قندھار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
قندھار
Kandahar

کندهار
—  شہر  —
Aerial photograph of Kandahar Province in 2011.jpg Aerial view of a section of Kandahar
Mausoleum of Baba Wali Arghandab Valley
Kandahar International Airport Mausoleum of Mirwais Hotak
Mausoleum of Ahmad Shah Durrani Governor's Mansion

صوبہ قندھارجہاں درانی قبائل کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ ہخامنشیوں کے ہَرن َوَتی Haranwati، قدیم زمانے کے ارکوشیا Arachsia اور ازمنہ وسطیٰ کے زمین داور اور زابل کا مترادف بتایا جاتاہے۔ اس میں دریائے ہلمند، ترنک، اغنداب اور ارغان کی وادیاں شامل ہیں۔ قندھار اس صوبے کے نام پر موجودہ شہر قندھار کا نام رکھا گیا ہے۔ جس نے گرشک، بست اور الرخج کے قدیم شہروں کی جگہ لے لی ہے۔ (قندھار، معارف اسلامیہ) ہخامنشی خاندان سے یہ علاقہ سکندرنے چھینا، پھر سلوکی اس کے وارث ہوگئے۔ مگر جلد ہی ان کو سھتیوں نے مار بھگایا۔ جب پارتھیوں نے سھتیوں کو زیر دست کیا تو یہ علاقہ بھی ان کا باج گزار ہو گیا۔ مگر جلد ہی اس علاقے پر کشان خاندان کا قبضہ ہوگیا۔ کشان حکومت سے یہ علاقہ اردشیر اول نے حاصل کیا اور یہ ساسانیوں کے قبضہ میں آگیا۔ مگر اس علاقے پر چوتھی صدی عیسوی تک ہنوں کا قبضہ ہوچکا تھا اور یہاں ہنوں کی زابلی شاخ حکمران تھی۔ ہنوں سے حکومت ترکوں نے چھین لی اوریہاں ترک چھاگئے۔

عربوں کی یلغار کے وقت یہاں برہمن شاہی حکمران تھے اور ان کا صدرمقام بست تھا۔ اسلامی لشکر کا پہلا ٹکراؤ (24ھ/ 644ء) میں وادی ارغنداب میں ہوا جس میں رتنبل مارا گیا اور اس کے بعد کی دوصدیوں تک عرب اس علاقے پر مستقل حملے کرتے رہے، گو انہوں نے اس علاقے پر قبضہ نہیں کیا۔ (258ھ/ 871ء) میں یعقوب بن لیث نے اس علاقے پر قبضہ کرلیا اور اس علاقے کو اسلامی مملکت کا جزو بنادیا۔ (افغانستان، معارف اسلامیہ)
قندھارKandahar is located in Afghanistan
قندھار
Kandahar
افغانستان میں مقام
متناسقات: 31°37′N 65°43′E / 31.617°N 65.717°E / 31.617; 65.717متناسقات: 31°37′N 65°43′E / 31.617°N 65.717°E / 31.617; 65.717
ملک Flag of Afghanistan.svg افغانستان
صوبہ قندھار
ضلع قندھار
حکومت
 - میئر
بلندی 1,010 میٹر (3,314 فٹ)
آبادی (2012)
 - کُل 491,500
منطقۂ وقت افغانستان معیاری وقت (یو ٹی سی+4:30)

قندھار جنوبی افغانستان کا ایک شہر اور صوبہ قندھار کا دارالحکومت ہے۔ دریائے ارغنداب کے کنارے واقع اس شہر کی آبادی 316،000 ہے۔ یہ افغانستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔ بین الاقوامی ہوائی اڈے اور شاہراہوں کے وسیع جال کے ذریعے یہ شہر دنیا بھر سے منسلک ہے۔ پشاور کے بعد یہ پشتون عوام کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ یہ مغرب میں ہرات، مشرق میں غزنی اور کابل اور جنوب میں کوئٹہ سے بذریعہ شاہراہ چڑا ہوا ہے۔ احمد شاہ ابدالی کےدور مین  شال کوٹکوئٹہ قندھار کا ایک ضلع تھا،

یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

یہ مضمون ابھی زیر تکمیل ہے براہ مہربانی اس میں مزید ترمیم مت کیجئے

حوالہ جات[ترمیم]