قم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قم
Qom

قم
—  میٹروپولس  —
کلانشهر قم
Qom Metropolis
قم میٹروپولس

نشان
عرفیت: ایران کا مذہبی دارالحکومت, ایران کا ثقافتی مرکز, ایران کا سائنسی دارالحکومت, کتب خانوں کا شہر
قمQom is located in ایران
قم
Qom
متناسقات: 34°38′24″N 50°52′35″E / 34.64°N 50.87639°E / 34.64; 50.87639متناسقات: 34°38′24″N 50°52′35″E / 34.64°N 50.87639°E / 34.64; 50.87639
ملک Flag of Iran.svg ایران
صوبہ قم
کاؤنٹی مرکزی
حکومت
 - میئر محمد دلبری
بلندی 928 میٹر (3,045 فٹ)
آبادی (2011)
 - کُل 1,074,036
منطقۂ وقت ایران معیاری وقت (یو ٹی سی+3:30)
 - موسمِ گرما (د‌ب‌و) ایران معیاری وقت (یو ٹی سی+4:30)
رمز ڈاک 37100
رموز رقبہ (+98) 25
ویب سائٹ www.qom.ir

قم (Qom) (اس آواز کے متعلق تلفظ (فارسی: قم[ɢom]) اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم شہروں میں ایک شہر ہے۔ جسے قم المقدس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایران کا آٹھواں بڑا شہر ہے ۔ اور شیعہ مسلمانوں کا نجف اشرف عراق کے بعد سب سے اہم علمی مرکز شمار ہوتاہے۔ قم، اہل تشیع کے لیے بہت اہمیت کا حامل شہر ہے ۔ اس شہر میں شیعوں کے آٹھویں امام علی بن موسی الرضامعروف بہ امام رضا کی بہن فاطمه معصومه کا مزار ہے جس کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے شیعہ یہاں پر اکٹھے ہوتے ہیں۔2011ء کی مردم شماری کے مطابق قم کی آبادی 1074036 تھی ۔ اس آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ علماء اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلاب کا ہے، ان علماء اور طلاب میں ایرانیوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں افغانی، عراقی، پاکستانی، ہندوستانی ، لبنانی، کویتی، سعودی، بحرینی ،یمنی، جزائری، مراکشی، ترکی، آذری، انڈونیشین، ملائشین، تھائیلنڈی، چینی اور دیگر یورپی ممالک کے لوگ میں شامل ہیں۔ قم کی آبادی میں سے 99.76 فی صد آبادی شیعہ اثنا عشری ہیں۔ اس شہر میں اہل سنت کا کوئی گھرانہ نہیں ہے بلکہ بقیہ زرتشتی یا پھر عیسائی دین کے پیروکار آباد ہیں۔
قم کا موسم بارشوں کی کمی کی وجہ سے خشک اور گرم رہتا ہے۔ چونکہ قم ایک صحرائی علاقہ میں آباد ہوا یہاں کی سوغات میں قم کا حلوا جسے یہاں کی زبان میں سوہان کہتے ہیں بہت معروف اور مشہورہے۔
قم شہر کو مختلف القابات اور ناموں سے یاد کیا جاتاہے۔ جن میں سے مشہور شہر حرم اہل بیت، شہر علم، ایران کا علمی اور ثقافتی دار الخلافہ ، عالم تشیع کا دار الحکومت، علماء کا شہر، شہر کریمہ اہل بیت ہیں۔قم شہر میں مختلف مزار اور زیارت گاہیں ہیں جن میں سے سب سے مشہور فاطمہ معصومہ کا مزار ہے جن کا لقب کریمہ اہل بیت ہے ، اور اس کے علاوہ مختلف امام زادوں کے مزارات اور قم کی مشہور ترین مسجد جمکران شہر کے جنوب مشرقی سمت میں واقع ہے۔

فاطمہ معصومہ[ترمیم]


