مجلس شوریٰ پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
State emblem of Pakistan.svg
حصہ سلسلہ مضامین بہ
سیاست و حکومت
پاکستان
آئین
مجلس شوریٰ پاکستان

مجلس شوریٰ یا پارلیمینٹ پاکستان میں وفاقی سطح پر اعلی ترین قانون ساز ادارہ ہے۔ اس ادارے میں دو ایوان شامل ہیں؛ ایوانِ زیریں یا قومی اسمبلی اور ایوانِ بالا یا سینیٹ۔ آئین پاکستان کی دفعہ 50 کے تحت صدر مملکت بھی مجلس شوریٰ کا حصہ ہیں۔

آئینِ پاکستان میں پہلے صدر مملکت کو اختیار تھا کہ وہ ایوانِ زیریں کو برطرف کردیں مگر اس آئین میں ترمیم کے بعد اب صدر مملکت کو مخصوص حالات میں ایوانِ زیریں کو برطرف کرنے کا اختیار نہیں دیتا ہے۔ایوانِ زیریں کی طرح ایوانِ بالا اس سے مستثنیٰ ہے اور صدر اسے برطرف نہیں کرسکتا۔

ایوانِ زیریں / قومی اسمبلی[ترمیم]

اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: قومی اسمبلی

پاکستان کی قومی اسمبلی مجلس شوریٰ کا ایوان زیریں ہے۔ اس میں کُل 342 نشستیں ہیں جن میں سے 272 نشستوں پر براہِ راست انتخابات کے ذریعے ارکان منتخب ہوتے ہیں۔ 60 نشستیں خواتین کے لیے اور 10 اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ گوکہ خواتیں کے لیے کچھ نشستیں مخصوص ہیں جن پر مرد منتخب نہیں ہوسکتے، عمومی نشستوں پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہے اور ان پر مرد و خواتین دونوں انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

ایوانِ بالا /سینیٹ[ترمیم]

اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: ایوانِ بالا

پاکستان کی سینیٹ مجلس شوریٰ کا ایوانِ بالا ہے۔ اس میں کُل 100 نشستیں ہیں اور 2008 میں ان میں سے 18 نشستوں پر خواتین ہیں۔ آئین کے مطابق صدر سینیٹ کو برطرف نہیں کر سکتے۔ سینیٹ کے انتخابات براہِ راست نہیں ہوتے اور انھیں صوبائی اسمبلیوں کے ممبران منتخب کرتے ہیں۔