استوائی گنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش



República de Guinea Ecuatorial
République de Guinée équatoriale
República da Guiné Equatorial
جمہوریہ استوائی گنی
استوائی گنی کا پرچم استوائی گنی کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Unidad, Paz, Justicia
(اتحاد، امن، عدل)
ترانہ: Caminemos Pisando la Senda de Nuestra Inmensa Felicidad
استوائی گنی کا محل وقوع
دارالحکومت ملابو
عظیم ترین شہر ملابو
دفتری زبان(یں) ہسپانوی، فرانسیسی
نظامِ حکومت
صدر
وزیرِ اعظم
جمہوریہ (صدارتی نظام)
تھیودورو اوبیانگ گوما امباسوگو
ریکارڈو مانگو اوبامہ فوبی
آزادی
- تاریخِ آزادی
ہسپانیہ سے
12 اکتوبر 1968ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
28051  مربع کلومیٹر (144)
10831 مربع میل
برائے نام
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - کثافتِ آبادی
 
507,000 (165)
18 فی مربع کلومیٹر(197)
47 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

25.69 ارب بین الاقوامی ڈالر (107 واں)
44100 بین الاقوامی ڈالر (9 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.642
(127) – متوسط
سکہ رائج الوقت افریقی فرانک (XAF)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)
مغربی افریقی وقت
(یو۔ٹی۔سی۔ 1)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 1)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.gq
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+240

استوائی گنی وسطی افریقہ کا ایک ملک ہے۔ اس کا کل رقبہ 28٫000 مربع کلومیٹر ہے اور براعظم افریقہ کے چھوٹے ملکوں میں سے ایک ہے۔ تاہم یہ براعظم کے متمول ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ دولت کا ارتکاز حکومت اور طبقہ اشرافیہ تک محدود ہے اور 70 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے یعنی 2 ڈالر روزانہ سے کم کماتی ہے۔ اس کی کل آبادی 6٫50٫702 ہے۔

استوائی گنی کے شمال میں کیمرون، جنوب اور مشرق میں گبون اور مغرب میں خلیج گنی ہے۔

آبادی کے اعتبار سے برِاعظم افریقہ کا تیسرا چھوٹا ملک ہے۔ مناسب مقدار میں ملنے والے تیل کے ذخائر کے بعد حالیہ برسوں میں ملک کی معاشی اور سیاسی حالت بدلی ہے۔ استوائی گنی کی فی کس آمدنی کی اوسط دنیا بھر میں 28ویں نمبر پر ہے تاہم سارے کا سارا تیل چند ہی افراد کی ملکیت ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے اسے بد ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

آج کے دور کا استوائی گنی جس مقام پر واقع ہے پر قدیم زمانے سے لوگ آباد تھے۔ بنٹو قبائل کی نقل مکانی 17ویں اور 19ویں صدی میں ہوئی۔

پُرتگالی مہم جو فرناؤ ڈو پو ہندوستان کا راستہ تلاش کرتے ہوئے 1472 میں بیاکو کے جزیرے کو دریافت کرنے والا پہلا یورپی بنا۔ اس نے اسے فارموسا کہا لیکن جزیرے کا نام جلد ہی دریافت کنندہ کے نام پر جزیرہ فرنانڈو پو پڑ گیا۔ 1474 میں پُرتگال نے یہاں نوآبادی بسانا شروع کر دی۔

1778 میں پُرتگال کی جانب سے یہ جزیرہ اور آس پاس کے جزائر اور مین لینڈ کے تجارتی حقوق امریکی براعظم میں زمین کے بدلے سپین کو دے دیئے گئے۔

1827 تک 1843 برطانیہ نے اس جزیرے پر اپنا مرکز قائم کیا تاکہ غلاموں کی تجارت کے خلاف جنگ کی جا سکے۔ بعد ازاں سپین سے معاہدے کے بعد 1843 میں یہ مرکز سیرا لیون منتقل کر دیا گیا۔ 1900 میں پیرس کے معاہدے کے تحت مین لینڈ کے مالکانہ حقوق کا تصفیہ کر دیا گیا۔ 1926 تا 1959 انہیں جمع کر کے ہسپانوی حکومت کے تحت لایا گیا۔

ستمبر 1968 میں فرانسسکو مکیاس نگوئما کو استوائی گنی کا پہلا صدر چنا گیا اور اس کی آزادی کو 12 اکتوبر 1968 میں تسلیم کیا گیا۔ جولائی 1970 میں صدر نے ملک میں ایک جمہوری پارٹی کا نظام لاگو کیا اور بربریت کا دور شروع ہو گیا۔ ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو یا تو تہہ تیغ کر دیا گیا یا ملک سے باہر نکال دیا گیا۔ 3٫00٫000 کی آبادی میں سے 80٫000 افراد ہلاک ہوئے۔ معیشت کی بنیادیں بیٹھ گئیں، شہری مارے گئے اور غیر ملکی فرار ہو گئے۔ 3 اگست 1979 کی خونی بغاوت کے بعد صدر کا تختہ الٹ دیا گیا۔

