کابینہ پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پاکستان

مقالہ بسلسلہ مضامین:
پاکستان کی حکومت اور سیاست



پاکستان کی کابینہ وزیر اعظم کی زیر قیادت وزراء کی وہ جماعت ہے جو حکومت چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

وزرا کی مجلس کی صدارت وزیر اعظم کرتا ہے ۔ تکنیکی طور پر یہ حکومت پاکستان کی کلی خود مختار مجلس ہے۔

2009ء میں کابینہ تبدیلیاں[ترمیم]

26 جنوری 2009ء کو چار نئے وفاقی وزراء کی جانب سے عہدے سنبھالنے کے بعد وفاقی وزراء کی کل تعداد 41 ہو گئی تاہم 16 دسمبر 2009ء کو نئے اعلان کے بعد یہ تعداد 39 رہ گئی۔ ان چار وزراء میں سے دو کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ اور دو کا جمعیت علمائے اسلام ف سے تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ مرکز میں اتحادی حکومت کا حصہ بنی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے لیے حکومت نے وزارت محنت، افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اس طرح محنت و افرادی قوت کی وزارت الگ اور سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت الگ کر دی گئی۔ موخر الذکر وزارت کے علاوہ بندرگاہوں اور جہاز رانی کی وزارت بھی متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے وزراء کو ملی۔ ان وفاقی وزراء کے علاوہ وزرائے مملکت کی تعداد 17 ہے۔ اس تازہ ترین تبدیلی کے بعد کابینہ کے اراکین میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 42، جمعیت علمائے اسلام ف اور عوامی نیشنل پارٹی کے 3،3، متحدہ قومی موومنٹ، پاکستان مسلم لیگ ف اور قبائلی علاقہ جات کے 2،2 اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے ایک، ایک رکن کابینہ کا حصہ ہیں جبکہ ایک رکن آزادامیدوار ہیں۔ اس طرح وزراء کی کل تعداد 58 ہے۔

فروری 2009ء میں خواجہ محمد خان ہوتی نے اپنی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت سے اختلافات کے باعث انسداد منشیات کی وزارت سے استعفی دے دیا۔

2009ء میں ہی رحمٰن ملک کو مشیر داخلہ سے وزیر داخلہ قرار دے دیا گیا کیونکہ ایوان بالا سینیٹ کے رکن بن گئے۔ علاوہ ازیں فاروق نائیک کے چیئرمین سینیٹ بننے کے بعد سید مسعود کوثر کو مشیر قانون و انصاف قرار دے دیا گیا۔ اسی سال رضا ربانی اور شیری رحمٰن نے بھی مبینہ طور پر جماعت کی قیادت سے اختلاف کے باعث کابینہ سے استعفے دے دیے [1][2]۔ شیری رحمٰن کی جگہ قمر زمان کائرہ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بنایا گیا۔

ڈاکٹر عاصم حسین کے استعفے کے بعد حکومت نے اگست 2009ء میں وزیر برائے تیل و قدرتی وسائل سید نوید قمر کو وزارت نجکاری کا اضافی عہدہ عطا کیا [3] تاہم دسمبر 2009ء میں وفاقی کابینہ میں ایک مرتبہ پھر رد و بدل کرتے ہوئے حکومت نے ان سے یہ عہدہ وقار احمد خان کو منتقل کر دیا گیا جو پہلے وزیر سرمایہ کاری کے فرائض انجام دے رہے تھے[4]۔ علاوہ ازیں دسمبر 2009ء میں دیگر تبدیلیوں میں میر ہزار خان بجارانی سے وزارت تعلیم کا قلمدان واپس لے کر انہيں وزیر صنعت و پیداوار بنا دیا گیا جبکہ وزیر صنعت و پیداوار منظور وٹو کو وزارت امور کشمیر و شمالی علاقہ جات کا قلمدان سونپ دیا گیا۔ حکومت نے ساتھ ہی وزارت سرمایہ کاری اور وزارت ترقیات و منصوبہ بندی کے خاتمے کا بھی اعلان کیا اور ان محکموں کو وزیر اعظم کے ماتحت کر دیا[4]۔

اراکین کابینہ[ترمیم]

وفاقی وزراء[ترمیم]

اودہ موجودہ اودےدار شروعاتِ اختیارات
وزیر اعظم
June 5, 2013
وزیر خارجہ
June 7, 2013
وزیر دفاع
وزیر پانی و بجلی

June 7, 2013
وزیر خزانہ
June 7, 2013
وزیر داخلہ
June 7, 2013
وزیر زراعت
سکندر بوسان
June 7, 2013
وزیر صحت
سائرہ افضل ترار
June 7, 2013
وزیر تجارت
خرم دستگیر
June 7, 2013
Ministry of Industry
غلام مرتضٰی خان
June 7, 2013
وزیر سائنس و تکنیک
زاہد حامد
June 7, 2013

خالی وزارتیں[ترمیم]

شمار وزارت تبصرہ
1 وزارت اقتصادی امور و شماریات عارضی طور پر وزیر خزانہ شوکت ترین کے زیر نگرانی
2 وزارت اطلاعاتی طرزیات (انفارمیشن ٹیکنالوجی) عارضی طور پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے زیر نگرانی
3 وزارت انسداد منشیات فروری 2009ء میں خواجہ محمد خان ہوتی کے استعفے کے باعث خالی
4 وزارت ثقافت
5 وزارت سرمایہ کاری 15 دسمبر 2009ء کو ختم کر دی گئی، محکمہ وزیر اعظم کے ماتحت کر دیا گیا[4]
6 وزارت منصوبہ بندی و ترقیات 15 دسمبر 2009ء کو ختم کر دی گئی، محکمہ وزیر اعظم کے ماتحت کر دیا گیا[4]

حوالہ جات[ترمیم]

متعلقہ مضامین[ترمیم]