فن لینڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Suomen tasavalta
Republiken Finland
جمہوریہ فن لینڈ
فن لینڈ کا پرچم فن لینڈ کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: Maamme/Vårt land
فن لینڈ کا محل وقوع
دارالحکومت ہلسنکی
عظیم ترین شہر ہلسنکی
دفتری زبان(یں) ساؤمی (فِنش)، سوینسکا
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
جمہوریہ (نیم صدارتی نظام)
تارجا ہالونین
متی وان ہانن
آزادی
- خود مختاری
اعلانِ آزادی
آزادی
روس سے
29 مارچ 1809ء
6 دسمبر 1917ء
4 جنوری 1918ء
یورپی یونین کی رکنیت یکم جنوری 1995ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
338145  مربع کلومیٹر (65)
130559 مربع میل
10
آبادی
 - تخمینہ:2008ء
 - 2000 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
5,304,400 (111)
5155000
15.6 فی مربع کلومیٹر(201)
40 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

185.9 ارب بین الاقوامی ڈالر (52 واں)
35500 بین الاقوامی ڈالر (20 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.952
(11) – بلند
سکہ رائج الوقت یورو (EUR)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مشرقی یورپی وقت (EET)
(یو۔ٹی۔سی۔ 2)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 3)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.fi
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+358

فن لینڈ براعظم یورپ کے شمال میں واقع ہے۔ اس کی کل آبادی 55 لاکھ ہے جن میں سے 2 لاکھ افراد غیر ملکی ہیں۔ اس کے جنوب میں خلیج فن لینڈ، شمال میں ناروے، مشرق میں روس اور مغرب میں سمندر اور سوئیڈن موجود ہیں۔

ابتدائی دور[ترمیم]

فن لینڈ میں سب سے پہلے انسان‌ نے 7000 سال ق م میں آخری برفانی دور (Ice Age) کے بعد سے رہائش رکھنا شروع کیا۔ اس دور کے فننز (فن لینڈ کے باشندے) شکاری اور گلہ بان تھے۔ مزے کی بات یہ کہ اس دور کے شکاری برف پر چلنے کے لئے درختوں کی چھال کا استعمال کرتے تھے جو کہ ماڈرن سکیینگ کی ایک شکل تھی۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ رینڈیئر، موز اور اِلک گہری برف میں دھنس جاتے ہیں۔ ان کا شکار کرنے کے لئے درختوں کی چھال کا استعمال شروع ہوا۔ اگلے ہزار سال میں انسانوں کی آمد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ 2500 سال ق م میں‌ انہوں‌ نے کھیتی باڑی کو اپنایا۔ 1500 سال ق م میں انہوں نے تانبے سے واقفیت پیدا کی اور اس سے ہتھیار اور آلات بنانا شروع کیے۔ تانبے کی دریافت کے ہزار سال کے بعد لوہے کا استعمال شروع ہوا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس دور کے فننز کا اپنی ہم عصر تہذیبوں (روم اور یونان) سے کوئی خاص تعلق نہ تھا۔

قرونٍ وسطٰی[ترمیم]

فن لینڈ کی درج شدہ سب سے پرانی تاریخ 12 ویں صدی سے شروع ہوئی۔ 1120 میں عیسائی مشنریوں‌ نے کام شروع کیا۔ اس واسطے انہوں نے طاقت کا استعمال بھی کیا۔ سوئیڈن کے بادشاہ نے 1157 میں صلیبی جنگ میں‌ کلیدی کردار ادا کیا۔ ایک انگریز بشپ ہنری آف اُپاسالا نے بھی اس کا ساتھ دیا اور جنگ کے بعد وہ یہیں‌ رکا اور بعد ازاں مارا گیا اور فن لینڈ کا پیٹرن سینٹ بنا۔ 1172 میں‌فننز کو پوپ سے اجازت مل گئی کہ بیرونی جارحیت کی صورت میں وہ اپنا مذہب عارضی طور پر تبدیل کر سکتے ہیں مگر جارح افواج کی واپسی پر انہیں فوراً اپنے اصل مذہب کی طرف واپس آنا ہوگا۔ پوپ نے سوئیڈن پر زور دیا کہ وہ فن لینڈ کو اپنا حصہ بنا لیں۔

