ایوان بالا پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
State emblem of Pakistan.svg
حصہ سلسلہ مضامین بہ
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین

سینٹ پاکستان کی پارلیمان کا ایوان بالا ہے۔ یہ دو ایوانی مقننہ کا اعلیٰ حصہ ہے ۔ اسکے انتخابات ہر تین سال بعد آدھے تعداد کے نشست کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں اور ۔ اور ممبران کی مدت 6 سال ہوتی ہے ۔ سینیٹ کا سربراہ ملک کے صدر کا قائم مقام ہوتا ہے ۔ موجودہ سربراہ ایوان بالا راجہ ظفر الحق ہیں جو 11 جون 2013 سے اس عہدے پر ہیں ۔


بنیادی مقاصد و اغراض[ترمیم]

اس ایوان کے قیام کی بنیادی وجہ تمام وفاقی اکائیوں اور طاقتوں کو ایک جگہ پر نمائندگی دینا ہے ۔ ایوان زیریں یا قومی اسمبلی (Parlement) میں موجود ہر صوبے کی طرف سے برابر تعداد میں ہر ایک کی نمائندگی کا موقع اس ایوان بالا میں دیا جاتا ہے ۔ اس وقت اس ایوان بالا میں 104 نشستیں ہیں جن میں سے 18 خواتین کی ہیں -

1971 میں جب پاکستان ٹوٹ گیا تو اس کی ٹوٹنے کے وجوہات میں ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ حکومتیں چھوٹے صوبوں کو توجہ نہیں دیتا تھا۔ جب ملک ٹوٹا تو 1971 کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ بنایا گیا تاکہ تمام چھوٹے صوبوں کو بڑے صوبوں کے طرح نمائندگی مل جائے ۔ کیونکہ قومی اسمبلی میں تو ہر صوبے سے ارکان اکثریت کے بنیاد پہ منتخب ہوتے ہیں یعنی جس صوبے کی زیادہ آبادی ہوتی ہے وہی سے زیادہ نشستیں منتخب ہوتے ہیں لیکن سینیٹ میں تمام صوبوں سے ارکان برابر تعداد میں منتخب ہوتے ہیں۔

صوبہ/علاقہ عام نشست ٹیکنوکریٹ/علماء خواتین غیر مسلم کُل نشستیں
بلوچستان 14 4 4 1 23
خیبر پختونخوا 14 4 4 1 23
سندھ 14 4 4 1 23
پنجاب 14 4 4 1 23
قبائلی علاقہ جات 8 - - - 8
اسلام آباد 2 1 1 - 4
  • نوٹ: آئین پاکستان کے 18ویں ترمیم میں غیرمسلموں کیلئے چار نشستیں بڑھا دیئے گئے ہیں۔

تقرری[ترمیم]

اس ایوان کے 104 ممبران کا انتخاب کچھ اس طرح سے ہوتا ہے :

  1. 14 ممبران ہر صوبائی اسمبلی سے منتخب ہو ں گے ۔
  2. 8 کا انتخاب فاٹا سے ہوگا ۔
  3. 2 عام نشستیں اور ایک خواتین کی نشست اور ایک ٹیکنو کریٹ جیسے کہ " عالم " ۔
  4. 4 خواتین کا انتخاب ہر صوبائی اسمبلی سے ہوگا ۔
  5. 4 علما کا انتخاب ہر صوبائی اسمبلی سے ہوگا ۔
  6. ہر ہر صوبے سے ایک نشست اقلیت کے لیے مخصوص ہوگی ۔

ایوان بالا میں موجودہ اور سابقہ جماعتوں کی حیثیت[ترمیم]

2015 تا 2021[ترمیم]

2015 میں ہونے والے انتخابات کا نتیجہ یہ آیا:

موجودہ سینیٹ بیٹھک[1]
سیاسی جماعت نشست گرافنگ خد و حال
پاکستان پیپلز پارٹی 27
27 / 104
اکثریت میں
پاکستان مسلم لیگ 26
26 / 104
اقلیت میں
متحدہ قومی موومنٹ 8
8 / 104
اکثریت میں ،پیپلزپارٹی کے ساتھ
عوامی نیشنل پارٹی 7
7 / 104
اکثریت میں ،پیپلزپارٹی کے ساتھ
پاکستان تحریک انصاف 6
6 / 104
اقلیت میں
جمعیت علمائے اسلام (ف) 5
5 / 104
اکثریت میں ،پیپزپارٹی کے ساتھ
پاکستان مسلم لیگ 4
4 / 104
اکثریت میں ،پیپلزپارٹی کے ساتھ
نیشنل پارٹی 3
3 / 104
اکثریت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ
پختونخوا ملی عوامی پارٹی 3
3 / 104
اقلیت میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ
بلوچستان نیشنل پارٹی 4
4 / 104
اقلیت میں ن لیگ کے ساتھ
پاکستان مسلم لیگ 1
1 / 104
اکثریت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ
جماعت اسلامی 1
1 / 104
اقلیت میں تحریک انصاف کے ساتھ
آزاد 6
6 / 104
قربت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ
خالی 2
2 / 104
خالی نشست
کل سینیٹ نشت 106

2008 سے تا 2015[ترمیم]

جماعت تعداد
پاکستان پیپلز پارٹی 41
پاکستان مسلم لیگ ن 14
عوامی نیشنل پارٹی 12
پاکستان مسلم لیگ ق 5
جمعیت علمائے اسلام 7
متحدہ قومی تحریک 7
قبائلی علاقہ جات 8
آزاد 4
جماعت اسلامی پاکستان
بلوچستان نیشنل پارٹی 4
نیشنل پارٹی (پاکستان) 1
پاکستان مسلم لیگ ف 1
جمہوری وطن پارٹی
پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ)
پختونخوا ملی عوامی پارٹی
مجموعہ 104


  1. ^ javed, ahmad (June 12, 2013). "senators". dawn. AP (dawn) (senate). https://www.google.com.pk/webhp?sourceid=chrome-instant&ion=1&espv=2&ie=UTF-8#q=google+translate۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 February 2015.