تاتاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

منگولوں کے ایک قبیلے تاتامنگو سے منسوب ، جو شمال مشرقی گوبی واقع وسط ایشیا کے رہنے والے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ نام عام منگول قبیلوں کے لیے جن میں چنگیز خان کا قبیلہ بھی شامل ہے، استعمال ہونے لگا۔ ان کا وطن آج کل ترکستان کہا جاتا ہے اور اس کے نواحی علاقے جن پر تاتاریوں نے قبضہ جما لیا تھا۔ تارتری کہلاتے تھے۔ تاتاریوں کی اکثریت آج کل روس اور سائبیریا میں آباد ہے۔ ان لوگوں کو تیرہویں صدی کے منگول حملہ آوروں کی اولاد سمجھا جاتا ہے۔ روس ، ایران اور افغانستان کی سرحدیں جہاں آکر ملتی ہیں۔ وہاں تاتاریوں کی کثیر تعداد آباد ہے۔ یہ لوگ مذہباً مسلمان ہیں۔

تاتاری خانہ بدوش قبائل کی صورت میں گلوں کو لیکر صحرا میں پھرتے تھے ۔ لیکن اب باقاعدہ کھتی باڑی کرنے لگے ہیں۔ سلطان شمس الدین التمش کے زمانے میں جبکہ تاتاریوں نے چنگیز خان کی قیادت میں سارے ایشیا میں قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ جلال الدین خوارزم کے تعاقب میں تاتاری منگول افغانستان کو تباہ و برباد کرتے ہوئے پشاور تک پہنچ گئے۔ جلال الدین سلطنت خوارزم کا بادشاہ تھا۔ جو تاتاریوں کے حملے کے وقت جان بچا کر سندھ بھاگ نکلا تھا۔ جلال الدین سلطان التمش کا اشارہ پا کر کیچ مکران کے راستے ہندوستان سے باہر چلا گیا۔ اس کے ساتھ منگولوں کی فوج بھی واپس چلی گئی۔ اس وقت تک یہ لوگ مسلمان نہ ہوئے تھے۔

نگار خانہ[ترمیم]