دریائے ہلمند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دریائے ہلمند
Helmand River
Helmand River drainage basin
ہلمند دریا کے نکاسی آب کے طاس کا نقشہ
Helmand River drainage basin
ہلمند دریا کے نکاسی آب کے طاس کا نقشہ
منبع سلسلہ کوہ ہندوکش
دہانہ ہامون جھیل
طاس رقبہ سیستان طاس
بائیں معاون دریائے ارغنداب
دائیں معاون دریائے خاش
دریائے چاغی

ہلمند دریا ( پشتو : هیرمند دریا هيرمد دریا یا هلمند دریا ہلمند دریا) افغانستان کا سب سے لمبی دریا ہے. یہ دریا افغانستان اور جنوبی - مشرقی ایران کے سیستان جلادھار علاقے کی آبپاشی کے لئے بہت اہم ہے.

نام کا مترجم ذریعہ[ترمیم]

ہلمند دریا قدیم دور سے ہی اس علاقے میں کھیتی - باڑی کے لئے پانی کا انمول ذریعہ رہی ہے. اس لئے اس پر ہزاروں سال سے ان گنت باندھ بنے ہوئے ہیں. باندھ اور پل کے لئے قدیم فارسی میں 'کے لئے' لفظ استعمال ہوتا تھا جو سنسکرت کے 'پل' لفظ کا یکساں لفظ ہے. ٹھیک اس طرح فارسی کا ایک اور لفظ ہے 'دھیما' یعنی جس کے پاس کچھ ہو (جیسے کی اقلمد کا مطلب ہے عقل والا). اس دریا کا قدیم فارسی نام هےتمد تھا (جو کی سنسکرت میں سےتمت ہے) یعنی 'بہت ڈیموں والی ندی'. یہ نام وقت کے ساتھ بدل کر ہلمند اور هيرمد بن گیا.

دریا کا منبع اور راستہ[ترمیم]

ہلمند دریا افغانستان کے دارالحکومت کابل سے 80 کلومیٹر مغرب میں ہندو كش پہاڑ سےرےز کی سگلاخ شاخ میں جنم لیتی ہے. پھر اني دررے کے جواب سے نکلتی ہوئی یہ جنوبی - مغرب کے طرف جاتی ہے اور دشت مارگو کے صحرا سے گزرتی ہے. وہاں سے یہ سیستان کے دلدل والے علاقے سے نکلتی ہوئی مشرقی ایران کے ذابول شہر کے قریب هامون - اے - ہلمند کے اتھلي جھیلوں والے علاقے میں ختم ہو جاتی ہے. شروع سے آخر تک یہ دریا 1،150 کلومیٹر کا کل راستہ طے کرتا ہے. راستے میں ارغنداب دریا ، جو افغانستان کی ایک اور اہم دریا ہے، ہلمند سے جا ملتا ہے.

اس دریا کا شمار دنیا کی ان ندیوں میں ہے جن کا اختتام کسی سمندر میں نہیں ہوتا بلکہ ایک ستھلرددھ ذخائر میں ہوتا ہے. زیادہ تر ایسی ندیاں کھارے پانی سے مریں ہوتیں ہیں، لیکن ہلمند دریا کا پانی زیادہ تر جگہوں پر میٹھا ہی ہے. اس دریا پر جدید دور میں بھی كجكي باندھ جیسے نئے ذخائر اور باندھ بنے ہیں.

تاریخ[ترمیم]

ہلمند دریا کی وادی کو پارسی مذہب - گرنتھ اوےستا میں اريو کے وطن ہونے کا ذکر ہے اور اس علاقے کو اس گرنتھ میں 'هےتمت' کہا گیا ہے. [1] لیکن یہاں ہندو اور بودھ مذہب کے پیروکار زیادہ مقدار میں تھے. ان کی جلد کا رنگ زیادہ سفید تھا اس لئے اس علاقے کا نام میں 'سفید بھارت' ('وهايٹ انڈیا') بھی تھا. کچھ ہندوستانی مورخین کا خیال ہے کہ اصل میں رگ وید میں جس سرسوتی دریا کا بكھان ہے وہ گھاگرا- هاكرا دریا نہیں بلکہ ہلمند تھا.

انہیں بھی دیکھیں[ترمیم]