تیموری سلطنت
| آل تیموری یا خاندان تیموری تیموریان |
||||
| وسط ایشیاء و مشرق وسطی کی سلطنت | ||||
|
||||
|
تیمور سلطنت کا پرچم[a] |
||||
| تیموری سلطنت کی حدود، دورِ عروج میں | ||||
| دارالحکومت | سمرقند ، ہرات | |||
| زبانیں | چغتائی زبان اور فارسی زبان | |||
| مذہب | اسلام | |||
| حکومت | بادشاہت | |||
| امیر | ||||
| - 1370–1405 | تیمور | |||
| تاریخی دور | قرون وسطیٰ | |||
| - تیمور نے سلطنت قائم کی | 1370 | |||
| - شیبانی خان کی قیادت میں سمرقند پر ازبکوں کا قبضہ | 1509 | |||
| - ہرات پر شیبانی کا قبضہ | 1507 | |||
| - اختتام | 1526 | |||
| رقبہ | 4,400,000 مربع کلومیٹر (1,698,849 مربع میل) | |||
| a: تیموری پرچم بمطابق قتلان نقشہ نامہ 1375ء | ||||
| Warning: Value specified for "continent" does not comply | ||||
|
ہندوستان میں قائم تیموری سلطنت کے لئے دیکھئے سلطنت مغلیہ
تاریخ میں دو سلطنتیں تیموری سلطنت کہلاتی ہیں جن میں سے پہلی امیر تیمور نے وسط ایشیا اور ایران میں تیموری سلطنت کے نام سے قائم کی جبکہ دوسری ظہیر الدین بابر نے ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کے نام سے قائم کی۔
فہرست |
امیر تیمور [ترمیم]
تفصیلی مضمون کے لئے دیکھئے امیر تیمور
اس سلطنت کا بانی امیر تیمور تھا جس کا چنگیز خان کے خاندان سے قریبی تعلق تھا۔ وہ دریائے جیحوں کے شمالی کنارے پر واقع شہر سبز میں 1336ء میں پیدا ہوا۔ وہ ایک اچھا سپاہی اور بے مثل سپہ سالار تھا۔ وہ ترکستان اور موجودہ افغانستان کے بڑے حصے پر قابض ہونے کے بعد 1366ء میں بلخ میں تخت نشین ہوا۔
بلخ میں تخت نشین ہونے کے بعد تیمور نے ان تمام علاقوں اور ملکوں پر قبضہ کرنا اپنا حق اور مقصد قرار دیا جن پر چنگیز خان کی اولاد حکومت کرتی تھی۔ اس غرض سے اس نے فتوحات اور لشکر کشی کے ایسے سلسلے کا آغاز کیا جو اس کی موت تک پورے 37 سال جاری رہا۔ تیمور کے ابتدائی چند سال چغتائی سلطنت کے باقی ماندہ حصوں پر قبضہ کرنے میں صرف ہوگئے۔ اگلے چند سالوں میں اس نے کاشغر، خوارزم، خراسان، ہرات، نیشاپور، قندھار اور سیستان فتح کرلیا۔ 1386ء میں اس نے ایران کی مہم کا آغاز کیا جو "یورش سہ سالہ" کہلاتی ہے اور اس مہم کے دوران ماژندران اور آذربائجان تک پورے شمالی ایران پر قابض ہوگیا ۔اس مہم کے دوران اس نے گرجستان پر بھی قبضہ کیا۔
1391ء میں تیمور نے سیر اوردہ یعنی خاندان سرائے کے خان تختمش کے خلاف لشکر کشی کی اور دریائے قندزجہ کے کنارے موجودہ سمارہ کے قریب 18 اپریل کو اسے کو ایک خونریز جنگ میں شکست دی۔
روس کی مہم سے واپسی کے بعد تیمور نے 1392ء میں ایران میں نئی لشکر کشی کا آغاز کیا جو "یورش پنج سالہ" کہلاتی ہے۔ اس مہم کے دوران اس نے ہمدان، اصفہان اور شیراز فتح کیا۔ آل مظفر کی حکومت کا خاتمہ کیا اور بغداد اور عراق سے احمد جلائر کو بے دخل کیا۔ اس طرح وہ پورے ایران اور عراق پر قابض ہوگیا۔ تیمور ایران کی مہم سے فارغ ہوکر ابھی تبریز واپس ہی آیا تھا کہ اس کو اطلاع ملی کہ تختمش نے دربند کے راستے پر حملہ کردیا ہے۔ تیمور نے دریائے تیرک کے کنارے 18 اپریل 1395ء کو تختمش کو ایک اور شکست فاش دی۔ اسکے بعد تیمور نے پیش قدمی کرکے سیر اوردہ کے دارالحکومت سرائے کو تباہ و برباد کردیا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اس مہم کے دوران تیمور استراخان، ماسکو، کیف اور کریمیا کے شہروں کو فتح کرتا اور تباہی پھیلاتا ہوا براستہ قفقاز، گرجستان اور تبریز 798ھ میں سمرقند واپس آگیا۔
1398ء میں تیمور ہندوستان کو فتح کرنے کے ارادے سے روانہ ہوا۔ ملتان اور دیپالپور سے ہوتا ہوا دسمبر 1398ء میں دہلی فتح کر لیا۔ اگلے سال اس نے شام فتح کر لیا۔
1402ء میں تیمور نے عثمانی سلطان بایزید یلدرم کو جنگ انقرہ کو شکست فاش دی اور سمرقند واپس آنے کے بعد چین پر حملے کی تیاریاں شروع کردیں۔ تاہم اس سفر کے دوران وہ بیمار پڑ گیا اور 18 فروری 1405ء کو انتقال کر گیا۔
تیمور کے بعد اس کے کے جانشیں شاہ رخ نے تیموری سلطنت کو اس کے عروج پر پہنچا دیا۔ 1507ء میں شیبانی خان نے ہرات پر قبضہ کرکے وسط ایشیا میں تیموری اقتدار کا خاتمہ کردیا۔
تیموری سلاطین [ترمیم]
- امیر تیمور 1366ء تا 1405ء
- شاہ رخ 1405ء تا 1447ء
- الغ بیگ 1447ء تا 1449ء
- عبداللطیف 1449ء تا 1450ء
- مرزا عبداللہ 1450ء تا 1452ء
- ابو سعید میرزا 1452ء تا 1467ء
- سلطان احمد 1467ء تا 1493ء
- حسین بائیقرا 1467ء تا 1506ء
متعلقہ مضامین [ترمیم]
حوالہ جات [ترمیم]
| ویکیمیڈیا العام میں تیموری سلطنت سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |