امیتابھ بچن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
امیتابھ بچن
Amitabh Bachchan.jpg
امیتابھ بچن


ذاتی معلومات
پیدائش 11اکتوبر 1942، الہ باد، اتر پردیش، بھارت
اصل نام امیتابھ شریواستو
دیگر نام امیتابھ بچن، اینگری ینگ مین، بگ بی
اداکاری کا دورانیہ 1969 سے ابھی تک
شریک حیات جیا بہادری
مشہور فلمیں امر اکبر اینتھونی، ڈان، سلسلہ، نمک حرام، بلیک، محبتیں
ایوارڈز
فلم فیئر ایوارڈ
بہترین اداکار
1978 امر اکبر اینتھونی

1979 ڈان
1992 ہم
2006 بلیک

بہترین اداکار (تنقید نگار)
2002 عکس

2006 بلیک

بہترین معاون اداکار
1972 آنند

1974 نمک حرام
2001محبتیں

امیتابھ بچن پیدائشی نام امیتابھ ہریونش شریواستو 11 اکتوبر، 1942 میں پیدا ہونے والے بھارتی اداکار ہیں۔ انہیں ابتدائی مقبولیت 1970 میں ملی اور آج ان کا شمار بھارتی فلم صنعت کی تاریخ میں معروف ترین ہستیوں میں ہوتا ہے۔

اپنے اداکاری کے سفر کے دوران انہوں نے کئی بڑے ایوارڈ حاصل کیئے جن میں تین نیشنل فلم ایوارڈ اور بارہ فلم فیئر ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کے پاس سب سے زیادہ دفع بہترین اداکار نامزد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اداکاری کے علاوہ بچن نے گلوکاری، پیش کار اور میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ 1984 سے 1987 تک وہ بھارتی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔

امیتابھ بچن کی شادی اداکارہ جیا بہادری سے ہوئی۔ ان کے دو بچے ہیں شوئیتا نندا اور ابھیشیک بچن۔ ابھیشیک بھی فلم اداکار ہیں اور بھارتی اداکارہ ایشوریا رائے سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

امیتابھ بچن الہٰ باد، اتر پردیش میں ایک ہندو کایستھا گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن جانے مانے ہندی شاعر اور والدہ تیجی بچن فیصل آباد (حالیہ پاکستان میں) [1] کے ایک سکھ گھرانے سے تھیں۔ بچن کا بچپن میں نام انقلاب تھا جو انقلاب زندہ باد کے نعرے سے متائثر ہو کر رکھا گیا تھا کیونکہ اس وقت بھارت کی آزاری کی جدوجہد زوروں پر تھی، بعد میں ان کا نام بدل کر امیتابھ رکھا گیا جس کے معنی ہمیشہ رہنے والے روشنی کے ہیں۔

امیتابہ اپنے والد کے دہ بیٹوں میں بڑے ہیں، دوسرے کا نام اجیتابھ ہے۔ ان کی والدہ کو اسٹیج سے بہت لگاؤ تھا اور ان کو فلموں میں کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی مگر انہوں نے گھریلو زمہ داری کو اداکاری پر فوقیت دی۔ امیتابھ کے اداکاری کے پیشہ کو اختیار کرنے میں ان کی والدہ کا بڑا ہاتھ ہے[2]۔ امیتابھ کے والد کا 18 جنوری 2003 اور والدہ کا 21 دسمبر 2007 میں انتقال ہوا[3]۔

امیتابھ کے پاس دوہرے ایم - اے (ماسٹرز آف آرٹس) کی سند ہے۔ انہوں نے آلہٰ باد میں جنانا پرابودہینی اور بائز ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد نینیتال شیروڈ کالج گئے جہاں انہوں نے علم فنون کے شعبے کو اختیار کیا۔ یہاں سے وہ جامعہ دہلی کے کروری مال کالج گئےاور سائنس کی سند حاصل کی۔انہوں نے بیس سال کی عمر میں کلکتہ کی کمپنی کی نوکری چھوڑ دی تاکہ اداکاری کے سفر کو اگے بڑھا سکیں ۔

فنکاری کا سفر[ترمیم]

ابتدائی دور (1969-1972)[ترمیم]

