024 کو انقلاب مخالف تنظیموں میں شمولیت پر، 643 کو غنڈہ گردی، 455 کو تحریک چلانے پر، 206 کو بدعنوانی، 102 بھگوڑوں اور اتنے ہی جاسوسی کے الزام میں قتل کیے گئے۔ کئی محتقین نے ان اعداد کو اصل سے کافی کم بتایا ہے، کیونکہ ان میں یوکرائن اور کرائیمیا کے اعداد کو شمار نہیں کیا گیا ہے۔ 1920میں جنرل رینگل کے جانے بعد تقریبآ پچاس ہزار افراد کو گولی سے یا پھانسی لگا کر ہلاک کیا گیا۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق 1917 سے 1922 کے درمیان دولاکھ اسی ہزار افراد چیکا کے ہاتھوں قتل ہوئے جن میں سے آدھے بغیر کسی مقدمہ چلائے اور آدھے بغاوت کو دبانے کی مد میں قتل ہوئے (مثلآ ٹامبوو بغاوت)۔

اورلینڈو فگس کے مطابق لینن ہمیشہ ہی ”انقلاب دشمن عناصر کیخلاف دھشت“ کے حق میں تھے۔ اور وہ اپنے اس خیال کا کھلا اظہار کرتے تھے کے یہ عوامی ملک میں سرمایہ داری نظام کیخلاف ہمیشہ تشدد پسندانہ رویہ برقرار رکھا جائے گا۔ 1918 میں جب کامانیو اور بخارن نے چیکا کی سرگرمیوں کو روکنے کی صلاح پیش کی تب لینن نے یی اس دہشت کا دفاع کیا۔ انیس مارچ 1922 میں موٹولوو اور پولٹبرو کے ممبران کو لکھے گئے خط میں شوئیا کے شہر میں اٹھی سرکشی کو دبانے کیلیئے اہل کلیسا اور ان کے ماننے والوں کے خلاف ایک سفاک منصوبہ تیار کیا جب انہوں نے چرچ کے نوادرات ضبط کرنے کے حکومتی فرمان کی خلاف ورزی کی۔ ”ہمیں (۔۔۔) ایسی ہر اٹھی آواز کو اس سفاکی سے دبانا ہے کے آنے والے سالوں میں کوئی اسے بھول نہ سکے۔ (۔۔۔) جتنے زیادہ سرکش کلیسا کے نمائندوں اور سرکش کارکنان کو ہم قتل(۔۔۔) کر سکیں اتنا بہتر ہے“۔ گرجا گھر کے اعداد و شمار کے مطابق 2691 پادریوں، 1962 راہبوں، اور 3447 خدمت گزار خواتین کو اس سال قتل کیا گیا۔

روسی اشتراکی جماعت اور خانہ جنگی[ترمیم]

لینن خطاب کرتے ہوئے

مارچ 1919 میں لینن اور دوسرے بولشیوک رہنمائوں نے دنیا بھر کے انقلابی اشتراکیوں سے ملاقات کی اور اشتراکِ بین الاقوامی کی بنیاد رکھی۔ اشتراکِ بین الاقوامی کے ممبران جن میں لینن اور بولشیوک شامل تھے اشتراکی مہم سے الگ ہوگئے۔ یہاں سے آگے وہ کمیونسٹ جانے جائیں گے۔ روس میں بولشیوک پارٹی کا نام بدل کر روسی اشتراکی جماعت رکھ دیا گیا جو بعد میں سی پی اس یو کے نام سے جانی گئی۔

اس دوران روس میں خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا۔ کئی سیاسی قووتوں نے اس میں حصہ لیا اور انہوں نے سوویت حکومت کیخلاف ھتیار اٹھا لیئے۔ گوکہ اس خانہ جنگی میں کئی تنظیمیں شامل تھیں مگر دو بڑی قووتیں جو اٹھ کر سامنے آئیں وہ سرخ فوج (اشتراکییوں) اور سفید فوج (روایت پسند) تھیں۔ بیرونی طاقتوں نے، جن میں فرانس، برطانیہ، ریاسَتہاۓ مُتحِدہ امریکا اور جاپان نے(سفید فوج کی حمایت میں) اس جنگ میں کافی مداخلت کی۔ بالآخر سرخ فوج کو لیون ٹراٹسکی کی سربراہی میں جنگ میں فتح حاصل ہوئی۔