لیکن فن لینڈ سوئیڈن کے لئے لقمہ تر نہ تھا۔ یہاں‌ کئی اور ریاستی افواج بھی حملہ آور ہوتی رہتی تھیں۔ ڈینش لوگوں کے 1191 اور 1202 میں دو بار یہاں حملہ کیا۔ اس کے علاوہ نووگُرد (اب یہ علاقہ روس میں شامل ہے) نے بھی فن لینڈ پر حملہ کیا تاکہ اس پر قبضہ کر کے لوگوں کو ایسٹرن آرتھوڈکس چرچ کی طرف موڑا جاسکے۔ اس سلسلے میں سوئیڈش اور نووگُرد کی افواج کے درمیان دریائے نیوا کے کنارے 1240 میں لڑائی ہوئی اور نووگُرد والوں نے فتح‌حاصل کی۔ 1240 میں ارل بِرگِر کی سربراہی میں سوئیڈن نے دوبارہ حملہ کیا اور اس دوسری صلیبی جنگ میں کامیابی حاصل کی۔ اس جنگ کے بعد سوئیڈش فوج نے ہیمے (Häme) نامی شہر بھی قبضہ کر کے وہاں قلعہ بنایا اور یہ ہیمین لِننا (Hämeenlinna) کہلایا۔

1291 میں پہلی بار ایک فنن کو بشپ آف تُرکُو (Bishop of Turku)کا درجہ دیا گیا۔

اسی دوران سوئیڈش لوگوں نے کثیر تعداد میں فن لینڈ میں رہائش اختیار کرنا شروع کی اور یہاں‌ ایک لحاظ سے سوئیڈش کالونی بننا شروع ہو گئی۔ 1323 میں فن لینڈ کو سوئیڈن کا صوبہ قرار دے دیا گیا۔ سوئیڈن کا قانون یہاں‌ لاگو ہوا اگرچہ اس کو بھی کسی حد تک مقامی رنگ میں ڈھال دیا گیا تھا۔ 1362 تک فننز کو سوئیڈن کے بادشاہی انتخابات میں حصہ لینے کا حق مل چکا تھا۔ 1397 میں فن لینڈ یونین آف کالمر (Union of Kalmar) کا حصہ بن گیا جس میں ڈنمارک، ناروے اور سوئیڈن پہلے سے شامل تھے۔

1500 سے 1800 تک کا فن لینڈ[ترمیم]

موجودہ فن لینڈ کا دارلحکومت ہیلسنکی 1550 میں‌ تعمیر ہوا جو کہ فن لینڈ کا نیا دارلحکومت بنا۔ یہ شہر خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کو یورپ کا سب سے کم عمر دارلحکومت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

میکائیل ایگریکولا (Mikael Agricola) نے ملک میں‌ مذہبی اصلاحات شروع کیں اور بعد ازاں 1557 کو بشپ آف تُرکُو بنا۔ اس کےمرنے کے وقت تک فن لینڈ مکمل طور سے لوتھیرین فرقے کا پیرو کار بن چکا تھا۔میکائیل نے اپنی تعلیم جرمنی سے حاصل کی جہاں وہ لوتھیرین فرقے کے بانی سے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتا رہا۔

1581 میں‌ فن لینڈ کو گرینڈ ڈچی (Grand Duchy) بنایا گیا۔

1596 اور 1597 میں‌ فننش کسانوں نے علمٍ بغاوت بلند کیا۔ اس جنگ کو لٹھوں‌ کی جنگ(Club War) کا نام دیا گیا کیونکہ کسانوں کے پاس ہتھیار کے نام پر صرف لٹھیں تھیں۔ اگرچہ طبقہ اشرافیہ (سوئیڈش) نے اس کو سختی سے کُچل دیا مگر اس سے فننش کسانوں کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور فن لینڈ سویڈن کا “اٹوٹ انگ“ بن گیا۔

