ماسکو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
ماسکو (moscow)
 بالائی بایاں: ماسکو کریملن کا برج سپاسکایا  بالائی دایاں: سینٹ بازل کا گرجا  وسط دایاں: مسیح نجات دہندہ کا گرجا  وسط درمیاں: استالن کی تعمیر کردہ ایک بلند عمارت  استانکینو کا برج  نیچے: ماسکو کا بین الاقوامی کاروباری علاقہ
بالائی بایاں: ماسکو کریملن کا برج سپاسکایا
بالائی دایاں: سینٹ بازل کا گرجا
وسط دایاں: مسیح نجات دہندہ کا گرجا
وسط درمیاں: استالن کی تعمیر کردہ ایک بلند عمارت
استانکینو کا برج
نیچے: ماسکو کا بین الاقوامی کاروباری علاقہ
{{کنارا|کا دفتری پرچم ماسکو}}
کی دفتری مہر ماسکو
پرچم مہر
 بالائی بایاں: ماسکو کریملن کا برج سپاسکایا  بالائی دایاں: سینٹ بازل کا گرجا  وسط دایاں: مسیح نجات دہندہ کا گرجا  وسط درمیاں: استالن کی تعمیر کردہ ایک بلند عمارت  استانکینو کا برج  نیچے: ماسکو کا بین الاقوامی کاروباری علاقہ
بالائی بایاں: ماسکو کریملن کا برج سپاسکایا
بالائی دایاں: سینٹ بازل کا گرجا
وسط دایاں: مسیح نجات دہندہ کا گرجا
وسط درمیاں: استالن کی تعمیر کردہ ایک بلند عمارت
استانکینو کا برج
نیچے: ماسکو کا بین الاقوامی کاروباری علاقہ
محل وقوع: 55 درجے 45 منٹ 8 شمال درجے 37 منٹ 37
ملک روس
وفاقی اضلاع وسطی وفاقی ضلع
سب ڈویژن وفاقی شہر
میئر یوری لوزکوف
رقبہ  
 - شہر 1,081 مربع کلومیٹر
بلندی <130 تا 253 میٹر
آبادی  
 - شہر (2007) 10,469,000
 - کثافت 8537.2/مربع کلومیٹر
منطقۂ وقت MSK (یو۔ ٹی۔ سی۔3+)
 - گرما (ڈی۔ ایس۔ ٹی) MSD (یو۔ ٹی۔ سی۔4+)
علاقائی کوڈ +7 495; +7 499
ویب سائیٹ: www.mos.ru

ماسکو (روسی: Москва، انگریزی: Moscow) روس کا دارالحکومت اور سیاسی، اقتصادی، تجارتی، تعلیمی اور آمدورفت کا مرکز ہے ۔ یہ براعظم یورپ کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔

شہر روس کے یورپی علاقے میں وسطی وفاقی ضلع میں دریائے ماسکو کے کنارے واقع ہے۔ تاریخی طور پر یہ سوویت اتحاد اور زار کے عہد میں بھی روس کا دارالحکومت رہا ہے۔ یہاں واقع روسی صدر کی رہائش گاہ ماسکو کریملن کو عالمی ثقافتی ورثء قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں روسی پارلیمان (دوما اور وفاقی مجلس) اور حکومت روس کے دیگر دفاتر بھی اسی شہر میں ہیں۔

ماسکو 2222اپنے طرز تعمیر اور فنون لطیفہ کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف ہے ۔ ماسکو کا سینٹ بازل گرجا اور مسیح نجات دہندہ کا گرجا بھی دنیا بھر میں جانا جاتا ہے ۔ ماسکو اب بھی ایک بڑا اقتصادی مرکز ہے اور کئی ارب پتی افراد کا مسکن اور غیرملکی افراد کے لئے مہنگے ترین شہروں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے ۔ یہ کئی سائنسی و تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے عظیم میدانوں کا بھی شہر ہے ۔ ماسکو پیچیدہ ترین آمدورفت کے نظام کا حامل ہے جس میں دنیا کا مصروف ترین میٹرو نظام بھی شامل ہے جو اپنی تعمیرات کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ ماسکو 1980ء کے گرمائی اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرچکا ہے۔