فاطمہ معصومہ جنہیں معصومہ قم یا حضرت معصومہ بھی کہاجاتاہے، مشہور قول کے مطابق یکم ذی القعدہ 173 ہجری مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں، اور 10 ربیع الثانی ، 201 ہجری وفات پائی، جب عباسی خلیفہ مامون نے امام علی رضا کو خراسان بلایا تو ایک سال بعد فاطمہ معصومہ اپنے بھائی کی جدائی برداشت نہ کرسکنے کی وجہ خراسان کی عازم سفر ہوئیں۔ اور ایک بہت بڑے قافلے کے ہمراہ جب قم کے قریب ساوہ نامی جگہ پر پہنچیں تو دشمنوں نے قافلے پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں قافلے کے بہت سارے افراد قتل ہوگئے اور فاطمہ معصومہ کو ایک خاتون نے زہر دیا، قم شہر کے عرب اور اہل بیت سے محبت رکھنے والے اشعری قبیلے کے لوگ ان کو قم لے آئے جہاں وہ 17 دن زندہ رہنے کے بعد زہر کے اثر سے وفات پا گئیں۔اور اپنے بھائی سے ملاقات اور خراسان کا سفر مکمل نہ کرپائیں۔ قم فاطمہ معصومہ کے مزار کی وجہ دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کے لیے اہم شہر شمار کیا جاتاہے۔


حدود اربعہ[ترمیم]


شہر قم ایران کے دار الخلافہ تہران کے جنوب میں 157 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شمال میں تہران، جنوب میں اصفہان ، مغرب میں اراک ، اور مشرق میں سمنان شہر واقع ہے۔

قم کے باسیوں کے رسم ورواج[ترمیم]


قم کے لوگ اپنے مذہبی رجحانات کی وجہ سے بہت سارے مذہبی رسوم ورواج کو انجام دیتے ہیں۔ جن میں سے محرم کے نویں اور دسویں تاریخ کو تاسوعاء اور عاشوراء کے جلوس نکالنا اور پندرہ شعبان کو مسجد جمکران یا فاطمہ معصومہ کے حرم میں شب بیداری اور دعائیں پڑھنا۔ چونکہ پندرہ شعبان کی رات شیعہ مسلمانوں کے نزدیک بارہویں اور آخری امام ، امام مہدی کی ولادت کی رات ہے ا س لیے اس رات کو جشن ، خوشی اور عبادت میں گزارا جاتاہے۔ اہل تشیع کے دیگر اماموں کی ولادت اور شہادت کے دنوں کو خوشی اور عزاداری کے ساتھ منانا بھی قم کے لوگوں کا شیوہ ہے۔ 28 صفر، امام حسین کا چہلم ،18 ذی الحجہ جسے شیعہ مسلمانوں کے نزدیک عید الغدیر کے نام سے یاد کیا جاتاہے کہ اس دن شیعہ عقیدہ کے مطابق اللہ کے آخری نبی محمد بن عبداللہ نے اپنے بعدعلی بن ابی طالب کو اپنا خلیفہ اورجانشین بنایا تھا۔ اسی جانشینی کی خوشی کے دن کو عید نے نام سے تعبیر کیا جاتاہے۔

قم کی تاریخ[ترمیم]


آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق عرب مسلمانوں کے حملے سے قبل کئی ہزار سالوں سے شہر قم آباد تھا، پستہ اور زعفران کی پیداوار کے لحاظ سے معروف تھا۔ لیکن بہت سےماہرین اور مورخین قم شہر کی آبادکاری کو عرب مسلمانوں کے حملے اور پھر عراق سے اشعری قبیلے کے افراد کی ہجرت سے جوڑتے ہیں کہ قم اور اس نواحی علاقہ جات کو عمر بن خطاب کے دور میں ابو موسی اشعری نے فتح کیا ، اور اس فتح کے بعد اس علاقے میں عربوں کی ہجرتیں شروع ہوئیں۔ جن میں سے سب سے اہم اشعری قبیلے کی ہجرت تھی کہ جنہوں قم اور اسکے اردگرد کے دیہاتوں کو ملا کر اس شہر کی بنیاد رکھی اور چونکہ اشعری قبیلے کے افراد شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے تھے اسلیے قم شیعہ اثنا عشری مسلمانوں کا مرکز بن گیا۔ اور فاطمہ معصومہ جو کہ شیعہ مسلمانوں کے آٹھویں امام علی رضا کی بہن ہیں، کی ہجرت سے اس مرکز کی قوت ووسعت میں مزید اضافہ ہوا جس کی وجہ سے دنیا بھر کے شیعہ اور علماء کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ شیعہ مذہب کے پیروکار ہونے کی وجہ اموی اور عباسی خلفاء کی طرف یہاں کے لوگوں پر بادشاہی ٹیکس کا تناسب زیادہ ہوا کرتا تھا جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں نے ان حکومتوں کے خلاف مسلحانہ قیام و جدوجہد بھی کی اور قم شہر کوکئی مرتبہ تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا، آل بویہ اور سلجوقی کے دور میں قم کو ترقی ملی جبکہ صفوی خاندان کے دور میں شیعہ مذہب کے رسمی ہونے کے بعد قم مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہوگیا۔ قاجاری دور میں قاجاری بادشاہ فتح علی شاہ نے فاطمہ معصومہ کے حرم کی توسیع اور سنہری گنبد کی تعمیر کرائی ، جنگ عظیم اول نے قم شہر کو بھی متاثر کیا اور روس کے تہران پر حملے کے خطرے کے پیش نظر بہت سارے لوگوں نے قم میں پناہ لی جبکہ پہلوی خاندان کے دور میں روح اللہ خمینی معروف بہ امام خمینی نے پہلوی حکومت کے خلاف قیام اور انقلاب کا آغاز بھی اسی شہر سے کیا۔ اور فروری 1979ء میں ایران کا اسلامی انقلاب کامیاب ہونے کے بعد ایران میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور ولایت فقیہ کی حکومت قائم ہوئی۔


