پاکستان کے صدارتی انتخابات 2007ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاکستان کے صدارتی انتخابات 2007ء
Flag of پاکستان
2004 ←
6 اکتوبر 2007
→ 2008

  Pervez Musharraf 2004.jpg No image.png
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) غیر جماعتی

صدر قبل از انتخابات

پرویز مشرف
پاکستان مسلم لیگ (ق)

Elected صدر

پرویز مشرف
پاکستان مسلم لیگ (ق)


پاکستان

مقالہ بسلسلہ مضامین:
پاکستان کی حکومت اور سیاست



سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کہ پرویز مشرف وردی میں اس انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔ 6 اکتوبر کو یہ انتخابات منتخب ہوئے۔ اس طرح خود پانچ سال کے لیے منتخب ہونے والی اسمبلی نے مزید پانچ سال کا مزید وقت پرویزی صدارت کو بخشا۔

متنازعہ انتخابات[ترمیم]

انتخابات سے پہلے اے پی ڈی ایم کی پارٹیاں تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، مسلم لیگ ن سب نے اپنے استعفیٰ پیش کر دئیے۔ کیونکہ ان لوگوں کو مشرف وردی یا وردی کے بغیر قبول نہیں تھے۔ لیکن مولانا فضل الرحمن کی جماعت نے نہایت دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے۔ حکومت سے ایسی ساز باز کی کہ نہ تو سرحد کی اسمبلی تحلیل ہونے دی اور نہ ہی اس اسمبلی سے استعفیٰ دیا۔ انہوں نے قصداً حکمران جماعت کو وقت دیا جس سے وہ صوبہ سرحد کےوزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی۔

پیپلز پارٹی[ترمیم]

دوسری طرف پیپلز پارٹی نے بھی وکیلوں کی چلائی ہوئی تحریک کی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے بلکہ وہ سب اس گنگا میں نہائے اور نیشنل ری کنسلیشن آرڈینس کے ذریعے سے اپنے مقدمات معاف کرانے میں کامیاب ہوئے۔ اور یوں صدارتی عمل سے بائیکاٹ کے باوجود انہوں نے صدر مشرف کی بی ٹیم کا کردار ادا کیا۔ امریکی حکومت نے مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان مستقبل کی حکومت میں شرکت کی سازباز میں کلیدی کردار ادا کیا۔[1]

مسلم لیگ ق[ترمیم]

مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم نے حق نمک ادا کرتے ہوئے اپنا ان داتا اور آقا کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر کے انتخاب کے بعد دونوں جماعتوں نے جشن بھی منایا۔

انتخابات کے نتائج[ترمیم]

غیر سرکاری طور پر اعلان کردہ نتائج کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے تین سو چھیاسی ووٹوں سے کامیابی حاصل کر لی ۔آئینی فارمولے کے تحت جنرل مشرف کو اس صدارتی انتخاب میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو سو باون ، پنجاب سے چوالیس، سندھ سے انتالیس، بلوچستان سے تینتیس اور سرحد سے اٹھارہ ووٹ ملے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کے مطابق صدارتی انتخاب میں قومی اسمبلی کے کل تین سو بیالیس میں سے ایک سو ننانوے اراکین نے ووٹ ڈالے جبکہ سینیٹ کے ایک سو اراکین میں سے اٹھاون اراکین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔سینیٹ اور قومی اسمبلی میں کل ملا کر دو سو ستاون ووٹ پڑے جن میں سے جنرل پرویز مشرف کو دو سو باون ووٹ ملے۔ دو ووٹ جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو ملے جبکہ تین ووٹ مسترد کر دیے گئے۔

بلوچستان میں صدر کو تینتیس ووٹ ملے۔پنجاب اسمبلی میں تین ووٹ جسٹس (ر) وجیہہ الدین اور دو سو تریپن ووٹ جنرل پرویز مشرف کو ملے۔ایک سو چوبیس اراکین پر مشتمل ایوان میں کل چونتیس ووٹ ڈالے گئے جن میں سے جنرل مشرف کو اکتیس اور ایک ووٹ جسٹس(ر) وجیہہ الدین کو ملا جبکہ دو ووٹ مسترد ہوگئے۔ جنرل پرویز مشرف کو ملنے والے اکتیس ووٹ صدارتی آئینی فارمولے کے مطابق اٹھارہ ووٹ گنے گئے۔صوبہ سندھ میں ایک سو اڑسٹھ اراکین کے ایوان میں ایک سو چار اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے ہیں جن میں سے جنرل مشرف کو 102 ووٹ ملے ہیں اور آئینی فارمولے کے مطابق انہیں ڈالے جانے والے ووٹوں کی تعداد انتالیس رہی۔

سرکاری طور پر ان نتائج کے اعلان کے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کی پابندی کی گئی۔ اور 17 تاریخ سے پہلے ان نتائج کا اعلان نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ ابھی تک جسٹس وجیہہ الدین کے دائر کردہ اعتراضات کا فیصلہ نہیں ہوسکا

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ WSWS, 6 اکتوبر 2007ء، "Bush, Bhutto accomplices in Pakistan’s sham presidential election"