امیتابھ فلم آنند میں

امیتابھ کی اداکاری کا سفر 1969 میں فلم سات ہندوستانی ہوا، جس کے ہدایت کار خواجہ احمد عباس اور ساتھی اداکاروں میں اتپل دت، مدھو اور جلال آغا شامل تھے۔ گو کے فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی مگر بچن کو بہتریں نوارد اداکار کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔[4]

اس کے بعد 1971 میں آنند آئی جو کاروباری لحاظ سے کامیاب اور تنقیدی نگاروں میں بہت سراہی گئی۔ اس فلم میں بچن نے راجیش کھنا کے برابر ایک ڈاکٹر کا کردار ادا کیا اور اس کیلیئے انہیں فلم فیئر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔ اسی سال پروانہ لگی، اس فلم میں انہوں نے نوین نشکول، یوگیتا بالی اور اوم پرکراش لے مخالف دیوانے عاشق کا کردار ادا کیا، ایسے منفی کردار میں امیتابھ کو کم ہی دیکھا ھیا۔ اس کے بعد ان کی کئی فلمیں باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکیں جن میں 1971 میں لگنے والی فلم ریشماں اور شیرا بھی شامل ہے۔ اس دوران انہوں نے فلم گڈی میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا، اس فلم کے دیگر اداکاروں میں ان کی مستقبل کی شریکِ حیات جیا بہادری اور دھرمیندر شامل ہیں۔ اپنی بھاری آواز کیوجہ سے انہوں نے فلم باورچی کے ایک حصّہ کو بیان کیا۔ 1972 میں انہوں نے سفر پر مبنی مزاحیہ سنسنی خیز فلم بمبئی سے گوا میں کام کیا جس کی ہدایتکاری ایس۔ راماناتھن نے کی۔ فلم کے دیگر اداکاروں میں ارونا ایرانی، محمود، انور علی اور ناصر حسین شامل تھے۔

شہرت کی بلندیوں کا سفر(1973-1983)[ترمیم]

1973 میں بچن ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوگئے جب ہدایتکار پرکاش مہرا نے انہیں فلم زنجیر میں انسپیکٹر وجے کھنا کے کردار میں پیش کیا۔ اس فلم میں بچن کی اداکاری ان کے دیگر رومانوی کرداروں سے مختلف تھی اور یہاں سے بچن کو بالی وڈ کے اینگری ینگ مین (Angry Young Man) کی پہچان ملی۔ اس فلم کیلیئے ان کو فلم فیئر نیشنل ایوارڈ برائے بہترین اداکار کے زمرہ میں نامزدگی ملی۔ اسی سال امیتابھ اور جیا بہادری کی شادی بھی ہوئی اور وہ ایک ساتھ کئی فلموں میں آئے، زنجیر کے علاوہ ان دونوں کی ایک اور فلم ابھیمان شادی کے ایک مہینہ بعد پردے پر لگی۔ فلم نمک حرام میں امیتابھ وکرم کے کردار میں نظر آئے، ہدایتکار ہراکاش مکھرجی اور قلم کار بریش چیٹرجی کی لکھی اس فلم میں دوستی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ راجیش کھنّا اور ریکھا کے مدمقابل ان کے کردار کو بہت سراہا گیا اور اس کردار کیلیے فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین معاون اداکار سے نوازا گیا۔

1974 میں بچن نے کنوارا باپ اور دوست میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا، جس کے بعد اس سال کا سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم روٹی کپڑا اور مکان میں انہیوں نے معاون اداکار کا رول ادا کیا، فلم کی ہدایتکاری اور کہانی منوج کمار نے لکھی اور خود منوج کمار کے علاوہ ششی کپور اور زینت امان نے اداکاری کی۔ 6 دسمبر 1974 کو فلم مجبور میں مرکزی کردار ادا کیا، مجبور کی کہانی ہالی دڈ کی فلم ZigZag سے متاثر پو کر لکھی گئی ہے، اس فلم کا خاص پزیرائی نہیں ملی۔ [5]