دینی مدارس ، تعلیمی وتحقیقی ادارے اور یونیورسٹیز[ترمیم]


قم یونیورسٹی، المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی، مدرسۃ الزہراء ، مدرسہ شهید سید حسن شیرازی، مدرسه امام حسین ، مدرسه امام باقر ، مدرسه علمیه امام مهدی ، مدرسه رسول اعظم، حوزه علمیه قم، مدرسه رضویه، مدرسه ستیه، مدرسه امام خمینی، مدرسه اباصالح، مدرسه المهدی، مدرسه الهادی، مدرسه امام مهدی موعود، مدرسه بقیه الله، مدرسه حقانی، مدرسه جانبازان، مدرسه رسالت، مدرسه شهیدین، مدرسه صدوق، مدرسه عترت، مدرسه کرمانیها، مدرسه معصومیه، مدرسه امام عصر، مدرسه سعد حلت، مدرسه اثیرالملک، مدرسه سید سعید عزالدین مرتضی، مدرسه سید زین الدین، مدرسه ابوالحسن کمیج، مدرسه شمس الدین مرتضی، مدرسه مرتضی کبیر، مدرسه درب آستانه، حکمت یونیورسٹی قم، طلوع مہر ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ قم، شہاب دانش صنعتی یونورسٹی ، تہران یونیورسٹی قم کیمپس، ٹی وی ریڈیو کالج، قم ، صنعتی یونیورسٹی قم، آزاد اسلامی یونیورسٹی، قم کیمپس، دانشگاه جامع علمی کاربردی واحد استان قم، مفید یونیورسٹی، قم ، پیام نور یونیورسٹی، قم ، معصومیہ یونیورسٹی، قم ، ٹیکنیکل کالج فار بوائز، قم ، میڈیکل یونیورسٹی ، قم ، جامعه المصطفی العالمیه، باقر العلوم یونیورسٹی قم، امام خمینی، تعلیمی اور تحقیقی ادارہ، ادیان ومذاہب یونیورسٹی، قم ، اسلامی فکر وثقافتی تحقیقی ادارہ، اسلامک انسٹیٹیوٹ آف کلچر اور سائنسز، شہید محلاتی کالج، اسلامک رائٹنگ اور ریسرچ کالج، قرآن وحدیث یونیورسٹی، قم ، معارف اسلامی یونیورسٹی، موسسه فکر اسلامی، مجلس خبرگان رہبری کا سیکٹرئیٹ۔

لائبریریز[ترمیم]


قم میں عمومی لائبریریز کے علاوہ دسیوں ہر مضمون کی خاص لائبریریز بھی موجود ہیں۔ ان لائبریریز میں سے اہم مندرجہ ذیل ہیں۔ 1. کتابخانه عمومی قم،طالقانی، 2. کتابخانه عمومی قم، امام‌زاده ابراهیم، 3. کتابخانه امام صادق، 4. کتابخانه مجمع آثار اسلامی، 5. کتابخانه تخصصی صاحب‌الزمان، 6. کتابخانه المهدی، 7. کتابخانه آیت‌الله خامنه‌ای، 8. کتابخانه آیت‌الله گلپایگانی، 9. کتابخانه سیدالشهداء، 10. کتابخانه محقق طباطبایی، 11. کتابخانه تخصصی فقه و اصول، 12. کتابخانه تخصصی ادبیات 13. کتابخانه تخصصی حدیث 14. کتابخانه آیت‌الله حائری 15. کتابخانه آیت‌الله مرعشی نجفی 16. کتابخانه علوم قرآن 17. کتابخانه آستانه مقدسه 18. کتابخانه قرآن و عترت 19. کتابخانه آستانه مقدسه قم 20. کتابخانه عترت 21. کتابخانه دفتر تبلیغات 22. کتابخانه دانشگاه قم 23. کتابخانه آیت الله مشکینی 24. کتابخانه امام علی