یہ یورپ کا سب سے بڑا ام البلد (metropolitan area) ہے اور دنیا کے عظیم ترین شہری علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماسکو روس اور دنیا کا اہم سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، مذہبی، مالیاتی اور تعلیمی مرکز ہے اور ایک عالمی شہر ہے۔ یہ دنیا کے بڑے شہروں میں ساتویں درجے پر آتا ہے۔ شہر کی آبادی (بمطابق یکم جون 2009ء) 10،524،400 ہے ۔

ماسکو اہم اقتصادی مرکز ہے اور دنیا کے ارب پتی افراد میں سے کئی یہاں مقیم ہیں۔ 2008ء میں شہر کو مسلسل تیسرے سال غیر ملکی ملازمین کے لیے دنیا کا مہنگا ترین شہر قرار دیا گیا تھا۔ تاہم 2009ء میں اسے ٹوکیو اور اوساکا کے بعد تیسرے درجے پر رکھا گیا۔

ماسکو میں کئی سائنسی و تعلیمی ادارے واقع ہیں اور ساتھ ساتھ کھیلوں کے مشہور میدان بھی ہیں۔ نقل و حمل کا ایک پیچیدہ نظام، جو 3 بین الاقوامی ہوائی اڈوں، 9 ریلوے ٹرمینل اور زیر زمین ریل کے مصروف نظاموں پر مشتمل ہے۔ زیر زمین ریلوے نظام ٹوکیو کے بعد دنیا کا مصروف ترین نظام ہے اور اپنی خوبصورت تعمیرات اور فن پاروں کے بارے دنیا بھر میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ ماسکو کے باسی کو روسی زبان میں ماسکووچ کہا جاتا ہے۔


تاریخ[ترمیم]

تاریخ کے صفحات میں ماسکو کا پہلا ذکر 1147ء میں ملتا ہے جب کیف کے شہزادے یوری دولگورفکی کی جانب سے نوگورود جمہوریہ کے شہزادے کو طلب کیا گیا۔ 9 سال بعد 1156ء میں یوری دولگورفکی نے شہر کے گرد لکڑی کی فصیل قائم کرنے کا حکم دیا جو بعد ازاں کئی مرتبہ تعمیر ہوئی۔ 1237ء اور 1238ء میں منگولوں نے شہر کو تباہ کرڈالا اور اسے نذر آتش کرنے کے بعد شہریوں کو قتل کردیا۔ ماسکو حالات سے نبرد آزما ہونے کے بعد 1327ء میں ایک مرتبہ پھر ابھرا اور آزاد سلطنت کا دارالحکومت قرار پایا۔ بعد ازاں ماسکو کئی سال تک ایک مستحکم اور کامیاب ریاست کی حیثیت سے ترقی پاتا رہا اور روس بھر سے ہزاروں مہاجرین یہاں آکر آباد ہوئے ۔

1380ء میں شہزادہ دمتری دونسکوئے نے ایک متحدہ روسی فوج کی قیادت کرتے ہوئے جنگ کولیکوف میں منگولوں کے خلاف اہم ترین فتح حاصل کی۔ اس کے بعد ماسکو نے روس کے منگولوں کے قبضے سے آزاد کرنے کے لئے اہم ترین اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ 1480ء میں ایوان سوم نے روس کو تاتاریوں کے قبضے سے نکال لیا اور ماسکو ملک میں طاقت کا مرکز بن گیا۔ اس کے دور کے خاتمے تک ماسکو روسی سلطنت کا دارالحکومت بن گیا۔