اس خانہ جنگی کو ”سفاکی میں بینظیر“ مانا جاتا ہے، اس دوران دونوں طرف سے بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کی گئی۔ اس خانہ جنگی کے دوران قتل، وباء اور قحط کے باعث کئی لاکھ ہلاکتیں پوئیں۔

1919 کے آخر میں سفید فوج کیخلاف فتح نے انقلاب مغرب کی جانب بڑھانے پر لینن کے حوصلہ کو حوصلہ کو بلند کیا اور جب نئی آزاد پولش ریپبلک دوئم نے اپنی ان مشرقی سرحدوں کو روس کے قبضہ سے دوبارہ بازیاب کرانا شروع کیا۔ انہیں اٹھارویں صدی کے اختتام پر روس نے پولینڈ کے بٹوارہ کے وقت قبضہ میں لیا تھا۔ ان علاقوں کی بازیابی کیلیئے ان کا سامنا بولشیوک فوج سے ہوا اور 1919 میں پولش - سوویت جنگ کا آغاز ہوا۔ ادھر جرمنی میں اسپارٹسسٹ لیگ کی انقلابی سرگرمیوں میں آنے والی تیزی کو لینن نے یورپ کو ”سرخ فوج کی سنگین سے بھونکے جانے“ کا بہترین موقع سمجھا اور اس کام کیلیئے ان کی نظروں نے پولینڈ کو روس اور جرمنی کے انقلاب کو ملانے کے پل کی صورت میں دیکھا مگر اس جنگ میں سویت روس کی ہار نے اس منصوبہ کو ناکارہ بنا دیا۔

خانہ جنگی کے دوران شہروں تک خوراک کی ترسیل کو برقرار رکھنے کی کوشش میں اور فوج کو اقتصادی بحران سے بچانے کی کوشش میں بولشیوک نے جنگی اشتراکیت اپنانے کا فیصلہ کیا اور کسانوں سے غلہ کم قیمت یا بغیر کسی معاوضہ کی ادائگی کے وصول کرنا شروع کیا اس کے نتیجے میں کسانوں نے پیداوار میں انتہائی حد تک کمی کردی۔ اس کے بعد کسانوں کے ذاتی ضروریات پوری کرنے کہ لیے اگائے گئے غلہ اور بیج تک کو چھینا جانے لگا۔ اس کے نتیجہ میں ہونے والے بڑھتے تنازعات میں میں چیکا اور فوج نے یرغمالیوں کا قتل عام شروع کردیا، اور اشتراکیت کی کالی کتاب کے مطابق اس کا اختتام دوسری مکمل کسانوں کیخلاف خانہ جنگی سے ہوا جس کے دوران زہریلی گیس، قتل گاہوں، اور جلاوطنی کی مدد لی گئی۔ اسی کتاب میں لکھا ہے کہ لینن نے اس دوران کسانوں سے مزید غلہ آٹھانے کا حکم دیا اور چیکا نے بڑے پیمانے پر قحط پھیلنے کی بھی اطلاع دی ہے۔ 1921 کی خانہ جنگی اور قحط کے دوران تیس لاکھ سے ایک کڑور کے درمیان ہلاکتیں ہوئیں۔

اتنے سالوں کی جنگ، بولشیوک کی جنگی اشتراکیت، 1921 کے قحط اور حکومتی دباؤ نے روس کو بہت نقصان پہنچایا اور ملک کا بیشتر حصّہ کھنڈر کا سما پیش کرنے لگا۔ کسان اس دوران کئی دفعہ بغاوت پر اترے جن میں مشہور ترین بغاوت ٹامبوو بغاوت تھی۔ مارچ 1921 میں کرونسٹاڈ میں ہونے والی بغاوت کے بعد لینن نے جنگی اشتراکیت کو نئی اقتصادی حکمت عملی (این۔ای۔پی) سے بدل دیا، تاکہ صنعت خاص طور پر زراعت کو دوبارہ کھڑا کیا جا سکے۔ نئی حکمت عملی کی بنیاد سیاسی اور اقتصادی حقیقتوں کو منوانے پر رکھی گئی گوکہ اس کا مقصد اشتراکی معیار کو پسپا کرنا کم ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس پالیسی حکمت عملی کو بعد میں اسٹالن نے مکمل طور پر بدل دیا۔


