علی بن ابی طالب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(علی ابن ابی طالب سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
علی
دور حیدری میں اسلامی سلطنت
Mohammad adil rais-Caliph Ali's empire 661.PNG
امیر المؤمنین
(مومنوں کے امیر)
مکمل نام علی ابن ابی طالب -
(علي بن أبي طالب)
عہد 656ء (35ھ) – 661ء (40ھ)
پیدائش 23 اکتوبر 598 (598-10-23)
مقام پیدائش مکہ معظمہ، عرب
وفات جنوری 28, 661 (عمر 62 سال)
مقام وفات کوفہ، عراق
مقام تدفین روضہ حیدریہ، نجف، عراق
پیشرو عثمان بن عفان
(چوتھے اہلسنت خلیفہ)
۔ محمد
(پہلے شیعہ امام)
جانشین حسن ابن علی
والد ابو طالب
والدہ فاطمہ بنت اسد
بہنیں ۔ ام ہانی بنت ابی طالب
۔ جمانہ بنت ابی طالب
شریک حیات ۔ فاطمہ
۔ امامہ بنت زینب
۔ ام البنین
۔ لیلٰی بنت مسعود
۔ خولہ بنت جعفر
۔ شعبہ بنت ربیعہ
بیٹے ۔ محسن
۔ حسن
۔ حسین
۔ ہلال
۔ العباس
۔ عبداللہ
۔ جعفر
۔ عثمان
۔ عبید اللہ بن علی
۔ ابی بکر بن علی
۔ محمد
۔ عمر بن علی
بیٹیاں ۔ زینب بنت علی
۔ ام کلثوم بنت علی
آل سید
القاب ۔ ابو الحسن
("حسن کا باپ")
۔ ابو تراب
("مٹی کا باپ)
۔ مرتضیٰ
("چنا گیا")
۔ اسد
("شیر خدا")
۔ حیدر
("شیر")
۔ پہلے علی
علی
(امیر المؤمنین)

خلیفہ راشد

حضرت علی علیہ السلام (599ء (24 ق‌ھ) – 661ء (40ھ) ) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب علیہ السّلام اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔[1] حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبر کے گھر آۓ اور وہیں پرورش پائی ۔ پیغمبر کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا ۔ آپ کی عمر اس وقت تقریبا دس یا گیارہ سال تھی

فاطمہ سلام اللہ علیھا اور علی علیہ السلام کی زندگی گھریلو زندگی کا ایک بے مثال نمونہ تھی مرد اور عورت اپس میں کس طرح ایک دوسرے کے شریک ُ حیات ثابت ہوسکتے ہیں۔ اپس میں کس طرح تقسیم عمل ہونا چاہیے اور کیوں کر دونوں کی زندگی ایک دوسے کے لیے مددگار ہوسکتی ہے، وہ گھر دنیا کی ارائشوں سے دور , راحت طلبی اور تن اسانی سے بالکل علیحدہ تھا , محنت اور مشقت کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان اور اپس کی محبت واعتماد کے لحاظ سے ایک جنت بناہوا تھا، جہاں سے علی علیہ السلام صبح کو مشکیزہ لے کر جاتے تھے اوریہودیوں کے باغ میں پانی دیتے تھے اورجو کچھ مزدوری ملتی تھی اسے لا کر گھر پر دیتے تھے .بازار سے جو خرید کر فاطمہ سلام اللہ علیھا کو دیتے تھے اور فاطمہ سلام اللہ علیھا چکی پیستی , کھانا پکاتی اور گھر میں جھاڑو دیتی تھیں , فرصت کے اوقات میں چرخہ چلاتی تھیں اور خود اپنے اور اپنے گھر والوں کو لباس کے لیے اور کبھی مزدوری کے طور پر سوت کاتتی تھیں اور اس طرح گھر میں رہ کر زندگی کی مہم میں اپنے شوہر کاہاتھ بٹاتی تھیں .

