انڈورا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Principat d’Andorra
اماراتِ انڈورا
انڈورا کا پرچم انڈورا کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Virtus Unita Fortior
(متحدہ قوت زیادہ قوی ہے)
ترانہ: El gran Carlemany
انڈورا کا محل وقوع
دارالحکومت انڈورا لا ویلا
عظیم ترین شہر انڈورا لا ویلا
دفتری زبان(یں) کتلانی
نظامِ حکومت
بادشاہ/شہزادہ
وزیرِ اعظم
آئینی ملوکیت
جون اینرک
البرٹ پنتات
تشکیل
- تاریخِ آزادی
فرانس اور ہسپانیہ نے تشکیل دیا
1278ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
468  مربع کلومیٹر (194)
180.7 مربع میل
0
آبادی
 - تخمینہ:2006ء
 - کثافتِ آبادی
 
81,200 (194)
143 فی مربع کلومیٹر(73)
370 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

2.77 ارب بین الاقوامی ڈالر (165 واں)
38800 بین الاقوامی ڈالر (13 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
تخمینہ دستیاب نہیں
(-) – -
سکہ رائج الوقت یورو (EUR)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مرکزی یورپی وقت (CET اور CEST)
(یو۔ٹی۔سی۔ 1)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 2)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.ad
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+376

انڈورا براعظم یورپ کے جنوب مغربی حصے میں ہر طرف سے خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے۔ اس کے ایک طرف سپین اور دوسری طرف فرانس موجود ہیں۔ اسے یورپ کا چھٹا سب سے چھوٹا ملک گردانتے ہیں۔ اس کا کل رقبہ 468 مربع کلومیٹر ہے اور 2009 کے ایک تخمینے کے مطابق اس کی آبادی 83٫888 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کا دارلحکومت انڈورا لا ولا ہے جو سطح سمندر سے 1٫023 میٹر بلند ہے اور اسے یورپ کے بلند ترین دارلحکومت کا درجہ ملا ہوا ہے۔ سرکاری زبان کٹالن ہے تاہم ہسپانوی، فرانسیسی اور پرتگالی بھی عام بولی جاتی ہیں۔

اسے 1278 میں بسایا گیا تھا۔ بادشاہ کا کردار دو شہزادے مل کر ادا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک فرانسیسی جمہوریہ کا صدر اور دوسرا ارگل کا بشپ ہے۔

اپنی سیاحت کی صنعت کی وجہ سے ملک خوشحال ہے۔ یہاں سالانہ ایک کروڑ سے زیادہ سیاح آتے ہیں اور یہاں کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ اگرچہ یہ یورپی یونین کا حصہ نہیں تاہم یورو بطور کرنسی استعمال ہوتا ہے۔ پیدائش کے وقت اوسط زندگی 82 سال مانی جاتی ہے جو دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔

تاریخ[ترمیم]

20ویں صدی[ترمیم]

پہلی جنگِ عظیم کے دوران انڈورا نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تاہم اصل لڑائی میں شامل نہ ہوا۔ 1957 تک انڈورا اتحادی ممالک کا حصہ رہا تاہم اسے ورسیلز کے معاہدے میں شریک نہ کیا گیا۔

1933 میں انتخابات سے قبل پیدا ہونے والی بے چینی کے نتیجے میں انڈورا پر فرانس نے قبضہ کر لیا۔

اپنی الگ تھلگ حیثیت کی وجہ سے انڈورا یورپی تاریخ کے عام دھارے سے دور رہا اور فرانس اور جرمنی کے علاوہ کم ہی اس نے کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھا۔ تاہم حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی سیاحت کی وجہ سے انڈورا اب اتنا الگ تھلگ نہیں رہا۔ 1993 اقوامِ متحدہ اور یورپ کی کونس میں شمولیت کے بعد سیاسی نظام کو جدید بنایا گیا۔

سیاست[ترمیم]