17 ویں صدی میں کئی اہم واقعات پیش آئے جن میں 1612ء میں پولینڈ کے دراندازوں سے ماسکو کی آزادی، 1648ء میں نمک فسادات، 1662ء میں تانبہ فسادات اور 1682ء کی ماسکو بغاوت شامل ہیں۔ 1703ء میں پیٹر اعظم کی جانب سے بحیرہ بالٹک کے کنارے سینٹ پیٹرزبرگ نامی شہر کے قیام کے بعد 1712ء میں ماسکو کی دارالحکومت کی حیثیت ختم ہوگئی اور دارالحکومت سینٹ پیٹرزبرگ منتقل کردیا۔ 1812ء میں نپولین کی آمد پر ماسکو کے باشندوں نے شہر کو نذرآتش کردیا اور شہر چھوڑ گئے اور جب 14 ستمبر کو نپولین کی افواج پہنچیں تو وہ بھوک، سردی اور رسد کی فراہمی میں مسائل سے دوچار تھیں اور جلد واپسی پر مجبور ہوگئیں۔ جنوری 1905ء میں شہر کے گورنر یا میئر کا نظام رائج کیا گیا اور الیگزیندر ایدریانوف شہر کے پہلے میئر قرار پائے ۔ 1917ء میں انقلاب روس کی کامیابی کے بعد 12 مارچ 1918ء کو روس کی وفاقی سوویت اشتراکی جمہوریہ اور 5 سال بعد سوویت اتحاد کا دارالحکومت قرار پایا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران سوویت ریاست کی دفاعی کمیٹی اور افواج کے جنرل اسٹاف ماسکو میں قائم تھے ۔ 1941ء میں ماسکو کے باشندوں سے قومی رضاکاروں کے 16 ڈویژن (ایک لاکھ 60ہزار افراد سے زائد)،25 بٹالین (ایک لاکھ 85 ہزار سے زائد) اور 4 انجینئرنگ رجمنٹ تشکیل دی گئیں۔ نومبر 1941ء میں شہر کے نواح میں جرمن افواج کی پیش قدمی کا روک کردیا گیا اور بعد ازاں جنگ ماسکو میں اس کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔ جنگ کے دوران شہر کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی صنعتیں شدید متاثر ہوئیں۔ تاہم محاصرے اور بمباری کے باوجود شہر کے زیر زمین میٹرو نظام کی تعمیر جاری رہی جس کا آغاز 1930ء کے اوائل میں ہوا تھا۔ میٹرو نظام کی چند لائنیں جنگ کے آخری ایام میں کھولی گئیں۔ یکم مئی 1944ء کو تمغا دفاع ماسکو اور 1947ء میں ماسکو کی 800 ویں سالگرہ کی یاد میں ایک اور تمغا متعارف کرایا گیا۔ 8 مئی 1965ء کو دوسری جنگ عظیم کی فتح کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر سوویت یونین کے 12 شہروں کو ”بلاد قہرمان“ (Hero Cities) قرار دیا گیا جن میں ماسکو بھی شامل تھا۔ 1980ء میں شہر نے گرمائی اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی تاہم افغانستان میں روسی جارحیت کے خلاف دنیا کے کئی ممالک نے ان کھیلوں میں حصہ نہ لیا۔ (ملاحظہ کیجیے: اولمپک مقاطعے)

1991ء میں ماسکو میخائل گورباچوف کی اصلاحات کے مخالف حکومتی اراکین کی بغاوت کی کوششوں کا بھی مرکز رہا۔ سقوط سوویت اتحاد کے بعد بھی ماسکو بدستور دارالحکومت رہا۔ اس کے بعد ماسکو میں معیشت مغربی طرز پر ترتیب دی گئی۔

حکومت[ترمیم]

ماسکو روس میں طاقت کا مرکز ہے ۔ شہر کے مرکز میں ماسکو کریملن واقع ہے جس میں روس کے صدر کی رہائش گاہ کے ساتھ ساتھ دیگر کئی قومی حکومتی تنصیبات بھی قائم ہیں جن میں عسکری صدر دفاتر اور ماسکو عسکری ضلع کے صدر دفاتر بھی شامل ہیں۔ دنیا بھر کے دارالحکومتوں کی طرح ماسکو بھی کئی غیرملکی سفارت خانوں اور سفارت کاروں کا مسکن ہے ۔ ماسکو 7 وفاقی اضلاع کے وسطی وفاقی ضلع میں واقع ہے ۔ نتیجتاً یہ روس کے صدر کی جانب سے متعین کردہ نمائندے کے زیر انتظام ہے ۔

ماسکو کے مکمل شہر کے سربراہ ایک میئر ہیں (موجودہ میئر: یوری لوزکوف)۔ اسے 10 انتظامی علاقوں (اورکوگ) اور 123 بلدیاتی اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