امیتابھ 1970 میں

1975 میں انہوں نے مختلف موضوع کی فلموں میں کام کیا جن میں مزاحیہ فلم چپکے چپکے، جرم کی داستان فرار اور رومانوی داستان ملی شامل ہیں۔ اسی سال ان کی دو اور فلمیں پردے پر لگیں جنہیں ہندی سنیما کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہوا۔ ان میں پہلی یش چوپڑا کی دیوار جس میں بچن نے ششی کپور، نرونا رائے اور نیتو سنگھ کے مخالف کام کیا، اس فلم میں اپنے کام کیلیئے وہ فلم فیئر برائے بہتریں معاون اداکار کیلیئے نامزد ہوئے۔ دیوار 1975 کے سال میں باکس آفس کی بہترین فلموں میں ایک شمار ہوئی اور اس کو چوتھا درجہ ملا۔[6] انڈیا ٹائمز موویز نے دیوار کا شمار بالی وڈ کی پچیس دیکھنے لائق فلموں میں کیا۔ اس کے بعد 15 اگست 1975 میں شعلے ریلیز ہوئی، جو اس وقت بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم بنی۔ اس فلم کی کل کمائی 2,364,500,000 Rs برابر $60 ملین (افراطِ زر کے بعد) کے لگ بھگ تھی۔[7] بچن نے اس فلم میں جے دیو کا کردار ادا کیا اور ان کے مخالف بھارتی فلم صنعت کے بڑے اداکاروں نے کام کیا۔ ان میں اداکار دھرمیندر، ہیما مالینی، سنجیو کمار، جیا بہادری اور امجد خان شامل ہیں۔ 1999 میں بی۔بی۔سی۔ انڈیا نے فلم شعلے کو صدی کی بہترین فلم قرار دیا۔[8] فلم دیوار کیطرح انڈیا ٹائمز موویز نے شعلے کو بالی وڈ کی پچیس دیکھنے لائق فلموں کی فہرست میں شامل کیا۔ اسی سال پچاسویں سالانہ فلم فیئر ایوارڈز میں ججوں نے اسے فلم فیئر نصف صدی کی بہترین فلم کے خاص اعزاز سے نوازا۔

شعلے کی کامیابی کے بعد بچن کو بالی وڈ کی بلندیوں کو چھونے لگے اور 1976 سے 1984 کے درمیان انہیں کئی فلم فیئر ایوارڈ اور نامزدگیاں ملیں، گو کے فلم شعلے میں ان کا کردار ماردھاڑ سے بھرا ہوا تھا مگر انہیں نے ہر قسم کے کردار میں خود کو انتہائی خوبی سے نبھا کر اپنا لوہا منوایا، جیسے فلم کبھی کبھی (1976) میں ان کا رومانوی اور فلم امر اکبر اینتھونی (1977) اور چپکے چپکے (1975) میں ان کا مزاحیہ کردار ان کی اداکارانہ صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1976 میں ایک بار پھر ہدایتکار یش چوپڑا کی فلم چپکے چپکے میں نظر آئے، یہ ایک رومانوی داستان ہے جس میں امیتابھ ایک نوجوان شاعر کا کردار کرتے ہوئے ایک خوبصورت دوشیزہ پوجا کے عشق میں گرفتار ہو جاتے ہیں، پوجا کا کردار راکھی گلزار نے ادا کیا۔ اس فلم کے دل پگھلا دینے والے مکالموں اور جذبات کو چھوتے موضوع نے امیتابھ کو ایک نئے روپ میں عوام کے روبرو پیش کیا۔ اس فلم کے لیئے ایک بار پھر بچن کو فلم فیئر میں بہتریں اداکار کی ایک اور نامزدگی دلائی۔ 1977 میں امر اکبر اینتھونی کیلیئے انہیں فلم فیئر برائے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا، فلم میں امیتابھ ونود کھنا اور رشی کبور کے مقابل اینتھونی گونسالوز کا کردار کرتے نطر آئے۔ 1978 کا سال بغیر کسی شک کے ان کے سامنے اعزازات کا ڈھیر لگا کیا، اس سال ان کی چاروں فلمیں سب سے زیادہ کاروبار کرنے کی فہرست میں سب سے اوپر رہیں۔[9] فلم قسمیں وعدے میں انہوں نے امت اور شنکر کا دوہرا کردار ادا کیا اور ڈان میں ڈان اور ان کے ہمشکل وجے کا کردار کرتے نظر آئے۔ فلم ڈان کیلیئے انہیں ایک اور فلم فیئر برائے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا، اس کے علاوہ فلم تریشول اور مقدر کا سکندر میں ان کی اداکاری کو ناقدین نے بیحد سراہا اور ان دونون فلموں میں انہیں فلم فیئر برائے بہترین اداکار کی نامزدگی ملی۔ فرانسیسی ہدایتکار فرانکوئس ٹروفاؤٹ[10] نے ان کی کامیابیوں اور اعزازات کیلیئے ”یک فرد صنعت“ لے لقب سے نوازا۔

