موزمبیق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


República de Moçambique
جمہوریہ موزمبیق
موزمبیق کا پرچم موزمبیق کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: Pátria Amada
موزمبیق کا محل وقوع
دارالحکومت ماپوتو
عظیم ترین شہر موناکو
دفتری زبان(یں) پرتگیزی
نظامِ حکومت
صدر
جمہوریہ (نیم صدارتی نظام)
آرمیندو گویبوزا
آزادی
- تاریخِ آزادی
پرتگال سے
25 جون 1975ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
801590  مربع کلومیٹر (35)
309496 مربع میل
2.2
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - 2007 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
21,397,000 (52)
21397000
25 فی مربع کلومیٹر(187)
65 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

17.82 ارب بین الاقوامی ڈالر (121 واں)
900 بین الاقوامی ڈالر (175 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.384
(172) – پست
سکہ رائج الوقت میٹیکال (MZM)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مرکزی افریقی وقت (CAT)
(یو۔ٹی۔سی۔ 2)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 2)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.mz
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+258

موزمبیق (سرکاری طور پر جمہوریہ موزمبیق) افریقہ کے جنوب-مشرق میں واقع ایک ملک ہے۔ اس کی سرحدیں مشرق میں بحر ہند، شمال میں تنزانیہ، شمال مغرب میں ملاوی اور زیمبیا، مغرب میں زمبابوے اور جنوب مغرب میں جنوبی افریقہ اور سوازی لینڈ سے ملتی ہیں۔ موزمبیق کا دار الحکومت ماپوتو ہے۔

پہلی اور 5ویں صدی کے درمیان بانتو زبان بولنے والے شمال بعید اور مغرب سے ہجرت کرکے یہاں آئے۔ سواحلی اور بعد میں عرب بھی، نیز تجارتی بندرگاہیں اہل یورپ کی آمد تک ساحلوں پر موجود تھیں۔ 1498 میں واسکو ڈی گاما نے اس علاقہ کی سیاحت کی اور 1505 سے پرتگیزیوں نے اس پر اپنا استعمال قائم کیا۔ 1975 میں موزمبیق اس استعمار سے آزاد ہوا اور اس کے بعد جلد ہی عوامی جمہوریہ موزمبیق کی شکل اختیار کرلی۔ یہی وہ دور تھا جب موزمبیق میں زبردست خانہ جنگی برپا تھی، اس خانہ جنگی کا آغاز 1972 کو ہوا اور 1992 میں یہ خانہ جنگی ختم ہوئی۔

موزمبیق قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ ملک کی اکثر معیشت کی بنیاد زراعت ہے، تاہم صنعت، بالخصوص ماکولات ومشروبات، کیمیاوی مصنوعات، المونیم اور پیٹرول کی صنعت آگے بڑھ رہی ہے۔ ملک کا سیاحتی شعبہ بھی ترقی پذیر ہے۔ جنوبی افریقہ موزمبیق کا اہم تجارتی رفیق اور راست بیرونی سرمایہ کاری کا ذریعہ ہے۔ نیز پرتگال، ہسپانیہ اور بیلجیم بھی اہم تجارتی شرکاء ہیں۔ 2001 سے موزمبیق اپنے سالانہ خام ملکی پیداوار (GDP) کے افزائشی اوسط کی بنا پر دنیا کے دس بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔

موزمبیق کی دفتری زبان پرتگیزی ہے، جبکہ ملک کی نصف آبادی اسے ثانوی زبان کی حیثیت سے استعمال کرتی ہے اور بہت کم ایسے افراد ہیں جو اسے اولین زبان کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں۔ مقامی طور پر سواحلی، مکھووا اور سینا زبانیں بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہیں۔ موزمبیق کا سب سے بڑا مذہب عیسائیت ہے، مسلم اور افریقی روایتی مذاہب کی اقلیتیں بھی کافی تعداد میں موجود ہیں۔ موزمبیق افریقی اتحاد اور دولت مشترکہ ممالک کا رکن ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

ملک کا نام موزمبیق پرتگیزیوں نے جزیرہ موزمبیق کے بعد رکھا تھا، موزمبیق نام موسی البیک یا موسی بن مبیکی سے مشتق ہے۔ یہ ایک عرب تاجر کا نام ہے جو سب سے پہلے جزیرہ پر پہونچا اور بعد میں وہیں سکونت اختیار کرلی۔

متعلقہ مضامین موزمبیق[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