موسم[ترمیم]

شمالی عرض بلد میں واقع ہونے کی وجہ سے شہر میں سورج کی روشنی شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے ۔ موسم سرما سب سے چھوٹا دن 7 گھنٹے سے بھی قبل ختم ہوجاتا ہے جبکہ گرما میں دن 18 گھنٹے سے بھی بڑا ہوجاتا ہے ۔ نتیجتاً ماسکو میں شدید سردی اور اوسط گرمی پڑتی ہے ۔ جولائی اور اگست کے گرم مہینوں میں اوسط درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے جبکہ سردیوں کے مہینوں میں درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرجاتا ہے ۔

تعمیرات[ترمیم]

ٹرائمف پیلس بلڈنگ، 2005ء میں مکمل ہونے والی یہ عمارت یورپ کی بلند ترین عمارت ہے

طویل عرصے تک شہر کے منظر میں آرتھوڈوکس چرچ غالب نظر رہا تاہم سوویت دور میں شہر کا حلیہ تیزی سے تبدیل ہوا جس میں اہم ترین کردار جوزف استالن کا تھا جس نے شہر کو جدید بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے ۔ ان کے دور صدارت میں شہر میں وسیع سڑکیں تعمیر کی گئیں جن میں سے چند 10 قطاروں تک وسیع تھیں تاہم اس جدیدیت کا نقصان شہر کی قدیم تعمیرات کو ہوا اور چند شاہکار عمارتیں اس کی نذر ہوگئیں۔ ان عمارتوں میں برج سوخاریو، کازان گرجا اور مسیح نجات دہندہ کا گرجا شامل ہیں۔ آخر الذکر دونوں عمارات کو 1990ء کی دہائی میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

استالن عہد میں گرجا نما 7 عمارات تعمیر کی گئیں جنہیں سات بہنیں (The Seven Sisters) کہا جاتا ہے۔ یہ عمارات آج بھی ماسکو کی بلند عمارات کا اہم ترین حصہ ہیں۔ ہر شہری اور اس کے خاندان کو رہائش کی فراہمی کی روسی پالیسی کے باعث بھی ماسکو میں تعمیرات کے شعبے میں انقلاب برپا ہوا۔

ثقافت[ترمیم]

تریتیاکوف گیلری

ماسکو کے کئی عجائب گھر اور گیلریاں اس اعلیٰ پائے کی ہیں کہ ان کا موازنہ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کے کسی بھی کسی بھی عجائب گھر یا گیلری سے کیا جاسکتا ہے ۔ فن پاروں کی نمائشیں باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہیں جن میں مصوری، تصویر کشی اور مجسمہ سازی کے نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔

ماسکو کے اہم ترین فنی عجائب گھروں میں تریتیاکوف گیلری شامل ہیں جس کی بنیاد ایک فن پاروں کے ایک دولت مند شائق پیویل تریتیاکوف نے رکھی تھی۔ انہوں نے شہر کے لئے فن پاروں کے ایک عظیم ذخیرہ بھی عطیہ کیا۔ آجکل تریتیاکوف گیلری دو عمارتوں میں قتسیم ہے ۔ قدیم تریتیاکوف دریائے ماسکوا کے جنوبی کنارے پر واقع اصل گیلری ہے جس میں قدیم روسی فن پارے محفوظ ہیں۔ قبل از انقلاب کے معروف مصور الیاریپن اور دیگر کے فن پارے اسی قدیم تریتیاکوف گیلری میں رکھے گئے ہیں۔ جدید تریتیاکوف گیلری سوویت دور میں قائم کی گئی جس میں سوویت فن کاروں کے نمونے رکھے گئے ہیں۔

پشکن عجائب گھر

شہر ماسکو کا ایک اور فنی عجائب گھر پشکن عجائب گھر ہے ۔ یہ لندن کے برطانوی عجائب گھر کی طرز پر تعمیر ہے ۔ ریاستی تاریخی عجائب گھر برائے روس روسی تاریخ کے بارے میں ہے ۔ 1872ء میں قائم کردہ پولی ٹیکنک عجائب گھر روس کا سب سے بڑا تکنیکی عجائب گھر ہے جس میں کئی تاریخی ایجادات اور ٹیکنالوجی کے کارنامے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں بورودینو پینوراما عجائب گھر بھی قائم ہے ۔

