نجف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
نجف اشرف
النجف
حضرت علی کا مزارِ شریف.
عراق میں نجف ( سرخ نشان) کا محلّ وقوع
متناسقات: 32°00′00″N 44°20′00″E / 32°N 44.333333°E / 32; 44.333333
ملک Flag of Iraq.svg عراق
صوبہ صوبہ نجف
بلندی 60 میٹر (200 فٹ)
آبادی (2008)
 - کُل 560,000
  Approximate figures[1]
منطقۂ وقت UTC+3



نجف (عربی میں النجف ) عراق کا ایک شہر ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے روضہ کے حوالے سے مشہور ہے۔ نجف بغداد سے 160 کلومیٹر دور ہے۔ اور پرانے کوفہ شہر سے قریب ایک اونچے علاقے میں ہے۔ نجف کا لفظی مطلب ہی اونچی جگہ ہے۔ اس کی آبادی 2006 میں چھ لاکھ سے زائد تھی۔

نجف۔عراق


موسم[ترمیم]

نجف کا موسم
مہینہ جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسطاً بلند سینٹی گریڈ (فارنہائیٹ) 14.4
(58)
18.3
(65)
23.3
(74)
30
(86)
36.1
(97)
40.6
(105)
42.2
(108)
41.7
(107)
38.9
(102)
32.8
(91)
23.3
(74)
16.7
(62)
29.86
(85.8)
اوسطاً کم سینٹی گریڈ (فارنہائیٹ) 6.7
(44)
9.4
(49)
13.3
(56)
18.9
(66)
23.3
(74)
27.8
(82)
29.4
(85)
28.9
(84)
26.7
(80)
21.1
(70)
12.8
(55)
8.3
(47)
18.89
(66)
عمل ترسیب س م (انچ) 3
(1)
1
(0.5)
1
(0.5)
1
(0.5)
1
(0.2)
0
(0)
0
(0)
0
(0)
0
(0)
1
(0.2)
1
(0.4)
1
(0.4)
9
(3.7)
ماخذ: Weatherbase [2]

تاریخ[ترمیم]

نجف ایک پرانے ساسانی شہر سورستان کے پاس تھا جو اس وقت فارس کی سلطنت میں شامل تھا۔ عباسی خلیفہ ھارون الرشید نے اس کی نئے سرے سے تعمیر کی۔ عثمانی خلافت کے زمانے میں عرب قبائل کے حملوں اور پانی کے ذخائر کم ہونے کی وجہ سے گھروں کی تعداد 30,000 سے گر کر صرف سولہویں صدی میں 30 رہ گئی تھی۔ اٹھارویں صدی میں وھابی قبائل نے اسے کئی دفعہ لوٹا اور تاراج کیا۔ 1803 میں نہر ھندیہ کی تعمیر سے پانی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوا تو شہر کی آبادی یکدم 60,000 سے تجاوز کر گئی۔1915 میں شہر کو عثمانی خلافت سے آزاد کروایا گیا مگر یہ برطانوی قبضہ میں چلا گیا۔ 1918 میں شہر کے مذہبی رہنما سید مہدی الاعوادی نے بغاوت کر دی تو برطانوی فوج نے شہر کو گھیرے میں لے کر پانی کی رسد بند کر دی اور شہر پر قبضہ کر لیا۔ صدام حسین کے دور میں یہ شہر اپنی شیعہ آبادی کی وجہ سے ھمیشہ شک کی زد میں رہا اور یہاں کئی بغاوتیں بھی ہوئیں۔ فروری 1999 میں مشہور شیعہ رہنما سید صادق الصدر کو بغداد میں شہید کر دیا گیا جس کے بعد حالات بہت خراب ہو گئے۔ 2003 کے بعد موجودہ امریکی قبضہ کے دوران انہی رہنما سید صادق الصدر کے بیٹے مقتدیٰ الصدر نے اپنی فوج بنائی اور امریکیوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ جس کی وجہ سے نجف آج کل بھی خراب حالات کا شکار ہے۔ جنوری2007 میں نجف پھر جنگ کی زد میں آیا اور یہاں امریکی اور برطانوی فوج نے کئی دفعہ کاروائی کی یہاں تک کہ 28 جنوری 2007 کو ایک ہی دن میں نجف میں 300 سے زیادہ لوگ قتل ہو گئے۔

روضہ حضرت علی۔نجف

نجف کی مذہبی اہمیت[ترمیم]

نجف حضرت علی علیہ السلام کے روضہ کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ اس میں حضرت علی علیہ السلام کی بنائی ہوئی ایک قدیم مسجد ہے۔ نجف میں دنیا کا سب سے بڑا مسلم قبرستان بھی ہے جسے وادی السلام کہا جاتا ہے۔ نجف اپنے مذہبی مدرسوں، قدیم کتب خانوں اور علمائے کرام کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ اگرچہ اس صدی میں ایران کا شہر قم شیعہ مدرسوں کا زیادہ بڑا مرکز بن گیا مگر اب نجف اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ یہاں کا قدیم ترین مدرسہ حوزہ علمیہ نجف پوری دنیا میں مشہور ہے۔

1932 ء میں حضرت علی کا مزار

بیرونی روابط[ترمیم]


خطا در حوالہ: <ref> ٹیگس موجود ہیں، لیکن <references/> ٹیگ موجود نہیں

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=نجف&oldid=798805’’ مستعادہ منجانب