17ویں صدی کے اختتام اور 18ویں صدی کے شروع کے سال فننش لوگوں کے لئے بہت کٹھن اور سخت گزرے۔ 97-1696 میں‌بہت سخت قحط پڑا۔ خوراک کی کمی اور بیماریوں سے فننز کی ایک تہائی تعداد زندہ بچ سکی یعنی ہر 100 میں سے 33 انسان باقی بچے۔

1709-22 تک عظیم شمالی جنگ (Great Northern War) ہوئی۔ 1713 میں ‌روسیوں نے فن لینڈ پر حملہ کیا اور اسے بری طرح روند ڈالا۔ سوئیڈش اور فننش لوگوں‌ کی مشترکہ فوج نے ایسو کئیرُو (Isokyrö) نامی شہر میں روسیوں‌ سے آخری مقابلہ کیا جس میں انہیں شکست ہوئی۔ روسیوں‌ نے 1713 سے 1721 تک قبضہ رکھا۔ اس قبضے کے دوران ان لوگوں پر بہت ٹیکس لگائے گئے۔ سارے امیر فننش لوگ سویڈن منتقل ہو گئے لیکن بیچارے کسان کہیں‌ کے نہ رہے۔ چارلس ہفتم نے حکم دیا کہ فننش لوگ روسی جنگ کے خلاف گوریلا جنگ شروع کریں، جس کو ہم انتقام کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ 1721 میں‌ امن معاہدے کے تحت چارلس ہفتم نے کو ہتھیار ڈالنے پڑے اور فن لینڈ کا مشرقی حصہ جو کہ کاریا (Karja) کہلاتا ہے، روس کے حوالے کرنا پڑا۔‌‌ اس علاقے کے لوگ فن لینڈ میں کاریا لائنن (Karjalainen) کہلاتے ہیں، یعنی کاریا کے علاقے کے رہنے والے۔ اسی دوران 1710 کا طاعون ہیلسنکی تک پہنچ گیا اور اس نے شہر کو ویران کر دیا۔

1741 میں پھر سے سویڈن-فن لینڈ کی روس سے جنگ چھِڑ گئی۔ اس بار بھی شکست سوئیڈش-فننش فوج کا مقدر بنی۔ اس بار مقامِ شکست وِلمانسٹرانڈ (Villmanstrand) بنا۔ اس بار روس نے مکمل طور پر فن لینڈ پر قبضہ کر لیا لیکن البو (Albo) معاہدے کے تحت 1743 میں‌ جنگ بندی ہوئی اور سٹیٹس کو یعنی جو جس حال میں ہے ہر چیز کو ویسے ہی چھوڑ دیا گیا جیسے وہ جنگ سے پہلے تھی، روس نے صرف فن لینڈ کے کچھ حصے پر قبضہ جمائے رکھا۔ اس کے بعد 1788 میں میگنوس سپرینگپورٹن (Magnus Sprengporten) نے علیحدگی پسندوں کی تحریک چلائی مگر اس کے پیروکاروں کی تعداد محدود تھی اور یہ 1790 میں ختم ہو گئی۔

انیسویں صدی کا فن لینڈ[ترمیم]

فن لینڈ 1809 میں‌ سوئیڈن کے تسلط سے نجات تو پا گیا مگر اس بار بھی وہ آزاد نہیں بلکہ روس کی غلامی میں‌چلا گیا۔ 21 فروری 1808 میں روسیوں نے حملہ کیا۔ جنگ میں‌ کبھی سویڈن کا پلہ بھاری ہوتا کبھی روس کا۔ آخر کار اوراواینن (Oravainen) نامی مقام پر روسیوں کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی اور سوئیڈش فوج فن لینڈ سے باہر نکل گئی۔ اس کے بعد فن لینڈ نے روسی زار سے امن کا معاہدہ کیا۔ اٹھارویں صدی کے دوران سوئیڈن کی لگاتار کمزوری اور روس کی بڑھتی طاقت کی وجہ سے فن لینڈ کی پارلیمنٹ ڈائیٹ (Diet) نے زار ایلگزینڈر کو اپنا حکمران تسلیم کر لیا۔ زار نے یہ تسلیم کیا کہ فن لینڈ کو روس کا حصہ نہیں بلکہ خودمختار ریاست کے برابر درجہ دیا جائے گا اور فن لینڈ کے اپنے قوانین ویسے چلتے رہیں گے۔ 1812 میں فن لینڈ زار کے حکم کے تحت فن لینڈ کا دارالحکومت ترکو سے ہیلسنکی میں منتقل کر دیا گیا۔