سیاحتی اور تاریخی مقامات[ترمیم]


قم کےاہم مقامات میں فاطمہ معصومہ ، جو کہ امام موسی کاظم کی بیٹی اور امام علی رضا کی بہن ہیں، کا مزار ، مسجد جمکران، چار سو سے زائد امامزادوں کے مزار، تاریخی مساجد میں سے مسجد جامع، مسجد رفعت، مسجد امام حسن عسکری اورمسجد باب الجنہ ہیں۔

حرم فاطمہ معصومہ[ترمیم]


فاطمہ معصومہ کے حرم کی عمارت اسلامی تعمیرات کے شاہکاروں میں سے ہیں۔ معتبر تاریخی کتابوں سے معلوم ہوتاہے اس مزار کی سب سے پہلے تعمیر کا کام سلجوقی دور کے ابو الفضل عراقی نے کرایا۔ ایران کے صفوی اور قاجاری خاندان کے دور میں بھی حرم فاطمہ معصومہ کی تعمیر اور مرمت پر خاص توجہ دی گئی۔ معصومہ قم کے حرم کا سنہری گنبد قاجاری بادشاہ فتح علی شاہ نے تعمیر کرایا۔

مسجد جمکران[ترمیم]


اسلامی تعمیرات کی عالیشان اس شاہکار مسجد کی عمارت وسیع وعریض رقبہ پر محیط ہے ۔ یہ مسجد شہر قم کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے ۔ یہ مسجد آخری امام ، امام مہدی جو کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق 255 ہجری میں پیدا ہوئے اور خدا کے حکم سے غیبت میں ہیں اور اس وقت تک زندہ ہیں اور خدا کے حکم سے ظہور کریں گے ، کے حکم سے تعمیر کی گئی ہے ، اس لیے دنیا بھر کے شیعہ اس مسجد کی زیارت اور یہاں پر دعاء اور نماز کے لیے خصوصی طور پر جمع ہوتے ہیں۔

مسجد اعظم[ترمیم]


مسجد اعظم اپنی شوکت اور عظمت وبزرگی کی وجہ سے مسجد اعظم کہلاتی ہے، یہ مسجدحرم فاطمہ معصومہ کے ساتھ ہی واقع ہے جو کہ آیت اللہ سید حسین طباطبائی بروجردی کے حکم سے تعمیر کی گئی۔ مسجد اعظم کے بلند گنبد، حجرے اور مینار،اسلامی تعمیرکی زندہ مثال ہیں۔ اس مسجد کی دیواروں ، گنبد اور میناروں پر معرق کاشی کاری اس مسجد کی خوبصورتی کی دوبالا کررہی ہے۔

مسجد امام حسن عسکری[ترمیم]


قم شہر کی قدیمی ترین مسجد ، مسجد امام حسن عسکری ہےجسے تیسری صدی ہجری میں احمد بن اسحاق قمی نے تعمیر کرایا، احمد قمی امام حسن عسکری کے وکیل اور نمایندہ تھے ، چونکہ یہ مسجد امام حسن عسکری کے حکم سے تعمیر کی گئی اس لیے شیعہ علماء اور فقہاء کی طرف سےتوجہ کا مرکز رہی ہے، انہوں نے اس مسجد کو اپنے درس وتدریس کا محل قرار دیا، بزرگ شیعہ علماء اسی مسجد میں درس پڑھا اور پڑھایا کرتے تھے، اسلامی انقلاب ایران کے بانی اور موسس امام خمینی بھی اسی مسجد میں درس پڑھا کرتے تھے۔

بیت النور[ترمیم]


بیت النور کو فاطمہ معصومہ کی عبادتگاہ کہا جاتاہے، جب وہ قم میں رہائش پذیر تھیں تو اسی جگہ کواپنے لیے محل عبادت وبندگی قرار دیا، بیت النور فلکہ چہار مردان کے قریب واقع ہے جو کہ فاطمہ معصومہ کے حرم سے تقریبا ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔آپ اس جگہ کا وزٹ کریں تو آپ مختفک ممالک سے یہاں زیارت کی خاطر آئے ہوئے لوگ کثرت میں نظر آئیں گے۔
قم کے دیگر سیاحتی مقامات میں امام خمینی کا کچی مٹی سے بنا گھر، شیعہ عالم شیخ صدوق کے والد علی بن حسین بابویہ قمی کا مقبرہ، شاہ عباس صفوی کا مقبرہ، فتح علی شاہ قاجار کا مقبرہ، حاج عسگر خان کا تاریخی حمام، بازار بزرگ قم، قلعہ جمکران، کوہ خضر اور دیگر علماء ومشہور فقہاء کی قبور سر فہرست ہیں۔

