برطانیہ
وکیپیڈیا سے
|
|||||
| شعار: Dieu et mon droit |
|||||
| ترانہ: God Save the Queen | |||||
| دارالحکومت | لندن |
||||
| عظیم ترین شہر | لندن | ||||
| دفتری زبان(یں) | قانونی طور پر کوئی نہیں،انگریزی عموماً رائج ہے | ||||
| نظامِ حکومت
ملکہ
وزیرِ اعظم |
آئینی ملوکیت ایلیزابیتھ دوم گورڈن براؤن |
||||
| تشکیل - قوانینِ اتحاد اول قوانینِ اتحاد دوم انگریز۔آئری معاہدہ |
یکم مئی 1707ء یکم جنوری 1801ء 12 اپریل 1922ء |
||||
| یورپی یونین کی رکنیت | یکم جنوری 1973ء | ||||
| رقبہ - کل - پانی (%) |
242900 مربع کلومیٹر (79) 93784 مربع میل 1.34 |
||||
| آبادی - تخمینہ:2006ء - 2001 مردم شماری - کثافتِ آبادی |
60,587,300 (22) 58789194 246 فی مربع کلومیٹر(51) 637 فی مربع میل |
||||
| خام ملکی پیداوار (م۔ق۔خ۔) - مجموعی - فی کس |
تخمینہ: 2007ء 2147 ارب بین الاقوامی ڈالر (چھٹا) 35300 بین الاقوامی ڈالر (21 واں) |
||||
| انسانی ترقیاتی اشاریہ (تخمینہ: 2007ء) |
0.946 (16) – بلند |
||||
| سکہ رائج الوقت | برطانوی پونڈ (GBP) |
||||
| منطقۂ وقت - عمومی ۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و) |
(یو۔ٹی۔سی۔ 0) مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 1) |
||||
| ملکی اسمِ ساحہ (انٹرنیٹ) |
.uk | ||||
| رمزِ بعید تکلم (کالنگ کوڈ) |
+44 |
||||
مملکت متحدہ برائے برطانیہ عظمی و شمالی آئر لینڈ جسے عام طور پر "یو کے" یا "برطانیہ" کے طور پر جانا جاتا ہے شمال مغربی یورپ کا ایک ملک ہے۔ یہ جزیرہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے علاوہ ملحقہ سمندر کے مختلف جزائر پر پھیلا ہوا ہے۔
برطانیہ کے چاروں طرف بحر اوقیانوس اور اس کے ذیلی بحیرے ہیں جن میں بحیرہ شمال، رودباد انگلستان، بحیرہ سیلٹک اور بحیرہ آئرش شامل ہیں۔
برطانیہ چینل سرنگ کے ذریعے فرانس سے منسلک ہے جو رودباد انگلستان کے نیچے سے گذرتی ہے جبکہ شمالی آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ ملتا ہے۔
برطانیہ ایک سیاسی اتحاد ہے جو 4 ممالک انگلستان، اسکاچستان، ویلز اور شمالی آئرلینڈ سے مل کر بنا ہے۔ ان کے علاوہ دنیا بھر میں برطانیہ کے دیگر کئی مقبوضات بھی ہیں جن میں برمودا، جبل الطارق یا جبرالٹر، مونٹسیرٹ اور سینٹ ہلینا بھی شامل ہیں۔
برطانیہ ایک آئینی بادشاہت ہے جو دولت مشترکہ کے 16 ممالک کی طرح ملکہ ایلزبتھ دوم کو اپنا حکمران تصور کرتی ہے۔
برطانیہ جی 8 کا رکن اور انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے۔ اس کی معیشت دنیا کی پانچویں اور یورپ کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے جس کا اندازہ 2.2 کھرب امریکی ڈالرز ہے۔ برطانیہ آبادی کے لحاظ سے یورپی یونین کا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 60.2 ملین ہے۔ برطانیہ شمالی اوقیانوسی معاہدہ (نیٹو) اور اقوام متحدہ کا بانی رکن اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ برطانیہ دنیا کی بڑی جوہری طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ یورپی یونین کا بھی رکن ہے۔
سلطنت برطانیہ کے خاتمے کے باوجود انگریزی زبان کے عالمی استعمال اور دولت مشترکہ کے باعث برطانیہ کے اثرات ابھی بھی دنیا پر باقی ہیں۔
[ترمیم] موجودہ سیاسی ماحول
اکیسویں صدی کے آغاز سے "دہشت گردی" برطانوی حکومت کے دماغ پر سوار ہے۔ انسانی حقوق کو پامال کرنے والے کالے قوانین بنائے گئے ہیں۔ وقفے وقفے سے اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں کہ برطانوی پولیس نے چھاپہ مار کر "دہشت گردی" کی مبینہ کوشش ناکام بنا دی اور اتنے مسلمان گرفتار کر لیے۔ کالے قوانین کے تحت کسی کو بھی غیر معینہ مدت کے لیے پابندِ سلاسل کیا جا سکتا ہے۔ ان کالے قوانین کا اطلاق اب "دہشت گردی" کے علاوہ ماحولیات سے متعلق احتجاج گذاران پر بھی ہونے لگا ہے۔[1]
عراق پر حملہ کو جائز ثابت کرنے کے لیے جھوٹے پراپیگنڈا میں برطانیہ پیش پیش رہا۔ پارلیمنٹ کے رکن گیلووے جو عراق جنگ کے مخالف تھے، لیبر پارٹی سے نکالنے کے بعد ان پر بدعنوانی کے الزامات ثابت کرنے کی کوشش عدالت میں ناکام ہو گئی۔ مگر پھر بھی پارلیمنٹ کی کمیٹی نے اپنے طور پر الزامات کو صحیح قرار دیا، اس وجہ سے کہ ٹونی بلیر کی بات زیادہ قابلِ اعتبار ہے بنسبت گیلووے کے۔ اس کے بعد گیلووے کی رکنیت "معطل" کر دی گئی۔[2]
لندن کے منتخب مئیر لیونگسٹون کو بھی ایک اخبارنویس سے "نازیبا" جملے کہنے پر ایک کمیٹی نے سزا کے طور پر کچھ عرصہ کے لیے معطل کر دیا۔[3] اگرچہ برطانیہ میں اظہارِ خیال کی آزادی کا پرپیگنڈا دن رات کیا جاتا ہے۔
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ انڈیپینڈنٹ، 27 جولائی 2007ء، " Another draconian attempt to curb Britain's civil liberties"
- ^ WSWS, 26 جولائی 2007ء، "Britain: Antiwar MP George Galloway suspended from parliament "
- ^ بی بی سی، 24 فروری 2006ء، "Mayor is suspended over Nazi jibe"
|
||||||||||