انیسویں صدی کے اوائل میں سائما (Saimaa) نامی نہر بننے کی وجہ سے فن لینڈ کو مغربی یورپ تک اپنی لکڑی پہنچانا آسان ہو گیا۔

انیسویں صدی کے آخر تک فن لینڈ‌ میں‌ قومیت پرستی یعنی نیشنل ازم کافی پروان چڑھ چکا تھا۔ اسی دوران انہوں نے اپنے ادب کی طرف توجہ دی۔ 1835 میں ایلیاس لون روت (Elias Lönnrot) نامی بندے نے فننش لوک نظموں کو اکٹھا کر کے کتابی شکل میں‌ چھاپا۔ اس کے لئے اسے 15 سال تک فن لینڈ کے مختلف حصوں میں سفر کرنا پڑا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ خود ڈاکٹر تھا۔ اس کے بعد زبان اور کلچر کی ترقی کی طرف توجہ دی گئی۔ 1858 میں‌ فننش زبان کی گرائمر سکھانے کا پہلا سکول قائم ہوا۔ 1889 تک آدھے سکولوں‌ کی زبان فننش بن چکی تھی۔ اس سے پہلے یہ سارا کام سوئیڈش سے سرانجام دیا جاتا تھا۔

19ویں صدی کے اختتام تک زار نکولس دوئم نے نیشنلزم کی حوصلہ شکنی کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے جن میں‌ یہ بھی شامل تھا کہ زار ان فننش قوانین کو جب چاہے بدل سکتا ہے جو روسی مفاد کے خلاف ہوں، اور اس کام کے لئے اسے فننش پارلیمنٹ کی اجازت بھی درکار نہیں ہوگی۔

20 صدی کا فن لینڈ[ترمیم]

بیسویں صدی میں وقت کا دھارا بدل گیا۔ 1902 میں فننش کو سوئیڈش کے ساتھ ساتھ سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا اور اسی دوران روسی بادشاہ زار نے اپنا سابقہ اعلامیہ واپس لے لیا۔ 1907 میں نئی اسمبلی کا انتخاب ہوا تو پرانی اسمبلی ختم کر دی گئی۔ اس بار تمام مردوں کے ساتھ خواتین کو بھی ووٹ کا حق دیا گیا۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بعد فن لینڈ دنیا کا تیسرا اور یورپ کا پہلا ملک تھا جہاں‌خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ اسی طرح 1907 کے انتخابات میں‌ دنیا میں پہلی بار خواتین نے انتخابات جیت کر پارلیمنٹ کی نشستیں حاصل کرلیں۔

