بھگت سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بھگت سنگھ
Bhagat Singh
پیدائش 28 ستمبر 1907 (1907-09-28)
جڑانوالہ تحصیل, پنجاب, برطانوی ہند
وفات 23 مارچ 1931 (عمر 23 سال)
لاہور, پنجاب, برطانوی ہند
تنظیم نوجوان بھارت سبھا,
کیرتی کسان پارٹی,
ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن
سیاسی تحریک تحریک آزادی ہند
مذہب دہریت

(1907ء تا 23 مارچ 1931ء) برصغیر کی جدوجہد آزادی کا ہیرو۔ بھگت سنگھ سوشلسٹ انقلاب کا حامی تھا۔ طبقات سے پاک برابری کی سطح پر قائم ہندوستانی معاشرہ چاہتا تھا۔ ضلع لائل پور کے موضع بنگہ میں پیدا ہوا۔ کاما گاٹا جہاز والے اجیت سنگھ اس کے چچا تھے۔ جلیانوالہ باغ امرتسر اور عدم تعاون کی تحریک کے خونیں واقعات سے اثر قبول کیا۔ 1921ء میں سکول چھوڑ دیا اور نیشنل کالج میں تعلیم شروع کی۔ 1927ء میں لاہور میں دسہرہ بم کیس کے سلسلے میں گرفتار ہوا اور لاہور کے شاہی قلعے میں رکھا گیا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد نوجوان بھارت سبھا بنائی۔ اور پھر انقلاب پسندوں میں شامل ہوگیا۔ دہلی میں عین اس وقت، جب مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا اس نے اور بے ۔کے دت نے اسمبلی ہال میں دھماکا پیدا کرنے والا بم پھینکا۔ دنوں گرفتار کرلیے گئے۔ عدالت نے عمر قید کی سزا دی۔

1928ء میں سائمن کمیشن کی آمد پر لاہور ریلوے سٹیشن پر زبردست احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں لالہ لاجپت رائے رائے زخمی ہوگئے۔ اس وقت لاہور کے سینئر سپرٹینڈنٹ پولیس مسٹر سکاٹ تھے۔ انقلاب پسندوں نے ان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن ایک دن پچھلے پہر جب مسٹر سانڈرس اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ پولیس لاہور اپنے دفتر سے موٹر سائیکل پر دفتر سے نکلے تو راج گرو اور بھگت سنگھ وغیرہ نے ان کو گولی مار ہلاک کر دیا۔ حوالدار جین نے سنگھ کا تعاقب کیا۔ انھوں نے اس کو بھی گولی مار دی ۔ اور ڈی اے وی کالج ہوسٹل میں کپڑے بدل کر منتشر ہوگئے۔ آخر خان بہادر شیخ عبدالعزیز نے کشمیر بلڈنگ لاہور سے ایک رات تمام انقلاب پسندوں کو گرفتار کر لیا۔ لاہور کے سینٹرل جیل کے کمرۂ عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ بھگت سنگھ اور دت اس سے قبل اسمبلی بم کیس میں سزا پا چکے تھے۔ مقدمہ تین سال تک چلتا رہا۔ حکومت کی طرف سے خان صاحب قلندر علی خان اور ملزمان کی طرف سے لالہ امرد اس سینئر وکیل تھے۔ بھگت سنگھ اور سکھ دیو کو سزائے موت کا حکم دیا گیا اور 23 مارچ 1931 کو ان کو پھانسی دے دی گئی۔ فیزوز پور کے قریب، دریائے ستلج کے کنارے، ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ بعد میں یہاں ان کی یادگار قائم کی گئی۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]