امیتابھ اور ریکھا سلسلہ میں

1979 میں امیتابھ کو پہلی دفعہ فلم مسٹر نٹور لال میں اپنی گائیکی کے جوہر دکھانے کا موقع ملا، فلم میں ان کے ساتھ ریکھا نظر آئیں۔ اس فلم کے لیئے انہیں فلم فیئر بہترین اداکار اور فلم فیئر بہترین مرد گلوکار کا اعزاز ملا۔ 1979 میں ایک بار پھر وہ فلم کالا پتھر کیلیئے فلم فیئر بہترین اداکار کے زمرہ میں نامزد پوئے اور اسی طرح 1980 میں پدایتکار راج کھوسلا کی دوستانہ کیلیئتے بھی اسی زمرہ میں نامزدگی ملی۔ فلم میں امیتابھ نے اداکار شتروگن سنہا اور زینت امان کے مقابل اداکاری کے جوہر دکھائے۔ دوستانہ 1980 کی سب ست زیادہ کاروبار کرنے والی فلم ثابت پوئی۔[11] 1981 میں امیتابھ نے یش چوپڑا کی فلم سلسلہ میں اپنی اہلیہ جیا بہادری اور ریکھا کے ساتھ نظر آئے۔ ان دنوں امیتابھ اور ریکھا کے عشق کی کافی افعاہیں اڑیں مگر اس کا ان کی ازدواجی زندگی پر کوئی اثر نا پڑا۔ اس دور کی دیگر فلموں میں رام بلرام (1980)، شان (1980)، لاوارث (1981) اور شکتی (1982) شامل ہیں۔ شکتی میں امیتابھ مشہور زمانہ اداکار دلیپ کمار[12]کے مقابل اداکاری کرتے نظر آئے۔

1982 میں فلم قلی کے دوران حادثہ[ترمیم]

1982 میں فلم قلی کی فلم بندی کے دوران ایک لڑائی کا منظر کرتے ہوئے میز کا کونا لگنے سے امیتابھ شدید زخمی ہو گئے۔[13] اس منظر میں امیتابھ کو میز پر گرنا تھا مگر اندازہ کی غلطی سے میز کا کونا ان کے پیٹ میں لگا اور اس کے نتیجہ میں ان کی تلی پھٹ گئی اور کافی خون ضائع ہو گیا۔ ان کو فورا ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ کئی مہینہ زندگی اور موت کی جنگ لڑتے رہے۔ اس دوران ان کے مداحوں نے مندروں میں دعائیں کیں اور چڑھاوے پیش کیئے، صحت بہتر ہونے کے بعد ان کے مداح ہزاروں کی تعداد میں ہسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔[14] بالآخر کئی ماہ کے علاج کے بعد فلم دوبارہ شروع ہوئی اور 1983 میں سنیما گھروں میی لگی اور امیتابھ کے حادثہ سے مشہوری کی وجہ سے باکس آفس پر کامیاب ہوئی۔[15]


ہدایتکار منموہن دیسائی نے امیتابھ کے ساتھ پیش انے والے حادثہ کے باعث فلم قلی کا منظر بدل دیا تھا۔ اصلی کہانی میں بچن کے کردار کو قتل ہو جانا تھا مگر کہانی بدلنے کے بعد وہ آخر تک زندہ رہتے ہیں۔ منموہن دیسائی کے مبابق ایسا آدمی کو فلم میں مرتا دکھانا بہتر نہیں جو جود زندگی موت کی جنگ لڑ کر آیا ہو۔ فلم کے دوران لڑائی کا منظر ٹہرا کر امیتابھ کے حادثہ کا پیغام دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ عضلاتی کمزوری کی بیماری میں مبتلا ہو گئے جس کے باعث وہ ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہوگئے اور فلمی دنیا کو خیر آباد کر کے سیاست میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس وقت وہ فلم لائن سے نا امید ہوگئے اور فلم کے کارکردگی کے بارے میں پہلے سے ہی کہنے لگے کہ ”یہ فلم تو فلاپ ہو گی“۔

