روس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Российская Федерация
روس
روس کا پرچم روس کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: Гимн России
روس کا محل وقوع
دارالحکومت ماسکو
عظیم ترین شہر ماسکو
دفتری زبان(یں) روسی
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
وفاقی جمہوریہ (نیم صدارتی نظام)
ولادی میر پوتن
وکٹر زوبکوف
آزادی
- قیام
بالشویک انقلاب
نیا روس
روس سے
862ء
1917ء
24 اگست 1991ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
17098242  مربع کلومیٹر (1)
6601668 مربع میل
13
آبادی
 - تخمینہ:2008ء
 - 2002 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
141,935,159 (9)
145274019
8.4 فی مربع کلومیٹر(220)
22 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

2076 ارب بین الاقوامی ڈالر (7 واں)
14600 بین الاقوامی ڈالر (55 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.802
(67) – بلند
سکہ رائج الوقت روبل (RUB)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مشرقی یورپی وقت (EET)
(یو۔ٹی۔سی۔ +2 تا +12)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ +3 تا +13)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.ru
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+7

روس (روسی: Россия) شمالی یوریشیائی ملک ہے۔ یہ ایک وفاقی جمہوریہ ہے۔


روسی سوشلسٹ ریاستوں کا مجموعہ (جسے اختصار سے یو ایس ایس آر یعنی USSR بھی کہا جاتا ہے) کو عام طور پر سویت یونین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ آئینی اعتبار سے سوشلسٹ ریاست جو کہ یوریشیا میں 1922 سے 1991 تک قائم رہی۔ اس کو بالعموم روس یعنی رشیا بھی کہا جاتا تھا جو کہ غلط ہے۔ روس یعنی رشیا اس یونین کی سب سے زیادہ طاقتور ریاست کا نام ہے۔ 1945 سے لے کر 1991 یعنی تحلیل تک اس کو امریکہ کے ساتھ دنیا کی ایک سپر پاور مانا جاتا تھا۔

خلاصہ[ترمیم]

یو ایس ایس آر کو 1917 کے انقلاب کے دوران بننے والی ریاستی علاقے میں قائم کیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی جغرافیائی سرحدیں تبدیل ہوتی رہیں، لیکن آخری بڑی ٹوٹ پھوٹ کے بعد، جو بالٹک ریاستوں، مشرقی پولینڈ، مشرقی یورپ کا کچھ حصہ اور کچھ دوسری ریاستوں کے اضافے اور فن لینڈ اور پولینڈ کی علیحدگی کے بعد 1945 سے لے کر تحلیل تک شاہی دور والے روس جیسی ہی رہیں۔

سویت یونین کو مستقل کی کمیونسٹ ریاستوں کے لیے سرد جنگ کے دوران بطور مثال مانا گیا اور حکومت اور سیاسی تنظیموں کی نگرانی اور دیکھ بھال کا کام ملک کی واحد سیاسی جماعت، سویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی کے پاس رہا۔

1956 تک سویت سوشلسٹ ریاستوں کی تعداد 4 سے بڑھ کر 15 ہو گئی جو کہ کچھ ایسے ہیں: آرمینیائی سویت سوشلسٹ ریپبلک، آذربائیجان سویت سوشلسٹ ریپبلک، بیلارس سویت سوشلسٹ ریپبلک، استونیائی سویت سوشلسٹ ریپبلک، جارجیائی سویت سوشلسٹ ریپبلک، قازق سویت سوشلسٹ ریپبلک، کرغیز سویت سوشلسٹ ریپبلک، لیٹویائی سویت سوشلسٹ ریپبلک، لتھوانیا سویت سوشلسٹ ریپبلک، مالدووا سویت سوشلسٹ ریپبلک، روسی ایس ایف ایس آر، تاجیک سویت سوشلسٹ ریپبلک، ترکمان سویت سوشلسٹ ریپبلک، یوکرائینی سویت سوشلسٹ ریپبلک اور ازبک سویت سوشلسٹ ریپبلک۔

1991 میں سویت یونین کی تحلیل واقع ہوئی اور اس کے بعد ان تمام 15 ریاستوں کو سابقہ روسی ریاستیں کہا جاتا ہے۔ ان میں سے 11 ریاستوں نے مل کر ایک ڈھیلی ڈھالی سی کنفیڈریشن بنالی ہے اور اسے دولت مشترکہ کی آزاد ریاستیں کہا جاتا ہے۔ ترکمانستان جو پہلے اس دولت مشترکہ کا باقاعدہ ممبر تھا، اب ایسوسی ایٹ ممبر کا درجہ رکھتا ہے۔ تین بالٹک ریاستیں یعنی اسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا نے اس دولت مشترکہ میں شمولیت نہیں اختیار کی بلکہ یورپی یونین اور نیٹو میں 2004 میں شمولیت اختیار کی۔ روس اور بیلارس اب یونین آف رشیا اینڈ بیلارس سے تعلق رکھتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

سویت یونین کو روسی بادشاہت کے بعد کی شکل کہا جاتا ہے۔ آخری روسی زار، نکولس دوم نے مارچ 1917 تک حکومت کی اور اپنے خاندان کے ساتھ اگلے سال مار دیا گیا۔ سویت یونین کا قیام دسمبر 1922 میں عمل میں آیا۔ اس میں روس (بالشویک رشیا)، یوکرائن، بیلارس، جارجیا، آرمینیا اور آذر بائیجان (ان تین ریاستوں کو ٹرانس کاکیشیئن ریاستیں بھی کہتے ہیں) شامل تھے اور ان پر بالشویک پارٹی کی حکومت تھی۔ روسی بادشاہت کے اندر جدید انقلابی تحریک 1825 کی دسمبر کی بغاوت سے شروع ہوئی۔ 1905 کے انقلاب کے بعد 1906 میں روسی پارلیمنٹ ڈوما قائم ہوئی لیکن ملک کے اندر سیاسی اور سماجی عدم استحکام موجود رہا اور پہلی جنگ عظیم میں شکست اور خوراک کی قلت کے باعث پروان چڑھا۔