1910 میں زار نے سختی سے فننش قانون سازی کے اختیارات کو محدود کر دیا۔ اس نے یہ واضح کیا کہ فن لینڈ کو ایسے کسی بھی قانون بنانے کا کوئی حق نہیں ہے جس کے اثرات ملک سے باہر ہوں۔ لیکن زار کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ مارچ 1917 میں اس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ جولائی 1917 میں فننش پارلیمنٹ نے اعلان کیا کہ تمام اختیارات ماسوائے خارجہ پالیسی کے، فن لینڈ کے پاس ہیں۔ 6 دسمبر 1917 کو پارلیمنٹ نے فن لینڈ کو آزاد مملکت قرار دیا۔ اسی دوران اکتوبر 1917 میں کنزرویٹو حکومت چنی گئی۔ اسی دوران بائیں بازو کے انتہا پسندوں نے فیصلہ کیا کہ وہ طاقت کے زور پر اپنی حکومت بنائیں۔ سُرخوں(Red Finns) نے ہیلسنکی اور دیگر کئی شہروں پر قبضہ کر لیا۔ تاہم جنرل مینر ہیم نے سفیدوں (White Finns) کی قیادت سنبھالی۔ اس دوران اپریل 1918 میں تمپرے شہر پر بھی قبضہ ہو گیا تھا۔ دریں اثناء جرمنی نے فن لینڈ پر حملہ کر دیا اور ہیلسنکی پر قبضہ کر لیا۔ مئی کے دوران بغاوت پر قابو پا لیا گیا۔ 8000 باغیوں کو موت کی سزا دی گئی اور باقی 12000 قید و بند میں ہلاک ہو گئے۔ اکتوبر 1918 میں جرمن شہزادہ چارلس فریڈرک آف ہیسی کو فن لینڈ کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ لیکن اس کا دورِ حکومت بہت مختصر ثابت ہوا۔ جرمنی نے 11 نومبر 1918 کو عارضی جنگ بندی کا معاہدہ کرتے ہوئے جنرل مینر ہیم کو عارضی طور پر حکومت سونپ دی۔ 1919 میں فن لینڈ نے نیا آئین منظور کیا۔ جولائی 1919 میں فن لینڈ کے پہلے صدر ک۔ج۔سٹاہل برگ(J. K. Ståhlberg) نے جنرل مینر ہیم کی جگہ سنبھالی۔ فن لینڈ اب عوامی جمہوریہ بن گیا۔

آزادی کے بعد فن لینڈ کی زراعت میں اصلاحات کی گئیں۔ 1929-1918 کے دوران بہت سے مزارعوں کو مالکانہ حقوق دیے گئے۔

1929 میں کمیونسٹوں‌ نے لاپُوا (Lapua) نامی شہر میں مظاہرہ کیا۔ ردٍ عمل کے طور پر دائیں بازو کے کمیونسٹ مخالفوں نے تحریک شروع کی جسے بعد ازاں لاپُوا تحریک کا نام ملا۔ 1932 میں‌ لاپُوا تحریک نے مانتسالا (Mäntsälä) پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ صدر سٹاہل برگ نے اس پر قابو پالیا لیکن اس نے باغیوں سے نرمی سے سلوک کیا۔

دوسری جنگٍ عظیم میں فن لینڈ نے حصہ لیا۔ 1939 میں سٹالن کو اپنے شمالی محاذ پر حملے کا اندیشہ ہوا۔ اسے بچانے کے لئے اس نے فن لینڈ سے علاقے مانگے اور بدلے میں‌ دوسرے علاقے دینے کی پیش کش کی جسے فن لینڈ نے ٹھکرا دیا۔ اس پر سٹالن نے طاقت استعمال کرنے کا سوچا۔

جنگٍ سرما یا ونٹر وار (Winter War) یا فننش میں تالوی سوتا (Talvisota) کی ابتداء 30 نومبر 1939 میں‌ ہوئی۔ اس میں فن لینڈ کا بھاری جانی نقصان ہوا لیکن وہ نہایت بے جگری سے لڑے۔ روسیوں نے شمال میں‌جھیل لاگوڈا (Lake Lagoda) پر حملہ کیا لیکن تول وا یاری (Tolvajari)اور سوومُوسالمی (Suomussalmi) کے محاذوں پر شکست کھائی۔ اسی دوران کاریلیان ایستھمس (Karelian Isthmus) کو مینر ہیم نے دفاعی لائن بنا کر محفوظ کئے رکھا، یہ لائن قلعوں، کنکریٹ کے مورچوں اور خندقوں‌ پر مشتمل تھی۔ روسیوں‌نے اسے عبور کرنے کی بار بار کوشش کی لیکن فننز نے انہیں کامیابی سے روکے رکھا۔ لیکن 14 فروری 1940 کو روسیوں نے مینر ہیم لائن عبور کر لی اور فننز کو امن معاہدے پر مجبور ہونا پڑا۔ جنگ کا اختتام ماسکو معاہدے کی صورت میں‌ ہوا۔ بعد ازاں فن لینڈ کو جنوب مشرقی علاقے بشمول وییپوری (Viipuri) جو کہ اب وؤ برگ (Vyborg) کہلاتا ہے اور جھیل لاگوڈا کے شمالی علاقے بھی دینے پڑے۔ اس جنگ میں 22000 فننز مارے گئے۔