سیاست: 1984-1987[ترمیم]

1984 میں فلم لائن کو خیرآباد کرنے کے بعد امیتابھ نے سیاست میں قدم رکھا اور اپنے خاندانی دوست راجیو گاندھی کی حمایت میں الہ باد کی لوک سبھا سے سابق وزیر اعلٰی اتر پردیش ایچ۔ این۔ بہوگونا کے مقابل کھڑے ہوئے اور عام انتخابات کی تاریخ کے سب سے بڑے فرق (٦٨۔٢ فیصد ووٹ)[16] سے جیت حاصل کی۔ ان کا سیاسی سفر بہت کم عزصہ پر محیط تھا اور تین سال کے بعد ہی انہوں نے سیاست کو بھی خیر آباد کردیا۔ اس کے فورأ بعد امیتابھ اور ان کے بھائی پر ایک اخبار نے بوفور گھوٹالہ سے وابستگی کا الزام لگایا جسے وہ عدالت میں لے گئے جہاں وہ بیقصور ثابت ہوئے۔[17]

ABCL پر آئے مالیاتی بحران کے دوران مدد کرنے پر بچن نے اپنے پرانے دوست امر سنگھ کی حمایت میں سماج وادی جماعت کی رکنیت حاصل کری۔ جیا بچن نے بھی سماج وادی جماعت میں شمولیت اختیار کی اور راج سبھا کی رکن بنیں۔[18] بچن نے سماج وادی جماعت کی اشتہاری اور سیاسی سرگرمیوں میں حمایت جاری رکھی جن کی وجہ سے حالیہ دور میں ایک بار پھر انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو بھارتی عدالت میں انہیں قانونی کاغذات میں خود کو کسان ظاہر کرنے کے واقع کے بعد شروع ہوئی۔[19]


اپنی کامیابی کی بلندیوں پر ان پر بھارتی پریس کے جریدوں نے ان پر 15 سال کی پابندی عائد کردی، اس پابندی کو عائد کرنے کی فہرست میں اسٹار ڈسٹ اور دیگر فلمی جرائد شامل تھے۔ بچن کے مطابق اپنے دفاع میں پریس کا 1989تک اپنی فلموں کے سیٹ پر داخلہ بندرکھا۔[20] ان کے مطابق یہ قدم انہوں نے پریس کو ان کے خلاف غلط خبریں شائع کرنے سے باز رکھنے کے لیئے اٹھایا تھا۔

اداکاری سے وقتی سبکدوشی 1988-1992[ترمیم]

1988 میں امیتابھ نے فلم شہنشاہ سے دوبارہ اداکاری میں قدم رکھا۔ امیتابھ کی واپسی کی خبروں کی وجہ سے یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ہوئی۔[21] مگر اس کے بعد کی فلمیں امیتابھ کو ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے میں ناکام رہیں۔ 1991 میں ہم کی کامیابی سے لگنے لگا کے شاید امیتابھ کی کامیاب واپسی ممکن پے مگر ایس نہ ہوسکا اور ان کی فلمیں باکس آفس پر ناکام ہوتی رہیں۔ کامیاب فلموں کی کمی کے باوجود 1990 میں فلم اگنی پتھ میں مافیا ڈان کا کردار ان کو دوسرا نیشنل فلم ایوارڈ دلا گیا۔ یہ ان کے بڑے پردے پر آخری دن تھے۔ 1992 میں خدا گواہ کے بعد امیتابھ نے پانچ سال کیلیئے اداکاری سے سبکدوشی اختیار کرلی اور 1994 میں ان کی تاخیر سے لگنے والی فلم انسانیت بھی ایک ناکامی ثابت ہوئی۔[22]

پیش کاری اور اداکاری میں واپسی 1996-1999[ترمیم]

