ہرات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ہرات
هرات
—  شہر  —
ہرات شہر کا منظر
ہرات ہوائی اڈہ Section of Herat in 2009.jpg
Herat in June 2011-cropped.jpg ہرات
ہرات کا مسجد جمعہ مصلہ کمپلیکس
ہرات is located in Afghanistan
ہرات
افغانستان میں مقام
متناسقات: 34°20′31″N 62°12′11″E / 34.34194°N 62.20306°E / 34.34194; 62.20306متناسقات: 34°20′31″N 62°12′11″E / 34.34194°N 62.20306°E / 34.34194; 62.20306
ملک Flag of Afghanistan.svg افغانستان
صوبہ صوبہ ہرات
بلندی 920 میٹر (3,018 فٹ)
آبادی (2006)
 - کُل 397,456
  [1]
منطقۂ وقت افغانستان کا معیاری وقت (یو ٹی سی+4:30)
ھرات

ھرات مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات کا شہر ہے جو وسطی افغانستان سے ترکمانستان کے کاراکم صحرا کی جانب جانے والے دریا ہری رود کے شمال میں واقع ہے۔

یہ افغانستان کا تیسرا بڑا شہر ہے جس کی آبادی 2002ء کے اندازوں کے مطابق 249،000 ہے۔

ھرات ایک قدیم شہر ہے جس میں کئی تاریخی عمارات آج بھی قائم ہیں حالانکہ گذشتہ چند دہائیوں کی خانہ جنگی اور بیرونی جارحیت کے باعث شہر کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ ھرات ہندوستان، چین، مشرق وسطی اور یورپ کے درمیان قدیم و تاریخی تجارتی راستے پر واقع ہے۔ ھرات سے ایران، ترکمانستان، مزار شریف اور قندھار جانے والے راستے آج بھی محل وقوع کے اعتبار سے اہم شمار ہوتے ہیں۔

ھرات
جامع مسجد، ھرات

ھرات خراسان کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور اسے خراسان کا ہیرا کہا جاتا ہے۔

یہ شہر عباسی خلافت اور بعد ازاں آل طاہر کی مملکت کا حصہ رہا۔ 1040ء تک اس پر غزنویوں کی حکومت رہی اور اسی سال یہ سلجوقی سلطنت میں شامل ہوگیا۔ 1175ء میں غوریوں سے اسے فتح کرلیا اور پھر یہ خوارزم شاہی سلطنت کا حصہ بنا۔

چنگیز خان نے 1221ء میں اس شہر پر حملہ کرکے اسے تہس نہس کردیا۔

1381ء میں یہ شہر امیر تیمور کے غیض و غضب کا نشانہ بنا تاہم اس کے بیٹے شاہ رخ تیموری نے اسے از سر نو تعمیر کیا اور ھرات تیموری سلطنت کا اہم مرکز بن گیا۔ 15 ویں صدی کے اواخر میں ملکہ گوہر شاد نے مصلی کمپلیکس تیار کرایا۔ ملکہ کا مزار تیموری طرز تعمیر کا بہترین نمونہ مانا جاتا ہے۔

اسی صدی میں قرہ قویونلو حکمرانوں نے ایک مرتبہ ھرات کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ 1506ء میں ازبکوں اورچند سالوں بعد شاہ اسماعیل صفوی نےاس شہر کو فتح کرکے صفوی سلطنت کا حصہ بنادیا۔

1718ء سے 1863ء کے دوران متعدد جنگیں لڑی گئیں جن میں احمد شاہ درانی نے 1750ء میں تقریبا ایک سال کے محاصرے اور خونریزی کے بعد اس شہر کو حاصل کرلیا۔ 1838ء میں فارس کے محاصرے میں شہر کو زبردست نقصان پہنچا اور 1852ء اور 1856ء میں دو مرتبہ فارسیوں سےش ہر پر قبضہ کرلیا۔ 1863ء دوست محمد خان نے اسے حاصل کرکے افغانستان کا حصہ بنادیا۔

1885ء میں برطانوی افواج نے مصلی کمپلیکس کو زبردست نقصان پہنچایا۔

سوویت جارحیت کے خلاف جدوجہد کے دوران 1979ء میں شہر میں پہلے سے موجود 350 روسی شہریوں کو قتل کردیا گیا جس پر روسیوں نے ھرات پر زبردست بمباری کی جس سے ہزاروں شہری ہلاک ہوگئے۔

1995ء میں شہر طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا اور افغانستان پر امریکی جارحیت کے بعد 12 نومبر 2001ء کو شہر پر شمالی اتحاد کا قبضہ ہوگیا۔

آجکل شہر میں بین الاقوامی افواج کی بڑی تعداد موجود ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام pop کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=ہرات&oldid=857994’’ مستعادہ منجانب