سندھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سندھ
سنڌ
—  صوبہ  —

پرچم

Logo
پاکستان کے نقشے میں سندھ کا مقام
سندھ کا نقشہ
متناسقات: 24°52′N 67°03′E / 24.87°N 67.05°E / 24.87; 67.05متناسقات: 24°52′N 67°03′E / 24.87°N 67.05°E / 24.87; 67.05
ملک پاکستان
قائم شدہ 1 جولائی 1970ء
دارالخلافہ کراچی
بڑا شہر کراچی
حکومت
 - قسم صوبہ
 - حکمران ادارہ صوبائی اسمبلی
 - گورنر عشرت العباد متحدہ قومی موومنٹ
 - وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ
رقبہ
 - کُل 140,914 کلومیٹر2 (خطاء تعبیری: غیر تسلیم شدہ محرفی تنقیط ","۔ میل2)
آبادی (2012 مردم شماری)[1]
 - کُل 55,245,497
 کثافتِ آبادی خطاء تعبیری: غیر تسلیم شدہ محرفی تنقیط ","۔/کلومیٹر2 (خطاء تعبیری: غیر متوقع < مشتغل۔/میل2)
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (یو ٹی سی+5)
زبانیں
دیگر: پنجابی, پشتو, بلوچی, سرائیکی[2][3][4]
اسمبلی کی نشستیں 168[5]
اضلاع 27
قصبہ جات 119
یونین کونسلیں 1108[6]
ویب سائٹ sindh.gov.pk

سندھ سندھی: سنڌ پاکستان کے چارصوبوں میں سے ایک اہم صوبہ ہے، جو برِصغیر کے قدیم ترین تہذیبی ورثے اور جدید ترین معاشی و صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

لفظ ’’سندھ‘‘ دراصل دریائےسندھ ہی سے مستعار ہے، جو سنسکرت لفظ ’’سندھو‘‘ کی موجودہ شکل ہے۔

آب و ہوا[ترمیم]

ذیلی منطقہ حارہ میں واقع ہونے کی وجہ سے سندھ کی عمومی آب و ہوا، گرم اور خشک ہے جبکہ ساحلی علاقوں کا موسم قدرے مرطوب ہے۔ تاہم، گرمیوں (باالخصوص مئی۔جون) میں موسم سخت گرم اور سردیوں (باالخصوص دسمبر۔جنوری) میں موسم انتہاہی سرد رہتا ہے۔ سندھ کا علاقہ جیکب آباد اپنے ریکارڈ درجہ حرارت کی وجہ سے مشہور ہے۔ جولائی اور اگست کے ماہ مون سون کے موسم ہیں۔ سندھ میں اوسطاً سالانہ سات انچ بارش ہوتی ہے۔ یہ بات کم ہی افراد جانتے ہیں کہ سندھ کے شمال میں کوہ کھیرتھرکے بعض علاقے سطح سمندر سے 6000 ہزار فٹ بلند ہیں اور موسمِ سرما میں اکثر یہاں برف باری ہوتی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

Sindh-Map.PNG

زمانہ قدیم سندھ اپنے دامن میں دنیا کا قدیم ترین تہذیبی ورثہ سموے ہوے ہے۔ تحقیقی شواہد بتاتے ہیں کہ دراڑوی آبادکاروں سے قبل یہاں(7000 ق م) مختلف قبائل آباد تھے ۔ دراڑویوں نے تقریباً 4000 ق م میں وادئ سندھ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ موہن جوداڑو کے کھنڈرات بتاتے ہیں کہ دراڑوی اپنے علم و فن میں یکتا، کاشتکاری اور تجارت سے آگاہ مہذب قوم تھے۔ جنہوں نےپانچ ہزار سال قبل (3000 ق م) وادئ سندھ کو علمی، فنی، اور تجارتی لحاظ سے اپنی ہم عصر مصری، آشوری اور سامی تہذیبوں کے شانہ بہ شانہ لا کھڑا کیا۔ وادئ سندھ کے دامن میں کئی شہری مراکز قائم تھے، جنہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا تھا۔ موجودہ گرڈ سسٹم کے قاعدے کے مطابق آباد ان شہروں میں شاہرایں پختہ تھیں، اور نکاسی و فراہمئ آب کا زیرِ زمین نظام موجود تھا۔مگر پھر کسی ناقابلِ دریافت وجہ سے وادئ سندھ کے یہ عظیم مراکز تباہی سے دوچار ہوگئے۔ موہن جو داڑو اور دیگر دراڑوی مراکز کی تباہی کی کیا وجوہات تھیں، اس پر محققین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اسے قدرتی آفات اور سیلاب قرار دیتے ہیں، جب کہ بعض محققین کے نزدیک وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ سے آریاوں کی فوجی یلغار نے یہ تہذیب نیست و نابود کردی۔ آریاوں نے یہاں ہند۔آریائی تہذیب کی بنیاد ڈالی، جو دریائےسرسوتی اور دریائے گنگا کے کناروں تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ تہذیب 1500 ق م میں اپنے عروج پر تھی۔ ہند۔آریائی تہذیب (ویدک سویلایزیشن 1700-500 ق م) نے ہندوستان کے مذہب، رسوم، معاشرت و رہن سہن پر اَن مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