جغرافیہ[ترمیم]

استوائی گنی مغربی افریقہ کے مغربی حصے میں واقع ہے۔ ملک کا زیادہ تر رقبہ مین لینڈ حصے پر مشتمل ہے جس کے شمال میں کیمرون اور جنوب اور مشرق میں گبون موجود ہیں۔ اس میں پانچ جزائر بھی شامل ہیں۔ یہ جزائر 40 سے 350 کلومیٹر دور ہیں۔

نام کے برعکس ملک کا کوئی بھی حصہ خطِ استوا پر نہیں۔

موسم[ترمیم]

استوائی گنی کا موسم استوائی نوعیت کا ہے اور یہاں محض نم اور خشک موسم ہوتے ہیں۔ کچھ حصے ایسے بھی ہیں جہاں آج تک بادلوں کے بناء کوئی دن نہیں دیکھا گیا۔

سیاست[ترمیم]

ملک کے موجودہ صدر تیوڈور اوبیانگ نگوئما مباسوگو ہیں۔ 1982 میں لکھے گئے دستور کے مطابق صدر کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ ان اختیارات میں کابینہ کے اراکین کے تقرر و تنزلی، صدارتی حکم کے تحت قوانین کا اجراء، ایوانِ نمائندگان کی برخاستگی، معاہدوں پر گفت و شنید اور ان کی منظوری اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہونا شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم اور اس کے اختیارات کا تقرر صدر کرتا ہے۔

موجودہ صدر نے 3 اگست 1979 کو سابقہ آمر صدر کو ہٹا کر خود اقتدار پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد سے اب تک کم از کم 12 مزید ناکام بغاوتیں ہو چکی ہیں۔

2006 میں انسدادِ تشدد کی یاداشت پر صدر کے دستخط کرنے کے باوجود ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی جاری ہے۔ یہ تشدید جیلوں میں ہوتا ہے جس میں جسمانی تشدد، مار پیٹ، نامعلوم وجوہات پر اموات اور حبسِ بے جا شامل ہیں۔

موجودہ صدر کے اقتدار کے دوران بنیادی ڈھانچہ بھی بہتر ہوا ہے۔ ملکی سڑکوں کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ پختہ ہے اور ملک بھر میں ہوائی اڈے بن رہے ہیں۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

استوائی گنی میں 7 صوبے ہیں۔ ہر صوبہ مختلف اضلاع میں منقسم ہوتا ہے۔

معیشت[ترمیم]

آزادی سے قبل استوائی گنی کی معیشت کا دار و مدار کوکوا پر تھا۔ 1959 میں اس کی فی کس آمدنی افریقہ بھر میں سب سے زیادہ تھی۔ یکم جنوری 1985 کو یہ فرانک زون کا پہلا غیر فرانسیسی ملک بنا۔ ملکی کرنسی ایکویلے اس سے قبل ہسپانوی پسیٹا سے منسلک تھی۔

1996 میں وسیع پیمانے پر تیل کے ذخائر کی دریافت سے حکومتی آمدنی میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ 2004 میں صحارائی علاقے میں استوائی گنی تیل پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک تھا۔ تیل کی مجموعی پیداوار اس وقت 3٫60٫000 بیرل روزانہ ہے۔

جنگلات، فارمنگ اور مچھلی ملکی آمدنی کے اہم ستون ہیں۔

جولائی 2004 میں امریکی سینٹ نے رگز بینک کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں۔ اس وقت تک استوائی گنی کے تیل کی زیادہ تر ادائیگی اسی بینک کے ذریعے ہوتی تھی۔ یہی بینک چلی کے اگستو پنوشے کے لئے بھی کام کرتا تھا۔ سینٹ کی رپورٹ میں یہ درج تھا کہ کم از کم ساڑے تین کروڑ ڈالر جتنی رقم صدر اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے ہڑپ کر لی تھی۔ تاہم صدر نے اس کی تردید کی تھی۔

آبادی کی خصوصیات[ترمیم]

استوائی گنی کے زیادہ تر باشندے بنٹو نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے بڑا قبیلہ فنگ ہے جو یہاں کا مقامی ہے۔ فنگ قبیلہ کل آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ ہے اور اس کی مزید 67 شاخیں ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں بہت سارے ساحلی قبائل بھی آباد ہیں۔ یہ تمام قبائل مل کر کل آبادی کا 5 فیصد بناتے ہیں۔ کسی حد تک یورپی النسل بالخصوص پُرتگالی اور ہسپانوی بھی آباد ہیں تاہم اکثر ہسپانوی افراد استوائی گنی کی آزادی کے بعد یہاں سے چلے گئے تھے۔ آج کل ہمسائیہ ملکوں کیمرون، نائجیریا اور گبون سے لوگ یہاں منتقل ہو رہے ہیں۔