ماسکو روس میں بیلے اور فلم سمیت دیگر فنون کا مرکز ہے ۔ شہر میں 93 تھیٹر، 132 سینما اور 24 کنسرٹ ہال قائم ہیں۔ اس کے علاوہ ماسکو میں بین الاقوامی پرفارمنس آرٹ کا مرکز بھی قائم ہے جسے 2003ء میں کھولا گیا۔

شہر میں دو بڑے سرکس ماسکو ریاستی سرکس اور ماسکو سرکس بھی قائم ہیں ۔

سیاحت[ترمیم]

ماسکو ہمیشہ ہی سیاحوں کے لئے انتہائی پرکشش شہر رہا ہے ۔ خصوصاً یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیئے گئے ماسکو کریملن اور سرخ چوراہا (Red Square) ہمیشہ ہی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ عالمی ثقافتی ورثوں میں شامل اسینشن کا گرجا گھر بھی سیاحوں کے لئے پرکشش مقام ہے ۔

دیگر مقامات میں ماسکو کا چڑیا گھر بھی شامل ہے جہاں ہر سال 12 لاکھ بالغ افراد تشریف لاتے ہیں۔

کھیل[ترمیم]

لوکوموتف اسٹیڈيم، جیسے 2002ء میں ازسرنو تعمیر کیا گیا

ماسکو دنیا کے کسی بھی شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ اولمپک فاتح کھلاڑیوں کا مسکن ہے ۔ یہ 1980ء کے گرمائی اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرچکا ہے ۔ کھیلوں کی عظیم سہولیات اور بین الاقوامی ہوائی اڈہ شیری میتیوو ٹرمینل 1980ء کے گیمز کی تیاری کے سلسلے میں ہی تعمیر کیا گیا۔ ماسکو 2012ء کے اولمپک کھیلوں کی میزبانی کا بھی امیدوار تھا تاہم 6 جولائی 2005ء کو حتمی ووٹنگ کے آغاز پر ہی باہر ہوگیا۔ بعد ازاں لندن کو 2012ء اولمپکس کی میزبانی سے نوازا گیا۔

ماسکو میں 63 میدان قائم ہیں جن میں سے لوُژنِکی اسٹیڈیم سب سے بڑا ہے ۔ شہر میں 40 دیگر کھیلوں کے کمپلیکس بھی قائم ہیں جس میں 24 مصنوعی برف کے حامل ہیں۔ ماسکو میں 7 گھڑ دوڑ کے میدان بھی ہیں جن میں سے 1834ء میں قائم کردہ وسط ماسکو اکھاڑا سب سے بڑا ہے ۔

فٹ بال بلاشبہ سب سے مشہور کھیل ہے جس کے بعد آئس ہاکی کا نمبر آتا ہے ۔ دائنامو، سی ایس کے ای، لوکوموتف اور اسپارتک جیسے فٹ بال کلب یورپ بھر میں معروف ہیں۔

ماسکو ہر سال معروف ٹینس ٹورنامنٹ کریملن کپ کی میزبانی بھی کرتا ہے جس میں دنیا بھر سے اہم ٹینس مرد و خواتین کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

ماسکو میں 1696 ہائی اسکول اور 91 کالج قائم ہیں۔ ان کے علاوہ اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والے 222 ادارے بھی شامل میں قائم ہیں جن میں سے 60 ریاستی جامعات ہیں۔ جامعات میں 1755ء میں قائم کردہ لومونوسوف ماسکو ریاستی جامعہ بھی شامل ہے ۔ اس جامعہ میں 30 ہزار انڈر گریجویٹ اور 7 ہزار پوسٹ گریجویٹ طالب علم موجود ہیں جہاں 29 کلیہ جات اور 450 شعبہ جات میں تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے ۔

