باکو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
باکو
Bakı
عمومی معلومات
ملک Flag of Azerbaijan.svg آذربائیجان
محل وقوع 40.3952 درجے شمال، 49.8822 درجے مشرق
رقبہ 2,130 مربع کلومیٹر ( 822.4 مربع میل )
بلندی -28 میٹر (-92 فٹ) از سطحِ سمندر
آبادی 19 لاکھ 70 ہزار بمطابق 2008ء
منطقۂ وقت مُتناسق عالمی وقت +4 (گرما: +5)
رمزِ ڈاک AZ1000
رمزِ بعید تکلم 12
موجودہ ناظم حاجی بالا ابوطالبوف
http://www.bakucity.az/
باکو is located in آذربائیجان
باکو

آذربائیجان میں باکو کا مقام


باکو (انگریزی: Baku،آذری: Bakı) آذربائیجان کا شہر ہے۔ یہ 40.395278 درجے شمال، 49.882222 درجے مشرق پر واقع ہے۔ اس کا رقبہ 2,130 مربع کلومیٹر ( 822.4 مربع میل ) ہے۔ آبادی 2008ء میں 19 لاکھ 70 ہزار تھی۔ سطح سمندر سے بلندی منفی 28 میٹر (-92 فٹ) ہے یعنی یہ اوسطاً سطح سمندر سے بھی نچلی سطح پر واقع ہے۔ موجودہ ناظم کا نام حاجی بالا ابوطالبوف ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ایک بڑا شہر ہے۔ یہ آذربائیجان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بحیرہ کیسپیئن کے کنارے واقع ہے۔ باکو تیل کی دولت سے مالا مال علاقے میں واقع ہونے کے باعث تیل کی صنعتوں کا مرکز ہے۔ شہر 11 اضلاع اور 48 قصبہ جات میں تقسیم ہے۔ باکو کے وسط میں قدیم شہر واقع ہے جس کے گرد فصیل ہے۔ دسمبر 2000ء میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ شطرنج کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی گیری کاسپاروف کا تعلق اسی شہر سے ہے۔

تاریخ[ترمیم]

باکو کا نام فارسی لفظ بادکوبہ (ہواؤں کا مارا ہوا) سے مشتق ہے اور اس کے محل وقوع کے لحاظ سے بہت موزوں ہے۔ قرون وسطٰی کے مورخین اسے باکویہ، بلاکوہ اور باکہ بھی لکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس کا ذکر تیسری صدی ہجری کے بعد برابر آتا ہے۔ باکو عرصے تک شاہان شیروان کے ماتحت رہا۔ 1550ء میں صفوی سلطان طہماسپ اول کا اس پر قبضہ ہو گیا۔ 1583ء تا 1660ء یہ شہر عثمانی ترکوں کے ماتحت رہا۔ 1806ء میں روسیوں نے اسے ایرانیوں سے چھین لیا۔

باکو کا ایک قدیم قلعہ

جزیرہ نما آبشاران سے پہلی مرتبہ مشینوں کے ذریعے 1842ء میں تیل نکالا گیا۔ 1877ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ 1907ء میں باکو سے باطوم (بحیرہ اسود) تک تیل کی پائپ لائن مکمل ہو گئی اور معدنی تیل برآمد ہونے لگا۔ روسی انقلاب کے بعد 31 جولائی 1918ء سے 28 اپریل 1920ء تک باکو آزاد مملکت آذربائیجان کا دارالحکومت رہا، پھر سرخ فوج نے اس پر قبضہ کر لیا۔ دسمبر 1991ء میں سقوط روس کے بعد باکو آزاد جمہوریہ آذربائیجان کا صدر مقام بن گیا۔ باکو کے قریب پارسیوں (مجوسیوں) کا آتش کدہ آج بھی قائم ہے۔ مجوسی مذہب کے بانی زرتشت کا تعلق آذربائیجان ہی سے تھا۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=باکو&oldid=965365’’ مستعادہ منجانب