فلم لائن کو خیر آباد کہنے کے بعد امیتابھ نے پیش کاری کو اپنایا اور اسی دوران امیتابھ بچن کارپوریشن لمیٹڈ (A.B.C.L) کی بنیاد اس نظریہ کے تحت رکھی کے وہ 2000 تک اسے دس بلین روپے (250 ملین ڈالر) کی تفریحی کمپنی بنا دیں گے۔ A.B.C.L کا مقصد وسیع خدمات کو متعارف کرانا تھا جو پورے بھارت کی تفریحی صنعت کو فراہم کی جاسکیں۔ اس کی پیش کردہ خدمات میں بڑے پردے کی پیداکاری اور تقسیم، سمعی کیسٹ، بصری ڈسک، ٹیلی وژن کے مصنع لطیف کی پیداکاری اور تقسیم، نامور فنکاروں اور تقریبی انتظامات شامل تھے۔ کمپنی کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد 1996 میں ہی پہلی فلم تیرے میرے سپنے کو پیش کیا۔ یہ فلم باکس آفس پر تو اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی مگر اداکار ارشد وارسی اور جنوب کی اداکارہ سمرن جیسے نئے اداکاروں کو بڑے پردے پر کام کرنے کا موقع ملا۔ A.B.C.L نے مزید فلموں کی پیشکش کی مگر کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکی۔

1997 میں ایک بار پھر بچن نے اداکاری میں فلم مریتیو داتا سے واپس آنے کی کوشش کی، گوکہ اس فلم میں ان کا کردار ان کی ماضی کے کرداروں کی عکاسی کر رہا تھا مگر فلم مالیاتی اور تنقیدی طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ 1996 کا حسینہ عالم خوبصورتی مقابلہ بینگلور، میں منعقد ہوا جس کی سرپرستی A.B.C.L نے کی مگر یہاں بھی اسے لاکھوں کا نقسان ہوا۔ A.B.C.L کی مسلسل ناکامیوں، اس کے خلاف ہونے والی قانونی کاروائیوں اور بڑے منتظمین کی اونچی تنخواہوں کی خبروں کے نتیجہ میں 1997 میں کمپنی شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو گئی۔ اپریل 1999 میں بمبئی ہائی کورٹ نے بچن کو ان کا بنگلہ ’پراٹیکشا‘ اور دو فلیٹ اس وقت تک بیچنے سے رکوا دیا جب تک وہ کنارا بینک کا قرضہ نہ اتار دیں۔[23]

1998 میں فلم بڑے میاں چھوٹے میاں میں ان کے مزاحیہ کردار کو کافی سراہا گیا اور 1999 میں فلم سوریا ونشم[24] کیلیئے بھی ان کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس کے برعکس اس سال پردے پر لگنے والی فلمیں لال بادشاہ اورہندوستان کی قسم زبردست فلاپ ہوئیں۔

ٹیلی وژن[ترمیم]

سال 2000 میں بچن نے برطانوی ٹیلی وژن کھیل Who wants to be a Millionaire کے ہندی میں بننے والے پروگرام کون بنے گا کڑوڑ پتی کی میزبانی کے فرائض انجام دیئے۔ دوسرے ملکوں کیطرح اسے بھارت میں بھی بڑی پزیرائی ،لی۔ نومبر 2000 میں کنارا بینک نے اپنا مقدمہ واپس لے لیا۔ نومبر 2005 تک بچن نے اس پروگرام کی میزبانی کی اور اس کی وجہ سے ان کو اپنی کھوئی ہوئی شہرت واپس ملی۔

شہرت کی بلندیوں پر واپسی: 2000 کے بعد[ترمیم]

2000 میں امیتانھ یش چوپڑا کی باکس آفس ہِٹ فلم محبّتیں میں نظر آئے۔ آدتیا چوپڑا کی ہدایتکاری میں امیتابھ نے شاہ رخ خان کے کردار کے مقابل ایک سخت طبیعت بزرگ کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد مزید کامیاب فلمیں منظر عام پر آئیں۔

پراتیبھا دیوی سنگھ پاٹیل امیتابھ کو 2005 میں فلم بلیک کیلیئے بہترین اداکار کا اعزاز دیتے ہوئے

ان میں ایک رشتہ: محبت کا بندھن (2001)، کبھی خوشی کبھی غم (2001)، باغبان (2003) شامل ہیں۔ یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوا اور وہ مختلف کرداروں میں نظر آنے لگے جنہیں ناقدیں نے بہت سراہا۔ ان فلموں میں عکس (2001)، آنکھیں (2002)، خاکی (2004)، دیو (2004) اور بلیک (2005) شامل ہیں۔ اپنی بڑھتی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیتابھ نے مختلف مصنوعات اور خدمات کو تظہیر کرنا شروع کردیا اور اشتہاروں میں بھی کام کرتے نظر آئے۔ فلم بنٹی اور ببلی (2005) میں وہ اپنے بیٹے ابگیشیک اور رانی مکھرجی کیساتھ نظر آئے، پھر سرکار (2005) اور کبھی الوداع نہ کہنا (2006) نے بھی باکس آفس پر اچھی کارکردگی دکھائی۔[25][26] اس کے بعد 2006 اور 2007 کے شروع کی فلمیں بابل[27] (2006)، نشبد اور ایکلوویا (2007) کچھ اچھا کاروبار نہ کرسکیں اس کے باوجود ان سب فلموں میں امیتابھ کے اداکاری کو کافی پسند کیا گیا۔ [28]

