ایوان زیریں پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاکستان

مقالہ بسلسلہ مضامین:
پاکستان کی حکومت اور سیاست



قومی اسمبلی پاکستان کی پارلیمان کا ایوان زیریں ہے۔ جس کی صدارت اسپیکر کرتا ہے جو صدر اور ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین کی عدم موجودگی میں ملک کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا سربراہ عموماً وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے جو قائد ایوان بھی ہوتا ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی موجودہ اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ہیں جبکہ فیصل کریم کنڈی ان کے نائب ہیں۔ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان ہیں جن کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے۔

آئین پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں سے 272 نشستوں پر اراکین براہ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں مذہبی اقلیتوں کے لیے 10 اور خواتین کے لیے 60 نشستیں بھی مخصوص ہیں، جنہیں 5 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتوں کے درمیان نمائندگی کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ قومی اسمبلی میں خواتین کی موجودہ تعداد 72 ہے۔

قومی اسمبلی کے اراکین کثیر الجماعتی انتخابات کے ذریعے عوام کی جانب سے منتخب کیے جاتے ہیں جو پانچ سال میں منعقد ہوتے ہیں۔ آئین کے تحت قومی اسمبلی کی نشست کے لیے مقابلہ کرنے والے امیدواروں کا پاکستانی شہری ہونا 18 سال سے زائد العمر ہونا ضروری ہے۔

موجودہ ایوان زیریں[ترمیم]

سیاسی جماعت ووٹ فیصد منتخب کردہ نشستیں خواتین کے لیے مخصوص نشستیں اقلیت کے لیے مخصوص نشستیں کل نشستیں
Flagge der Pakistanischen Volkspartei.svg پاکستان پیپلز پارٹی 10,606,486 30.6 94 23 4 130
Flag of Muslim League.png پاکستان مسلم لیگ ن 6,781,445 19.6 71 17 3 95
Flag of Muslim League.png پاکستان مسلم لیگ ق 7,989,817 23.0 42 10 2 55
Flag of the Muttahida Qaumi Movement.svg متحدہ قومی موومنٹ 2,507,813 7.4 19 5 1 26
Red flag.svg عوامی نیشنل پارٹی 700,479 2.0 10 3 0 13
Flag of MMA.svg متحدہ مجلس عمل [1] 772,798 2.2 5 1 0 6
Flag of Muslim League.png پاکستان مسلم لیگ ف 4 1 0 5
Flagge der Pakistanischen Volkspartei.svg پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاؤ 140,707 0.4 1 0 0 1
نیشنل پیپلز پارٹی 1 0 0 1
Flag of BNP.svg بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی 1 0 0 1
آزاد 18 0 0 18
کل 34,665,978 100 266 60 10 336
ذریعہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان, Adam Carr's Electoral Archive

آئین پاکستان کی شق 58 کے تحت صدر پاکستان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پانچ سالہ مدت ختم ہونے سے قبل بھی اسمبلی کو تحلیل کر دے تاہم اس کے لیے عدالت عظمیٰ کی منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کا انعقاد ضروری ہوتا ہے۔

وضاحت[ترمیم]

  1. ^ صرف جمعیت علمائے اسلام ف نے حصہ لیا مذہبی جماعتوں کے اس سیاسی اتحاد کی دیگر جماعتوں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، تحریک جعفریہ اور جمعیت اہلحدیث نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا

متعلقہ مضامین[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]