سندھ: کلہوڑا دور کا فنِ تعمیر[7]

برِصغیر کے فن و ثقافت، خاص طور پر فنِ تعمیر کے ضمن میں محققین کی یہ شکایت عام ہے کہ علاقائی رجحانات پر نہ تو ریسرچ کی جاتی ہے اور نہ ہی اِن نادر و نایاب نقوش کا کوئی مستند ریکارڈ آنے والی نسلوں کےلئے محفوظ کیا جاتا ہے۔ اس شکایت کے ازالے کی خاطر آج سے تین برس پہلے سندھی ثقافت کے امین ادارے سندھ آرکائیوز نے ایک بھاری ذمہ داری قبول کی جِسے ماہرین فنِ تعمیر کے علاوہ تاریخ کے طلباء نے بھی بہت سراہا اور بے چینی سے اس منصوبے کے نتائج کا انتظار کرنے لگے۔

حال ہی میں اس سلسلے کا تحقیقی مواد ایک کتاب کی شکل میں منظرِ عام پر آیا ہے۔

جسکے مولّف ہیں سید حاکم علی شاہ بخاری۔

مواد کی ترتیب و پیشکش میں انھیں سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر غلام محمد لاکھو اور ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کی مدد اور بھر پور تعاون حاصل رہا ہے۔

ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے والے ماہرین بتاتے ہیں کہ یہ ورثہ دو طرح کا ہوتا ہے: مرئی اور غیر مرئی۔ مرئی اشیا وہ ہیں جنھیں ہم ٹھوس شکل میں اپنے سامنے دیکھ سکتے ہیں مثلاً فنِ تعمیر، مصوری، صنم تراشی، نقاشی، کندہ کاری، زر دوزی وغیرہ، جبکہ غیر مرئی ثقافتی ورثے میں شعر و ادب وغیرہ آتے ہیں۔ ٹھوس شکل میں نظر آنے والا ثقافتی ورثہ خودبخود محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اگر قدیم رومن آثار، یونانی کھنڈرات، پراچین بھارت کے مندر اور جنوبی امریکہ میں قبلِ مسیح کے تاریخی آثار کو بے رحم فطرت کے مقابل بے سہارا چھوڑ دیا گیا ہوتا تو آج ہمیں قدماء کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ ہوتا۔

سندھی تہذیب کی بہت سی تاریخی نشانیاں موسمی شداید کی نذر ہو کر ہمیشہ کےلئے نابود ہو چُکی ہیں، لیکن جو آثار ابھی موجود ہیں اُن کو ریکارڈ پر لانا اور اُن کے تحفظ کی جدو جہد کرنا، سندھ آرکائیوز کے مقاصد میں شامل ہے اور اس غرض سے کئی تحقیقی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ زیرِ نظر کتاب ایسے ہی ایک ریسرچ پراجیکٹ کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

پاک و ہند کے فنِ تعمیر پر یوں تو گذشتہ دو صدیوں سے کام ہو رہا ہے لیکن یہ محققین یورپ سے تعلق رکھتے تھے اور اُن کی تمام تر عرق ریزی کے باوجود یہ نکتہ اُن پر عیاں نہ ہوسکا کہ وہ ہندوستانی فنِ تعمیر کو یورپ کے روائیتی کلاسیکی پیمانوں سے ناپ رہے ہیں۔ اس سقم کا احساس پہلی بار 1920 کی دہائی میں ہوا لیکن تب تک ثقافتی مطالعے کے ضمن میں کئی اور نظری مسائل سر اُٹھا چُکے تھے، مثلاً یہی کہ ایک دور کے طرزِ تعمیر کو دوسرے دور سے ممیّز کرنے کےلئے ہم ایک واضح خطِ تقسیم کیسے کھینچ سکتے ہیں۔ مثال کے طور ہر کیا ہم سلطنت دور کے فنِ تعمیر کو ایک لکیر کھینچ کر مغلیہ دور کے فنِ تعمیر سے الگ کر سکتے ہیں؟

زیرِ نظر کتاب میں یہ مسئلہ مغلیہ اور کلہوڑا دور کے خطِ امتیاز کی صورت میں نظر آتا ہے، کیونکہ تاریخی طور پر جب کلہوڑا دور کا سورج طلوع ہو رہا تھا تو سلطنتِ مغلیہ کا آفتاب غروب ہو رہا تھا لیکن ادب، آرٹ، کلچر اور تہذیب کی تقسیم دو ٹوک انداز میں نہیں ہوسکتی کیونکہ ایک دور کے اثرات اگلے دور کے انداز دُور تک مار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سندھ ارکائیوز کے ڈائریکٹر اقبال نفیس خان کی مدد سے مصنف حاکم علی شاہ بخاری نے اس پراجیکٹ کا قریب سے مطالعہ کیا اور ایک ایسی کتاب تحریر کی جو نہ صرف اسکالروں بلکہ عام قارئین کےلئے بھی دلچسپی کا باعث بنے اور کلہوڑا دور کے حوالے سے پڑھنے والوں کے ذہن میں سندھ کے قدیم اور جدید طرزِ تعمیر کی مختلف جہتوں کو روشن کرے۔