جہاد

مدینہ میں آکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخالف گروہ نے آرام سے بیٹھنے نہ دیا . آپ کے وہ پیرو جو مکہ میں تھے انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دی جانے لگیں بعض کو قتل کیا . بعض کو قید کیا اور بعض کو زد وکوب کیااور تکلیفیں پہنچائیں .پہلے ابو جہل اور غزوہ بدر کے بعد ابوسفیان کی قیادت میں مشرکینِ مکہ نے جنگی تیاریاں کیں، یہی نہیں بلکہ اسلحہ اور فوج جمع کر کے خود رسول کے خلاف مدینہ پر چڑھائی کردی , اس موقع پر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اخلاقی فرض تھا کہ وہ مدینہ والوں کے گھروں کی حفاظت کرتے جنھوںنے کہ آپ کوانتہائی ناگوار حالات میں پنا ہ دی تھی اور آپ کی نصرت وامداد کاوعدہ کیا تھا , آپ نے یہ کسی طرح پسند نہ کیا آپ شہر کے اندرر کر مقابلہ کریں اور دشمن کو یہ موقع دیں کہ وہ مدینہ کی پر امن ابادی اور عورتوں اور بچوں کو بھی پریشان کرسکے. گو آپ کے ساتھ تعدادبہت کم تھی لیکن صرف تین سو تیرہ آدمی تھے , ہتھیار بھی نہ تھے مگر آپ نے یہ طے کرلیا کہ آپ باہر نکل کر دشمن سے مقابلہ کریں گے چنانچہ پہلی لڑائی اسلام کی ہوئی. جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے . اس لڑائی میں زیادہ رسول نے اپنے عزیزوں کو خطرے میں ڈالا چنانچہ آپ کے چچا زاد بھائی عبیدہ ابن حارث ابن عبدالمطلب اس جنگ میں شہید ہوئے . علی ابن ابو طالب علیہ السلام کو جنگ کا یہ پہلا تجربہ تھا . 25 برس کی عمر تھی مگر جنگ کی فتح کا سہرا حضرت علی علیہ السلام کے سر رہا .جتنے مشرکین قتل ہوئے تھے ان میں سے آدھے مجاہدین کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اس کے بعد غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین یہ وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے . تقریباًان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام کو علمداری کا عہدہ بھی حاصل رہا . اس کے علاوہ بہت سی لڑائیاں ایسی تھیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو تنہا بھیجا اورانھوںنے اکیلے ان تمام لڑائیوں میں حضرت علی علیہ السلام نے بڑی بہادری اور ثابت قدمی دکھائی اور انتہائی استقلال، تحمّل اور شرافت ُ نفس سے کام لیاجس کا اقرار خود ان کے دشمن بھی کرتے تھے۔ غزوہ خندق میں دشمن کے سب سے بڑے سورما عمر وبن عبدود کو جب آپ نے مغلوب کر لیااور اس کاسر کاٹنے کے لیے اس کے سینے پر بیٹھے تو اس نے آپ کے چہرے پر لعب دہن پھینک دیا . آپ کو غصہ آگیااور آپ اس کے سینے پر سے اتر ائے . صرف اس خیال سے کہ اگر غصّے میں اس کو قتل کیا تو یہ عمل محض خدا کی راہ میں نہ ہوگا بلکہ خواہش نفس کے مطابق ہوگا۔ کچھ دیر کے بعد آپ نے اس کو قتل کیا , اس زمانے میں دشمن کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی لاش برہنہ کردیتے تھے مگر حضرت علی علیہ السلام نے اس کی زرہ نہیں اُتاری اگرچہ وہ بہت قیمتی تھی . چناچہ اس کی بہن جب اپنے بھائی کی لاش پر ائی تو اس نے کہا کہ کسی اور نے میرے بھائی کوقتل کیا ہوتا تو میں عمر بھر روتی مگر مجھ یہ دیکھ کر صبر اگیا کہ اس کا قاتل حضرت علی علیہ السلام سا شریف انسان ہے جس نے اپنے دشمن کی لاش کی توہین گوارا نہیں کی۔ آپ نے کبھی دشمن کی عورتوں یا بچّوں پر ہاتھ نہیں اٹھا یا اور کبھی مالِ غنیمت کی طرف رخ نہیں کیا۔

Basmala.svg

Allah-green.svg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اسلام

تاریخ اسلام

عقائد و اعمال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نماز · روزہ · حج · زکوٰۃ

اہم شخصیات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ابوبکر صدیق · عمر فاروق · عثمان غنی · علی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کتب و قوانین

