حیدرآباد، دکن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
حیدرآباد- Hyderabad
حیدرآباد
—  میٹرو شہر  —
A montage of images related to Hyderabad city
Clockwise from top left: چار مینار, Skyline at Lanco Hills, حسین ساکر, گولکنڈہ قلع, چومحلہ پیلس اور برلا مندر
عرفیت: City of Pearls
حیدرآباد- Hyderabad is located in تلنگانہ
حیدرآباد- Hyderabad
Location of Hyderabad in Telangana, India
متناسقات: 17°21′58″N 78°28′34″E / 17.366°N 78.476°E / 17.366; 78.476متناسقات: 17°21′58″N 78°28′34″E / 17.366°N 78.476°E / 17.366; 78.476
Country India
State Telangana:en:
Region دکن
بھارت کے اضلاع ضلع حیدر آباد, ضلع رنگاریڈی اور ضلع میدک
Founded 1591 AD
بانی محمد قلی قطب شاہ
حکومت
 - قسم Mayor–Council
 - حکمران ادارہ en:Greater Hyderabad Municipal Corporation
en:Hyderabad Metropolitan Development Authority
 - MP بنڈارو دتاترییہ and اسد الدین اویسی
 - Mayor محمد ماجد حسین
 - en:Police commissioner M Mahender Reddy
رقبہ
 - میٹرو شہر 650 کلومیٹر2 (251 میل2)
 - بلدیاتی رقبہ 7,100 کلومیٹر2 (2,741.3 میل2)
بلندی 505 میٹر (1,657 فٹ)
آبادی (2011)
 - میٹرو شہر 6,809,970
 - درجہ 4th
 کثافتِ آبادی 18,480/کلومیٹر2 (47,863/میل2)
 بلدیہ 7,749,334
 - Metro rank 6th
نام آبادی Hyderabadi
منطقۂ وقت IST (یو ٹی سی+5:30)
Pincode(s) 500 xxx, 501 xxx, 502 xxx, 508 xxx, 509 xxx
رموز رقبہ +91–40, 8413, 8414, 8415, 8417, 8418, 8453, 8455
ویکل رجسٹریشن TS-09, TS-10, TS-11, TS-12, TS-13, TS-14[1]
Official languages تیلگو, اردو
ویب سائٹ www.ghmc.gov.in


حیدر آباد (Listeni/ˈhdərəˌbæd/ HY-dər-ə-bad; اکثر /ˈhdrəˌbæd/) کہلاتا ہے، بھارت کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ اور ریاست تلنگانہ کا صدر مقام ہے۔ ریاست آندھرا پردیش کا بھی دس سال تک یعنی 2024 تک صدر مقام رہے گا۔ حیدر آباد شہر کو بھارت کا دوسرا صدر مقام بھی کہتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ یہاں بھارت صدر کی دوسری سرکاری رہائش گاہ راشٹراپتی نلیہ (صدر کی رہائش) ہے۔

* تعارف[ترمیم]

حیدرآباد دکن ہندوستان کی جنوبی ریاستوں آندھراپردیش اور تلنگانہ کا مشترکہ دارالخلافہ ہے۔ نظام کے دورحکومت میں دارالسلطنت رہا ہے۔۔حیدرآباد دکن اپنے سنہری تاریخ اور ثقافت کی وجہ سے مشہور ہے ۔حیدرآباد دکن کو موتیوں اور مسلمان نظام بادشاہوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ یہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔اردو اور تیلگویہاں کی بولی جانے والی بڑی زبانیں ہیں ۔موجودہ دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، آئی ٹی اور بایوٹیکنالوجی کا مرکز مانا جاتا ہے ۔ حیدرآباد کے انفو ٹیک پارک کو “سائبرآباد“ کے نام سے جانا جاتاہے۔

حيدرآباد دكن برطانوی ہندوستان میں الگ ریاست تھی اور وہاں اس كا اپنا سكہ رائج تھا اور اپنی حكومت تھی، ليكن جب 1947 میں بھارتی حكومت قائم ہوئی تو اس نے دكن كی حكومت كو 1948 میں ایک فوجی ایکشن کے ذریعہ ہندوستان میں شامل کر لیا۔ حیدرآباد دکن کو 2010 میں بھارت کا چھٹا بڑا” گنجان آباد شہر(Populous City )“ اور چھٹا بڑا ”گنجان آباد شہری قصبہ(Populous Urban City)“ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ آبادی تقریباً 70لاکھ ہے– حیدرآباددکن ، اردو تہذیب، تمدن، روایات۔ ادبی ثقافتی اور مذہبی مرکز ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ابتداءی تاریخ[ترمیم]

