تیموری سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آل تیموری یا خاندان تیموری
تیموریان
وسط ایشیاء و مشرق وسطی کی سلطنت

 

 

 

1370–1526
 

 

تیمور سلطنت کا پرچم[a]

تیموری سلطنت کی حدود، دورِ عروج میں
دارالحکومت سمرقند ، ہرات
زبانیں چغتائی زبان اور فارسی زبان
مذہب اسلام
حکومت بادشاہت
امیر
 - 1370–1405 تیمور
تاریخی دور قرون وسطیٰ
 - تیمور نے سلطنت قائم کی 1370
 - شیبانی خان کی قیادت میں سمرقند پر ازبکوں کا قبضہ 1509
 - ہرات پر شیبانی کا قبضہ 1507
 - اختتام 1526
رقبہ 4,400,000 مربع کلومیٹر (1,698,849 مربع میل)
a: تیموری پرچم بمطابق قتلان نقشہ نامہ 1375ء
Warning: Value specified for "continent" does not comply
تاریخ ایران

ہندوستان میں قائم تیموری سلطنت کے لئے دیکھئے سلطنت مغلیہ

تاریخ میں دو سلطنتیں تیموری سلطنت کہلاتی ہیں جن میں سے پہلی امیر تیمور نے وسط ایشیا اور ایران میں تیموری سلطنت کے نام سے قائم کی جبکہ دوسری ظہیر الدین بابر نے ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کے نام سے قائم کی۔

امیر تیمور[ترمیم]

تفصیلی مضمون کے لئے دیکھئے امیر تیمور

اس سلطنت کا بانی امیر تیمور تھا جس کا چنگیز خان کے خاندان سے قریبی تعلق تھا۔ وہ دریائے جیحوں کے شمالی کنارے پر واقع شہر سبز میں 1336ء میں پیدا ہوا۔ وہ ایک اچھا سپاہی اور بے مثل سپہ سالار تھا۔ وہ ترکستان اور موجودہ افغانستان کے بڑے حصے پر قابض ہونے کے بعد 1366ء میں بلخ میں تخت نشین ہوا۔

بلخ میں تخت نشین ہونے کے بعد تیمور نے ان تمام علاقوں اور ملکوں پر قبضہ کرنا اپنا حق اور مقصد قرار دیا جن پر چنگیز خان کی اولاد حکومت کرتی تھی۔ اس غرض سے اس نے فتوحات اور لشکر کشی کے ایسے سلسلے کا آغاز کیا جو اس کی موت تک پورے 37 سال جاری رہا۔ تیمور کے ابتدائی چند سال چغتائی سلطنت کے باقی ماندہ حصوں پر قبضہ کرنے میں صرف ہوگئے۔ اگلے چند سالوں میں اس نے کاشغر، خوارزم، خراسان، ہرات، نیشاپور، قندھار اور سیستان فتح کرلیا۔ 1386ء میں اس نے ایران کی مہم کا آغاز کیا جو "یورش سہ سالہ" کہلاتی ہے اور اس مہم کے دوران ماژندران اور آذربائجان تک پورے شمالی ایران پر قابض ہوگیا ۔اس مہم کے دوران اس نے گرجستان پر بھی قبضہ کیا۔

1391ء میں تیمور نے سیر اوردہ یعنی خاندان سرائے کے خان تختمش کے خلاف لشکر کشی کی اور دریائے قندزجہ کے کنارے موجودہ سمارہ کے قریب 18 اپریل کو اسے کو ایک خونریز جنگ میں شکست دی۔

روس کی مہم سے واپسی کے بعد تیمور نے 1392ء میں ایران میں نئی لشکر کشی کا آغاز کیا جو "یورش پنج سالہ" کہلاتی ہے۔ اس مہم کے دوران اس نے ہمدان، اصفہان اور شیراز فتح کیا۔ آل مظفر کی حکومت کا خاتمہ کیا اور بغداد اور عراق سے احمد جلائر کو بے دخل کیا۔ اس طرح وہ پورے ایران اور عراق پر قابض ہوگیا۔ تیمور ایران کی مہم سے فارغ ہوکر ابھی تبریز واپس ہی آیا تھا کہ اس کو اطلاع ملی کہ تختمش نے دربند کے راستے پر حملہ کردیا ہے۔ تیمور نے دریائے تیرک کے کنارے 18 اپریل 1395ء کو تختمش کو ایک اور شکست فاش دی۔ اسکے بعد تیمور نے پیش قدمی کرکے سیر اوردہ کے دارالحکومت سرائے کو تباہ و برباد کردیا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اس مہم کے دوران تیمور استراخان، ماسکو، کیف اور کریمیا کے شہروں کو فتح کرتا اور تباہی پھیلاتا ہوا براستہ قفقاز، گرجستان اور تبریز 798ھ میں سمرقند واپس آگیا۔

1398ء میں تیمور ہندوستان کو فتح کرنے کے ارادے سے روانہ ہوا۔ ملتان اور دیپالپور سے ہوتا ہوا دسمبر 1398ء میں دہلی فتح کر لیا۔ اگلے سال اس نے شام فتح کر لیا۔

1402ء میں تیمور نے عثمانی سلطان بایزید یلدرم کو جنگ انقرہ کو شکست فاش دی اور سمرقند واپس آنے کے بعد چین پر حملے کی تیاریاں شروع کردیں۔ تاہم اس سفر کے دوران وہ بیمار پڑ گیا اور 18 فروری 1405ء کو انتقال کر گیا۔

تیمور کے بعد اس کے کے جانشیں شاہ رخ نے تیموری سلطنت کو اس کے عروج پر پہنچا دیا۔ 1507ء میں شیبانی خان نے ہرات پر قبضہ کرکے وسط ایشیا میں تیموری اقتدار کا خاتمہ کردیا۔

تیموری سلاطین[ترمیم]

تیموری سلطنت (بنفشی رنگ میں) گلابی حلقہ چنگیز خان کی سلطنت کو ظاہر کررہا ہے

متعلقہ مضامین[ترمیم]

وسط ایشیا کے مغل حکمران
Genghis Khan.jpg
چنگیز خان
چنگیز خان 
جوجی خان 
تولی خان 
اوکتائی خان 
چغتائی خان 
ہلاکو خان
قراچار نوئیاں
امیر تیمور
امیر تیمور 
امیر جلال الدین میراں شاہ 
امیر زادہ عمر شیخ 
شاہ رخ تیموری 
پیر محمد بن جہانگیر بن امیر تیمور 
خلیل سلطان 
الغ بیگ 
مرزا ابو سعید بن سلطان محمد بن میران شاہ بن امیر تیمور 


حوالہ جات[ترمیم]