گڑھی کے مقام پر میاں نصیر محمد کی مسجد جو امتدادِ زمانہ سے کھنڈر میں تبدیل ہوچُکی تھی، لیکن حال ہی میں اسکی تعمیرِ نو ہوئی ہے

کلہوڑا دور کے فنِ تعمیر پر بڑی تختی کے ایک سو ستائیس صفحات پر مشتمل یہ کتاب سندھ آرکائیوز نے خود شائع کی ہے۔ مختلف عمارتوں کی رنگین اور سیاہ و سفید تصاویر حاصل کرنے کےلئے کراچی کے جوان سال فوٹو گرافر وقار اشرف کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ طالب علموں کی قوتِ خرید کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کتاب کی قیمت صرف 400 روپے مقرر کی گئی ہے جو کہ کتاب پر آنے والی اصل لاگت سے بہت کم محسوس ہوتی ہے۔

سندھ کی انتظامی تقسیم[ترمیم]

سندھ کے اضلاع[ترمیم]

موجودہ سندھ، انتظامی لحاظ سےمندرجہ ذیل 23 ضلعوں میں منقسم ہے۔

سندھ میں مذاہب[ترمیم]

سندھ میں مذاہب[8]
مذہب فیصد
مسلمان
  
91.31%
ہندو
  
8.51%
دیگر
  
0.18%

آبادیات اور معاشرہ[ترمیم]

آبادیات سندھ
موشر شماریات
شہری آبادی 49.50%
دیہی آبادی 50.50%
شرح افزائش آبادی 2.80%
تناسب جنس (100 عورتوں کے مقابلے میں مرد) 112.24
بحساب اقتصاد 22.75%
تاریخی آبادی
مردم شماری آبادی شہری تناسب

1951 6,047,748 29.23%
1961 8,367,065 37.85%
1972 14,155,909 40.44%
1981 19,028,666 43.31%
1998 35,439,893 48.75%
2010 55,245,497[9] n/a

سندھ کے بڑے شہر[ترمیم]

سندھ کا دارالخلافہ کراچی ہے۔ سندھ کے کراچی سمیت دیگر بڑے شہر درج ذیل ہیں۔

سندھ کے بڑے شہر
درجہ شہر ضلع آبادی

IICROAD.jpg
کراچی
حیدرآباد
حیدرآباد، سندھ

سکھر

1 کراچی کراچی 11,136,886
2 حیدر آباد، سندھ حیدرآباد 1,391,534
3 سکھر سکھر 400,148
4 لاڑکانہ لاڑکانہ 322,315
6 میرپور خاص میر پور خاص 219 977
5 نوابشاہ ضلع شہید بے نظیر آباد بینظیر آباد]] 218 361
7 جیکب آباد جیکب آباد 164,248
8 شکار پور شکارپور 158,913
9 ٹنڈو آدم سانگھڑ 123,261
مآخذ: ورلڈ گزٹر 2012[10]
یہ فہرست ان شہروں کی شہری آبادی پر مشتمل ہے اور یہ آبادی اضلاع کی مکمل آبادی پر مشتمل نہیں ہے۔

ایوان عکس[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Sind - type and level of administrative division". World Gazetteer. Archived on 2012-12-08. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/fcbX. Retrieved 2009-08-19. 
  2. ^ "Percentage Distribution of Households by Language Usually Spoken and Region/Province, 1998 Census.". Pakistan Statistical Year Book 2008. Federal Bureau of Statistics - Government of Pakistan. http://www.statpak.gov.pk/depts/fbs/publications/yearbook2008/Population/16-20.pdf. Retrieved 15 December 2009. 
  3. ^ "Sindh (province, Pakistan)" at Britannica Online Encyclopedia
  4. ^ "About Sindh" at SindhToday.net
  5. ^ "Provincial Assembly Seats". http://www.pas.gov.pk/index.php/members/party_pos/en/19. 
  6. ^ "Government of Sindh". http://www.lgdsindh.com.pk/. 
  7. ^ یہ الگ مضمون ہے، مہربانی کر کے اسے الگ ہی رکھیں۔
  8. ^ 1998 Census Data
  9. ^ "Population shoots up by 47 percent since 1998". Thenews.com.pk. http://www.thenews.com.pk/Todays-News-13-13514-Population-shoots-up-by-47-percent-since-1998. Retrieved 2012-08-03. 
  10. ^ "پاکستان: Largest cities and towns and statistics of their population". Archived on 2013-10-17. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/hbRah. Retrieved 2011-02-10. 

بیرونی روابط[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=سندھ&oldid=859773’’ مستعادہ منجانب