انڈورا میں کچھ اس طرح کا پارلیمانی نظام ہے کہ فرانس کا صدر اور ارگل کا بشپ بیک وقت شہزادے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس منفرد حیثیت کی وجہ سے فرانس کا منتخب صدر انڈورا کا شہزادہ بن جاتا ہے حالانکہ انڈورا کے لوگوں کا اس کے انتخاب میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

موجودہ وزیرِ اعظم سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہیں۔ قانون سازی کے اختیارات حکومت اور پارلیمان دونوں کے پاس ہوتے ہیں۔

انڈورا کی پارلیمان کو جنرل کونسل کہتے ہیں۔ جنرل کونسل کے 28 سے 42 تک منتخب کونسلر ہوتے ہیں۔ کونسلر 4 سال کی مدت کے لئے منتخب ہوتے ہیں اور پچھلی کونسل کے تحلیل ہونے کے 13 سے 14 دن کے اندر اندر نئے انتخابات ہوتے ہیں۔ دو مختلف آبادیوں سے یہ کونسلر چنے جاتے ہیں۔

آدھے ممبران سات انتظامی حلقوں پر مشتمل ایک آبادی سے برابری کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں اور دیگر اراکین دوسری آبادی سے چنے جاتے ہیں۔

وزیرِ اعظم کے امیدوار کے پاس منتخب کونسلروں کی کل تعداد کا کم از کم پانچواں حصہ بطور حمایتی ہونا چاہیے۔ وزیرِ اعظم کو اکثریت سے کونسلر منتخب کرتے ہیں۔

کونسل کے ذمے ملک کے سالانہ بجٹ کی منظوری بھی ہوتی ہے۔ نیا بجٹ پچھلے بجٹ کے اختتام سے کم از کم دو ماہ قبل پیش کیا جانا لازمی ہوتا ہے۔ اگر نیا بجٹ سال کے پہلے دن تک منظور نہ ہو تو نئے بجٹ کی منظوری تک پرانا بجٹ چلتا رہتا ہے۔ کسی بھی نئے قانون کی منظوری کے لئے شہزادوں کے دستخط ضروری ہوتے ہیں۔

اگر وزیرِ اعظم کونسل سے مطمئن نہ ہو تو وہ شہزادوں کو درخواست کر کے کونسل کو تحلیل کرا سکتا ہے۔ اگر کونسل کے اراکین وزیرِ اعظم سے مطمئن نہ ہوں تو وہ وزیرِ اعظم کو برطرف کر سکتے ہیں۔ جب کونسل کے کم از کم پانچویں حصے کے برابر اراکین وزیرِ اعظم کو ہٹانا چاہیں تو اس پر رائے شماری ہوتی ہے۔ اگر ووٹ کی اکثریت وزیرِ اعظم کے خلاف ہو تو اسے عہدہ چھوڑنا پڑتا ہے۔

قانون اور جرم و سزا[ترمیم]

عدلیہ میجسٹریٹ کی عدالتوں، کرمنل لاء کورٹ، ہائی کورٹ آف انڈورا اور آئینی عدالت پر مشتمل ہے۔ ہائی کورٹ میں 5 جج ہوتے ہیں۔ ہر جج 6 سال کے لئے اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے۔

میجسٹریٹ اور ججوں کا تعین ہائی کورٹ اور کرمنل لاء کورٹ کا صدر کرتے ہیں۔ آئینی عدالت کا کام آئین کی تشریح اور کسی قانون اور معاہدے کی آئینی حیثیت کا تعین ہوتا ہے۔ اس عدالت کے ہر جج کو دو سال کے لئے اس عدالت کے سربراہ کا عہدہ دیا جاتا ہے اور ہر جج ایک بار ہی اس کا صدر بن سکتا ہے۔

خارجہ تعلقات اور دفاع[ترمیم]

انڈورا کے دفاع کی ذمہ داری فرانس اور سپین پر عائد ہوتی ہے۔ انڈورا اقوامِ متحدہ اور دیگر بہت سارے بین الاقوامی اداروں کا رکن ہے۔

جغرافیہ[ترمیم]

پیرش[ترمیم]

انڈورا میں کل سات پیرش ہیں۔

طبعی خد و خال[ترمیم]

انڈورا کا زیادہ تر رقبہ کٹے پھٹے پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ سب سے بلند مقام 2٫942 میٹر بلند ہے اور انڈورا کی اوسط بلندی 1٫996 میٹر ہے۔ انڈورا کا کل زمینی رقبہ 468 مربع کلومیٹر ہے۔

موسم[ترمیم]

انڈورا کا موسم نستباً معتدل اور دیگر ہمسائیہ ممالک جیسا ہے۔ تاہم بلندی کی وجہ سے یہاں سردیوں میں نسبتاً زیادہ برفباری اور ہوا میں نمی کم رہتی ہے۔ گرمیوں میں موسم نسبتاً بہتر رہتا ہے۔ سالانہ 300 دن سورج چمکتا ہے۔

معیشت[ترمیم]

سیاحت یہاں کی چھوٹی لیکن خوشحال معیشت کا اہم ترین جزو ہے۔ کل ملکی آمدنی کا 80 فیصد حصہ سیاحت سے ہی آتا ہے۔ اندازاً ایک کروڑ سے زیادہ سیاح سالانہ یہاں آتے ہیں۔ سیاحوں کے لئے یہاں کا ڈیوٹی فری ہونا اور سرمائی اور گرمائی تفریحی مقام ہیں۔

ٹیکس کی شرح انتہائی کم ہونے کی وجہ سے یہاں کے بینک ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ زراعت کے لئے کل زمینی رقبے کا محض 2 فیصد ہی استعمال ہو سکتا ہے اور زیادہ تر اشیائے خورد و نوش دیگر ملکوں سےمنگوائی جاتی ہیں۔ مقامی طور پر کچھ تمباکو پیدا ہوتا ہے۔ بھیڑوں کو پالنے پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں زیادہ تر تمباکو، سگار اور فرنیچر تیار ہوتے ہیں۔ انڈورا کے قدرتی وسائل میں پن بجلی، منرل واٹر، لکڑی، لوہا اور سیسہ اہم ہیں۔

انڈورا یورپی یونین کا حصہ نہیں لیکن پھر بھی اس کے تعلقات یورپی یونین کے ساتھ خصوصی نوعیت کے ہیں یعنی مینوفیکچر شدہ اشیاء کے لئے اسے یورپی یونی کا رکن جبکہ زرعی مصنوعات کے لئے یورپی یونین سے باہر مانا جاتا ہے۔ انڈورا کی اپنی کوئی کرنسی نہیں اور 31 دسمبر 1999 تک یہاں فرانسیسی فرانک اور ہسپانوی پسیٹا استعمال ہوتے آئے ہیں۔ تاہم جب فرانس اور سپین نے اپنی کرنسی کی جگہ یورو استعمال کرنا شروع کیا تو انڈورا میں بھی یورو کا استعمال شروع ہو گیا۔ 31 دسمبر 2002 تک فرانک اور پسیٹا کا استعمال جاری رہا۔ انڈورا خود یورو چھاپنے کے لئے یورپی یونین کے ساتھ گفت و شنید کر رہا ہے۔

انڈورا میں بے روزگاری کی شرح دنیا کی کم ترین شرحوں میں سےا یک ہے۔ جون 2009 میں ملک میں بے روزگاری تقریباً صفر فیصد تھی۔

خصوصیاتِ آبادی[ترمیم]

آبادی[ترمیم]

انڈورا کی کل آبادی کا تخمینہ جولائی 2009 میں 83٫888 لگایا گیا۔ 1900ع میں یہاں کی آبادی 5٫000 تھی۔ انڈورا کے اپنے باشندے اقلیت ہیں۔ ان کی تعداد 31٫363 ہے۔ دیگر اقوام میں ہسپانوی النسل 27٫300، پرتگالی 13٫794، فرانسیسی 5٫213، برطانوی 1٫085 اور اطالوی بھی شامل ہیں۔ تاہم دیگر تمام اقوام مل کر 67.7 فیصد بناتی ہیں جس کی وجہ سے اصل انڈوری قوم اقلیت شمار ہوتی ہے۔