قرآن · حدیث · شریعت
قوانین · کلام
سیرت

مسلم مکتبہ ہائے فکر

اہل سنت · اہل تشیع · صوفی

معاشرتی و سیاسی پہلو

اسلامیات · فلسفہ
فنون · سائنس
فن تعمیر · مقامات
اسلامی تقویم · تعطیلات
خواتین اور اسلام · رہنما
سیاسیات · جہاد · آزاد خواہی

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست


خدمات

جہاد سمیت اسلام اور پیغمبر اسلام کے لیے کسی کام کے کرنے میں آپ کو انکار نہ تھا۔ یہ کام مختلف طرح کے تھے رسول کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنائ خطوط تحریر کرنا آپ کے ذمہ تھا اور لکھے ہوئے اجزائے قرآن کے امانتدار بھی آپ تھے- اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے ليے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو روانہ کیا جس میں آپ کی کامیاب تبلیغ کا اثر یہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا جب سورہ براَت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ کے ليے بحکم خدا آپ ہی مقرر ہوئے اور آپ نے جا کر مشرکین کو سورئہ براَت کی آیتیں سنائیں- اس کے علاوہ رسالت مآب کی ہر خدمت انجام دینے پر تیار رہتے تھے- یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ رسول کی جوتیاں اپنے ہاتھ سے سی رہے ہیں حضرت علی علیہ السّلام اسے اپنے ليے باعثِ فخر سمجھتے تھے۔

اعزاز

حضرت علی علیہ السّلام کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب حضرت علی علیہ السّلام کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ مثلا آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ الفاظ »علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں« .کبھی یہ کہا کہ »میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے .,, کبھی یہ کہا »تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے۔ کبھی یہ کہا»علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی۔ کبھی یہ کہا»علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔

کبھی یہ کہ»وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں ,, یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا. عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا. جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیا اور سب سے اخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔

بعدِ رسول

جس نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا وہ بعد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے جسد اطہر مبارک کو کس طرح چھوڑتا, چنانچہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تجہیز وتکفین اور غسل وکفن کاتمام کام حضرت علی علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ہوا اورقبر میں آپ ہی نے رسول کو اتارا۔ اس کے علاوہ بطور خود خاموشی کے ساتھ اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے . قرآن کو ترتیب ُ نزول کے مطابق ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا . مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا . بہت سے ایسے شاگرد تیار کئے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کیلئے معمار کاکام انجام دے سکیں , زبان عربی کی حفاظت کیلئے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہوا اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہ کرنا چاہیے . ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفادملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو انسان اپنی ملّت , قوم اور مذہب کی خدمت ہر حال میں کرتا رہے .

