سنسکرت زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سنسکرت
संस्कृतम् saṃskṛtam
संस्कृतम्
The word Sanskritam (संस्कृतम्) written in Devanagari.
تلفظ سانچہ:IPA-sa
مستعمل
Era ca. 2nd millennium BCE–600 BCE (Vedic Sanskrit), after which it gave rise to the Middle Indo-Aryan languages. Continues as a liturgical language (Classical Sanskrit).
Attempts at revitalization; 14,000 self-reported speakers (2001 census)[1]
خاندانہائے زبان
خطات No native script. Now written in Devanagari and many other scripts.[2]
سرکاری حیثیت
دفتری زبان Flag of بھارت بھارت
نظمیت از No official regulation
رموزِ زبان
آئیسو 639-1 sa
آئیسو 639-2 san
آئیسو 639-3 san
Indic script
یہ مضمون ، برہمنی حروف یا متن رکھتا ہے۔ موزوں معاونت کے بغیر آپ کو، برہمنی محارف کے بجائے سوالیہ نشان، خانے یا دیگر نشانات نظر آسکتے ہیں۔
شِوو رکشتُ گیر وارنابھاشارساسوادتتپران

ہندوستان کی ایک قدیم ترین زبان ہے۔ اہل ہنود کے قدیم مذہبی، فکری، تاریخی ادب کا بڑا حصہ اسی زبان میں لکھا گیا ہے۔ فی زمانہ گو کہ یہ زبان زندہ نہیں رہی تاہم اسے دوبارہ فروغ دینے کے لئے گذشتہ صدی سے سرکاری سطح پر کافی کوششیں جاری رہی ہیں۔ کالی داس اور سور داس سنسکرت کے بڑے شاعر اور عالم گزرے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ یہ زبان صرف اپنی سختیوں کی وجہ سے اپنا وجود کھو دی۔ اور اس زبان کو جن لوگوں نے اپنایا اسے اتنی بلندی پر چڑھادیا کھ عام لوگ اس سے دور ہوگئے۔

ہندیوروپی٫ سو کے قریب زبانوں کا ایک خاندان ہے انھیں ایک خاندان میں ان کی خصوصیات کی بنا پر رکھا گیا ہے۔ انڈو یورپین زبانوں کے خاندان کے بولنے والوں کی تعداد دنیا میں کسی بھی اور زبانوں کے خاندان کے بولنے والوں سے زیادہ ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بھی زبانوں کا یہ خاندان دنیا کے ایکوسیع رقبہ پر پھیلا ہوا ہے۔

اس خاندان کی اہم زبانیں اردو، بنگالی، ہندی، پنجابی، پشتو، فارسی، کرد، روسی، جرمن، فرانسیسی، دانش، ولندیزی اور انگریزی ہیں۔

سنسکرت اسی کی ایک شاخ ہے

سنسکرت زبان کی دو اہم شاخیں ہیں، کلاسکی سنسکرت اور ویدک سنسکرت۔ کلاسکی سنسکرت ادب میں مستعمل ہے، اور قواعد دان پاننی نے چوتھی صدی قبل از مسیح میں اس کا باضابطہ معیار مقرر کیا۔ یہ سنسکرت کا وہ روپ ہے جو آج معروف ہے، اور جو جدید ہند کی ادبی زبانوں پر خاصا اثر انداز ہوا ہے۔ ویدک سنسکرت زبان کا وہ روپ ہے جو اپنی ناپیدگی سے پہلے وہ اپنائے ہوئے تھی، جس کی تاریخ دوسرے ہزاریہ قبل از مسیح میں شروع ہوتی ہے۔ ہندوؤں کا وید نامی صحیفہ اسی روپ میں لکھا ہوا ہے، جو کانسی کا دور کے گندھارا کی بولی پر مبنی ہے۔ وقت کی گزراں کے ساتھ روز مرہ کی بولیاں تحریری زبان سے الگانے لگیں، اور نوبت آئی کہ وہ 'پراکرِت' کلانے لگیں۔ یہی پراکرت شمالی ہند کی جدید بھاشاؤں کے آباؤ اجداد ہیں۔

کچھ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ سنسکرت ایک خدا داد زبان ہے جو براہ راست ہند کے آریائی لوگوں کو نازل ہوئی۔ مگر لسانیاتی تاریخ دانوں کے مطابق، سنسکرت اولین ہند یورپی زبان کا سنتان ہے، جو ابتدائی طور پر یورپ کے میدانوں میں بولی جاتی تھی۔ سب سے پرانی ایرانی زبان، اوستائی بھی اسی زبان کا اولاد ہے، اور وہ سنسکرت سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی چتایا ہے کہ رگ وید میں گھوڑوں کا ذکر ہے، اور اُس زمانے میں گھوڑے بر صغیر میں موجود نہیں تھے، اور لہاذا اغلب ہے کہ سنسکرت کی تشکیل آریہ کے بر صغیر میں آباد ہونے سے پہلے ہوئی ہو گی۔

رسم الخط[ترمیم]

جدید دور میں رواج ہے سنسکرت کو دیوناگری میں لکھنے کا۔ تاہم، یہ ایک نیا میلان ہے اور گزشتہ دو صدیوں سے پہلے، سنسکرت متعدد رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ عام طور پر لکھاری وہی رسم الخط استعمال کرتا تھا جو اس کے علاقے میں رائج تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Comparative speaker's strength of scheduled languages − 1971, 1981, 1991 and 2001". Census of India, 2001. Office of the Registrar and Census Commissioner, India. http://censusindia.gov.in/Census_Data_2001/Census_Data_Online/Language/Statement5.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 December 2009.
  2. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Banerji_1989 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا

بیرونی روابط[ترمیم]

Wikivoyage-Logo-v3-icon.svg Sanskrit سفری راہنما منجانب ویکی سفر