خطبہ الہ آباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

1930ء کو مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس آلہ آباد میں منعقد ہوا۔ اس کی صدارت ڈاکٹر سر محمد اقبال نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطبے میں بڑی وضاحت سے ہندوستان کے حالات، مسلمانوں کی مشکلات، ان کے مستقبل اور مسلمانان ہند کی منزل کی نشان دہی کی۔

کانگرس جس طرح ماضی میں مسلمانوں کے وجود سے انکاری ہوئی تھی اس سے انکار ممکن نہیں تھا۔ ان دنوں لندن میں گول میز کانفرنس ہو رہی تھی لیکن علامہ اقبال گاندھی کی ہٹ دھرمی کے پیش نظر جانتے تھے کہ کوئی بھی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلے گا اور مسلمانوں کی منزل ایک علیحدہ مملکت ہی ہے۔

خطبہ آلہ آباد کے اہم نکات[ترمیم]

اسلام ایک زندہ قوت[ترمیم]

اسلام ریاست اور فرد دونوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے‘ دستور حیات ہے اور ایک نظام ہے جس شخص کو آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت کے اعزاز سے نوازا وہ اب بھی ایک اسلام کو ایک طاقت سمجھتا ہے اور یہی طاقت انسان کے ذہن کو وطن اور نسل کے تصور کی قید سے نجات دلا سکتی ہے۔


اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے[ترمیم]

یورپ میں مذہب ایک فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ وہاں فرد روح اور مادہ میں تقسیم ہے‘ ریاست اور کلیسا جدا ہیں‘ خدا اور کائنات میں کوئی تعلق نہیں لیکن اسلام ایک وحدت ہے جس میں ایسی کوئی تفریق نہیں ہے۔ اسلام چند عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ مکمل ظابطہ حیات ہے۔ مذہب کو فرد اور ریاست کی زندگی میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔


مسلمان ایک قوم ہیں[ترمیم]

ہندوستان کے مسلمان اپنے تہذیب و تمدن، ثقافت اور اسلام کی وجہ سے یہاں کی دوسری قوموں سے مختلف ہیں۔ ان کی توداد برعظیم میں سات کروڑ ہے اور ہندوستان کے دوسرے باشندوں کی نسبت ان میں زیادہ ہم آہنگی اور یکسانیت پائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہی جدید ترین معنی میں قوم کہا جا سکتا ہے۔


متحدہ قومیت کی تردید[ترمیم]

مغربی ممالک کی طرح ہندوستان کی یہ حالت نہیں ہے کہ اس میں ایک ہی قوم آباد ہو۔ ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسل‘ زبان‘ مذہب سب ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں وہ احساس پیدا نہیں ہو سکا ہے جو ایک ہی نسل کے مختلف افراد میں ہوتا ہے۔


ہندو مسلم دو الگ قومیں[ترمیم]

ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، ان میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گزشتہ ایک ہزار سال میں اپنی الگ حیثیت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ہی ملک میں رہنے کے باوجود ہم میں یک جہتی کی فضا اس لیے قائم نہیں ہو سکی کہ یہاں ایک دوسرے کی نیتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ کس طرح فریق مقابل پر غلبہ اور تسلط حاصل کیا جائے۔


مسلم ریاست کی ضرورت[ترمیم]

ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ تنہا ایک ملک میں سات کروذ فرزندان توحید کی جماعت کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رہے تو اس مقصد کے لیے ایک مرکز قائم کرنا ہو گا۔


علیحدہ وطن کا مطالبہ[ترمیم]

میں یہ چاہتا ہوں کہ صوبہ پنجاب، صوبہ شمال مغربی سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست کی شکل دی جائے یہ ریاست برطانوی ہند کے اندر اپنی حکومت خوداختیاری حاصل کرے‘ خواہ اس کے باہر۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو آخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا ہی پڑے گی۔


سائمن کپیشن کی سفارشات پر تنقید[ترمیم]

علامہ سر محمد اقبال جداگانہ انتخاب‘ بنگال‘ پنجاب اور سرحد میں مسلم اکثریت کو قائم رکھنے کے زبردست حامی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تجاویز کی مخالفت کرتے ہوئے سر شفیع کی حمایت کی تھی۔ کیوں کہ سائمن کمیشن نے بھی بنگال اور پنجاب میں مسلمانوں کی آئینی اکثریت کی حمایت نہیں کی تھی اس لئے آپ نے اس پر بھی سخت تنقید کی۔


ہندوستان کی آزادی کے لئے ضرورت اتحاد[ترمیم]

علامہ اقبال نے اپنے خطبے میں واضح کر دیا کہ اگر مسلمانوں کے جائز مطالبات پورے نہ کئے گئے تو وہ متحد ہو کر کوئی آزادانہ سیاسی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ مسلم مملکت کا میرا یہ مطالبہ ہندو اور مسلمان دونوں کے لئے منفعت بخش ہے۔ ہندوستان کو اس سے حقیقی امن و سلامتی کی ضمانت مل جائے گی۔

مزید دیکھیں[ترمیم]