پرتھوی راج کپور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پرتھوی راج کپور

پیدائش: 3 نومبر1901ء

انتقال:29 مئی 1972ء

مشہور ہندوستانی اداکار۔ فلمساز۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

لالپور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی اس کے بعد ان کے والد کا تبادلہ جب پشاور ہوا تو ایڈورڈ کالج پشاور سے انہوں نے تعلیم حاصل کی۔اداکاری کے شوق میں اپنی ایک خالہ سے قرض لے کر بمبئی چلے گئے۔

کیرئیر[ترمیم]

کئی خاموش فلموں میں کام کرنے کے بعد پرتھوی راج کپور نے برصغیر کی پہلی بولتی فلم عالم آرا میں بھی کام کیا۔خاموش اور بولتی فلموں کے اس اداکار نے فلمی دنیا میں چند ایسے یادگار کردار ادا کیئے جِنہیں فلمی ناظرین کبھی بھلا ہی نہیں سکتے لیکن پِرتھوی کو فلموں سے زیادہ تھیٹر سے بہت لگاؤ تھا اور اس کے لیے انہوں نے 1944 میں اپنا چلتا پھرتا تھیٹر گروپ قائم کیا جس کا نام ’فن، ملک کی خدمت میں‘ رکھا تھا۔ انیس سو ساٹھ تک یہ گروپ کام کرتا رہا لیکن پھر ان کی صحت نے جواب دیا اور انہوں نے کام چھوڑ دیا۔

پرتھوی راج کپور اپنے پرتھوی گروپ کے ساتھ ملک بھر گھومتے تھے۔ سولہ برسوں میں انہوں نے 2662 شوز کیے۔ ان کے ہر ڈرامے میں ایک پیغام ہوتا تھا۔ سنجیدہ سماجی مسائل کو انہوں نے ہمیشہ اہمیت دی۔ اس کا اندازہ ان کے ڈراموں سے لگایا جا سکتا ہے جن میں سماجی مسائل اس دور میں کسانوں کی زبوں حالی، ہندو مسلم تعلقات یا پھر سماج میں دولت کی بڑھتی اہمیت نمایاں ہوتے۔

ان کے چند منتخب اور مشہور ڈرامے دیوار، شکنتلا، پٹھان غدار، آہوتی، پیسہ، کسان اور کلاکار ہیں۔

پِرتھوی راج کپور نے اپنی فلموں میں تھیٹر کے فن کو آزمایا۔ ان کی آواز کی گھن گرج اگر ان کے تھیٹر کے فن میں کام آئی تو وہیں فلم مغل اعظم میں ان کی آواز اس فلم کا اہم حصہ بنی اور وہ کردار ان کی بھاری بھر کم شخصیت اور گرج دار آواز کی وجہ سے زندہ جاوید بن کر رہ گیا۔

پرتھوی راج کپور کے تین بیٹے تھے راج کپور، شمی کپور اور ششی کپور۔ راج کپور اداکار کے ساتھ فلمساز بنے اور انہیں اپنے دور کے سب سے بڑے شومین کا خطاب بھی ملا۔ پرتھوی راج کپور کے بعد ان کے بیٹوں نے اپنے والد کے تھیٹر گروپ میں دلچسپی دکھائی اور آج کنال کپور اور بیٹی سنجنا کپور ہی اپنے دادا کا یہ خواب پورا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