ماسکو ریاستی جامعہ کی لائبریری میں 90 لاکھ سے زائد کتابیں موجود ہیں جس کی بدولت وہ روس کی سب سے بڑی لائبریری ہے ۔ یہ جامعہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز ہے اور 11 ہزار غیرملکی طلبہ اس جامعہ سے تعلیم حاصل کرچکے ہیںجن کی اکثریت روسی زبان سیکھنے کے لئے ماسکو آتی ہے۔

علاوہ ازیں بومین ماسکو اسٹیٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی، ماسکو کنزرویٹری، گیراسیموف آل رشین اسٹیٹ انسٹیٹیوٹ آف سینماٹوگرافی، ماسکو اسٹیٹ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز، ماسکو انسٹیٹیوٹ آف فزکس اینڈ ٹیکنالوجی، ماسکو ایوی ایشن انسٹیٹیوٹ اینڈ اور ماسکو فزکس انسٹیٹیوٹ معروف تعلیمی مراکز ہیں۔

ذرائع آمدورفت[ترمیم]

زیر زمین برقی ریلوے اسٹیشن

ماسکو میں 5 ہوائی اڈے قائم ہیں جن میں شیری میتیوف انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دومودیوف انٹرنیشنل ایئرپورٹ، بیکووف ایئرپورٹ، اوستاویوف انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ونوکوف انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔ شیری میتیوف غیرملکی مسافروں کے لئے سب سے مشہور داخلی راستہ ہے ۔ یہ ایئرپورٹ ماسکو آنے والے 60 فیصد بین الاقوامی مسافروں کو خدمات فراہم کرتا ہے ۔ دیگر ہوائی اڈوں سے ملکی اور سابق سوویت ریاستوں کے لئے پروازیں چلتی ہیں۔

اسی طرح ماسکو میں کئی ریلوے اسٹیشن بھی قائم ہیں جن میں شہر کے تمام 9 ٹرمینل مرکز شہر کے مرکز کے قریب واقع ہیں لیکن یہ یورپ اور ایشیا کے مختلف مقامات کے لئے ٹرینیں چلاتے ہیں۔ ان کے علاوہ ماسکو میں کئی چھوٹے ریلوے اسٹیشن بھی قائم ہیں۔ ٹرین کا سفر سستا ہونے کے باعث روسی باشندوں کی پہلی ترجیح ہے ۔ ماسکو مغرب کی جانب ٹرانس۔ سائبیرین ریلوے کا آخری مقام ہے جو ولادی ووستوک سے 9 ہزار 300 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد یہاں ختم ہوجاتی ہے ۔

ماسکو میں مسافروں کے لئے دو دریائی ٹرمینل بھی قائم ہیں جہاں سے ماسکووا اور اوکا دریائوں میں کشتیاں چلتی ہیں۔ ان کے علاوہ ماسکو میں بین الشہری مسافر بسوں کا اڈہ بھی قائم ہیں جہاں روزانہ 25 ہزار مسافروں کو خدمات فراہم کرتا ہے ۔

مقامی ٹرانسپورٹ میں ماسکو میٹرو بھی شامل ہے جو اپنے فنی نمونوں اور شاندار طرز تعمیر کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ 1935ء میں آغاز پر یہ نظام صرف ایک لائن پر مشتمل تھا لیکن اب ماسکو میٹرو 12 لائنوں اور 172 اسٹیشنوں پر مشتمل ہے جس کا بیشتر حصہ زیر زمین ہے ۔ 2003ء میں مکمل ہونے والا پارک پوبیدی دنیا کا سب سے گہرا میٹرو اسٹیشن ہے جس میں یورپ کی سب سے لمبی برقی سیڑھیاں نصب ہیں۔ ماسکو میٹرو دنیا کے مصروف ترین میٹرو نظاموں میں سے ایک ہے جو روزانہ 70 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کرتا ہے ۔

ان کے علاوہ اندرون شہر بسوں، ٹرام اور ٹرالی بس کا جال بھی بچھا ہوا ہے ۔ شہر میں روزانہ 26 لاکھ کاریں سڑکوں پر دوڑتی ہیں اور کاروں کی خرید میں حالیہ تیزی کے باعث ٹریفک جام اور پارکنگ کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

جڑواں شہر[ترمیم]