خلافت

پچیس برس تک رسول کے بعد حضرت علی علیہ السّلام نے خانہ نشینی میں بسر کی 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب حضرت علی علیہ السّلام کے سامنے پیش کیا . آپ نے پہلے انکار کیا , لیکن جب مسلمانوں کااصرار بہت بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط سے منظو رکیا کہ میں بالکل قران اور سنت ُ پیغمبر کے مطابق حکومت کروں گا اور کسی رورعایت سے کام نہ لوں گا . مسلمانوں نے اس شرط کو منظور کیا اور آپ نے خلافت کی ذمہ داری قبول کی- مگر زمانہ آپ کی خالص مذہبی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا , آپ کے خلاف بنی امیہ اور بہت سے وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنھیں آپ کی مذہبی حکومت میں اپنے اقتدار کے زائل ہونے کا خطرہ تھا , آپ نے ان سب سے مقابلہ کرنااپنا فرض سمجھا اور جمل اور صفین# اور نہروان# کی خون ریز لڑائیاں ہوئیں . جن میں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السّلام نے اسی شجاعت اور بہادری سے جنگ کی جو بدر واحد و خندق وخیبر میں کسی وقت دیکھی جاچکی تھی اور زمانہ کو یاد تھی .ان لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے آپ کو موقع نہ مل سکا کہ آپ جیسا دل چاہتا تھا اس طرح اصلاح فرمائیں . پھر بھی آپ نے اس مختصر مدّت میں اسلام کی سادہ زندگی , مساوات اور نیک کمائی کے لیے محنت ومزدوری کی تعلیم کے نقش تازہ کردئے آپ شہنشاہ ُ اسلام ہونے کے باوجود کجھوروں کی دکان پر بیٹھنا اور اپنے ہاتھ سے کھجوریں بیچنا بُرا نہیں سمجھتے تھے , پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے تھے , غریبوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھاناکھالیتے تھے . جو روپیہ بیت المال میں آتا تھا اسے تمام مستحقین پر برابر سے تقسیم کرتے تھے , یہاں تک کہ آپ کے سگے بھائی عقیل نے یہ چاہا کہ کچھ انہیں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ مل جائے مگر آپ نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر میرا ذاتی مال ہوتا تو خیر یہ بھی ہوسکتا تھا مگر یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے . مجھے حق نہیں ہے کہ میں اس میں سے کسی اپنے عزیز کو دوسروں سے زیادہ دوں , انتہا ہے کہ اگر کبھی بیت المال میں شب کے وقت حساب وکتاب میں مصروف ہوئے اور کوئی ملاقات کے لیے اکر غیر متعلق باتیں کرنے لگا تو آپ نے چراغ بھجادیا کہ بیت المال کے چراغ کو میرے ذاتی کام میں صرف نہ ہونا چاہیے . آپ کی کوشش یہ رہتی تھی کہ جو کچھ بیت المال میں آئے وہ جلد حق داروں تک پہنچ جائے . آپ اسلامی خزانے میں مال کاجمع رکھنا پسند نہیں فرماتے تھے .

شہادت

حضرت علی علیہ السّلام کو 19 رمضان40ھ (660ء) کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک حضرت علی علیہ السلام بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے اخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔ حضرت حسن علیہ السلام و حضرت حسین علیہ السلام نے تجہیزو تکفین کی اور پشتِ کوفہ پر نجف کی سرزمین میں دفن کیے گئے۔

اولاد

آپ کے بچوں کی تعداد 28 سے زیادہ تھی۔ حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا سے آپ کو تین فرزند ہوئے۔ حضرت محسن علیہ السّلام، امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام، جبکہ ایک صاحبزادی حضرت زینب علیہ السّلام بھی حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا سے تھیں۔ باقی ازواج سے آپ کو جو اولاد ہوئی، ان میں حضرت حنیفہ، حضرت عباس بن علی علیہ السّلام شامل ہیں۔ علی ابن طالب علیہ السلام کی اولاد یہ ہیں :

۔ سیدنا حسن علیہ السّلام ۔ سیدنا حسین علیہ السّلام ۔ زینب علیہ السّلام ۔ ام کلثوم علیہ السّلام ۔ عباس علیہ السّلام ۔ عمر ابن علی ۔ جعفر ابن علی ۔ عثمان ابن علی ۔ محمد الاکبر ( محمد بن حنفیہ) ۔ عبداللہ ۔ ابوبکر ۔ رقیہ ۔ رملہ ۔ نفیسہ ۔ خدیجہ ۔ ام ہانی ۔ جمانی ۔ امامہ ۔ مونا ۔ سلمیٰ [حوالہ درکار]


حوالہ جات

  1. ^ ازالۃ الخفاء از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

بیرونی روابط

  • علی، انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں مقالہ
حضرت علی کے کچھ خصوصی خطوط
شیعہ مکتب فکر
اہلسنت مکتبہ فکر
علی بن ابی طالب
اہل بیت
سردار بنو ہاشم 653ء (32ھ) سے
بنو قریش کی ایک شاخ
پیدائش: 23 اکتوبر 598ء (25 ق‌ھ) وفات: 28 فروری 661ء (40ھ)
مناصب اہل تشیع
پیشرو
محمد
مہر نبوت — آخری نبی
شیعہ مکتبہ فکر کے پہلے امام
632ء (10ھ) – 661ء (40ھ)
جانشین
حسن بن علی
مناصبِ اہل سنت
پیشرو
عثمان بن عفان
اہلسنت مکتبہ فکر کے چوتھے خلیفہ راشد
565ء (59 ق‌ھ) – 661ء (40ھ)
جانشین
حسن بن علی