سرتاج عزیز
سرتاج عزیز7فروری 1929ء میں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور ، ہیلے کالج آف کامرس اور دیگر تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ۔ 1949ء میں پنجاب یونیورسٹی سے معاشیات کے شعبہ میں ڈگری حاصل کی ۔ ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے پبلک ایڈمنسٹریشن (اکنامک ڈویلپمنٹ) میں ماسٹر کیا ۔ انہوںنے 1950ء میں حکومتی ملازمت اختیار کی اور مختلف عہدوں پر کام کیا۔ 1967ء میں پلاننگ کمیشن میں جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیئے۔ سرتاج عزیز کو بین الاقوامی ممتاز عہدوں پر بھی متمکن رہنے کا موقع ملا ۔1971ء سے1984ء تک اقوام متحدہ،ورلڈ فوڈ کونسل، انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچر ڈویلپمنٹ اور دیگر اداروں میں کام کیا۔
فہرست |
سیاست میں حصہ [ترمیم]
سرتاج عزیز نے 1984ء میں وطن واپسی پر پاکستانی سیاست میں حصہ لیا اور وزیر مملکت برائے خوراک و زراعت کی حیثیت سے وفاقی کابینہ میں شامل ہوئے ۔ وہ1985ء اور 1994ء میںخیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہوئے ۔اکتوبر1985ء میں وزیراعظم کے خوراک و زراعت کے خصوصی مشیر اور جنوری 1986ء میں وفاقی وزیر خوراک ،زراعت و دیہی ترقی کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ اگست 1990ء سے جولائی1993ء تک وفاقی وزیر خزانہ، منصوبہ بندی و معاشی امور کے وزیر بھی رہے ۔
جولائی 1993ء ہی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے ۔ 1998ء سے 1999ء تک وزیراعظم میاں نواز شریف کی کابینہ میں وزیر خارجہ جیسے اہم منصب پر فائز رہے ۔ سرتاج عزیز سینٹ کی خارجہ ،کشمیر وشمالی علاقہ جات کے امور کے علاوہ خزانہ ،معاشی امور اور خوراک و زراعت کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین بھی رہے ۔
اعزازات [ترمیم]
سرتاج عزیز نے تحریک پاکستان میں بھی حصہ لیا ۔46-1945ء کے الیکشن میمسلم لیگ کے لئے کام کرنے پر انہیںمجاہد پاکستان کا سرٹیفکیٹ بھی ملا ۔ انہوںنے مارچ 1946ء میںقائداعظم محمد علی جناحکے ہاتھوں اسلامیہ کالج لاہور میں اپنی کلاس میںاول آنے پر انعام بھی حاصل کیا ۔ 1959 اور 1967ء میں منصوبہ بندی و ترقی کے شعبہ میں گراں قدر خدمات سرانجام دینے پر حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہء پاکستان اور ستارہ خدمت سے بھی نوازے گئے ۔
سرتاج عزیز مسلم لیگ ن کی سنٹرل کمیٹی کے رکن ہیں تاہم اب پارٹی میں زیادہ سرگرم نہیں ہیں ۔ اب بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی لاہور سے بطور وائس چانسلر بھی منسلک ہیں۔ 80 سالہ زندگی میں بدعنوانی کا ایک دھبہ بھی ان کے دامن پر نہیں لگا ۔ یہ بات انہیں دوسرے سیاستدانوں سے ممتاز کرتی ہے ۔
سرتاج عزیز نے پاکستان کی تاریخ اور معاشی موضوعات پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ پر ان کی کتاب "Between Drems and Realities" ایچی سن کالج کے نصاب میں شامل ہے ۔ ممتاز ناول نگار نثار عزیز بٹ ان کی بڑی بہن ہیں۔[1]
مآخذ [ترمیم]
- ^ سنڈے ایکپسیریس، روزنامہ ایکسپریس۔ 13 دسمبر 2009ء
متعلقہ مضامین [ترمیم]
| سیاسی دفاتر | ||
|---|---|---|
| پیشرو بینظیر بھٹو |
وزیر خزانہ پاکستان 1990 – 1993 |
جانشین سید بابر علی |
| پیشرو شاہد جاوید برکی |
دوسری مدت 1997 – 1998 |
جانشین اسحاق ڈار |
| پیشرو گوہر ایوب خان |
وزیر خارجہ پاکستان 1998 – 1999 |
جانشین عبدالستار |