ریاستِ حیدرآباد دکن جس کا جغرافیائ نقشہ ہر دور میں بدلتا رہا 17ستمبر 1948 تک جب ہندوستانی فوجوں نے نظام کی حکومت کا خاتمہ کیا اس وقت تک بھی ایک عظیم رقبہ پر پھیلا ہوا 86ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کے مجموعی رقبے سے بھی زیادہ تھا۔ 1923میں خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد اگرچیکہ اسلامی مملکتیں جو باقی تھیں سعودی عرب' افغانستان و ایران وغیرہ پر مشتمل تھیں لیکن خوشحالی و شان و شوکت کے لحاظ سے ریاستِ حیدرآباد کو جو بین الاقامی مقام تھا اس کا ذکر آج بھی انگریز مصنفین کی تصانیف میں موجود ہے۔۔ لارڈ ماؤنٹ بیاٹن نے اپنی سوانح حیات میں تذکرہ کیا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب انگلستان معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا تھا ایسے وقت میں نواب میر عثمان علی خان کے گراں قدر عطیات نے بڑی حد تک سہارا دیا۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے پانی اور بجلی کے خرچ بھی ریاستِ حیدرآباد نے اپنے ذمے لے رکھے تھے اور اس عظیم مقصد کے لئے " مدینہ بلڈنگ " کے نام سے شان دار عمارتیں جو کہ آج بھی باقی ہیں مکہ اور مدینہ کے لئے وقف تھیں جن کے کرایے مکہ اور مدینہ کو بھیجے جاتے تھے اس کے علاوہ حاجیوں کو رہنے کے لئےرباط کے نام سے نظام نے مکہ اور مدینہ میں حرمین سے قریب عمارتیں بنوادی تھیں۔ ریاستِ حیدرآباد جس کی تاریخ 13ویں صدی کے آخر میں علأ الدین خلجی کی آمد سے شروع ہو کر بہمنی' شاہی اور آصفجاہی دور تک بیسویں صدی کے نصف تک پھیلی ہوئی ہے۔ موجودہ حیدرآباد تقریباً دو ہزار مربع میل پر مشتمل ایک شہر ہے جسکے باقی حصے ریاستِ آندھرا پردیش' کرناٹک اور مہا راشٹرا میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ریاستٓ حیدرآباد کی خصوصیت تھی کہ یہ ہمیشہ امن و آشتی کا علمبردار ' ہندو مسلم یکجہتی کی مثال اور علم و ادب نوازی کی ایک ایسی مثال تھا جس کو دنیا تمام کے علمأ و دانشور مفکرین و مورخین نے آکر اپنی خدمات سے مزید چار چاند لگائے۔[2]

جغرافیہ اور آبادی[ترمیم]

حيدرآباد جنوبی ریاستوں آندھراپردیش اور تلنگانہ کا مشترکہ دارالخلافہ ہے، جس کی آبادی (70) لاکھ[3] ہے–

نظم و نسق[ترمیم]

حیدرآباد شہر میں 1870ء میں ہی میونسپلٹی کی طرح نظم و نسق کا آغاز ہوا ۔ شہر پر حکمرانی کرنے والے آصف جاہی حکمرانوں نے کچھ علاقوں کو علحدہ کر کے چادرگھاٹ کو مخصوص میونسپالٹی کی مانند تشکیل دیا ۔موجودہ حیدرآباد سے متعلق مکمل تفصیلات ضلع حیدرآباد آفیشل ویب سائیٹ پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

صنعتیں[ترمیم]

انفارمیشن ٹکنالوجی اور بی پی او مرکز کے طورپر شہرت پا رہا ہے ۔ غیر ممالک سے آؤٹ سورسنگ صنعتیں آ رہی ہیں ۔ ٹکسٹائلز ، پلاسٹک ، شیشہ سازی وغیرہ کی صنعتیں معروف ہیں ۔ پرانے شہر کا زری کا کام قابلِ دید ہے ۔

زبان[ترمیم]

اردو اور تلگو ۔

بولی[ترمیم]

دکنی

مرغوب غذائیں[ترمیم]

حیدرآبادی بریانی ، کھچڑی کھٹا ، بگھارے بینگن ،حلیم ،جنوبی ڈشیں ۔

جامعات (یونیورسٹیز)[ترمیم]

نظامِ ہفتم نواب میر عثمان علی خاں نے 1918ء میں جامعہ عثمانیہ ( عثمانیہ یونیورسٹی ) قائم کی ۔علاوہ ازیں شہر میں کئی مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیوں قائم ہیں۔جن میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ، تلگو یونیورسٹی، جواہر لال نہروٹکنالوجیکل یونیورسٹی ، اچاریہ این جی آر ایگریکلچرل یونیورسٹی ، انگلش اینڈفارن لینگویج یونیورسٹی وغیرہ شامل ہیں۔


تعمیرات اورسیاحتی مقامات[ترمیم]

شہر حیدرآباد میں دیکھنے لائق کئی تعمیرات ہیں، جن میں مشہور چار مینار سب سے اہم ہے۔ چند اور

موسم[ترمیم]

حیدرٱباد کا موسم سال بھرمين معتدل مگر قدرےگرم رہتا ہے ·برسات کے مؤسم مین بھی بارش بھت کم مقدار مین پڑھتی ہے·دسمبر کے مہینے مين درجہ حرارت مین تھوڑی سی گراوٹ ہو جاتی ہے·

سانچہ:Hyderabad, India weatherbox

صنعت[ترمیم]

انفرمیشن ٹیکنولوجی کا اہم مرکز ہے۔ حیدرآباد کے انفو ٹیک پارک کو “سائبرآباد“ کے نام سے جانا جاتاہے۔

تجارت[ترمیم]

کئی بھارتی شہروں کی طرح حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ایک اعلی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تہذیب و ثقافت[ترمیم]

حیدرآباد اپنی گنگا جمنی تہذیب کے لیےجانا جاتا ہے۔ نظام دکن نے حیدرآباد کے ہندواور مسلمانوں کواپنی دوآنکھوں سے تعبیرکیا تھا۔حیدرآباد، اردو تہذیب، تمدن، روایات۔ ادبی ثقافتی اور مذہبی مرکز ہے۔


حیدرآباد میں اردو کتب خانے[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]

ََ

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]