سلطنت برطانیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سلطنت برطانیہ 1921ء میں

سلطنت برطانیہ اپنی وسعت کے اعتبار سے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھی اور کافی عرصے تک یہ ایک عالمی طاقت رہی۔ 1921ء کو اپنی طاقت اور وسعت کی انتہا پر یہ 33 ملین مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی تھی اور اس کے زیر نگیں 45 کروڑ 80 لاکھ لوگ تھے جو کہ اس وقت کی عالمی آبادی کا ایک چوتھائی بنتے ہیں۔ یہ اتنی وسیع تھی کہ اس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ سلطنت برطانیہ پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ یہ دنیا کے پانچوں آباد براعظموں پر موجود تھی۔

اسکی شروعات آئرلینڈ میں 1541ء سے ہوئی۔ 1607ء ميں امریکہ میں جیمز ٹاؤن پہلی انگریز آبادی تھی۔ 1707 میں سکاٹ لینڈ اور انگلستان متحد ہوتے ہیں۔ برطانوی نوآبادیاں شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ، آسٹریلیا اور ایشیا میں پھیلتی جاتی ہیں۔ اس دوران ریاست ہاۓ متحدہ امریکہ کی آزادی اور سلطنت برطانیہ سے علیحدگی ایک علاقائی نقصان تو تھا لیکن تجارتی اور معاشی تعلقات بدستور قائم رہے۔

لارڈ کلائیو جنگ پلاسی میں

برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے سلطنت برطانیہ کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔ اسکی ابتدا 1600ء میں ملکہ الزبتھ اول کے دور میں بحیثیت ایک تجارتی کمپنی کے ہوئی۔ اس کا مقصد ہندوستان کے ساتھ تجارت تھی۔ مفل سلطنت کی زبوں حالی نے طاقت کا جو خلا پیدا کیا اسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے پورا کیا۔ 1857ء کو برصغیر مکمل طور پر سلطنت برطانیہ کا حصہ بن چکا تھا۔

بڑھنے کی وجوہات[ترمیم]

  • سائنسی دریافتوں سے بروقت فائدہ اٹھانا۔
  • ملک کے اندر سیاسی نظم و ضبط۔
  • بہت بڑی تجارتی بحریہ جس پر توپیں نصب کر کے انھیں جنگی بحریہ میں تبدیل کیا جاسکتا تھا۔
  • اچھے حکمرانوں کا تسلسل۔
  • یورپ کے معاملات سے اپنے آپ کو بچاۓ رکھا اور اپنی توانائیوں کو سلطنت کے تعمیر کرنے پر صرف کیا۔ یورپ کے معاملات میں تبھی دخل دیا جب ہالینڈ اور بیلجیم میں مداخلت کی گئی۔

سلطنت برطانیہ پاکستان میں[ترمیم]

تقسیم ہندوستان 15 اگست 1947ء کے بعد دونوں ممالک ڈومِنِیَن کہلائے۔ پاکستان پرعملی طور پر گورنر جنرل کی حکومت قائم تھی، مگر باقاعدہ عملی و اِختیاری آزادی 23 مارچ 1956ء کو عمل میں آئی جب پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا۔ اگست 1947ء سے فروری 1952ء تک شاہ انگلستان جارج ششم کی اور فروری 1952ء سے مارچ 1956ء تک ملکہ ایلزبتھ دوم کی حکمرانی قائم رہی۔۔ یہ تمام عرصہ " ڈومِنِیَن آف پاکستان " یعنی "مملکت پاکستان"کے نام سے مشہور ہے۔ اِس دوران پاکستان میں چار گورنر جنرل [قائداعظم محمد علی جناح، خواجہ ناظمُ الدین، ملک غلام محمد، جنرل اسکندر مرزا] اور چار ہی وُزرائے اعظم [خان لیاقت علی خان، خواجہ ناظمُ الدین، محمد علی بوگرہ، چودھری محمد علی] ہوئے۔

زوال[ترمیم]

ابتدا کی طرح اس کا زوال بھی آئرلینڈ سے 1922ء ميں شروع ہوا۔ 1947 میں برصغیر علیحدہ ہوا۔

دنیا پر اثرات[ترمیم]

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

ظلم[ترمیم]

  • 1877۔1878ء میں دکن، ہندوستان کے قحط میں 12 سے 29 ملین افراد ہلاک ہوئے، کیونکہ اگرچہ ہدنوستان میں غلہ موجود تھا مگر برطانوی وائسرائے نے حکم دیا کہ غلہ برطانیہ برآمد کیا جائے۔ اس کے بعد بچ جانے والے فاقہ زدہ کسانوں سے پچھلے سالوں کا tax وصول کر کے ان کو مالی طور پر بھی کنگال کر دیا گیا۔[1]



حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ گارڈین،27 دسمبر 2005ء، "George Monbiot: The Turks haven't learned the British way of denying past atrocities"