آخری ایام اور انتقال[ترمیم]

مسلسل جنگ اور انقلابی سرگرمیوں کے دباو کی وجہ سے لینن کی صحت دن بدن گرتے لگی اور قاتلانہ حملہ میں لگی گولی ابھی بھی ان کی گردن میں پیوست تھی جس سے بیماری بڑھتی گئی۔آخر کار 24 اپریل 1922 میں ایک جرمن ڈاکٹر نے جراحی کے ذریعہ گولی نکالی۔ مئی 1922 میں ان پر فالج کا پہلا حملہ ہوا جس سے ان کے جسم کا دایاں حصّہ متائثر پوا جس سے ان کا حکومت میں کردار کم ہو گیا۔ اس ہی سال دسمبر میں ان پر ہونے والے فالج کے دوسرے حملہ کہ بعد انہوں نے سیاست کو خیر آباد کہہ دیا۔ مارچ 1923 میں ان پر فالج کا تیسرا حملہ پوا جس کے بعد ان کی باقی عمر بستر پہ گزری اور وہ بولنے کے قابل بھی نہ رہے۔

فالج کے پہلے حملہ کہ بعد وہ حکومتی کام اپنی بیوی کو املاء کراتے تھے۔ ان میں مشہور ترین تحریر ”لینن کی وصیت“ ہے جو 1922 کے جارجین افیئر سے قدرے متائثر تھی اور باقی باتوں کے علاوہ اس میں اونچے درجے کے کمیونسٹ لیڈروں جوزف اسٹالن، گریگوری زیویو، لیو کامانیو، نکولائی بخارن اور لیون ٹراٹسکی پر تنقید کی ہے۔ اسٹالن جو اشتراکی جماعت کے اپریل 1922 سے جنرل سیکریٹری تھے کے بارے میں لینن کہتے ہیں کے ان کے پاس ضرورت سے زیادہ طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کے کامریڈ اسٹالن کو ان کی کرسی سے ہٹانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اکھڑ پن پسند نہیں کرتے۔ لینن کی موت کے بعد ان کی اہلیہ نے یہ وصیت مرکزی کمیٹی کو ارسال کردی تاکہ اسے مئی 1924 میں ہونے والی تیرہویں پارٹی کانگریس میں سنایا جائے۔ مگر زاتی وجوہات کی بنا پر اسٹالن، کمانیوو اور زیونیو نے اس وصیت کو عوام تک نہ پہنچنے دیا۔ لینن کی وصیت ریاسَتہاۓ مُتحِدہ میں میکس ایسٹ مین نے شائع کرائی۔ اسی سال ٹراٹسکی نے اپنے کالم میں لکھا کے لینن کی تحریر کو وصیت نہ مانا جائے اور نہ ہی یہ سمجھا جائے کے اسے چھپایا گیا یہ اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

اکیس جنوری 1924 میں 53 سال کی عمر میں 18:50 پر ماسکو میں لینن کا انتقال ہوا۔ ان کے انتقال کے چار دن تک نو لاکھ افراد ستونوں والے کمرے سے گزرے جہاں لینن کو رکھا گیا تھا۔ ان کے انتقال سے پورے ملک میں غم کی لہر دوڑ گئی اور دوسرے ممالک میں بھی اس پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

لینن کے اعزاز میں پیٹروگراڈ کا نام بدل کر لینن گراڈ رکھ دیا گیا اور یہ نام سویت ریپبلک کے خاتمہ تک یہی رہا۔ 1991 میں اس کا نام دوبارہ سینٹ پیٹرز برگ رکھ دیا گیا مگر انتظامی علاقہ کا نام لیننگراڈ اوبلاسٹ ہی رہنے دیا گیا۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