زبانیں[ترمیم]

یہاں کی سرکاری زبان کتالن ہے۔ انڈورا کی حکومت بھی اسی زبان کو ترجیح دیتی ہے۔ تارکینِ وطن کو کتالن زبان سکھانے کے لئے حکومت مفت تعلیم دیتی ہے۔ امیگریشن، تاریخی رشتوں اور جغرافیائی اعتبار سے ہمسائیہ ہونے کی وجہ سے ہسپانوی، فرانسیسی اور پرتگالی زبانیں بھی عام بولی جاتی ہیں۔ زیادہ تر باشندے کتالن کے علاوہ ان میں سے ایک یا زیادہ زبانیں بول سکتے ہیں۔ عام لوگ انگریزی زیادہ نہیں بول سکتے۔ تاہم سیاحتی علاقوں میں انگریزی زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

مذہب[ترمیم]

کل آبادی کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ رومن کیتھولک ہے۔ اگرچہ سرکاری طور پر ملک کا کوئی مذہب نہیں تاہم آئین کے مطابق حکومت رومن کیتھولک مذہب کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے۔ مسلمان آبادی زیادہ تر شمالی افریقہ کے تارکینِ وطن پر مشتمل ہے۔ ہندوؤں اور بہائیوں کی مختصر آبادیاں بھی یہاں موجود ہیں۔ انڈورا میں تقریباً 100 یہودی بھی رہتے ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

سکول[ترمیم]

6 سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کے لئے سکول لازمی ہے۔ ثانوی سطح تک تعلیم حکومت مفت دیتی ہے۔

انڈورا میں انڈورا، فرانسیسی اور ہسپانوی، تین الگ الگ تعلیمی نظام ہیں۔

انڈورا کی یونیورسٹی[ترمیم]

یونیورسٹی آف انڈورا ملک کی واحد یونیورسٹی ہے۔ یہاں نرسنگ، کمپیوٹر سائنس، بزنس ایڈمنسٹریشن اور ایجوکیشنل سٹڈیز میں ڈگریاں دیتی ہے۔

صحت[ترمیم]

انڈورا میں صحت کی سہولیات تمام برسرِ روزگار افراد اور ان کے خاندان کے لئے حکومت اور ان کی جائے ملازمت کی طرف سے مہیا کی جاتی ہیں۔ تاہم یہ حکومت ان سہولیات کا 75 سے 90 فیصد جبکہ کام کے دوران ہونے والے حادثات کی صورت میں 100 فیصد ادا کرتی ہے۔ سیاحوں اور بے روزگار افراد کو پرائیوٹ انشورنس لینی پڑتی ہے۔

ملک بھر میں کل 13 بنیادی ہسپتال ہیں۔

نقل و حمل[ترمیم]

20ویں صدی سے قبل تک انڈورا کے دیگر ممالک سے نقل و حمل کے رابطے بہت کم رہے ہیں اور طبعی خد و خال کی وجہ سے ملکی ترقی بھی بہت متائثر رہی ہے۔ آج بھی نزدیک ترین ہوائی اڈے انڈورا سے کم از کم 3 گھنٹے کے فاصلے پر ہیں۔

انڈورا میں کل 279 کلومیٹر طویل سڑکیں ہیں جن میں سے 76 کلومیٹر کچی سڑکیں ہیں۔ ملک سے دو بڑی سڑکیں باہر جاتی ہیں۔

ملک بھر میں کوئی ریلوے، بندرگاہیں یا ہوائی اڈے نہیں ہیں۔ تاہم ملک میں تین ہیلی پورٹس موجود ہیں۔

نزدیک ترین ریلوے سٹیشن انڈورا سے 10 کلومیٹر مشرق میں ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین انڈورا[ترمیم]