معروف شخصیات[ترمیم]


شیخ عباس قمی، چوتھی صدی ہجری کے مشہور شیعہ محدث، آیت اللہ سید حسین طباطبایی بروجردی، معروف بہ آیت اللہ بروجردی شیعہ کے مرجع تقلید اورمجتہد، شجاع الدین شفا، معروف محقق اور رائٹر ، رضا فرجی‌دانا ،ایران کے وزیر ٹیکنالوجی، علی جنتی، ایران کےوزیر ثقافت ، مصطفی پورمحمدی، ایران کے وزیر قانون، شیخ صدوق، مشہور شیعہ محدث و فقیه ، امام موسی صدر، لبنان کے شیعہ لیڈر اور رہنما، میرزا قمی، قاجاری دور کے شیعہ عالم، شاطر عباس صبوحی، قاجاری دور کے مشہور شاعر ،آیت الله العظمی سید محمد روحانی، چوتھی صدی ہجری کے شیعہ مجتہد اور فقیہ۔


محلہ جات[ترمیم]


نیروگاه، چهار امام زاده، حاج زینل، قلعه کامکار، زاویه، زند آباد، عشق علی، عربستان، چهل درخت، علی آباد سعدگان، ژاندارم‌ها، تولیددارو و یخچال، مهرآباد، سید معصوم، خانم شیرازی، علی آباد، محمد آباد، حاج خلیل، قم نو، صفاییه، مصلی، دروازه ری، بکایی، لسانی، یخچال قاضی، شاه احمد قاسم، جوی شور، قلعه عمو حسین، قلعه یزدی‌ها، باغ شریفی، میرزائیه، براسون، باغ کرباسی، منبع آب، نخودی، دروازه چوبی، سربخش، لب چال، باغ پنبه، خاکفرج، گذرقلعه، خندق، الوندیه، گذرصادق، تکیه آق سید حسن، حمام تالار، سنگ بند، سیدان، دروازه کاشان، دربهشت، سرحوض، نوقطار، نوبهار، آلوچو، ،میدان نو،باغ شاهزاده

ہوٹلز[ترمیم]


قم میں تھری اور فور سٹارز (three& four stars)ہوٹلز کے ساتھ ون سٹار اور ٹو سٹارز ہوٹلز بھی موجود ہیں۔فور سٹارز میں ہوٹل قم، ہوٹل پارسیا، ہوٹل خورشید، ہوٹل اولمپیک ، ہوٹل کریمہ ہیں جبکہ تھری سٹارز میں ہوٹل آریا، ہوٹل استقلال، ہوٹل الزہراء، ہوٹل النبی ، شامل ہیں۔

آب و ہوا[ترمیم]

قم کا موسم
مہینہ جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
اوسطاً بلند سینٹی گریڈ (فارنہائیٹ) 10.0
(50)
11.8
(53.2)
17.5
(63.5)
25.9
(78.6)
32.4
(90.3)
38.3
(100.9)
40.1
(104.2)
39.0
(102.2)
35.0
(95)
26.7
(80.1)
19.6
(67.3)
12.9
(55.2)
25.8
(78.4)
اوسطاً کم سینٹی گریڈ (فارنہائیٹ) -2.3
(27.9)
-0.4
(31.3)
4.2
(39.6)
9.8
(49.6)
15.1
(59.2)
19.9
(67.8)
22.7
(72.9)
21.1
(70)
14.8
(58.6)
9.8
(49.6)
3.9
(39)
-0.4
(31.3)
9.9
(49.7)
عمل ترسیب م م (انچ) 16.4
(0.646)
21.9
(0.862)
26.8
(1.055)
11.2
(0.441)
11.0
(0.433)
1.6
(0.063)
2.4
(0.094)
0.0
(0)
0.8
(0.031)
9.6
(0.378)
10.5
(0.413)
21.3
(0.839)
133.5
(5.256)
اوسطاً یومیہ ترسیب 7.7 8.7 8.2 4.8 3.6 0.2 1.4 0.2 0.2 3.4 3.2 4.2 45.8
ماخذ: World Meteorological Organisation

نگار خانہ[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=قم&oldid=1105921’’ مستعادہ منجانب