ریکھا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ریکھا

بالی وڈ فلمی اداکارہ۔اکتوبر 1954کو تاملناڈو کے مدراس میں پیدا ہوئی۔جیمنی گنیشن تامل فلموں کے حوالے سے بہت بڑا نام ہے۔ ان کی ناجائز اولاد تھیں۔کیونکہ ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو ایکٹریس پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ 15 سال کی عمر میں تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کیا ۔ حالانکہ انہیں اپنی فلمی زندگی میں بے حد جدوجہد کرنی پڑی ۔

امراؤ جان[ترمیم]

یوں تو ریکھا نے ہندی کی متعدد کامیاب فلموں میں کام کیا ۔ لیکن انکی فلمی زندگی میں سنہ 1981 میں بڑا موڑ آیا ۔ جب انہوں نے فلم ‘ امراﺅ جان ’ میں طوائف کا کردار ادا کیا اور اس کردار کو ناقابل فراموش بنا دیا ۔ ریکھا نے اس فلم میں ادا کاری کے لئے باقاعدہ اردو زبان سیکھی تھی ۔ اسی لئے اشعار و مکالموں کی ادائیگی میں زبردست برجستگی ہے ۔ یہ فلم ان کی زندگی میں بہت بڑا موڑ ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد ان کی کامیابی کو پر لگ گئے ۔

دیگر کامیاب فلمیں[ترمیم]

ریکھا کی کامیاب فلموں میں ساون بھادو ، رام پور کا لکشمن ، گورا کالا ، کہانی قسمت کی ، نمک حرام ، دھرم کرم ، دھرماتما ، اتسو ، مقدر کا سکندر ، سلسلہ ، پیار کی جیت ، پھول بنے انگارے ‘ زبیدہ ، کوئی مل گیا اور اوم شانتی اوم کے بھی نام لئے جاتے ہیں

خانگی زندگی[ترمیم]

ان کی خانگی زندگی بہت ناکام رہی ہے ۔ کبھی ان کا معاشقہ فلم اداکار ونود مہرا کے ساتھ تھا اور کبھی امیتابھ بچن کے ساتھ ان کا نام لیا جاتا تھا لیکن شادی انہوں نے دہلی کے ایک بڑے تاجر مکیش اگروال سے سنہ 1990 میں کی تھی لیکن ایک سال بعد ہی مکیش نے خودکشی کر لی ۔

اعزازات[ترمیم]

بے شمار فلمی ایوارڈز کے ساتھ ساتھ ریکھا کو 2010 میں اعلیٰ ترین شہری اعزاز پدم شری سے نوازا۔

گزشتہ 33 سال سے وہ ہر موقع پر ایک دوسرے سے آنکھیں چراتے ہوئے ملے ، لیکن 14 جنوری کو ممبئی میںا سکرین ایورڈس تقریب کے دوران یہ ’سلسلہ‘ ٹوٹ گیا ۔امیتابھ اور ریکھا اتنے طویل عرصہ بعد پہلی مرتبہ گرمجوشی سے ملتے ہوئے نظر آئے کہ ذرائع ابلاغ خبرجاری کرنے پر مجبور ہوگئے ۔کہتے ہیںکہ’ ہیلو‘ ہوئی ادھر امیتابھ مسکراے تو ادھر ریکھا نے بھی شرماتے ہوئے جوابی تبسم رسید کیا ۔ امیتابھ کے ساتھ موجود جیہ نے بھی ریکھا کے ہاتھ پکڑ لئے۔یہ منظر ہے ممبئی میں منگل کی رات کا جب اسکرین ایورڈس کے دوران بچن کنبہ اور ریکھامیں قربت محسوس کی گئی جو سابقہ ملاقاتوں سے قطعی مختلف تھا ۔ امیتابھ ابھی تک ریکھا کو دیکھتے ہی آنکھیں چرا لیا کرتے تھے لیکن اس بار ملاقات میں گرمجوشی تھی‘ امیتابھ نے ہیلو کیا تو ریکھا نے بھی جواب کچھ ایسے ہی کہا ۔ جیہ اورریکھا کو گزشتہ کچھ برسوں کے دوران اس طرح ملتے ہوئے شاید ہی کبھی دیکھا گیا ہوگا ۔ دونوں نے ایکدوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے تھے ۔ 80 کی دہائی میں ریکھا اور امیتابھ کے معاشقوں کی خبریں جب منظر عام پر آئی تھیں تو برصغیرمیں جاری ’سوتن‘رقابت کی روایت کے تحت ریکھا اور جیہ کے رشتوں میں تلخی آ گئی تھی ۔حتی کہ 1981 میں فلم سلسلہ کے بعد ریکھا اور امیتابھ کا رشتہ بھی وہیں ختم ہو گیا ۔ اس کے بعد ایکدوسرے سے بچ کرچلنے کا نیا سلسلہ شروع ہوا جو اس رات ختم سا محسوس ہوا۔کہنے والے آج بھی کہتے ہیں کہ امیتابھ کی کامیابی میں جہاں راجیوگاندھی کی قربت کی بدلت اندراگاندھی کے اس تعارفی خط کا دخل ہے جو انھوں نے بالی وووڈ کی اہم شخصیات کو تحریر کیا تھا وہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر فلم کے پردے پر ریکھا جیسی منجھی ہوئی اداکارہ کا ساتھ امیتابھ کو نہ ملا ہوتا تو شاید وہ اتنی بلندی تک نہیں پہنچ پاتے جہاں سے انھیں خود ریکھا دکھائی دینی بند ہوگئی۔ http://sagarurdutahzeeb.blogspot.in/2014/01/how-cold-war-ended-and-silsila-returns.html