جون 1941 میں فن لینڈ نے جرمنی سے معاہدہ کر کے روس پر حملہ کر دیا۔ فننز نے اسے جاری جنگ، کانٹینیویشن وار(Continuation War) یا فننش میں‌ یاتکو سوتا (Jatkosota) کا نام دیا۔ فننز نے تیزی سے اپنے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ تاہم دسمبر 1941 میں‌ انگلینڈ نے فن لینڈ سے جنگ کا اعلان کر دیا۔ جرمنوں کو جب سٹالن گراڈ کے مقام پر 1943 میں‌شکست کا سامنا ہوا تو فن لینڈ نے محسوس کر لیا کہ اب اسے جنگ سے پیچھے ہٹ جانا چاہئے۔ مذاکرات مارچ 1944 میں‌شروع ہوئے لیکن فننز نے روسی مطالبات قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ لیکن شکست نوشتہء دیوار کی مانند تھی، اس لئے فننز نے 5 ستمبر 1944 کو روس سے جنگ بندی کا معاہدہ کیا۔

معاہدے کے بعد فننز کو کافی بڑا علاقہ روس کے حوالے کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ جنگ کا تاوان بھی انہیں‌ روس کو دیا۔ اس جاری جنگ کےدوران 85000 فننز لقمہ اجل بنے۔

1947 کو فن لینڈ نے روس سے آخری بار امن معاہدہ کیا۔

موجودہ فن لینڈ[ترمیم]

1991 میں روس کے زوال کے بعد 1947 کا معاہدہ بے اثر ہو گیا اور اسے 1992 کے نئے معاہدے سے بدل دیا گیا۔ اس معاہدے میں دونوں ملکوں‌ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انہیں اپنے تنازعات دوستانہ طریقے سے حل کرنے چاہیں۔

روس کے لئے ہوئے علاقوں سے ساڑھے چار لاکھ پناہ گزینوں‌ کی صورت میں فن لینڈ کی معیشیت پر اضافی بوجھ پڑا۔ تاہم فن لینڈ نے آہستگی کے ساتھ اس مسئلے کو سنبھال لیا۔ 1970 کی دہائی میں فن لینڈ کی معیشت نے اڑان بھرنی شروع کی۔ 1980 کی دہائی میں فن لینڈ کی معیشت نے بہت تیزی سے ترقی کی لیکن جلد ہی 1990 کی دہائی کے بحران سے یہ ترقی رک گئی۔ اس دوران بہت بڑی تعداد میں‌ بے روزگاری پھیل گئی۔ لیکن صدی کے اختتام تک فن لینڈ نے اپنے آپ کو سنبھالا اور اب ایک خوش حال ملک ہے۔

دوسری جنگٍ عظیم سے پہلے فن لینڈ کا اہم پیشہ زراعت کا تھا۔ 1945 کے بعد میٹل ورک، انجینئرنگ اور الیکٹرانکس کی صنعتوں نے کافی ترقی کی۔ ابھی بھی فن لینڈ اپنے دوسرے ہمسائیہ سکینڈے نیوین ممالک کی نسبت کم صنعتی ملک ہے۔ فن لینڈ‌کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ٹمبر یعنی لکڑی ہے۔

1995 میں‌ فن لینڈ نے یوروپی یونین میں شمولیت اختیار کی۔ 2002 میں فننش مارک کا استعمال ترک کر کے یورو کو استعمال کرنا شروع کیا۔ اسی دوران 2000 میں تاریا ہالونین(Tarja Halonen) کو چھ سال کی مدت کے لئے ملک کی پہلی خاتون صدر منتخب کیا گیا۔ اسی سال ہیلسنکی کی 450 ویں سالگرہ منائی گئی۔ 2006 میں‌ ہونے والے دوسرے صدارتی انتخابات میں بھی انہوں‌ نے کامیابی حاصل کی اور دوسرے اور آخری دورِ صدارت کے لئے عہدہ سنبھالا۔

آج فن لینڈ کی آبادی 55 لاکھ ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین فن لینڈ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]