سیاست[ترمیم]

سویت یونین کے رہنما[ترمیم]

سویت یونین کا پہلا راہنما ان کا پہلا جنرل سیکرٹری تھا۔ حکومت کا سربراہ وزیر اعظم کو مانا گیا اور ریاست کا سربراہ صدر ہے۔ روسی رہنما ان میں سے ایک یا دونوں عہدے اپنی پارٹی کے جنرل سیکرٹری کے عہدے کے ساتھ اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔

روسی وزرائے اعظم کی فہرست

کونسل آف پیپلز کمیسار آف یو ایس ایس آر کا چئیرمین (1933 سے 1946)، چئیرمین آف کونسل آف منسٹرز آف دی یو ایس ایس آر (1946 سے 1990)، وزیر اعظم برائے یو ایس ایس آر (1991 سے اب تک)

روسی صدور کی فہرست

چئیرمین آف دی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی آف دی آل ریشین کانگریس آف سویتس (1917 سے 1922)، چئیر مین آف دی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی آف دی یو ایس ایس آر (1922 سے 1938)، چئیرمین آف دی پریزیڈیم آف دی سپریم سوویت آف یو ایس ایس آر (1938 سے 1989)، چئیرمین آف دی سپریم سوویت آف دی یو ایس ایس آر (1989 سے 1990)، پریزیڈنٹ آف دی سوویت یونین (1990 سے 1991)

خارجہ تعلقات[ترمیم]

معشیت[ترمیم]

جغرافیہ[ترمیم]

سوویت یونین نے یورپ کے براعظم کے مشرقی حصے اور ایشیا کے شمالی حصے پر قبضہ کیا تھا۔ ملک کا زیادہ تر حصہ 50 ڈگری شمالی طول بلد سے اوپر ہے اور اس کا کل رقبہ 2٫24٫02٫200 مربع کلو میٹر یا 86٫49٫500 مربع میل ہے۔ اتنے عظیم رقبے کی وجہ سے اس کا موسم نیم استوائی سے لے کر سرد، نیم برفانی سے لے کر برفانی تک ہے۔ 11% زمین قابل کاشت تھی، 16 % گھاس کے میدان اور چراگاہیں تھیں، 41 % جنگلات تھے اور 32% حصہ دیگر قسم کا تھا جس میں ٹنڈرا کا حصہ بھی شامل ہے۔

سویت یونین کی چوڑائی کوئی 10٫000 کلومیٹر یعنی 6٫200 میل تھی جو کہ کالینن گراڈ سے لے کر راتمانوا تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی اونچائی 5٫000 کلومیٹر یعنی کوئی 3٫100 میل تھی۔ اس کا زیادہ تر حصہ ناہموار اور بہت مشکل ہے۔ پورا امریکہ اس کے ایک حصے کے اندر سما سکتا ہے۔

آبادی اور معاشرہ[ترمیم]

ثقافت[ترمیم]

سویت یونین کی ثقافت یو ایس ایس آر کی 70 سالہ دور میں بہت سے مراحل سے گزری ہے۔ انقلاب کے بعد پہلے گیارہ سال تک لوگوں کو نسبتاً آزادی حاصل رہی اور مصوروں نے مصوری میں بہت سی نئی روسی جدتیں پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حکومت نے بہت سے مختلف رحجانات کو جو کہ سلطنت کے لیے خطرہ نہ ہوں، برداشت کیا۔ آرٹ اور ادب میں بہت سے مختلف ذہنیت کے لوگ گھسے اور انہوں نے نت نئے تجربات کئے۔ کمیونسٹ مصنفین جیسا کہ میکسم گورکی اور ولادیمیر ماواکوشوف اس دوران بہت نمایاں رہے۔ فلم، جو کہ معاشرے پر بہت زیادہ اثر چھوڑتی ہے، کو حکومت کی طرف سے بہت حوصلہ افزائی ملی اور سرگئی آئنسٹائن کا زیادہ تر کام اسی دوران تخلیق ہوا۔

بعد ازاں جوزف سٹالن کے دور میں، سویت ثقافت کو حکومت کی بیان کردہ حدود کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ دیگر ہر طرح کے اثرات کو سختی سے روکا گیا۔ بہت سے مصنفین جیل میں ڈالے گئے یا مار دیئے گئے۔

میخائل تھا کے بعد سنسر شپ کم ہوئی لیکن مکمل ختم نہ ہوسکی۔ آرٹ میں نت نئے تجربات کی پھر سے اجازت ملی اور جس کے نتیجے میں بہت سارا نفیس تنقیدی ادب تخلیق پایا۔ چونکہ حکومت نے اب سوشلسٹ حقائق پر کم زور دیا، مصنفین اور لکھاری روز مرہ زندگی کے مسائل کی طرف متوجہ ہوئے اور ان پر لکھنا شروع کیا۔ ایک خفیہ ادبی حلقہ، سامیزدت اس دوران نمو پایا۔

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=روس&oldid=838753’’ مستعادہ منجانب