عدالت عظمیٰ پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عدالت عظمیٰ پاکستان
200px
فاحكم بين الناس بالحق
قیام 2 مارچ 1956 (1956-03-02) (58 سال قبل)
دائرۂ اختیار Flag of Pakistan.svg پاکستان
محل وقوع اسلام آباد
تشکیلی طریقۂ کار تنفیذی انتخاب
مجاز از آئین پاکستان
مرافعہ شدہ فیصلے صدر پاکستان برائے تخفیف سزا
مدت قضاءت 65 سال
تعداد مناصب 1 منصفِ اعظم اور 16 منصفین
موقع حبالہ سرکاری موقع حبالہ
منصف اعظم پاکستان
حالیہ افتخار محمد چوہدری
از 30 جون 2005
اختتام منصب قیادت برقرار


پاکستان

مقالہ بسلسلہ مضامین:
پاکستان کی حکومت اور سیاست



عدالت عظمیٰ پاکستان، اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سب سے اعلیٰ عدالت ہے اور عدالتی نظام کا اہم ترین سربراہی حصہ ہے۔ عدالت عظمیٰ پاکستان قانونی اور آئینی معاملات میں فیصلہ کرنے والا حتمی ثالث بھی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا مستقل دفتر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ہے، جبکہ اس عدالت کی کئی ذیلی شاخیں اہم شہروں میں کام کر رہی ہیں جہاں مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔ عدالت عظمیٰ پاکستان کو کئی اختیارات حاصل ہوتے ہیں، جن کی تشریح آئین پاکستان میں کی گئی ہے۔ ملک میں کئی فوجی حکومتوں اور غیر آئینی تعطیل حکومت کے دور میں بھی عدالت عظمیٰ پاکستان نے حکومتوں کی نگرانی کی ہے۔

آئینی اختیارات[ترمیم]

پاکستان کے آئین کے حصہ 7، باب دوم میں آرٹیکل 176 تا 191 میں عدالت عظمیٰ پاکستان کے اختیارات، ترتیب، قوانین اور فرائض کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان آرٹیکل کا سرسری جائزہ زیل میں بیان کیا گیا ہے:

  • آرٹیکل 176 - عدالت کی ترتیب
  • آرٹیکل 177 - منصف اعظم کی قابلیت اور تقرری کا طریقہ کار
  • آرٹیکل 178 - منصف اعظم کے دفتر کا حلف
  • آرٹیکل 179 - ریٹائرمنٹ یا علیحدگی کے قوانین
  • آرٹیکل 180 - منصف اعظم کی غیر حاضری، خالی نشست یا ناقابلیت بارے قوانین
  • آرٹیکل 181 - عدالت عظمیٰ کے دوسرے منصفین کی غیر حاضری، خالی نشستوں یا ناقابلیت بارے قوانین
  • آرٹیکل 182 - ایڈ ہاک منصفین کی تقرری
  • آرٹیکل 183 - عدالت عظمیٰ کی طبیعیاتی جگہ یا مقام
  • آرٹیکل 184 - عدالت عظمیٰ کا دو یا دو سے زیادہ حکومتوں کے مابین تنازعہ کی صورت میں دائرہ اختیار
  • آرٹیکل 185 - استدعا یا اپیل کی صورت میں سماعت اور فیصلہ کا دائرہ اختیار
  • آرٹیکل 186 - عدالت عظمیٰ کا صدر مملکت کو درخواست پر اہم آئینی و قانونی معاملات پر صلاح دینے کا احوال
  • آرٹیکل 186الف- جائے تحقیقات و سماعت کا اختیار
  • آرٹیکل 187 - احکام و سوموٹو اختیارات
  • آرٹیکل 188 - عدالت عظمیٰ کا اپنے ہی فیصلوں اور احکام بارے تبدیلی و تنقید کے اختیارات
  • آرٹیکل 189 - پاکستان کی دوسری تمام عدالتوں پر عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر قائم رہنے کے احکامات
  • آرٹیکل 190 - اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تمام تر اعلیٰ انتظامی اور عدالتی حکام یا ارباب اختیار عدالت عظمیٰ پاکستان کے احکامات کی بجاآوری اور مدد کے پابند ہیں۔

اوپر بیان کیے گئے جائزہ کے علاوہ، آئین پاکستان میں جا بجا دوسرے ابواب اور حصوں میں قانونی، آئینی اور ملکی معاملات میں عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں عدالت عظمیٰ کا یہ کردار عیاں ہے کہ وہ حکومت پاکستان کے دوسرے حصوں پر نہ صرف آئینی و قانونی نظر رکھے بلکہ ان حکومتی شاخوں میں اختیارات و فرائض کی درست نشاندہی اور تقسیم بھی عمل میں لائے۔

بیرونی روابط[ترمیم]

متناسقات: 33°43′41″N 73°05′55″E / 33.72806°N 73.09861°E / 33.72806; 73.09861