َ

  1. ^ Time 100: V.I. Lenin دیوڈ ریمنک 13 اپریل 1998.
  2. ^ کرسٹوفر ریڈ(2005) Lenin. Abingdon: Routledge: 4
  3. ^ کرسٹوفر ریڈ(2005) Lenin: 16
  4. ^ Service, Robert. Lenin: A Biography. ISBN 0-330-49139-3. 
  5. ^ Danilov, Eugene (Moscow, 2007). Lenin: Secrets of Life and Death. Zebra E. pp. 181. ISBN 978-5-17-043866-2. 
  6. ^ J. Brooks and G. Chernyavskiy (2007) Lenin and the Making of the Soviet State. Bedford/St Martin’s: Boston and New York
  7. ^ Elizabeth Mauchline Roberts (1966) Lenin and the Downfall of Tsarist Russia: 28-9
  8. ^ Lenin, V.I. (Written in 1896–1899; First printed in book form in March 1899; Published according to the text of the second edition, 1908). "The Development of Capitalism in Russia: The Process of the Formation of a Home Market for Large-Scale Industry". http://www.marxists.org/archive/lenin/works/1899/devel/index.htm. Retrieved 2007-03-16. 
  9. ^ "What is to be done?". http://www.marxists.org/archive/lenin/works/1901/witbd/index.htm. 
  10. ^ کرسٹوفر ریڈ(1905) Lenin: 81
  11. ^ کرسٹوفر ریڈ (2005) Lenin: 81
  12. ^ کرسٹوفر ریڈ(2005) Lenin: 86
  13. ^ نیل ہارڈنگ, Lenin’s Political Thought (1986), p250
  14. ^ کرسٹوفر ریڈ (2005) Lenin: 132-4
  15. ^ V.I. Lenin (2000) Imperialism, the Highest Stage of Capitalism. نئی دہلی: LeftWord Books: 34
  16. ^ Paul Bowles (2007) Capitalism. پیئرسن :ہارلو: Harlow: 93
  17. ^ ایلن مورہیڈ, The Russian Revolution. نیویارک: ہارپر (1958), pp. 183–187
  18. ^ "April Theses". http://www.marxists.org/archive/lenin/works/1917/apr/04.htm. 
  19. ^ Read, Christopher (1996). From Czar to Soviets: The Russian People and Their Revolution, 1917–21. Oxford University Press. pp. 151–153. ISBN 0-19-521241-X. 
  20. ^ (روسی) Biography of Grigory Aleksinsky at Hrono.ru
  21. ^ Trotsky, Leon. "The Month of The Great Slander". The History of the Russian Revolution; Volume 2,Chapter 27. http://www.marxists.org/archive/trotsky/works/1930-hrr/ch27.htm. 
  22. ^ Lenin “Collected Works”, جلد. 31, صفحہ 516.
  23. ^ Lenin “Collected Works”, جلد. 30, صفحہ 335.
  24. ^ "Archive of Lenin’s works". http://www.marxists.org/archive/lenin/works/subject/women/index.htm. 
  25. ^ کرسٹوفر ریڈ(2005) Lenin: 186
  26. ^ King, Greg and Wilson, Penny (2003). The Fate of the Romanovs. Wiley. ISBN 0-471-20768-3. http://thefateoftheromanovs.com/. 
  27. ^ Volkogonov, Dimitri. Leninسانچہ:Ndash A New Biography. pp. 229. ISBN 0-02-933435-7. 
  28. ^ رچرڈ پائپس, The Russian Revolution,(Vintage Books, 1990) p.807
  29. ^ Dr. V. Bonch-Bruevich, Lenin’s attending physician, in Tri Pokusheniia na V. Lenina 1924.
  30. ^ Lubov Krassin (1929) Leonid Krassin: His Life and Work, by his wife. Skeffington: London
  31. ^ رونلڈ کلارک(1988) Lenin: The Man Behind the Mask: 373