مذہب[ترمیم]

عیسائیت استوائی گنی کی کل آبادی کے 93 فیصد افراد کا مذہب ہے۔ ان میں سے 87 فیصد رومن کیتھولک اور باقی ماندہ افراد پروٹسٹنٹ ہیں۔ پانچ فیصد افراد مقامی مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور 2 فیصد مسلمان، بہائی اور دیگر مذاہب سے ہیں۔

سرکاری زبانیں[ترمیم]

آئینی طور پر فرانسیسی اور ہسپانوی سرکاری زبانیں ہیں۔ جولائی 2007 میں صدارتی حکم نامے کے تحت پُرتگالی زبان کو تیسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔

ملک میں اس وقت ہسپانوی، استوائی گنیئن ہسپانوی، مقامی زبانیں (فنگ، بوب، بنگا، وغیرہ وغیرہ)، فرانسیسی، انگریزی، جرمنی وغیرہ بولی جاتی ہیں۔

ثقافت[ترمیم]

جون 1984 میں پہلی ہسپانوی افریقن ثقافتی کونسل کو استوائی گنی کی ثقافتی شناخت کا کام سونپا گیا۔

تعلیم[ترمیم]

فرانسسکو میکائس کے دور میں تعلیم کو بالکل نظر انداز کیا گیا اور بچوں کی بہت معمولی تعداد کو کچھ نہ کچھ تعلیم مل سکی۔ صدر اوبیانگ کے دور میں ناخواندگی کی شرح 73 فیصد سے کم ہو کر محض 13 فیصد رہ گئی اور 8 سال کے عرصے میں سکولوں کی تعداد 65٫000 سے بڑھ کر 1٫00٫000 سے بھی زیادہ ہو گئی۔ 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کے لئے تعلیم مفت اور لازمی ہے۔

صحت[ترمیم]

استوائی گنی نے ملیریا کے خلاف اپنے تیار کردہ کنٹرول پروگرام اپنائے ہیں اور ملیریا کے انفیکشن، بیماری اور شرح اموات میں بہت کمی ہوئی ہے۔

نقل و حمل[ترمیم]

فضائی نقل و حمل[ترمیم]

ملک میں رجسٹر شدہ ہر فضائی کمپنی پر یورپی یونین کی طرف سے عائد پابندی کا سامنا ہے۔ یعنی کہ کوئی بھی فضائی کمپنی حفاظتی تحفظات کے پیشِ نظر یورپی یونین میں کام نہیں کر سکتی۔

تاہم تیل کی موجودگی کی وجہ سے بین الاقوامی فضائی کمپنیاں یہاں سروس مہیا کرتی ہیں۔ ان میں ائیر فرانس پیرس سے، لفتھانسا فرینکفرٹ سے، آئیبیریا میڈرڈ سے اور کینیا ائیر ویز نیروبی سے ییہاں آتی ہیں۔

مواصلات[ترمیم]

مواصلات کے اہم ترین ذرائع میں حکومت ملکیت کے تین ایف ایم ریڈیو سٹیشن ہیں۔ پانچ شارٹ ویو ریڈیو سٹیشن بھی یہاں کام کرتے ہیں۔ دو اخبار اور دو رسالے بھی چھپتے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل بھی ہے جو حکومت کی ملکیت ہے۔

زیادہ تر میڈیا میں خود سنسر شپ ہوتی ہے۔ قانون کے تحت کسی بھی عوامی شخصیت پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔

عام ٹیلی فون بہت کم ہیں اور ہر 100 افراد کے لئے محض 2 لائنیں موجود ہیں۔ یہاں ایک جی ایس ایم آپریٹر بھی کام کرتی ہے۔

یہاں نو انٹرنیٹ مہیا کرنے والے ادارے 8٫000 افراد کو انٹرنیٹ کی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔

کھیل[ترمیم]

فٹ بال[ترمیم]

استوائی گنی 2012 کے افریقن کپ آف نیشنز کے لئے گبون کے ساتھ مشترکہ میزبان ہے۔ 2008 میں خواتین کی افریقن فٹ بال چیمپئن شپ یہاں منعقد ہوئی جسے استوائی گنی نے جیتا۔ استوائی گنی کی خواتین کی فٹ بال کی قومی ٹیم 2011 کے ورلڈ کپ تک پہنچی ہے جو جرمنی میں کھیلا جائے گا۔

تیراکی[ترمیم]

استوائی گنی اپنے تیراکی کے قومی چیمپئن ایرک موسامبانی المعروف ایرک دی ایل کے حوالے سے مشہور ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین استوائی گنی[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حکومتی
عمومی


متناسقات: 1°30′N 10°00′E / 1.5°N 10°E / 1.5; 10