مئی 2007 میں ان کو دو فلمیں چینی کم اور شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا ریلیز ہوئیں۔ شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا نے باکس آفس پر کافی اچھی کارکردگی دکھائی مگر چینی کم کو درمیانہ درجہ کا کاروبار کرسکی۔[29]

اگست 2007 میں ان کی فلم شعلے کی کابی رام گوپال ورما کی آگ زبردست بریقے سے ناکام ہوئی اور مبصروں سے بھی اسے کافی بری تنقید ملی۔ ان کی پہلی انگریزی فلم رتو پارنو گھوش کی دی لاسٹ ایئر کا 9 ستمبر2007 میں ٹورونٹو فلم میلہ میں پریمیئر ہوا۔ اس فلم کو تنقید نگاروں نے بلیک کے بعد ان کی بہترین فلم قرار دیا۔[30] ہدایتکار میرا نائر کی فلم شانتا رام امیتابھ کی پہلی بین الاقوامی فلم ہو گی، فلم میں ہالی وڈ کے مشہور اداکار جونی ڈیپ بھی ہیں۔[31]

اعزازات[ترمیم]

::اصل مقالہ: امیتابھ کے اعزازات کی فہرست

فلمی جدول[ترمیم]

حالیہ فلمیں[ترمیم]

سال فلم کا نام کردار کا نام اہم معلومات
2006 فیملی ورین ساہی
ڈرنا ضروری ہے پروفیسر
کبھی الوداع نہ کہنا سمرجیت سنگھ تلوار (اے۔کے۔اے سیکسی سام) نامزدگی: فلم فیئر بہترین معاون اداکار
بابل بلراج کپور
2007 اکلو ویا: شاہی محافظ اکلو ویا
نشبد وجے
چینی کم بدھا دیو گپتا
شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا ڈنگرا خاص کردار
جھوم برابر جھوم سترادھر خاص کردار
رام گوپال ورما کی آگ ببن سنگھ
اوم شانتی اوم خود خاص کردار
2008 جودھا اکبر راوی
بھوت ناتھ بھوت ناتھ (کیلاش ناتھ)
سرکار راج سبھاش ناگرے/"سرکار"
گاڈ تسی گریٹ ہو بھگوان
دی لاسٹ ایئر ہریش 'ہیری' مشرا
الٰہ دین جن ابھی ریلیز نہیں ہوئی
ضمانت شیو شنکر تاخیر
تلسمان فلمبندی جاری
2009 جانی مستانہ جان پریرا 6 مارچ، 2009 تک نمائش
تین پتی پیشکش کے مراحل سے پہلے
پا اورو ریلیز ہو گئی

پیشکش[ترمیم]

سال فلم
1996 تیرے میرے سپنے
1997 الاّسام
مریتیوداتا
1998 میجر صاحب
2001 عکس
2005 وردھ
2006 فیملی-خون کے بندھن

حوالہ جات[ترمیم]

َ

  1. ^ "sugandh.com". Sugandh.com. http://www.sugandh.com/seema/amitabhji/stardust.html. 
  2. ^ "تبصرہ: To Be or Not To Be Amitabh Bachchan - خالد محمد". http://www.mouthshut.com/review/To_Be_or_Not_To_Be_Amitabh_Bachchan_-_Khalid_Mohamed-72513-1.html. 
  3. ^ "تیجی بچن انتقال فرما گئیں". ہندستان ٹائمز. http://www.hindustantimes.com/StoryPage/StoryPage.aspx?id=2078579f-853d-48ae-b826-eeee479169e2&ParentID=d5c75cbf-62a5-49eb-a016-0cf71383854b&&Headline=Big+B's+mother+Teji+Bachchan+is+no+more. 
  4. ^ "امیتابھ کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ". India Times. http://movies.indiatimes.com/articleshow/1905623.cms. 
  5. ^ باکس آفس انڈیا.
  6. ^ "باکس آفس 1975". BoxOffice India.com. Archived on 2012-07-20. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/TjXa. 
  7. ^ "شعلے". International Business Overview Standard. http://www.ibosnetwork.com/asp/filmbodetails.asp?id=Sholay. 
  8. ^ "بالی وڈ کی پچیس دیکھنے لائق فلم". انڈیا ٹائمز موویز. October 3, 2005. http://movies.indiatimes.com/Special_Features/25_Must_See_Bollywood_Movies/articleshow/msid-1250837,curpg-10.cms. 
  9. ^ "1978 باکس آفس پر بچن تاریخی سال". ibosnetwork.com. http://www.ibosnetwork.com/asp/topgrossersbyyear.asp?year=1978. 
  10. ^ "ٹروفاٹ نے بچن کو یک فرد صنعت قرار دیا". China Daily. http://app1.chinadaily.com.cn/star/history/00-07-07/l03-film.html. 
  11. ^ BoxOffice India.com
  12. ^ "بچن کی باکس آفس پر کامیابی". boxofficeindia.com. Archived on 2012-07-20. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/Gkda. 
  13. ^ "فلم قلی کی فلم بندی کے دوران حادثہ". rediff.com. http://www.rediff.com/entertai/2001/oct/11amit.htm. 
  14. ^ "فلم قلی کی لڑائی کا منظر". IMDB. http://www.imdb.com/title/tt0085361/trivia. 
  15. ^ "قلی کی کامیابی". boxofficeindia.com. Archived on 2012-07-23. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/u5lk. 
  16. ^ "امیتابھ بچن : سیاست میں کامیابی". HindustanTimes.com. http://www.hindustantimes.com/news/specials/amitabh/politics.htm. 
  17. ^ "امیتابھ بچن سے گفتگو". sathnam.com. http://www.sathnam.com/Features/17/interview-with-amitabh-bachchan. 
  18. ^ "بچن کی انتخابات میں غیر دلچسپی" hindu.com.
  19. ^ "بچن اپنے دعویٰ سے مشکل میں پڑ گئے". AFP. October 4, 2007. http://www.webcitation.org/5bPT62ngo. 
  20. ^ "بچن پر 15 سالہ پابندی" IndiaFM News Bureau. January 27, 2007.
  21. ^ "چوٹی کا اداکار". www.boxofficeindia.com/topactors.htm. Archived on 2012-07-20. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/Gkda. 
  22. ^ "باکس آفس 1994". باکس آفس انڈیا. Archived on 2012-07-20. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/DJmr. 
  23. ^ پٹیل, وملا. "مقدر کا سکندر". http://www.tribuneindia.com/2001/20010304/spectrum/main1.htm. 
  24. ^ تالی کلم، شرمیلا. "واپسی!". http://in.rediff.com/movies/1999/may/22soo.htm. 
  25. ^ "باکس آفس پر امیتابھ اور ابھیشیک کا راج". باکس آفس انڈیا. Archived on 2012-06-30. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/go18. 
  26. ^ "باکس آفس 2006". باکس آفس انڈیا. Archived on 2012-05-25. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/sweZ. 
  27. ^ "باکس آفس پر فلموں کی ناکامی". باکس آفس انڈیا. Archived on 2012-05-25. خطا: حوالہ جاتی سانچہ کے استعمال کے دوران If you specify |archivedate=, you must also specify |archiveurl= . http://archive.is/sweZ. 
  28. ^ آدرش، ترن. "Top 5: 'نشبد', 'N.P.D.' کی تباہی". بالی وڈ ہنگامہ. http://www.bollywoodhungama.com/trade/top5/326.html. 
  29. ^ "باکس آفس انڈیا". http://www.boxofficeindia.com. 
  30. ^ "بلیک کے بعد امیتابھ کی بہترین کارکردگی". http://www.bollywoodhungama.com/features/2007/09/11/3020. 
  31. ^ "امیتابھ جونی ڈیپ کے مقابل اداکاری کریں گے". ourbollywood.com. http://www.ourbollywood.com/2007/02/amitabh_bachchan_will_star_opp.html. 
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